کینٹربری کہانیاں**/ حصہ3

کینٹربری کہانیاں/پہلے چھ کردار/تیسرا حصہ

چاسر کی اصل وجہء شہرت مجموعہء حکایات “کینٹربری کہانیاں ‘ ہے جس میں قریب 29 زائرین نے سُنانے کے لئے جو کہانیاں منتخب کیں وہ قرونِ وسطیٰ میں ان کے معاشرتی مقام اور زندگی کی نمائندگی کرتی تھیں اور ان کرداروں کی انفرادی شخصیتوں کا عکس بھی تھیں – کسی ادبی شہ پارے میں اِس طرز کا استعمال اِس سے پہلے نہیں دیکھا گیا تھا-

چاسر نے میڈیول معاشرے میں بہت سے فرائض سرانجام دئیے جیسے قاصد، سپاہی، پیامبر، منشی، نگران، سربراہِ محکمہ، حکومتی اہلکار، سرکاری وفد – – – – یہ تمام عہدے اُس کے مشاہدے اور جہاں بینی کی تربیت میں معاون ثابت ہوئے- کینٹربری کہانیوں میں تمام ادبی اصنافِ سخن کچھ اس طرح شامل ہیں کہ مجموعی طور پہ کسی ایک صنف کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا – ان کہانیوں میں جنگی کارنامے، رومانوی قصّے، عشق و شجاعت کی کہانیاں، مذہبی واقعات، علامتی حکایتیں، آپ بیتیاں، جگ بیتیاں، جانوروں کی فیری ٹیلز، احمقانہ حادثے اور ایک مرثیہ بھی شامل ہے- جہاں تک لہجے کا تعلق ہے تو وہ بھی ایک وسیع تنوّع پر مشتمل ہے جس میں نیک، رزمیہ اور سبق آموز سے لے کر بےباکانہ، واہیات اور مہمل تک سب شامل ہیں-

موسمِ بہار کی آمد اور کڑکڑاتے بےرحم جاڑے کی رخصت کی شاعرانہ اور طویل منظرنگاری کے بعد راوی رُتبے کے لحاظ سے سب سے پہلے سب سے قابلِ قدر مسافر کا تذکرہ کرتا ہے-

KNIGHT-1- نائٹ: یہ ایک بہادُر جہاندیدہ سُورما ہے جس نے40سال جنگی مہمات میں برسرِ پیکار رہ کر گزارے ہیں- تقریبا پندرہ صلیبی معرکوں کے سِلسلے میں یورپ کے طُول و عرض اور ایشیائے کوچک (ایشیا مائنر) کا سفر کر رکھا ہے-اسکندریہ کے سقوط کے وقت وہ وہیں تھا، لیتھوانیا، رشیا، پروشیا، غرناطہ، الجیریا، موروکو، ٹرکی، بلماریا اور اطالیہ کی مہمات پہ نامزد رہا- کئی بار قاتلانہ حملوں میں بچا- کئی خوفناک مقابلوں میں اپنے حریف کو زیر کیا- اس کے نام کے ساتھ ‘سر’ کا خطاب اُس کے اونچے عہدے کی دلالت کرتا ہے- یہ سُورما بہت مؤدبانہ گفتگو کرتا ہے اور عامیانہ، لغو باتوں سے احتراز کرتا ہے- اس نے موٹے سے فُسطین کپڑے کی مردانہ صدری پہنی ہوئی ہے- فُسطین ایک عام سوتی کپڑا ہے جس میں اُونی تار شامل ہوتے ہیں- نائٹ کے کپڑے گردآلود ہیں کیونکہ وہ حال ہی میں کسی جنگی مہم کے طویل سفر سے لَوٹاہے اور بخیر و خُوبی واپسی پر کینٹربری کے کلیسا پر شکرانہ ادا کرنے جارہا ہے- راوی اِس مہم جُو سورما کا مداح ہے اور اُس کی صفات بیان کرتا ہے،جن میں 1-شجاعت، 2-وفاداری، 3-ناموری، 4-فراخدلی، اور 5-باریک خیالی شامل ہیں-

