Home » Life » FOREIGN CONTENT فارن کونٹینٹ

FOREIGN CONTENT فارن کونٹینٹ

فارن کونٹینٹ

Foreign content
image

فارن کونٹینٹ ایسی اصطلاح ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک زیادہ گوش آشنا نہیں تھی۔ حالیہ صورت حال میں اس سے مراد ترک ڈرامے ہیں جویکدم بہت تواتر سے نظر آنے لگے ہیں تاہم عرصہ دراز سے مختلف آراٴ کی موجودگی میں چلتے رکتے ہمسایہ ملک کے پروگرام بھی “فارن کونٹینٹ” کے زمرے میں آتے ہیں۔ ان ڈراموں اور پروگراموں کی ایجابی اور سلبی قدر کا اندازہ مختلف آراٴ کی صورت میں ہمارے سامنے آرہا ہے-

بادئ النظر میں یہ معاملہ نیا نیا سا معلوم ہوتا ہے لیکن یہ ایک “کہانی بہت پرانی” ہے۔ اسی80 کی دہائی میں جب پاکستان میں پی ٹی وی تنہا راج کر رہا تھا ، بحرین کے چینل 55 نے عربی سب ٹائٹل کے ساتھ انگریزی پروگرام دکھانے کی روایت کا آغازکیا۔ اس زمانے میں dynasty سیریز امریکن ٹیلی ویژن ABC کا ایسا سوپ تھا جو 1981 سے 1989 تک چلا۔ اور اس سیریز کا ایسا سحرتھا کہ دیکھنے والے شاید ہی بھلا پائے ہوں۔ جنون کی حد تک بچے اور بڑے اس کھیل کے دیوانےتھے۔ اور بحرین کا یہ چینل اس کو عربی سب ٹائٹل کے ساتھ دکھاتا تھا۔

کم و بیش اسی وقت بیروت کی ایک کمپنی بچوں کے اینمی کارٹونز کو عربی زبان میں ڈب کرنے میں شہرہ حاصل کرچکی تھی۔ ڈب شدہ جاپانی اینمی سیریز آج بھی عرب دنیا کے بچوں کے حافظے میں موجود ہوں گی۔ شام 4 بجے کا وقت کسی بھی بچے کو ٹی وی کے سامنے سے ہلنے نہیں دیتا تھا۔
یہ کراتین مدبلجہ کہلاتے تھے یعنی ڈب شدہ کارٹون۔

سالی، فلونہ، ھایدی، سنان، پولیانا، جورجی، کیپٹن ماجد، عدنان و لینا، ۔ ۔ ۔ یہ سب وہ نام ہیں جن کے لئے بچے دیوانے ہوا کرتے تھے۔ بازاروں میں کیپٹن ماجد اور دیگر کی تصویروں والی کاپیوں سے لے کر جوتے کپڑے، ہر چیز چھا چکی تھی۔

دبلجہ” یعنی ڈبنگ بنیادی طور پہ فرانسیسی لفظ ڈوبلیج سے ماخوذ ہے۔ ڈبنگ کا کام پہلے پہل فرانسیسی زبان میں شروع ہوا جب شمال مغربی افریقہ
یا افریقۂ کوچک میں ہالی ووڈ فلموں کو فرانسیسی زبان میں ترجمہ کیا گیا۔ فرانسیسی پہلی زبان ہے جس نےعرب یا اسلامی دنیا میں راستہ بنایا۔ 1798میں فرانس کے نپولین بوناپارٹ نے مصر میں قدم رکھا تو اس کے ہمراہ چھاپہ خانہ بھی تھا جو عرب دنیا کا پہلا چھاپہ خانہ تھا۔ آج بھی لبنانی، شامی اور مصری لہجے میں فرانسیسی طرز کے اثرات واضح طور پر محسوس کئے جاسکتے ہیں۔

الیکٹرونک میڈیا تہذیب کا اہم ترین جزو ہے اوراسلامی دنیا کے عرب حصے میں اس تہذیبی عنصر کو بہت سی تبدیلیوں کا سامنا ہے۔ ڈبنگ کا کام عرب ممالک میں تقریبا دو تین دہائیوں سے جاری ہے ۔ MBCکے پانچ یا چھ چینلز ڈب شدە یا سب ٹائٹل شدە پروگرام دکھاتے ہیں۔

