Home » Canterbury Tales » کینٹربری کہانیاں** – دوسرا حصہ

کینٹربری کہانیاں** – دوسرا حصہ

THE CANTERBURY TALES- PART 2

کینٹربری کہانیاں – زمانہء تحریر – دوسرا حصہ

ماہرینِ انگریزیات نے اتفاقِ باہمی سے اس نظم کو چودہویں صدی کی عکاسی کرنے والا بہترین ادبی شہ پارہ قرار دیاہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جس کو “ازمنہٴ وسطیٰ” کہا جاتا تھا یا کہا جاتا ہے۔
مڈل ایجز” یا “ازمنہٴ وسطیٰ” کی اصطلاح ایک عجیب تاٴثر پیدا کرتی ہے یعنی درمیانی زمانہ یا عرصہ ۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کن دو وقتوں کا درمیانی زمانہ ؟ اور اُس عہد کے رہنے والوں نےیہ کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ وہ “درمیانی زمانے” میں رہنے والے کہلائیں گے ۔

مڈل ایجز کی یہ اصطلاح بعد میں آنے والے اُن لکھاریوں اور موٴرخین نے استعمال کی جن کا تعلق “نشاۃ الثانیہ” سے تھا۔ انگریزی میں نشاٴۃ الثانیہ کو “رینےسانس” کہا گیا جو بذاتِ خود ایک فرانسیسی لفظ ہے اور اِسے “ریستوراں” کے وزن پہ ” رے نی ساں” بولا جاتا ہے۔

میڈیول یا مڈل ایجز، سے وہ عرصہ مراد لیا جاتا ہے جو ۴١٠ میں سلطنتِ روم کی تباہی سے شروع ہوا اور تقریباً پندرہویں صدی میں مختلف علمی تحریکوں پہ اختتام پذیرہوا۔ مغربی رومی سلطنت ۴١٠ اور پھر ۴٧٦ میں جرمینِک اقوام کے ہاتھوں اُجاڑی گئی۔ یورپ کے شمال مغرب سے گوتھ قوم نے شہرِ روم کو بُری طرح ملیامیٹ کردیا تھا ۔ گوتھ انتہائی غیر مہذب قوم تھی۔ جن کے حملے کا مقصد مال اور خوراک کی تلاش تھی۔ گوتھکز پہ کئی فلمیں بنائی گئیں ۔ مغربی گوتھ کو وزی گوتھ کہا جاتا ہے۔

image

قبضے کا روم پہ بہت گہرا اثر ہوا۔ قریب قریب اِسے غالب کے خطوط میں موجود دِلّی کی تباہی جیسا سمجھ لیں ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ روم پر حملہ کرنے والے،وزی گوتھ مسلمہ طور پرجاہل، بد اخلاق اور غیر مہذب تھے ۔ مغربی تاریخ کے تمام ماٴخذ اس بات سے متفق ہیں ۔ جبکہ دِلّی (دہلی) کو تاراج کرنے والے دنیائے عالم میں خود کو عقلِ کُل مانتے تھے۔ خیر روم کی تباہی سے مرکزی رومی حکومت کا نشان مِٹ گیا تھا جس سے معاشی، معاشرتی اور ہر طرح کی بدحالی پھیل گئی۔ غذائی قلت، پے در پے حملے، جنگیں ، طاعون اور سیاسی عدم استحکام نے برا حال کردیا تھا۔

مڈل ایجز کا ابتدائی پانچ سوسالہ عرصہ ڈارک ایجز یا قرونِ مظلمہ کہلاتا ہے ۔ پانچویں صدی سے دسویں صدی تک متعدد لڑائیوں اور بدامنی کا زمانہ تھا ۔ موٴرخین اس دور کے بارے میں حتمی طور پہ کچھ دلیل پیش کرنےسے قاصر ہیں۔ کیونکہ اس وقت میں جان بچانا مشکل تھا، کوئی دستاویز یا تاریخی معلومات تو کیا ملتی ۔ ۔