KNIGHT

KNIGHT

SQUIRE-2- سکوائر: یہ اِسی سُورما کا نوابی آن بان والا بیٹا ہے- 20سال عمر ہے- مروّجہ لمبائی سے کافی چھوٹی قمیض ہے جس کی کھُلی آستینیں ہیں- سُرخ اور سُفید پھولدارکپڑے کے لباس میں ملبوس درمیانے قد کا صاحبانہ بانکپن لئے ، اپنے بالوں کو گھنگھریالا کروا رکھا ہے- موسیقی، شاعری، مصوّری اور دیگر فنونِ لطیفہ میں دلچسپی رکھتا ہے- فنِ سپاہ گری کا ماہر ہے- کئی معرکے لڑ چُکا ہے-باپ کا ادب کرتا ہے- کھانے پر باپ کو گوشت کے ٹکڑے کاٹ کر پیش کرتا ہے- گوشت کاٹ کر پیش کرنا ایسا کام تھا جس میں جدوجہد صرف ہوتی تھی کیونکہ چودہویں صدی میں کھانے پکانے کے رواج بہت سادہ تھے- معلوم ہوتا ہے کہ اُس کی تمام سپاہ گری اور مظہر کسی محبوبہ کا اعجاب پانے کے لئے ہے- رات کو ایک فاختہ کی مانند کم نیند لیتا ہے- زمینداری نوابوں والا التفات اور ادائیں بدرجہءاتم پائی جاتی ہیں- وہ موسمِ بہار کے جُولانی مزاج کی ہوبہو تصویر ہے-

Canterbury_Tales__Squire_by_kekumbaz

YEOMAN-3- یومین: رابن ہُڈ جیسے حلیے میں ایک مزارع ہے جو نائٹ کا وفادار اور تابعدار ہے- سبز لباس میں ، تیر کمان لٹکا ئے ، ایک چاقو اور تلوار سے لیس، مستعد شخص ہے – یہ ہتھیار سادہ ہیں اور اُس کے طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں- چاوسر ہتھیاروں کی اچھی حالت اورچمک کی تعریف کرتا ہے- چھوٹے چھوٹے بال اور سنولایا ہوا رنگ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ظاہری وضع قطع سے بےنیاز، اپنے کام کو خلوص سے انجام دیتا ہے- سینے پر سینٹ کرسٹوفر کا میڈل آویزاں کیا ہوا ہے جو اس کی مذہبی وابستگی کو ظاہر کرتاہے- اس مزارع کا تذکرہ آگے کہانیوں میں نہیں آتا، غالبا اس کردار کا ذکر کرنے کی وجہ یہ بتانا ہے کہ نائٹ ایک کم پروٹوکول والا افسر ہے جس کا حفاظتی سکواڈ اکیلے مزارع پہ ہی مشتمل ہے – یہ بات بھی پتہ چلتی ہے کہ نائٹ کچھ زرعی رقبے کا مالک ہے جس کی دیکھ بھال کے لئے اُس نے مزارعے کو ملازمت پہ رکھا ہوا ہے –

The_Yeoman

PRIORESS-4- پرائرس: ایج لین ٹائن نام کی یہ خاتون دوسرے درجے کی راہبہ ھے- اس کا رُتبہ راہبہ سے کم ہوتا ہے- چودہویں صدی کے انگلستان میں اِن راہباؤں کے ذمے انتظامی اُمور ہوا کرتے تھے جن میں چرچ میں نظم و ضبط رکھنا، عبادات کی ادائیگی ، مناجات سُننا اور مناجات پڑھنے والوں کو سکھانا اور راہباؤں کا ڈسپلن قائم رکھنا – راوی ایک راہبہ کے اس قدر مرصّع اور سجیلے نام پہ تعّجب کا اظہار کرتا ہے- خاتون گفتگو ،کھانے اور نشست و برخاست کے ماڈرن نفیس آداب رکھتی ہے جو کہ ایک راہبہ کا خاصہ نہیں – چا وسر نے کھانے کے متعلق تفصیل بڑی اچھی طرح لکھی ہے- کھانا کھاتے ہوئے کوئی ذرہ نیچے نہیں گِراتی، نہ ہی اُس کی اُنگلیوں پہ سالن لگتا ہے، شوربے کا کوئی قطرہ لباس پہ نہیں گِرتا، اور اپنے کپ کو منہ لگانے سے پہلے ہونٹ سے چکنائی کو اچھی طرح صاف کر لیتی ہے اِسی لئے اُس کے کپ میں چکنائی تیرتی ہوئی نظر نہیں آتی- چاوسر متعجب ہے کہ خاتون نے زمانے کے رواج سے ہٹ کر ایسے طور طریقے اپنا رکھے ہیں جو صرف اشرافیہ کا خاصہ ہیں- تمام دِن دعائیہ سروس ناک میں گاتی رہتی ہے اور لیاقت جتانے کے لئے غیرمعروف،ایک علاقائی لہجے کی فرانسیسی بولتی ہے – یہ دُنیاداری کی طرف رغبت کو ظاہر کرنے والی بات ہے- تیکھا ناک، سرمئی چمکتی آنکھیں، گلابی ہونٹ اور ہتھیلی جتنا چوڑا کشادہ ماتھا ہے- اس قدر نازک دل ہے کہ کسی کو چوہا مارتے ہوئے دیکھ کرملُول ہوجاتی ہے– اِس راہبہ کے ساتھ ایک نن اور پرییسٹ ہیں – تین چھوٹے پالتو کتّے ہیں جن کو پکا ہوا گوشت ڈالتی ہے- گویا انسانیت کو دی جانے والی محبت کا ایک حصہ اُس کے پالتو وصول کرلیتے ہیں- پرائرس نے بازو پہ سبز اور سُفید قیمتی موتیوں والی ایک تسبیح پہنی ہوئی ہے جس سے لٹکتے لاکٹ پہ کنداں ہے انگریزی میں “محبت فاتحِ عالم” ، یہ راوی کی طرف سے ایک طنزیہ اشارہ ہے- بات بے بات سینٹ لوئی کی قسم کھاتی ہے جو کہ قسم نہ کھانے کے لئے مشہور تھا- چاوسر نے تعریفی انداز میں طنز کا استعمال کیا ہے-

