عقل اور شعور

عقل اور شعور

انسان پر اللہ تعالی کے بےبہا احسانات ہیں۔ جن کا شکریہ ادا کرنا انسان کی بساط سے باہر ہے۔ بہت سی صورتوں میں انسان کو نوازا گیا ہے مگر ایک نعمت ایسی ہے جس کی وجہ سے انسان دیگر نعمتوں کا احساس کرنے کے قابل ہوتا ہے – یہ ‘عقل اور شعور’ کی نعمت ہے ۔

شعور ہی کی وجہ انسان اللہ تعالی کے نظام پر غور کرنے کی صلاحیت پاتا ہے۔ وہ اللہ کی عطا کی گئی بےشمار نعمتوں کا ادراک کرتا ہے۔ کائنات کے نظام کی ہمواریت پہ غور کرتا ہے۔ اللہ کی تخلیق میں کاریگری دیکھتا ہے –

عقل اور شعور کی یہ نعمت انسانوں میں امتیاز کا سبب ہے۔ ہدایتِ کامل،قرآنِ پاک میں اہلِ عقل اور سمجھ رکھنے والوں کو خصوصیت سے مخاطب کیا گیا ہے، جو اِس بات کا ثبوت ہے عقل، شعور، آگہی اور تدبر کی بنیاد پر کچھ انسان فوقیت رکھتے ہیں –

مثال کے طور پہ: سب لوگ کھانا کھاتے ہیں، کچھ کھانے کو دن بھر کے معمول کا حصہ سمجھتے ہیں، اِن کے لئے کھانا اِسی قدر اہم ہے کہ بھوک مٹانے کو کافی ہو ، ذائقے کی تمیز اور پرکھ سے بھی آزاد، کھانے کا وقت ہوا، کھانا کھالیا، – – – عادتاً یاد رہا تو الحمد للہ کہہ دیا ورنہ خیر ۔۔۔

ایک اور قبیل کے لوگ حسبِ مزاج اور حسبِ طلب مین میخ نکالنے کے عادی ہوتے ہیں، پسندیدہ چیز ہو، پکوائی اچھی ہو، ذائقے کا دھیان، عمدہ اور مہنگی چیز کھا کر نفسیاتی تسلی محسوس کرتے ہیں، کسی عزیز کو کھانے کی دعوت دینے میں خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں۔

ایک قسم ہے جس کے کھانے والے نے کھانے کے دوران کھانے کی تیاری کو سوچا، ہر نوالے میں مصالحہ جات کا ذائقہ محسوس کیا، خوشبو اور پیشکش کے طریقے کو مدّنظر رکھا، برتنوں کی ترتیب اور رنگوں کو ملاحظہ کیا۔

ایک اور ندارد درجہ ہے جنہوں نے ہر نوالے کی لذّت کو محسوس کرکے اِحساسِ تشکر محسوس کیا، پسندیدہ کھانے پر رب کی احسان مندی مانی جس نے پسندیدہ شے تک رسائی نصیب کی، اُس سے لذت اُٹھانے کے اسباب مہیا کئے۔ اِس گروہ کے شخص نے سوچا کہ کتنے ہی لوگ من چاہی خوراک حاصل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، یا اگر قدرت رکھتے ہیں تو وہ چیز اُس کے لئے باعثِ تکلیف ہے، معالج نے منع کر رکھی ہے، معالج کا تذکرہ نہ بھی ہو تو وہ خود جانتا ہے کہ یہ شے کھانے سے اُسے کیا عارضہ ہوگا۔

وہ شخص اس حقیقت کا شعور کرتا ہے کہ من چاہی لذیذ خوراک تو اہلِ جنت کے خصوصی اعزاز میں شامل ہےجو اُس کو زمین پر میسر ہوگئی۔ یہ شخص کھانے سے اُٹھتا ہے تو رب کی بندگی سے لبریز ہے، ہر نوالہ جو اُس نے چبایا تو اپنے دل میں رب سے رابطہ پیدا ہوتا پایا۔

