کچا گھڑا

کچا گھڑا

رات بھیگ چکی ہے۔ چناب کی لہروں میں طوفان برپا ہے۔ کمہار کی بیٹی کے ہاتھ اندھیرے میں گھڑے کو ٹٹول رہے ہیں۔ وە جان چکی ہے کہ گھڑا کورا ہے۔
پکے گھڑے کی جگہ کچی مٹی کا گھڑا رکھ دیا گیا ہے۔ اُس کے خلاف چال چلی جا چکی ہے۔ وە ہر رات ایک پکےگھڑے کے سہارے دریا عبور کرکے مہینوال کو ملنے جایا کرتی تھی ۔ دریا پار وصل کی گھڑیاں مٹی کے ایک گھڑے کی مرہونِ منت تھیں۔

سوہنی خوب جانتی ہے کہ کچےگھڑے کی کیا اوقات ہے، اور دریا کی بپھری ہوئی لہروں میں اِس گھڑے کے سہارے اترنےکا کیا انجام ہوگا۔ لیکن عشق اپنے پندار پہ کوئی حرف برداشت نہیں کرتا۔ کالی گھٹا، چناب کی غضبناک لہریں، کڑکتی چمکتی بجلی، . . . . . ایسی اندھیری رات میں سوہنی کھڑی محوِ سوچ ہے۔

سوہنی اورگھڑے کے مابین ایک مکالمہ بھی روایتوں میں ملتا ہے کہ اُس طوفانی رات میں سوہنی گھڑے کی منتیں کرتی رہی کہ مجھے دریا پار کروادے (مینوں پار لہنگھادے وے گھڑیا)
اور گھڑا ایسےمیں اپنی خامی کا اعتراف کرتا ہے کہ: میں کچا ہوں، خام ہوں، میں نے عشق اور تپسیا کی آوی میں جل کر پکنے کی منزل طے نہیں کی، میں طغیانی کی تاب نہ لاسکوں گا۔
آوی وە بھٹی ہے جہاں کورے برتن پکائے جاتے ہیں، دھیمی دھیمی آنچ پر مخصوص مدت کے لئے کچی مٹی کے برتن اُس آوی میں پک کر پختہ ہوجاتے ہیں۔ سوہنی کوزە گر کی بیٹی تھی، اور کچے گھڑے کی اصلیت جانتی تھی، لیکن عشق کے ہاں کوئی عذر نہیں ہوتا ۔ نامراد لوٹتی تو ناکامئ آرزو کا کرب کیسے سہتی۔ میدانِ جنگ سے پسپا ہونے کا جواز پیدا ہوسکتا ہے مگر راەِ عشق میں واپسی نہیں ہوتی۔ واپس جانا توہینِ محبت تھی چنانچہ اُس نے کچا گھڑا ہی لہروں کے سپرد کردیا۔ اور مہینوال کو پکارتے پکارتے موجوں کی نذر ہو گئی ۔ مہینوال جو دریا کی دوسری جانب سراپا انتظار تھا، سوہنی کی آوازیں سن کررە نہ سکا، دریا میں کود گیا اور محبت کی یہ لازوال داستان ہمیشہ کے لئےرقم ہوئی ۔

خاکی انسان کا مٹی کے برتنوں سے پرانا تعلق ہے ۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی انسانی بُود و باش کے دفن شدە آثار ملےہیں وہاں مٹی کے برتن ضرور دریافت ہوئے ہیں ۔ مٹی کےبرتن بنانے کے لئے کمہار پہلے مٹی کوٹتا ہے، اُس کا ہموار نرم نرم گارا بناتا ہے، پھر اُس کا گولا بنا کر چاک پہ رکھتا ہے۔ کمہار کے چاک کی حرکت اور اُس کے ہاتھوں میں جو ہم آہنگی ہے،وہی کوزە گری کا راز ہے۔ چاک کی حرکت کے ساتھ ساتھ مٹی کا گولا مطلوبہ رُوپ دھارتا رہتا ہے۔ حرکت کا ارتکاز چاک پر رہتا ہے جبکہ ہاتھ کو معمولی اور سبک جنبش دی جاتی ہے۔

مٹی کی گیلی نرم حالت، کوزە گر کے ہاتھ کا لمس اور چاک کی ہموار حرکت، ان سب کے امتزاج سے برتن ڈھل کر چاک سے اُترتا ہے۔ ہر برتن کوالگ صورت میں ڈھالنے کے لئے ہاتھ کے لمس کو بدلا جاتا ہے۔ کہیں سخت دباوٴ ، کہیں ہلکا خم، کہیں لمبائی کا رُخ دینا اور کہیں چپٹا کرنا۔