prioress--...

MONK-5- مونک : ایک روایتی تپسّوی یا جوگی کو مونک کہا جاتا ہے- گرجا گھر کے بیرونی دنیا کے معاملات اور خارجی لین دین مونک کے فرائض میں شامل ہوا کرتا تھا- چاوسر کا مونک، چودہویں صدی کا روایتی بدعنوان درویش، جس کی گنج شیشے کی طرح چمک رہی ہے – کام میں کاہل اور مطالعے کا چور ہے حالانکہ اُس کی تپسّیا کے لئے کام اور مطالعہ ضروری ہیں-اُسے کیا ضرورت ہے کہ کسی کمرے میں تنہا بیٹھ کر کسی کتاب میں غرق ہو جائے- عمدہ لباس ہے اور بازو کے آگے علاقے کی بہترین فَر لگی ہوئی ہے- اُسے اپنے لباس پہ لگی ایک سُنہری پِن بہت بھاتی ہے- شکار کا شوقین ہے اور اعلٰی نسل کے شکاری کتّے پال رکھے ہیں – اُس کے گھوڑے کی لگام بہت شاندار ہے جو دُور سے گرجا کی گھنٹیوں کی طرح بجتی سُنائی دیتی ہے- چاوسر نے یہاں بھی تقابلی طنز استعمال کیا ہے- مونک نے سادہ زندگی کے بجائے ہر طرح کا عیش و عشرت اپنا رکھا ہے- مونک خود اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ جدید رحجانات کا حامل ہے اور پرانی روایات میں تبدیلی لانے کا حامی ہےـ بھلا گئے زمانوں کے قاعدے اور قوانین اب کیا کام دیں گے، نئے زمانے کے نئے اطوار ہی بہتر ہیں- الغرض پرائرس کی طرح ، مونک میں بھی وہ سب باتیں موجود ہیں جو کہ ۔ ۔۔ نہیں ہونی چاہیئے تھیں –

                                                <a href="https://sarwataj.files.wordpress.com/2013/12/a-szyk-the-monk.jpg"><img src="https://sarwataj.files.wordpress.com/2013/12/a-szyk-the-monk.jpg?w=238" alt="a-szyk-the-monk" width="238" height="300" class="alignnone size-medium wp-image-285" /></a>                    

FRIAR-6-فرائیر: ایسا درویش جس کا تعلق کیتھولک مذہب سے ہو فرائیر کہلاتا ہے- دیگر ارکانِ گرجا کی نسبت فرائر سب زیادہ تارکُ الدنیا اور درویشی کی علامت سمجھے جاتے تھے- قُرونِ وسطیٰ کے انگلستان میں فرائرز کو گرجا کی طرف سے باقاعدہ لائسنس جاری کئے جاتے تھے جس کے تحت وہ گزر اوقات کے لئے صدقات وغیرہ لینے کے مجاز تھے اور اعترافِ معاصی سُننے اور بخشِش عطا کرنے کا معاوضہ بھی لے سکتے تھے گویا فرائر چرچ کی طرف سے معافی فروخت کیا کرتے تھے- چونکہ وہ کوئی جائیداد رکھنے کے مجاز بھی نہیں تھے اِس لئے یہی ان کا کُل ذریعہءآمدن تھا- یہ لائسنس اکثر اوقات اِن کے بہکنے کا سبب بھی بن جایا کرتا کیونکہ کئی گناہگاروں کی دِلجوئی کرتے ہوئے یہ جذباتی بھی ہوجاتے ہوں گے، شاید یہی وجہ ہے کہ چاوسر کے اس فرائر نے کئی شادیاں کررکھی ہیں-

“maad many a mariage \ of yonge women at his owene cost”