سب نے کھانا ہی کھایا مگر محسوسات کا یہ فرق عقل اور دانش کے فرق کے اعتبار سے تھا۔ ہر طبقے نے اپنی عقل کے معیار کے مطابق سوچا۔

سوال یہ ہے کہ: کیا عقل اور شعور کا عطا ہوجانا اِتمامِ نعمت ہے ؟ – – – یا اگر عقل اور اِدراک ہو مگر انسان اُس عقل کے اِظہار، بیان اور استعمال سے قاصر ہو، اسباب اور ساتھ موافق نہ ہو ۔ ۔ ۔ تو بھی اُس شعور کا محض عطا ہونا کافی ہوگا ؟

(font changed )

یہ شیشہٴ دِل . . . مسکن تیرا

Kanker by Umaira Ahmad

ڈرامہ سیریل کنکر

image

ڈرامہ سیریل “کنکر” معروف لکھاری عمیرہ احمد کی تحریر ہے جو “ہم” ٹی وی سے نشرہورہا ہے۔ یہ کہانی عمیرہ احمد کی كہانى ” وہی دِل کے ٹھہرجانے کا موسم” پر مبنی ہے- اس سیریل میں ڈرامے کے تمام لوازمات مکمل ہیں ۔ ہیرو ہیروئین ، مخالف افراد ، ماں بیٹیاں، ماں بیٹا ، تین الگ الگ جگہ باپ کا کردار ، ساس بہو کا تناوٴ ، طوفانی محبت ، افلاطونی محبت ، چاوٴ بھری شادی ، . . . وغیرہ -مصنفہ نے شعور کی رَو والی ڈرامائی تکنیک کا بہت خوبصورت استعمال کیا ہے ۔ ان سب موضوعات کے ساتھ یہ بنیادی طور پہ “مرد” کی کہانی ثابت ہورہی ہے

مرد کی ذاتی زندگی میں عورت کئی حوالوں سے شامل ہوتی ہے جیسے ماں ، بہن ، بیٹی ، خالہ ، پھوپھی ، . . . لیکن یہ مرد کی زندگی کےاُس پہلو كى كہانى ہے جہاں وہ عورت کا شوہر ہے ۔ یہاں ازدواجی زندگی کے جس پہلو پہ فوکس کیا گیا ہے وہ بیوی کی توہین ، میکے کے سٹیٹس كى تحقیر اور ہاتھ اُٹھانا ہے ۔

کہانی كا ہیرو سکندر وطن واپس آتے ہی ہیروئن کِرن سے اچانک اور شدید محبت کا دعویدار ہے یہاں تک کہ کِرن کے لئے اُس نے ماں کی بھانجی سے رشتہ توڑ کر ، اپنی ماں اور باپ کو بمشکل راضی کیا اور کرن سے شادی کی ۔ کرن کا گھرانہ معاشی اعتبار سے سکندر کا ہم پلہ نہیں ہے ۔ سکندر بہت کم دنوں میں ہی بیوی کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگتا ہے ۔ كرن كا كِهلا كِهلا چہره مرجهانے لگا ہے-۔

ِ اسى دوران کرن کی بڑی بہن کی شادی ہوجاتی ہے ۔ بہن کی شادی کے موقعے پر بھی سکندر بیوی کو حیلے بہانوں سے عاجز کرتا ہے ۔ ایک دن کرن کی بہن اسے کھانے پہ بلاتی ہے اورکرن سکندر کی رضامندی سے آنے کا وعدہ کرلیتی ہے ۔ لیکن عین موقعے پر جب کرن جانے کو تیار کھڑی ہے ، دوسری طرف بہن کھانے پہ منتظر ہے، سکندر جانے سے انکار کردیتا ہے ۔ تکرار بڑھتی ہے ، توہین آمیز الفاظ سنانے کے بعد سکندر اُسے دھکا دیتا ہے ۔ کِرن لڑھک کے گرتی ہے اور ماں بننے سے پہلے ہی خوشی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے ۔ ڈرامہ ایک موڑ لیتا ہے ، کرن سکندر کے ذکر پر بھی بھڑک اُٹھتی ہے اور طلاق کا مطالبہ کردیتی ہے ۔