جیسے چاک پہ برتن ڈھالے جاتے ہیں اِسی طرح زندگی کےچاک پہ انسان بنتا اور ڈھلتا ہے۔گردشِ دوران میں انسان ڈھلتا ہے، سرگرداں رہتا ہے اور روپ دھارتا ہے۔ گھڑا، صراحی، ساغر، مینا، . . . سب ایک ہی مٹی سے بنتےہیں۔ کمہارکے ہاتھ کا لمس مٹی کے سادە گولے کو صورت دیتا ہے۔ شکل ڈھلنے کے بعد پکنے کا مرحلہ آتا ہے۔ بھٹی یا آوی میں آگ بھڑکا کر مٹی کے برتن پکائے جاتے ہیں ۔ انسان بھی زندگی کے نشیب و فراز سے گزر پختگی کے مرحلے تک پہنچتا ہے۔ تجربے کی بھٹی انسان کو ٹھوکریں سہنے کے قابل بناتی ہے۔ تن اور من کی بالیدگی کے لئے تپسیا ضروری ہے۔ یہ وە جدوجہد ہے جو انسان کسی مقصد کے حصول کے لئے کرتا ہے۔ تجربے اور حقیقت کی آوی میں انسان پہ آگہی کے بہت سے در وا ہوتےہیں ۔

انسان کا خمیر بھی مٹی سے اُٹھا ہے ، صلصال کالفخار، یعنی گارا جو سوکھ کر بجنے لگے۔
انسان جتنا زیادە ڈھلتا ہے، سیکھتا ہے، سنورتا ہے، اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرتا ہے اور اُتنا ہی کارآمد بنتا جاتا ہے۔ حالات، کٹھنائیاں اور سیکھنے کی تڑپ بھٹی کا کام کرتی ہے۔ عرق ریزیانسان کے خام پن کو دور کرتی ہے۔

حالات کی بھٹی انسان کا ماجرا ، مٹی کے برتن سے صرف ایک معاملے میں فرق ہے۔ مٹی کا برتن اندر سے سے خالی ہوتا ہے۔ وە بےجان ہے جبکہ مٹی کے پُتلے میں ربِ کائنات نے رُوح پھونکی ہے۔ رُوح نہ ہو تو بےجان جسم رە جاتا ہے خالی برتن جیسا۔
اور اِ سی لئے مٹی کی مورت کے ساتھ ساتھ رُوح کی سیوا بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ مٹی کے بُت کے اندر من کی دنیا ہوتی ہے جس کی آرائش اپنی جگہ معنی رکھتی ہے۔ . . . . . ورنہ مٹی کے برتن اور کھوکھلے انسان میں کوئی فرق نہیں۔ ناپختہ لوگ ، کچے گھڑے کی مانند زندگی میں کٹھن حالات کے سامنے ڈھے جاتے ہیں۔ وە طغیاں لہروں کی تاب نہیں لا سکتے۔ اور رُوح سے خالی لوگ کُوزے جیسی کھوکھلی ہستی کے ساتھ عرصۂ عمر تمام کرتے ہیں اور اولوالالباب یا اولوالعزم کے مقصدِ عظیم کی کسی ادنٰی سی منزل کو بھی عبور نہیں کرسکتے۔

Advertisements

عظیم احساسات

عظیم احساسات

– معاذ بن جبل ؓ کا کیا احساس ہوگا جب رسول صلی الله علیہ وسلم نے ان سے کہا :

 “يامعاذ , والله إني لأحبّك”

“اے معاذ ، اللہ کی قسم، میں تجھ سے محبت رکھتا ہوں۔”

– عبدالله بن عباس رضي الله عنه کا کیا احساس ہوگا جب رسول الله نے انھیں اپنے لپٹا کر کہا :” اللهم علمه الكتاب ” اے اللہ اِسے کتاب (قرآن) کا علم عطا کر”۔

– علي بن أبي طالب ؓ کا کیا شعور ہوگا جب غزوۂ خیبر کے موقع پر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:

 لأعطينّ الراية غدًا رجلًا , يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله”

“کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں” اور رسول کی مراد *علی* تھے۔

– سعد بن أبي وقاص ؓ کا کیا احساس ہوگا جب  غزوە اُحد کے دن رسولِ اکرم صلی الله علیہ وسلم ان سے کہہ رہے تھے: “ارمِ سعد,فداكَ أبي وأمّي ؟

“تیر مار اے سعد! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں”

 اس اندازِ تخاطب سے آپ صلی الله علیہ وسلم نے کسی اور صحابی کو نہیں بلایا۔

– ذوالنورین عثمان بن عفان ؓ کا کیا احساس ہوگا جب رسول صلی الله علیہ وسلم ان کے بارے میں تبوک کے لشکر کی تیاری کے موقعے پر فرمارہے تھے:”ما ضرّ عثمان مافعل بعد اليوم ” ؟ “آج کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ جو بھی کریں انہیں ضرر نہ ہوگا “

– كيف كان شعور أبو موسى الأشعريؓ والرسول يقول له : لو رأيتني وأنا أستمع لقراءتك البارحة “یعنی اگر تم مجھے کل رات دیکھتے جب میں تمہارا قرآن پڑھنا سن رہا تھا”