غالبااُس کا حلقہء عقیدت مندان زیادہ تر دُکھی متموّل خواتین پر مشتمل ہوگا کیونکہ یہ درویش یہاں وہاں ایسے لوگوں کی تلاش میں سرگرداں رہا کرتے تھے جو اپنے گزر جانے والوں کی مغفرت کے لئے کچھ خرچ کرنے کے خواہاں ہوں- چاوسر کہتا ہے کہ جن لوگوں کا اوپر والا ہونٹ سخت ہوتا ، وہ اُسے ڈر کے پیسے دے دیا کرتے، اُوپر والے ہونٹ کا سخت ہونا استعارہ ہے کہ انہیں رونا نہیں آیا کرتا تھا، جس پہ وہ خائف ہوتے کہ رونے کے بغیر گناہوں کی معافی نہ ہوئی تو کیا ہوگا چنانچہ وہ بخشش کروانے کے لئے ادائیگی کردیا کرتے تھے- بحث مباحثے اور مقابلوں کے لئے موزوں دلنشین آواز ہے، چمکتی آنکھیں اور فنِ خطابت میں طاق ہے – آواز بہت سُریلی ہے، اکثر گُنگناتا ہے، نغماتِ محبت گانے کے مقابلے میں تو اوّل آسکتا تھا- گناہوں کی معافی اور اعتراف سُننے کی ذمہ داری کے علاوہ صدقہ جات کی طرف راغب کرنے کا اسلُوب رکھتا ہے- غریبوں اور ضرورت مندوں کو قریب پھٹکنے نہیں دیتاـ اُس باتوں سے راوی نے اندازہ لگایا کہ اُسے تمام ہوٹلوں اور مے خانوں کی تفصیلات معلوم ہیں کہ جہاں اُس کے کھانے پینے کا بندوبست ہوسکے- وہ ایک سادہ، درویش فرائر کی نسبت ایک رُعب دار سردار زیادہ معلوم ہوتا ہےـ

szyk-friar

کینٹربری کہانیاں** – دوسرا حصہ

THE CANTERBURY TALES- PART 2

کینٹربری کہانیاں – زمانہء تحریر – دوسرا حصہ

ماہرینِ انگریزیات نے اتفاقِ باہمی سے اس نظم کو چودہویں صدی کی عکاسی کرنے والا بہترین ادبی شہ پارہ قرار دیاہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جس کو “ازمنہٴ وسطیٰ” کہا جاتا تھا یا کہا جاتا ہے۔
مڈل ایجز” یا “ازمنہٴ وسطیٰ” کی اصطلاح ایک عجیب تاٴثر پیدا کرتی ہے یعنی درمیانی زمانہ یا عرصہ ۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کن دو وقتوں کا درمیانی زمانہ ؟ اور اُس عہد کے رہنے والوں نےیہ کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ وہ “درمیانی زمانے” میں رہنے والے کہلائیں گے ۔

مڈل ایجز کی یہ اصطلاح بعد میں آنے والے اُن لکھاریوں اور موٴرخین نے استعمال کی جن کا تعلق “نشاۃ الثانیہ” سے تھا۔ انگریزی میں نشاٴۃ الثانیہ کو “رینےسانس” کہا گیا جو بذاتِ خود ایک فرانسیسی لفظ ہے اور اِسے “ریستوراں” کے وزن پہ ” رے نی ساں” بولا جاتا ہے۔

میڈیول یا مڈل ایجز، سے وہ عرصہ مراد لیا جاتا ہے جو ۴١٠ میں سلطنتِ روم کی تباہی سے شروع ہوا اور تقریباً پندرہویں صدی میں مختلف علمی تحریکوں پہ اختتام پذیرہوا۔ مغربی رومی سلطنت ۴١٠ اور پھر ۴٧٦ میں جرمینِک اقوام کے ہاتھوں اُجاڑی گئی۔ یورپ کے شمال مغرب سے گوتھ قوم نے شہرِ روم کو بُری طرح ملیامیٹ کردیا تھا ۔ گوتھ انتہائی غیر مہذب قوم تھی۔ جن کے حملے کا مقصد مال اور خوراک کی تلاش تھی۔ گوتھکز پہ کئی فلمیں بنائی گئیں ۔ مغربی گوتھ کو وزی گوتھ کہا جاتا ہے۔

image

قبضے کا روم پہ بہت گہرا اثر ہوا۔ قریب قریب اِسے غالب کے خطوط میں موجود دِلّی کی تباہی جیسا سمجھ لیں ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ روم پر حملہ کرنے والے،وزی گوتھ مسلمہ طور پرجاہل، بد اخلاق اور غیر مہذب تھے ۔ مغربی تاریخ کے تمام ماٴخذ اس بات سے متفق ہیں ۔ جبکہ دِلّی (دہلی) کو تاراج کرنے والے دنیائے عالم میں خود کو عقلِ کُل مانتے تھے۔ خیر روم کی تباہی سے مرکزی رومی حکومت کا نشان مِٹ گیا تھا جس سے معاشی، معاشرتی اور ہر طرح کی بدحالی پھیل گئی۔ غذائی قلت، پے در پے حملے، جنگیں ، طاعون اور سیاسی عدم استحکام نے برا حال کردیا تھا۔