اس جگہ پہ عمیرہ احمد ایک تلخ حقیقت سے پردہ اُٹھاتی ہیں ۔ کرن اپنے باپ کے گھر ہے اور اس کی ماں بہنیں اسے قائل کرنا چاہتی ہیں کہ وہ طلاق کا مطالبہ چھوڑ دے ۔ کرن کی دلیل یہ ہے کہ شوہر کے ہاتھوں پِٹنے کا کرب ایسا ہے کہ اس کےبعد وہ اسی شوہر کی اولاد نہیں پیدا کرسکتی ۔ چونکہ اس کی ماں اس کرب سے نہیں گزری لہٰذا وہ اس درد سے آشنا نہیں ۔ اسی بحث کے دوران کرن کی ماں کہتی ہے: تم اپنے باپ کو کیا فرشتہ سمجھتی ہو ، وہ غصے کا تیز اور ہاتھ اٹھانے کا عادی تھا ۔ کرن کی اپنی ماں نے کئی بار اپنے شوہر سے مار کھائی ۔ یہ انکشاف ڈرامے میں کلائمکس کا سماں پیدا کرتا ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی ایک اور مرکزی خیال کو جنم دیتا ہے ۔ کیا کرن کے ساتھ ہونے والا سلوک کرن کے باپ کا مکافاتِ عمل ہے ؟ یہ انکشاف کرن کے لئے لرزہ خیز ہے ۔ وہ اپنے باپ کے لئے کبھی ایسا تصور بھی نہیں کرسکتی ۔ اُس کے لئے اُس کاباپ دنیا کا شفیق ترین انسان ہے ۔۔

دوسری طرف سکندر کے ہاں یہی موضوع زیرِ بحث ہے ۔ سکندر کا باپ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بچے کا ضائع ہوجانا ایک بڑا حادثہ ہے اسی لئے کرن سنبھل نہیں پارہی ۔ وہ سکندر کو ملامت کرتا ہےکہ اُسے بیوی پہ ہاتھ نہیں اُٹھانا چاہیئے تھا ۔ یہاں ایک اور چونکا دینے والا لمحہ ناظرین اور قارئین کا منتظر ہے جب سکندر باپ کو جواب دیتا ہے کہ : میں اور کیا کرتا ۔ یہی سب کچھ تو دیکھتا رہا ہوں بچپن سے ۔ آپ امی پہ ہاتھ اٹھاتے رہے ہیں ۔ اگر آپ کوئی بہتر مثال قائم کرتے تو شاید میں بھی ایسا نہ کررہا ہوتا ۔ سکندر فلیش بیک میں باپ کے ڈانٹنے اور ماں کے رونے کی آواز اکثر سنتا ہے ۔۔

اس مقام کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ مصنفہ نے تمام فوکس دیگر کرداروں کے ساتھ ساتھ ان دو مردوں پہ مرکوز کردیا ہے جن میں ایک سکندر کا باپ ہے اور ایک کرن کا ۔ دونوں کردار عمر کے اُس حصے میں ہیں جب انسان کی توانائیاں زوال کی طرف رواں دواں ہوتی ہیں اور جب انسان میں اپنے اپنے ظرف کے مطابق خود احتسابی کا عمل کسی نہ کسی حد تک شروع ہوجاتا ہے ۔ اور . . . اس عمر میں شرمندگی اور پچھتاوے کا احساس بہت کربناک ہوتا ہے ۔ سفید بالوں اور پختہ چہروں کے ساتھ ، اولاد کے سامنے خجل نظرىں اور ملامت زدہ تاٴثرات لئے ، والدین بالکل بھی نہیں جچتے۔

image
image

“کنکر” میں ان دونوں کرداروں کو بہروز سبزواری اور شہریار زیدی نے بہت خوب نبھایا ہے جس میں چہرے کے تاٴثرات سے مصنفہ کی بیان کردہ صورتِ حال سے انصاف کیا ہے ۔