٭ ابویعلی سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اپنی بیوی عائشہؓ کے ساتھ ابوموسیٰ الاشعریؓ کے گھر کے پاس سے گزر رہے تھے تو انہیں ابوموسیٰ ؓکی آواز سنائی دی جو اپنے گھر میں قرآن کی تلاوت کررہے تھے۔ رسول اللہﷺ اور حضرت عائشہؓ ،ابوموسیٰ ؓ کی قراء ت سننے کے لئے کھڑے ہوگئے۔ صبح جب ابوموسیٰ ؓ نبی کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا:

“اے ابوموسیٰ کل میں تیرے گھر کے پاس سے گزرا تھا۔ کاش تم دیکھتے جب میں تمہاری قرأت سن رہا تھا۔ بلاشبہ تجھے آلِ داود کی آوازوں میں سے ایک آواز دی گئی ہے۔ ابوموسیٰ ؓنے کہا:

اگر مجھے آپ کی موجودگی کا علم ہوتا تو میں آپ کے لئے اور زیادہ خوش الحانی سے قران پڑھتا۔”

– السائب بن يزيدؓ کا کیا احساس ہوگا جب رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اُن کے سر پہ ہاتھ پھیرا تھا، سائب کا بڑھاپا آگیا، داڑھی کے بال سفید ہوگئے لیکن سر پہ جہاں نبی صلی الله علیہ وسلم کا ہاتھ پِھرا تھا وہاں سے بال سیاە رہے۔

– أنصار کا کیا احساس ہوگا جب رسولِ اکرم صلی الله علیہ وسلم والرسول نے ان سے فرمایا:

 اگر ہجرت ( کی فضیلت ) نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد بننا ( پسند کرتا ) اور اگر دوسرے لوگ کسی وادی میں چلیں اور انصار ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا ۔

– أنصارکا کیا احساس ہوگا جب رسول صلی الله علیہ وسلم اُن سے فرمارہے تھے:

” ایمان کی علامت انصار سے محبت کرنا ہےاور نفاق کی علامت انصار رضی اللہ عنہم سے بغض رکھنا ہے “

۔ ابو بکر صدّيقؓ کا کیا احساس ہوگا جب رسولِ اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:

” اگر میں اپنے رب کے سوا کسی کو جانی دوست بناسکتاتو ابوبکر کو بناتا ۔

– عائشة رضی اللہ عنھا کا کیا احساس ہوگا کہ رسولِ اکرم نے برملا اُن کا نام لیا جب آپ صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا گیا :  آپ لوگوں میں سب سے زیادە محبت کس سے رکھتے ہیں ؟

– بلال بن رباح ؓ کا کیا احساس ہوگا جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم  نے بلال سے فرمایا،”میں نے جنت  اپنے آگے آگے تمہارے جوتوں کی چاپ سنی ہے،اپنا کیا ہوا ایسا عمل بتاؤ جس کے مقبول ہونے کی تمہیں بہت امید ہو”

انھوں نے جواب دیا،میں ہر وقت باوضو رہنے کی کوشش کرتا ہوں۔وضو ٹوٹ جاتا ہے تو دوبارہ کر لیتا ہوں اور جب بھی وضو کرتا ہوں،دو رکعت تحیۃ الوضو پڑھنا لازم سمجھتا ہوں۔آپ نے فرمایا، ہاں یہی عمل اتنے بلند مرتبے تک پہنچا سکتا ہے۔

-عمر  بن الخطابؓ کا کیا احساس ہوگا جب ایک بار انھوں نے نبی کی خدمت میں حاضر ہوکر دروازہ کھلوایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” دروازہ ان کے لیے کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو”

*حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مدینہ کے ایک باغ (بئراریس) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ ایک صاحب نے آ کر دروازہ کھلوایا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے لیے دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو، میں نے دروازہ کھولا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے کے مطابق جنت کی خوشخبری سنائی تو انہوں نے اس پر اللہ کی حمد کی، پھر ایک اور صاحب آئے اور دروازہ کھلوایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر بھی یہی فرمایا کہ دروازہ ان کے لیے کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو، میں نے دروازہ کھولا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے، انہیں بھی جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی اطلاع سنائی تو انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر ایک تیسرے اور صاحب نے دروازہ کھلوایا۔ ان کے لیے بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو ان مصائب اور آزمائشوں کے بعد جن سے انہیں (دنیا میں) واسطہ پڑے گا۔ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔ جب میں نے ان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی اطلاع دی تو انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی مدد کرنے والا ہے-

– تمام صحابہ کا کیا احساس ہوگا کہ وە ہر صبح شام رسول اللہ کو دیکھا کرتے تھے، آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا اُٹھاکرتے، باتیں کرتے، غزوات میں شریک ہوتے۔

اور ہمارا کیا احساس ہونا چاہیئے جب کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:

” لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اس وقت اپنے دین پر صبر کرنے والا ایسے ہوگا جیسے انگارے کو ہاتھ میں پکڑنے والا ہوتا ہے” (جامع الترمذی ابواب الفتن ح ۲۲۶۰)

اللہ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے۔ اٰمین