مڈل ایجز کا ابتدائی پانچ سوسالہ عرصہ ڈارک ایجز یا قرونِ مظلمہ کہلاتا ہے ۔ پانچویں صدی سے دسویں صدی تک متعدد لڑائیوں اور بدامنی کا زمانہ تھا ۔ موٴرخین اس دور کے بارے میں حتمی طور پہ کچھ دلیل پیش کرنےسے قاصر ہیں۔ کیونکہ اس وقت میں جان بچانا مشکل تھا، کوئی دستاویز یا تاریخی معلومات تو کیا ملتی ۔ ۔

ازمنہٴ وسطیٰ میں علمی اور ادبی سوچ یکسر معدوم تھی۔ یہ جہالت کا دور تھا۔ روایتی اور کلاسیکی اقدار سِرے سے غائب تھیں ۔ لوگوں کی زندگیوں پر زمینداری نظام کی دھونس بازی اور کلیسا کی مطلق العنانیت کا مکمل اختیار تھا۔ اس زمانے کے تقریباً ابتدائی پانچ سو سالوں میں، عیسائیت نےخود کو پورے یورپ میں مستحکم کیا ، اور ایک ایسا دستوری مذہبی نظام قائم کیا جس میں معاشرے کے تمام پہلووٴں سے نمٹنے کی صلاحیت موجود تھی۔ منظّم ادارتی صورت میں ، بیماروں کی تیمارداری سے لے کر عدالتی اختلافات حل کرنے تک عبور حاصل کیا۔

سیکولر اداروں اورحکومتی ڈھانچوں سے دودو ہاتھ کئے، یورپ کی اکانومی کو مضبوط زمینداری نظام پہ قائم کیا جس میں کلیساوٴں کو بڑے بڑے رقبے سونپے جاتے تھے ۔ کلیسا کی انتظامیہ ان اراضی سے آمدن حاصل کرنے کے لئے مزارعے، مزدور، کسان، ٹھکیدار، منشی، اور ایسا ایک پورا نظام مرتب کیا کرتی تھی۔

اس درمیانی زمانے یا ازمنہٴ وسطیٰ میں کئی خونیں اور خوفناک تنازعے سامنے آئے جن کے کئی اسباب تھے ۔ ۔ ۔ ۔ طاقت کی تقسیم، کلیسا اور اقتدار کے مابین اختیارات کی کھینچا تانی اورکلیسا کے بے تحاشا مضبوط مالیاتی نظام میں غریب طبقے کا حصہ اور مقام ۔ اِسی زمانے میں رواجوں ، اداروں ، طاقت اوراقتدار کے ارتقاٴ کی بنیادیں وضع ہوئیں ۔ اور پھر انہی بنیادوں پر “رے نی ساں” اور اُس کے بعد ماڈرن عہد میں یورپ کی توسیع اورترقی کا کام ہوا۔

چاسر نےاپنی نظم چودہویں صدی کے آخر میں لکھی ۔ اس وقت کو مڈل ایجز کا آخری عرصہ یا “رے نی ساں” کا ابتدائی دور تصور کیا جائے گا۔ شاعر نے اپنی نظم میں معاشرے کے ہر طبقے سے افراد کا تنوع اپنےکرداروں میں پیش کیا ۔ پڑھنے والا بخوبی چودہویں صدی کی اس لفظی تصویر کشی سے اُس وقت کے حالات کو تخیل کے پردے پہ دیکھ سکتا ہے

پندرہویں صدی کے دوران گلوب کے دیگر اطراف:

-570عیسوی: ولادتِ محمدِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
-602 – 629 عیسوی: روم اور فارس کے مابین جنگ ( اس جنگ کے نتیجے میں دونوں اقوام یوں کمزور ہوئیں کہ 630 میں عرب افواج کے سامنے نہ ٹھہر سکیں-
-622 عیسوی: ہجرتِ مدینہ ، مواخات
-632 عیسوی: وفاتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر صدیق خلیفہء اول
اس وقت تمام جزیرہء عرب پہ اِسلام پھیل چکا تھا-
-638عیسوی: خلافتِ عمر کا زمانہ، یروشلم اسلامی قلمرو میں شامل
-641عیسوی: معرکہءنہاوند، فتحِ فارس
-674عیسوی: ارضِ قسطنطنیہ پہ مسلمانوں کا پہلا معرکہ
-711عیسوی: طارق بن زیاد کی سربراہی میں فتحِ سپین
-750عیسوی: عباسی خلافت کا آغاز
-786عیسوی: ہارون الرشید کے دور کا آغاز
-800عیسوی: شارلیمان کی تاج پوشی بطور مقدس رومن ایمپرر
-827عیسوی: فتحِ سسلی، اسلامی سلطنت میں شامل
-929عیسوی: خلافتِ قرطبہ کا آغاز، عبدالرحمٰن ثالث کی تخت نشینی
-978عیسوی: ہسپانیہ میں منصور تخت نشین ہوا
-1097 – 1199 عیسوی: پہلی صلیبی جنگ، یروشلم پر عیسائی قبضہ
-1117عیسوی: آکسفورڈ یونیورسٹی کا قیام
-1187عیسوی: سلطان صلاح الدین ایّوبی نے 91 سال بعد یروشلم دوبارہ فتح کرلیاجو کہ 761 سال مسلم حکومت میں شامل رہا، 1948 تک
-1204عیسوی: چوتھی صلیبی جنگ، قسطنطنیہ کی فتح، اسلامی قلمرو میں شامل
-1258عیسوی: ہلاکو خان کی زیرِ قیادت منگولوں کے ہاتھوں بغداد کی تباہی اور خلافتِ عباسیہ کا خاتمہ، مستعصم باللہ کی عبرت ناک موت
-1260عیسوی: جنگِ عین جالوت، مصری مملوکوں نے منگول افواج کو بدترین شکست دے کر مصر، شام اور یورپ کو منگولوں کی تباہکاریوں سے بچایا
-1272 – 1273عیسوی: نویں صلیبی جنگ جس کو ارضِ مقدسہ پر سب سے بڑی جنگ کہا جاتا ہے
-1299عیسوی: عثمان اول نے عثمانی سلطنت قائم کی
-1380عیسوی: چاسر نے کینٹربری کہانیاں لکھنا شروع کیں
-1453عیسوی: عثمانی ترکوں نے سلطان محمد فاتح کی سربراہی میں قسطنطنیہ فتح کیا- سقوطِ قسطنطنیہ سے مشرقی (بازنطینی) رومن سلطنت کا ختمہ ہوا- قسطنطنیہ(استنبول) خلافتِ عثمانیہ کا دارالحکومت اور اسی کو مڈل ایجز کا نقطہء اختتام کہا جاتا ہے
-1456عیسوی: حکومتِ عثمانیہ کے ہاتھوں فتحِ بلغراد
-1492عیسوی: سقوطِ غرناطہ، آخری مسلم حکمران ابوعبداللہ نے ملکہ ازابیلا اور شاہ فرڈیننڈ کے سامنے ہتھیار ڈالے- کولمبس نے نئی دنیا دریافت کرلی
-1499عیسوی: عثمانی بحری بیڑے نے جنگِ لیپانٹو میں یورپیوں کو شکست دی- پہلی سمندری جنگ جس میں بحری بیڑے پہ نصب توپیں استعمال کی گئیں

Nahavand

Nahavand

Age of the Caliphs

Age of the Caliphs

image
فتحِ هسپانیہ-711

فتحِ هسپانیہ-711

مسجدِ قرطبہ

مسجدِ قرطبہ

قصر الحمراء،غرناطہ

قصر الحمراء،غرناطہ

A painting of 21 years old Sultan Mehmed 2 approaching Constantinpole,  1453,transporting a giant bombard.

A painting of 21 years old Sultan Mehmed 2 approaching Constantinpole, 1453,transporting a giant bombard.

1453, Mehmed II, Entering to Constantinople

1453, Mehmed II, Entering to Constantinople

Mehmed_II_ferman-Mehmed II's ahidnâme to the Catholic monks of the recently conquered Bosnia issued in 1463, granting them full religious freedom and protection.

Mehmed_II_ferman-Mehmed II’s ahidnâme to the Catholic monks of the recently conquered Bosnia issued in 1463, granting them full religious freedom and protection.

Fatih Sultan Mehmet Bridge over the Bosporus Straits in Istanbul was built in the 20th century

Fatih Sultan Mehmet Bridge over the Bosporus Straits in Istanbul was built in the 20th century

کینٹربری کہانیاں** – پہلا حصہ

کینٹربری کہانیاں – تعارف – پہلا حصہ

انگریزی ادب کا اولین شاعر جیفری چاوسر Geoffrey Chaucerکو مانا گیا ہے جس کا کلام کسی طور محفوظ پایا گیا ۔ اور یہ بھی کہ چاوسر نے شاعری کے لئے ایسی انگریزی استعمال کی جو آج کا قاری بھی معمولی تُک بندی سے سمجھ سکتا ہے چنانچہ زبان دانوں نے چاوسر کو ماڈرن انگریزی ادب کا باوا تسلیم کرلیا ۔