یہاں پر کہانی سکندر اور کرن کے جوڑے سے نکل کر ان کے ماں باپ کے گرد گھومنے لگتی ہے ۔ وہ رویہ ایک مرد نے تمام عمر خود اپنائے رکھا ، وہی رویہ جب اسکی اولاد کے سامنےآیا تو اُسے اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔ اور ایسا بےفائدە احساس کہ بہت دیر میں ہو ، اتنی دیر میں کہ مداوے کا وقت باقی نہ رہے ۔ یہ افسوس کی وہ صورت ہے ، جس کا سامنا ، لا علاج امراض میں مبتلا افراد کرتےہیں ۔ ایسی رشتے نِبھ بھی جاتے ہیں ، عورتیں بہت کچھ سہہ کر بھی گھر بنائے رکھتی ہیں جیسا کہ کرن اور سکندر کی ماوٴں نے کیا ۔ ایک مکتبہٴ فکر اس طرزِ عمل کو قابلِ تحسین سمجھتا ہے ، ان کے نزدیک عورت کو صبر کی دیوی ہونا چاہیئے ۔ کچھ کے نزدیک یہ رویئہ غلط ہے ۔ ناحق تحقیر ، ہرگز برداشت نہیں کرنی چاہیے ۔ میرے نزدیک یہ دونوں رویئے ایک دوسرے کا پیش خیمہ بنتے ہیں ۔ پہلی صورت بہرحال زیادە کثرت سے پائی جاتی ہے۔۔

لیکن . . . اس صورت میں عورت کے نقصان سے زیادہ معنوی اور دیرپا نقصان مرد کا ہے ۔ کیونکہ عورت اپنی مٹی میں گندھے برداشت کے مادے کی وجہ سے نباہ کرجاتی ہے ۔ جبکہ مرد کے لئے ایسی عورت کا شوہر اور ساتھی ہونا ، شکستگی اور خلش کا باعث ہے ، جس کا دل وہ خود توڑ چکا ہو ، وہ کملائے ہوئے پودے کی طرح اپنے مزاج کی شگفتگی کھو چکی ہو ۔ اس کے اندر کی پُجارن مرچکی ہو ۔ اور اگر مری نہ ہو تو پوجا سے متنفر ہو چکی ہو ۔۔

یہ بات لفظوں تک محدود نہیں ہے ، گھروں ، محلوں ، خوشیوں غمیوں کے موقعے پہ ایسے چہرے اور کہانی کہتی آنکھیں نظر آنا بہت عام سی بات ہے ۔ کرب کی انتہا یہ ہے کہ کبھی کبھی مائیں اپنی بیٹیوں سے اُن کے شوہروں کی طرف سے ہونے والی بدسلوکی کو اپنے شوہر کے سامنے آنے والا اٹل انجام سمجھ کے قبول کرلیتی ہیں ۔ کہ آج یہ مرد اُس مقام پہ آیا ہے اوربیٹی کا باپ ہونے کی مجبوری چکھ رہا ہے ۔یہی معاملہ بھائیوں کے ساتھ بھی ہے ۔ بہت سے مردوں کو اُس چھناکے کی آواز کبھی سُنائی نہیں دیتی جو عورت کا دل ٹوٹنے سے گونجتی ہے ۔ جیسے کہ کرسٹل کا شفاف چمکنے والا برتن کسی کی ملکیت ہو لیکن وە ملکیتی حق کے ثبوت کے لئے خود ہی اس برتن کو ٹھوکر لگا کے دیکھے جس سے چمک بھی زائل ہو جائے اور وہ ٹوٹ پھوٹ بھی جائے ۔۔