ہمارے ہاں جو غُل پایاجاتا ہے اُس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں کسی بھی طرح کے بیرونی تہذیبی عمل یا فارن کونٹینٹ سے معاملہ کرنا نہیں آتا۔ ہم میں سے بہت سے لوگ ایک سے زیادە تہذیب اور تمدن کے تجربے سے گزرتے ہیں لیکن سلجھاوٴ کی نسبت بھیڑ چال کی طرف زیادە راغب ہوتے ہیں۔ ایک عام معاشرتی منفی مزاج ہے کہ پھولوں بھرے باغیچے میں بھی خالی گملوں اور زرد پتوں پہ توجہ مرکوز رکھی جائے۔ یہ عدم تحفظ ہے یا شاید احساسِ کمتری لیکن بہرحال اس سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ جن باتوں سے فوائد حاصل کئے جانے چاہیں ہم اُن سے بھی نقصان ہی چُنتے ہیں۔

باہر جانے والے وہاں اپنی دیسی پسندیدگی کا خوب مزە لیتے ہیں، روایتی پکوان، اندازِ تکلم اور تہذیب سے لگاوٴ کا اظہار بھی کرتے ہیں اور دیسی روئیے اپنا کرفخر محسوس کرتے ہیں بشمول اُن سب باتوں کے جو اچھی نہیں جیسے بےقاعدە ڈرائیونگ، تاخیر کرنا اور تاخیر ہی کی اُمید رکھنا، اپنے کام میں بےجا دوسرے کو پابند کرنا، دیکھا دیکھی مقابلے کا رحجان، ۔ ۔ ۔ لیکن ان باتوں کو نہ ہم بدلنا چاہتے ہیں اور نہ ہی بدلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

ہمارے ہاں امپورٹڈ اشیاٴ سے بھرپور مکان بننے لگے لیکن مل جُل کر محلوں کی صفائی کا رواج نہ ہوسکا۔ لباس کی بدیسی طرز اپنالی لیکن انتظارگاہوں میں کتابیں نہیں پڑھ سکے۔ شکریہ اور مسکراہٹ کا استعمال نہ آیا۔ سرِ مجمع کھجانے سے پرہیز نہیں ہوسکتا۔ مشاہیر کی یادگار نشانیوں کو محفوظ کرنا نہیں سیکھا۔ تاریخ کا سبق اور امانت اپنی نئی نسل کے سینے میں منتقل نہیں کرسکے۔ ۔ ۔ ۔ آخر یہ سب بھی تو فارن کونٹینٹ ہے، لیکن اپنی قابلِ اصلاح باتوں کو سنوارنے کی بجائے دوسروں کے ہاں سے بھی کاٹھ کباڑ ہی مستعار لا کر اپنے گھر میں بھرنا کیا اچھا ہے ؟ ایک سادە سی بات ہے کہ بیماریوں کے خلاف اپنے بچوں اور خود کو حفاظتی ٹیکے لگوائے جاتے ہیں نہ کہ فضاوٴں میں موجود جرثوموں کو بُرا بھلا کہیں اور اُن سے یہ مطالبہ کریں کہ ہماری فضاوٴں سے دور چلے جائیں

4 thoughts on “FOREIGN CONTENT فارن کونٹینٹ

  1. “ایک سادە سی بات ہے کہ بیماریوں کے خلاف اپنے بچوں اور خود کو حفاظتی ٹیکے لگوائے جاتے ہیں نہ کہ فضاوٴں میں موجود جرثوموں کو بُرا بھلا کہیں اور اُن سے یہ مطالبہ کریں کہ ہماری فضاوٴں سے دور چلے جائیں”

    غالباً آپ نے ڈرون حملوں کی طرف اشارہ کیا ہے؟

    Like

    • میں نے مثال کے طور پہ بیماریاں پھیلانے والے جراثیموں کی طرف اشارہ کیا ہے جو کہ عنوان کے اعتبار سے ثقافتی جرثوموں کی طرف اشارہ ہے ۔ پوسٹ کو توجہ عنایت فرمانے کا شکریہ

      Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s