ازمنہٴ وسطیٰ میں علمی اور ادبی سوچ یکسر معدوم تھی۔ یہ جہالت کا دور تھا۔ روایتی اور کلاسیکی اقدار سِرے سے غائب تھیں ۔ لوگوں کی زندگیوں پر زمینداری نظام کی دھونس بازی اور کلیسا کی مطلق العنانیت کا مکمل اختیار تھا۔ اس زمانے کے تقریباً ابتدائی پانچ سو سالوں میں، عیسائیت نےخود کو پورے یورپ میں مستحکم کیا ، اور ایک ایسا دستوری مذہبی نظام قائم کیا جس میں معاشرے کے تمام پہلووٴں سے نمٹنے کی صلاحیت موجود تھی۔ منظّم ادارتی صورت میں ، بیماروں کی تیمارداری سے لے کر عدالتی اختلافات حل کرنے تک عبور حاصل کیا۔

سیکولر اداروں اورحکومتی ڈھانچوں سے دودو ہاتھ کئے، یورپ کی اکانومی کو مضبوط زمینداری نظام پہ قائم کیا جس میں کلیساوٴں کو بڑے بڑے رقبے سونپے جاتے تھے ۔ کلیسا کی انتظامیہ ان اراضی سے آمدن حاصل کرنے کے لئے مزارعے، مزدور، کسان، ٹھکیدار، منشی، اور ایسا ایک پورا نظام مرتب کیا کرتی تھی۔

اس درمیانی زمانے یا ازمنہٴ وسطیٰ میں کئی خونیں اور خوفناک تنازعے سامنے آئے جن کے کئی اسباب تھے ۔ ۔ ۔ ۔ طاقت کی تقسیم، کلیسا اور اقتدار کے مابین اختیارات کی کھینچا تانی اورکلیسا کے بے تحاشا مضبوط مالیاتی نظام میں غریب طبقے کا حصہ اور مقام ۔ اِسی زمانے میں رواجوں ، اداروں ، طاقت اوراقتدار کے ارتقاٴ کی بنیادیں وضع ہوئیں ۔ اور پھر انہی بنیادوں پر “رے نی ساں” اور اُس کے بعد ماڈرن عہد میں یورپ کی توسیع اورترقی کا کام ہوا۔

چاسر نےاپنی نظم چودہویں صدی کے آخر میں لکھی ۔ اس وقت کو مڈل ایجز کا آخری عرصہ یا “رے نی ساں” کا ابتدائی دور تصور کیا جائے گا۔ شاعر نے اپنی نظم میں معاشرے کے ہر طبقے سے افراد کا تنوع اپنےکرداروں میں پیش کیا ۔ پڑھنے والا بخوبی چودہویں صدی کی اس لفظی تصویر کشی سے اُس وقت کے حالات کو تخیل کے پردے پہ دیکھ سکتا ہے

پندرہویں صدی کے دوران گلوب کے دیگر اطراف:

-570عیسوی: ولادتِ محمدِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
-602 – 629 عیسوی: روم اور فارس کے مابین جنگ ( اس جنگ کے نتیجے میں دونوں اقوام یوں کمزور ہوئیں کہ 630 میں عرب افواج کے سامنے نہ ٹھہر سکیں-
-622 عیسوی: ہجرتِ مدینہ ، مواخات
-632 عیسوی: وفاتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر صدیق خلیفہء اول
اس وقت تمام جزیرہء عرب پہ اِسلام پھیل چکا تھا-
-638عیسوی: خلافتِ عمر کا زمانہ، یروشلم اسلامی قلمرو میں شامل
-641عیسوی: معرکہءنہاوند، فتحِ فارس
-674عیسوی: ارضِ قسطنطنیہ پہ مسلمانوں کا پہلا معرکہ
-711عیسوی: طارق بن زیاد کی سربراہی میں فتحِ سپین
-750عیسوی: عباسی خلافت کا آغاز
-786عیسوی: ہارون الرشید کے دور کا آغاز
-800عیسوی: شارلیمان کی تاج پوشی بطور مقدس رومن ایمپرر
-827عیسوی: فتحِ سسلی، اسلامی سلطنت میں شامل
-929عیسوی: خلافتِ قرطبہ کا آغاز، عبدالرحمٰن ثالث کی تخت نشینی
-978عیسوی: ہسپانیہ میں منصور تخت نشین ہوا
-1097 – 1199 عیسوی: پہلی صلیبی جنگ، یروشلم پر عیسائی قبضہ
-1117عیسوی: آکسفورڈ یونیورسٹی کا قیام
-1187عیسوی: سلطان صلاح الدین ایّوبی نے 91 سال بعد یروشلم دوبارہ فتح کرلیاجو کہ 761 سال مسلم حکومت میں شامل رہا، 1948 تک
-1204عیسوی: چوتھی صلیبی جنگ، قسطنطنیہ کی فتح، اسلامی قلمرو میں شامل
-1258عیسوی: ہلاکو خان کی زیرِ قیادت منگولوں کے ہاتھوں بغداد کی تباہی اور خلافتِ عباسیہ کا خاتمہ، مستعصم باللہ کی عبرت ناک موت
-1260عیسوی: جنگِ عین جالوت، مصری مملوکوں نے منگول افواج کو بدترین شکست دے کر مصر، شام اور یورپ کو منگولوں کی تباہکاریوں سے بچایا
-1272 – 1273عیسوی: نویں صلیبی جنگ جس کو ارضِ مقدسہ پر سب سے بڑی جنگ کہا جاتا ہے
-1299عیسوی: عثمان اول نے عثمانی سلطنت قائم کی
-1380عیسوی: چاسر نے کینٹربری کہانیاں لکھنا شروع کیں
-1453عیسوی: عثمانی ترکوں نے سلطان محمد فاتح کی سربراہی میں قسطنطنیہ فتح کیا- سقوطِ قسطنطنیہ سے مشرقی (بازنطینی) رومن سلطنت کا ختمہ ہوا- قسطنطنیہ(استنبول) خلافتِ عثمانیہ کا دارالحکومت اور اسی کو مڈل ایجز کا نقطہء اختتام کہا جاتا ہے
-1456عیسوی: حکومتِ عثمانیہ کے ہاتھوں فتحِ بلغراد
-1492عیسوی: سقوطِ غرناطہ، آخری مسلم حکمران ابوعبداللہ نے ملکہ ازابیلا اور شاہ فرڈیننڈ کے سامنے ہتھیار ڈالے- کولمبس نے نئی دنیا دریافت کرلی
-1499عیسوی: عثمانی بحری بیڑے نے جنگِ لیپانٹو میں یورپیوں کو شکست دی- پہلی سمندری جنگ جس میں بحری بیڑے پہ نصب توپیں استعمال کی گئیں

Nahavand

Nahavand

Age of the Caliphs

Age of the Caliphs

image
فتحِ هسپانیہ-711

فتحِ هسپانیہ-711

مسجدِ قرطبہ

مسجدِ قرطبہ

قصر الحمراء،غرناطہ

قصر الحمراء،غرناطہ

A painting of 21 years old Sultan Mehmed 2 approaching Constantinpole,  1453,transporting a giant bombard.

A painting of 21 years old Sultan Mehmed 2 approaching Constantinpole, 1453,transporting a giant bombard.

1453, Mehmed II, Entering to Constantinople

1453, Mehmed II, Entering to Constantinople

Mehmed_II_ferman-Mehmed II's ahidnâme to the Catholic monks of the recently conquered Bosnia issued in 1463, granting them full religious freedom and protection.

Mehmed_II_ferman-Mehmed II’s ahidnâme to the Catholic monks of the recently conquered Bosnia issued in 1463, granting them full religious freedom and protection.

Fatih Sultan Mehmet Bridge over the Bosporus Straits in Istanbul was built in the 20th century

Fatih Sultan Mehmet Bridge over the Bosporus Straits in Istanbul was built in the 20th century

6 thoughts on “کینٹربری کہانیاں** – دوسرا حصہ

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s