جیسے جیسے عمر کا سفر طے ہوتا ہے ، منزلیں بدلتی ہیں ، ذمہ داریاں انسان پہ عمر ڈھلنے کے آثار مرتب کرتی ہیں ، ویسے ہی احساسِ زیاں کا نقش گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔ اُس وقت ملامت کا کوئی فائدہ نہیں ، ماسوائے اِسکے ، کہ ایسے موضوعات کو دیکھنے اور پڑھنے کے بعد بہت سے . . . اپنے رویئوں میں مثبت تبدیلی کرلیں اور بروقت آنکھیں کھول لیں ۔

یہ شیشہٴ دِل . . . مسکن تیرا
جو کنکر سے بھی ٹوٹ گیا
اب کیا حاصل ، اب کیا رونا ،
جب ساتھ ہمارا . . . ٹوٹ گیا ۔
لفظوں کے نوکیلے کنکر سے
اب اور کسے تم توڑو گے
یہ تن من کِرچی کِرچی ہے
بکھرے شیشے کیا جوڑو گے
یہ شیشہٴ دِل . . . مسکن تیرا۔

Do Tragedy Appeals ?

Do Tragedy Appeals ?

Tragedy is what evokes a sinking sorrowful feeling in the heart. Most of the times it comes along with a helpless situation. Usually, tragic characters of novels, movies or dramas, gather more sympathies than the gleeful happy characters. A crying mother, jobless son, cruel husband, clever mother-in-law, strict boss, handicapped hero or poor heroine ( but well-dressed ) . . . all these are certified basic formula components of a successful novel or some show on the big or small screen.

A common thing to notice that heart-broken and dejected characters take a soft corner in the heart of reader/audience whereas gleeful, happy and jolly couples are taken as ignorant. Romeo and Juliet, Othello, Oedipus Rex are famous western tragedies which have been repeated, had making and remaking in all the mediums un-numerable times. Same is here, Shakuntla, Anaarkali, HeerWaris, SohniMahiwal have uncountable presentations.

Talking about tragedies, Greeks were best known for tragic theaters since ancients times. For them, there was some solid impulsive working behind the presentation and popularity of tragedy. People used to watch same plays, for many and many times, at various theaters, performed by different actors every time , wept and sighed during the drama but the acceptance and rating remained constant. So, what was the vital element keeping these dramas quite favorite?

In Aristotle’s definition, a good tragedy must be an imitation/ copy of real life situation, narrow in focus and must evoke pity and fear in its audience, causing the readers/viewers to experience a feeling of “catharsis.” In Greek, catharsis means purgation or purification; running through the lowest tone of pity and sorrow that will leave the person feeling elated. Aristotle (Arastoo) was the first to use this term catharsis, to describe emotional purification. He takes it as cleansing of human soul from excessive and illusional emotions. Act of tragedy works here to bring a sudden climax that evokes great feeling of sorrow, pity, mourning, resulting in restoration, renewal and revitalization in audience.

An other side step comes forth, with the idea that catharsis is an experience that shapes fear and pity with in the margin of balanced amount. People, in their real life, may become much or less addicted and familiar with pity, fear, torment and injustice that they may loose courage to behave normally and accordingly. This suppression, modification and delusion of emotions leads to an emotional and psychological numbness. Through watching/ reading a tragedy, the audience learn how to feel and react about these emotions at a proper level, and here tragedy works as a corrective.

Keeping in mind that the whole objective should remain in the positive aspect. Otherwise tragedy may lead many of people to negativity and depression. For a near concept, its like, to cure and heal a tired stiffed body, one gets up from its cozy place and goes for a brisk walk or jogging. On returning, after a gentle blood circulation and warmed-up sweating body, he feels light, vital and fresh.