یہ قصہ الگ کہ ہم ذہنی اعتبار سے انگریزی زبان کے ایسے سگے امین بنے کہ ہماری پرائمری سکول کی استانی کے ہاتھ چاوسر کی کاپی آجاتی تو وہ کئی سپیلنگز پر سرخ پین سے دائرے بناتی بناتی صفر نمبر دیتی اور تحریر کو انگلش نہ جانتی۔ بہرحال انگریز خُود اپنی مرضی سے چاوسر کی شاعری کو جدید انگریزی شاعری کا نقطہٴ آغاز مانتے ہیں ۔

image

چاوسر کی تاریخ پیدائش نامعلوم ہے لیکن تاریخ وفات 1400 کہی جاتی ہے۔ بھلا ہو ناقدین کا جنھوں نے جدیدیت کو چاوسر صاحب کی شاعری کا سب سے نمایاں پہلو قرار دیا ۔ جدیدیت کے علاوہ اس کی شاعری اور بھی کئی خاص صفات رکھتی ہے

چاوسر کی مشہور ترین نظم ” کینٹربری کہانیاں ” ہے ۔ یہ ایک فریم کہانی ہے جس میں مزید کئی چھوٹی چھوٹی کہانیاں ہیں ۔ لندن کے مضافات سے کچھ مسافر ایک قافلے کی صورت کینٹربری کی طرف روانہ ہوتے ہیں جن کا مقصد کینٹربری کے ایک بڑے کلیسا کی زیارت کرنا ہے۔ عام طور پہ ایسے قافلے بہار کی آمد پہ روانہ ہوا کرتے تھے جب برفانی جاڑا رخصت ہوجاتا۔ نظم کا راوی اس سفر کے تمام شرکاٴ کا تعارف کرواتا ہے اور ایسی تصویر کشی کرتا ہے کہ تمام منظر قاری کے سامنے زندە ہوجاتا ہے۔ تعارف کے لئے راوی نے ایسی تفصیلات چنیں جو ہر کردار کی صورت اور سیرت واضح کردیں ۔اُنتیس مسافروں کے اس قافلے میں یہ طے پاتا ہے کہ ہر مسافر منزل کی طرف جاتے ہوئے دو دو کہانیاں سُنائے گا اور واپسی کے سفر میں پھر دو دو کہانیاں سُنائے گا ۔ اِن کہانیوں اور کرداروں کا دلچسپ اور اہم ذکر پھر کبھی سہی ، پہلے اس کے زمانہٴ تحریر پہ بات ہوجائے۔

image

by the brush of an artist

by the brush of an artist

FOREIGN CONTENT فارن کونٹینٹ

فارن کونٹینٹ

Foreign content
image

فارن کونٹینٹ ایسی اصطلاح ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک زیادہ گوش آشنا نہیں تھی۔ حالیہ صورت حال میں اس سے مراد ترک ڈرامے ہیں جویکدم بہت تواتر سے نظر آنے لگے ہیں تاہم عرصہ دراز سے مختلف آراٴ کی موجودگی میں چلتے رکتے ہمسایہ ملک کے پروگرام بھی “فارن کونٹینٹ” کے زمرے میں آتے ہیں۔ ان ڈراموں اور پروگراموں کی ایجابی اور سلبی قدر کا اندازہ مختلف آراٴ کی صورت میں ہمارے سامنے آرہا ہے-

بادئ النظر میں یہ معاملہ نیا نیا سا معلوم ہوتا ہے لیکن یہ ایک “کہانی بہت پرانی” ہے۔ اسی80 کی دہائی میں جب پاکستان میں پی ٹی وی تنہا راج کر رہا تھا ، بحرین کے چینل 55 نے عربی سب ٹائٹل کے ساتھ انگریزی پروگرام دکھانے کی روایت کا آغازکیا۔ اس زمانے میں dynasty سیریز امریکن ٹیلی ویژن ABC کا ایسا سوپ تھا جو 1981 سے 1989 تک چلا۔ اور اس سیریز کا ایسا سحرتھا کہ دیکھنے والے شاید ہی بھلا پائے ہوں۔ جنون کی حد تک بچے اور بڑے اس کھیل کے دیوانےتھے۔ اور بحرین کا یہ چینل اس کو عربی سب ٹائٹل کے ساتھ دکھاتا تھا۔

کم و بیش اسی وقت بیروت کی ایک کمپنی بچوں کے اینمی کارٹونز کو عربی زبان میں ڈب کرنے میں شہرہ حاصل کرچکی تھی۔ ڈب شدہ جاپانی اینمی سیریز آج بھی عرب دنیا کے بچوں کے حافظے میں موجود ہوں گی۔ شام 4 بجے کا وقت کسی بھی بچے کو ٹی وی کے سامنے سے ہلنے نہیں دیتا تھا۔
یہ کراتین مدبلجہ کہلاتے تھے یعنی ڈب شدہ کارٹون۔

سالی، فلونہ، ھایدی، سنان، پولیانا، جورجی، کیپٹن ماجد، عدنان و لینا، ۔ ۔ ۔ یہ سب وہ نام ہیں جن کے لئے بچے دیوانے ہوا کرتے تھے۔ بازاروں میں کیپٹن ماجد اور دیگر کی تصویروں والی کاپیوں سے لے کر جوتے کپڑے، ہر چیز چھا چکی تھی۔