موٴدت اور رحمت

موٴدت اور رحمت

سورت الروم کی آیت نمبر 21 ہے
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ

1۔ اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ

2۔ اس نے تمھارے جوڑے تمھی میں سے پیدا کئے

3۔ تاکہ تم اُن کی طرف سکون کر سکو

4۔ اور پھر تمھارے درمیان موٴدت اور رحمت بنادی (کردی)

5۔ کہ اس میں سوچنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔

اللہ تعٰالی نے عورت اور مرد کی تخلیق، خلقت اور فطرت کو اپنی نشانی کہا ہے جو ایک عظیم حکمت کی دلالت کرتی ہے۔

* بات کے شروع میں اپنی نشانی قراردے کر باقی بات مکمل کرنا، اس بات کی طرف اشارە ہے کہ اس تمام معاملے کا اللہ کی شان سے خاص تعلق ہے۔

* اندازِ تخاطب اور گرامر کی رُو سےیہاں عورت یا مرد کی تخصیص نہیں۔ یہ ضمیرِ مخاطب (مخاطب کرنے کا یہ لفظ) عورت اور مرد دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

* اسی طرح لفظ “ازواجاً”، “جوڑا”، ” Spouse” مترادف ہیں یعنی بات ایک ہی وقت میں مردوں اور عورتوں دونوں کو مخاطب کرکے کہا جارہا ہے۔

* تمھاری جنس اور سپیشز سے تمھارا جوڑا بنانے میں اللہ تعٰالی کی حکمت ہے۔ اس نے عورت اور مرد کو ہمزاد بنا کر اُن میں فطری میلان اور جھکاوٴ ناگریز بنا دیا۔ یہ انسان کی فطرت کےایسے اسرار ہیں جن کو اللہ تعٰالی اپنی نشانی کہہ رہا ہے۔

* اس کے بعد ہم جنس بنائے ہوئے جوڑے کو سکون کا سبب بنایا ہے۔ “لتسکنوا الیہا” کا مطلب ہے کہ تم اس جوڑ سے سکون حاصل کرو۔ یہاں سکون بطور “اسم” ازخود پہلے سے موجود نہیں بتلایا گیا بلکہ “اُن کی طرف سکون کرو” بطور فعل بتایا گیا۔ یہ صفت اور خوبی اس تعلق میں ایسی ہے جس کے لئے مرد اور عورت کو تدبیر کرنی ہے۔

* “و جعل بینکم” میں “بینکم” کا لفظ استعمال کرکے مرد اور عورت دونوں کے مابین کی طرف اشارە کیا گیا ہے۔ یہاں بھی مرد اور عورت کو بلا تخصیص اوربلا تفضیل برابر مخاطب کیا گیا ہے۔

* ہم جنس جوڑے میں سکون کے ساتھ دو اور صفات کو اللہ تعٰالی اپنی نشانی بتاتا ہے کہ اللہ تعٰالی تمھارے مابین ۔ ۔ ۔ 1) مودت اور۔ ۔ ۔ 2) رحمت جاری کردیتا ہے۔

یہاں شوہر اور بیوی کے تعلق میں لفظ “محبت” کی جگہ موٴدت اور رحمت استعمال کیا گیا ہے۔ بلاشبہ اس میں رب کائنات کی عظیم حکمت ہے۔

اس حکمت پہ غور کرنے کے لئے یہ دیکھنا ہوگا کہ لغوی اعتبار سے موٴدت اور محبت میں کیا فرق ہے؟

* لغت کے اعتبار سے

محبت: دل اور نفس کی صفت اور کیفیت (صفہ نفسیہ)

موٴدت: عمل، رویے اور سلوک کی صفت اور کیفیت (صفہ عملیہ)

محبت انسان کے دلی جذباتی لگاوٴ کی کیفیت ہے کہ جو کیفیت محبت کی صورت میں دل پہ ہوتی ہے، جبکہ موٴدت انسان کے سلوک اور رویئے کی کیفیت ہے کہ وە سلوک اور برتاوٴ جس سے محبت جھلکتی ہو، ۔ ۔ ۔

اس بات سے یہ اشارە ملتا ہے کہ ازواج اپنی دلی کیفیت پہ اکتفا نہ کریں، خواە وە محبت کے دعویدار ہیں یا نہیں، اچھی ازدواجی زندگی کے لئے دل میں چھپی محبت کافی نہیں، اور لازم بھی نہیں، لیکن اپنے عمل، سلوک اور رویئے میں محبت کا ظاہر ہونا ضروری ہے، چونکہ مرد اور عورت دونوں کو یکساں مخاطب کیا گیا ہے لہذا موٴدت اور رحمت کا معاملہ دونوں ہی کو یکساں طور پہ کرنا ہے۔

ازواج کے باہمی برتاوء، عمل اور گفتگو میں موٴدت (محبت بھرا برتاو)ٴ اور رحمدلی کو اللہ تعٰالی اپنی نشانی قرار دے رہا ہے۔ محبت کے اظہار کے لئے اولین قدم عزت ہے۔ ۔ ۔

؂ ادب پہلا قرینہ ہے ۔ ۔ ۔ محبت کے قرینوں میں

گویا یہ رشتہ قانونی اور شرعی بندھن تو اپنی جگہ ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسان کی فطرت سے مطابقت رکھنے والا بھی ہے جس کو انسان کی فطرت بنانے والا خود اپنی نشانی کہہ رہا ہے اور اُن فائدوں کا ذکر کررہا ہے جو اُس نے اِن دونوں ازواج کی فطرت میں سمو دیئے ہیں۔

* یہ مطالب ان کے لئے ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں اور سوچنے، تدبر کرنے والوں کے لئے ہی یہ بات اللہ تعٰالی کی نشانیوں میں شمار ہوگی۔

۔ * ۔ * ۔ * ۔ * ۔ * ۔ * ۔ * ۔ * ۔ * ۔ * ۔ * ۔

یہاں تک سورت الروم کی آیت 21 کے ترجمے اور مفہوم کا ذکر ہوا۔ جس سے مندرجہ ذیل نکات سامنے آئے۔

1۔ اللہ تعٰالی اس آیتِ مبارکہ میں مرد اور عورت کی تخلیق، اُن کی باہمی کشش، مطابقت اور کیمسٹری کو اپنی قدرت کی نشانی قرار دے رہا ہے۔ چنانچہ یہ مطابقت اور موٴدت اپنا وجود رکھتی ہے۔ اگر ہم اِسے مفقود پاتے ہیں تو لازمی طور پہ ہم غلط پیمانے میں اس تعلق کو تول رہے ہیں۔ اور اس ضمن میں سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ وە توقعات اور ذمہ داریاں وابستہ کرلی یا کردی جاتی ہیں جو خالقِ کائنات نے لاگو نہیں کیں۔ مختلف لوگوں نے مختلف معاشروں میں مختلف روایتی اثرات کے زیرِ اثر اس تعلق کو مختلف مفہوم پہنادئیے جس کی وجہ اس تعلق کی وە حکمت پس منظر میں چلی گئی جو اللہ تعٰالی نے وضع کی تھی۔

2۔ ہم جنس جوڑے ہونے کی وجہ سے اللہ تعٰالی نے ازواج کو ایک دوسرے کے لئے سکون کا سبب بنایا۔

3۔ اور اللہ تعٰالی جوڑوں کے مابین موٴدت اور رحمت پیدا کردیتا ہے، جس کے لئے اُن کو باہمی سلوک میں محبت بھرا رویئہ اپنانا ہے بجائے اس کے کہ زبانی کلامی محبت کا دعوی ہو،( بعض صورتوں میں زبانی دعوے کا تکلف بھی روا نہیں رکھا جاتا) اور عملی رویئے، برتاوٴ، سلوک، محبت کے برعکس اور ناقدری ظاہر کرنے والے ہوں۔

4۔ یہ بات، یہ نشانی، اس تخلیقی میکنزم کی حکمت صرف اُن ہی کو سمجھ آئےگی جو عقل رکھتے ہیں اورتدبر اور غورو فکر کرتے ہیں۔

(font changed )