دبلجہ” یعنی ڈبنگ بنیادی طور پہ فرانسیسی لفظ ڈوبلیج سے ماخوذ ہے۔ ڈبنگ کا کام پہلے پہل فرانسیسی زبان میں شروع ہوا جب شمال مغربی افریقہ
یا افریقۂ کوچک میں ہالی ووڈ فلموں کو فرانسیسی زبان میں ترجمہ کیا گیا۔ فرانسیسی پہلی زبان ہے جس نےعرب یا اسلامی دنیا میں راستہ بنایا۔ 1798میں فرانس کے نپولین بوناپارٹ نے مصر میں قدم رکھا تو اس کے ہمراہ چھاپہ خانہ بھی تھا جو عرب دنیا کا پہلا چھاپہ خانہ تھا۔ آج بھی لبنانی، شامی اور مصری لہجے میں فرانسیسی طرز کے اثرات واضح طور پر محسوس کئے جاسکتے ہیں۔

الیکٹرونک میڈیا تہذیب کا اہم ترین جزو ہے اوراسلامی دنیا کے عرب حصے میں اس تہذیبی عنصر کو بہت سی تبدیلیوں کا سامنا ہے۔ ڈبنگ کا کام عرب ممالک میں تقریبا دو تین دہائیوں سے جاری ہے ۔ MBCکے پانچ یا چھ چینلز ڈب شدە یا سب ٹائٹل شدە پروگرام دکھاتے ہیں۔

ہمارے ہاں جو غُل پایاجاتا ہے اُس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں کسی بھی طرح کے بیرونی تہذیبی عمل یا فارن کونٹینٹ سے معاملہ کرنا نہیں آتا۔ ہم میں سے بہت سے لوگ ایک سے زیادە تہذیب اور تمدن کے تجربے سے گزرتے ہیں لیکن سلجھاوٴ کی نسبت بھیڑ چال کی طرف زیادە راغب ہوتے ہیں۔ ایک عام معاشرتی منفی مزاج ہے کہ پھولوں بھرے باغیچے میں بھی خالی گملوں اور زرد پتوں پہ توجہ مرکوز رکھی جائے۔ یہ عدم تحفظ ہے یا شاید احساسِ کمتری لیکن بہرحال اس سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ جن باتوں سے فوائد حاصل کئے جانے چاہیں ہم اُن سے بھی نقصان ہی چُنتے ہیں۔

باہر جانے والے وہاں اپنی دیسی پسندیدگی کا خوب مزە لیتے ہیں، روایتی پکوان، اندازِ تکلم اور تہذیب سے لگاوٴ کا اظہار بھی کرتے ہیں اور دیسی روئیے اپنا کرفخر محسوس کرتے ہیں بشمول اُن سب باتوں کے جو اچھی نہیں جیسے بےقاعدە ڈرائیونگ، تاخیر کرنا اور تاخیر ہی کی اُمید رکھنا، اپنے کام میں بےجا دوسرے کو پابند کرنا، دیکھا دیکھی مقابلے کا رحجان، ۔ ۔ ۔ لیکن ان باتوں کو نہ ہم بدلنا چاہتے ہیں اور نہ ہی بدلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

ہمارے ہاں امپورٹڈ اشیاٴ سے بھرپور مکان بننے لگے لیکن مل جُل کر محلوں کی صفائی کا رواج نہ ہوسکا۔ لباس کی بدیسی طرز اپنالی لیکن انتظارگاہوں میں کتابیں نہیں پڑھ سکے۔ شکریہ اور مسکراہٹ کا استعمال نہ آیا۔ سرِ مجمع کھجانے سے پرہیز نہیں ہوسکتا۔ مشاہیر کی یادگار نشانیوں کو محفوظ کرنا نہیں سیکھا۔ تاریخ کا سبق اور امانت اپنی نئی نسل کے سینے میں منتقل نہیں کرسکے۔ ۔ ۔ ۔ آخر یہ سب بھی تو فارن کونٹینٹ ہے، لیکن اپنی قابلِ اصلاح باتوں کو سنوارنے کی بجائے دوسروں کے ہاں سے بھی کاٹھ کباڑ ہی مستعار لا کر اپنے گھر میں بھرنا کیا اچھا ہے ؟ ایک سادە سی بات ہے کہ بیماریوں کے خلاف اپنے بچوں اور خود کو حفاظتی ٹیکے لگوائے جاتے ہیں نہ کہ فضاوٴں میں موجود جرثوموں کو بُرا بھلا کہیں اور اُن سے یہ مطالبہ کریں کہ ہماری فضاوٴں سے دور چلے جائیں