The Manciple’s Tale – 44

کالج کے مطبخ کے لئے جنس خریدنے والے سربراہِ کار یا داروغہء مطبخ کو “مین سی پَل” کہا گیا ہے۔

-مین سی پل کی کہانی:

چاوسر کے قافلے میں ایک مینسیپل بھی شامل ہے جس نے ایک روایتی خیالی کہانی سنائی۔ فیبس اپالو، اور اُس کے پالتو کوّے کے بارے میں یہ کہانی، اِس فلسفیانہ بحث اور وجہء آغاز پر مشتمل ہے کہ “کوّے کا رنگ کالا کیوں ہوا”؟

272-the-manciples-tale

اِس کہانی سے پہلے، میزبان نے کوشش کی کہ وہ باورچی کو کہانی سنانے پر آمادہ کرسکے۔ اُدھر باورچی اِس قدر نشے میں تھا کہ وہ ربط کے ساتھ بات بھی نہیں کرپارہا تھا۔ میزبان نے باورچی کو طنز کا نشانہ بنایا جو کہ قافلے کے اخیر میں ہوش و خرد سے بےگانہ سفر کررہا ہے۔ اِسی اثنا میں باورچی اپنے گھوڑے سے گر پڑا اور تمام مسافر اُس کی حالت پہ افسوس کرنے لگے۔

Wite ye nat wher ther stant a litel toun • which that y-cleped is Bob-up-and-doun • under the Blee, in Caunterbury weye

– Do you know a little town called Bob-up’n-down that lies at the edge of Blean Forest near Canterbury? Well, here our host began to laugh and joke: ‘Look! Over there behind us!’ he called. ‘Dun has strayed into a bog! Will no one help him out, for love nor money? Wake him up, somebody, or a thief will come and tie him up and steal all he has! Look! He’s fast asleep! He’s falling off his horse! Is this that London cook by any misfortune

‘Since drink has taken such a hold of him,’ said our host to the manciple, ‘I imagine he will tell a filthy tale, by my salvation! For be it wine, or old or new ale that he’s drunk, he seems to be having difficulty speaking. Also, he has enough to keep himself occupied just guiding his horse and keeping it out of the ditch. And if he falls off again, we’ll have to lift up his heavy, drunken body once more. So tell your tale, manciple. I’m going to take no notice of him

باورچی کی حالت کے پیشِ نظر ، مینسپل نے اپنی کہانی کا آغاز کیا ۔ داورغہء مطبخ کی کہانی ایک سفید کوّے کے بارے میں ہے۔ کچھ ماہرینِ ادبیات کا یہ بھی گمان ہے کہ داروغہ والی کہانی ، رومی شاعر اووِڈ Ovid کی تصنیف میٹامورفوسِس Metamorphosis اور عریبین نائٹز Arabian nights سے ماخوذ ہے۔

تو کہانی کچھ یوں ہے کہ فیبس Phoebus کے پاس ایک سفید کوّا تھا جو کہ انسانی زبان میں بات کرنے اور دِلنشین گانا گانے کی قدرت رکھتا تھا۔ فیبس کی خوبصورت بیوی اُسے بہت عزیز تھی لیکن فیبس اپنی بیوی کو زیادہ میل جول سے بچانے کے لئے گھر میں بند رکھتا تھا۔

When the god Phoebus lived here on Earth, as is written in old books, he was the most accomplished and energetic young man in the whole world

Phoebus had a wife at home whom he loved more than his own life. He strived day and night to honour her and to please her in every way that he could. He worshipped and respected her, although he was also a little jealous, if the truth be told, and would gladly have been able to limit her freedom somewhat

اِس مقام پہ مینسپل نے اِس رائے سے اِختلاف کیا کہ کسی مخلوق کو اُس کی طبعی فطرت کے خلاف ڈھالا جاسکتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ انسان، پودے یا جانور، اپنی بنیادی عادات سے پوری طرح دستبردار نہیں ہوسکتے۔ داروغہ نے مثال دی کہ ایک پالتو بلی کو خواہ کتنی ہی اعلٰی خوراک دی جائے، پھر بھی وہ چوہوں پہ جھپٹنا نہیں چھوڑے گی۔ چنانچہ کسی مخلوق کی جبلی اور اندرونی تحریک کو دبایا نہیں جاسکتا۔

فیبس کی بیوی ، کم نسل لوگوں سے ملنے کی خواہش رکھتی تھی جو کہ فیبس کو پسند نہیں تھا ۔ سفید کوّے کو شک گزرا کہ فیبس کی بیوی کسی کم تر رتبے کے شخص میں دلچسپی رکھتی ہے۔ چغل خوری کے شوق میں، یہ بات ، اِسی طرح فوراََ ، کوّے نے فیبس کو جا بتائی کہ اُس کی بیوی اُس سے بےوفائی کی مرتکب ہورہی ہے جس کی وجہ ایک کم نسل شخص ہے۔

فوری اشتعال اور غصے میں فیبس نے ہتھیار اُٹھایا اور بیوی کو قتل کردیا ۔ بعد ازاں ، بہت سے شوہروں کی طرح، اپنی حرکت پر نادم ہوا اور کوّے کو لعن طعن کرنے لگا جس نے بِلا تحقیق اُس کی بیوی پر الزام لگایا تھا ۔ فیبس نے کوّے کو ملامت کی ، رنگ کالا ہونے کی بدعا دی اور بہت بُرا بھلا کہا۔ فیبس نے کسی ایسی ساعت میں کوّے کو اچھی آواز چھِن جانے کی بددعا دی کہ کہ وہ ہمیشہ کے لئے بےسُرا اور سیاہ ہوگیا۔

manciples tale 2

اور اِس طرح ، داروغہء مطبخ کے مطابق ، آج ہم کوّے کو کالے رنگ کا ، پاتے ہیں اور کوؤں کی ناگوار کائیں کائیں سنتے ہیں۔ یہ کوے صاحب کی اپنی کرتوتوں کا کیا دھرا ہے کہ وہ گورا صاحب سے کالا صاحب ہوگئے اور اُن کے گلے کا سوز و ساز بھی جاتا رہا۔

نہ ہی کوا بھاگا بھاگا جاکر شوہرِ نامدار کے حضور چغلیاں کرتا اور نہ ہی حسنِ تابناک اور حسنِ آواز سے ہاتھ دھوتا ۔ ٹھیک ہی ہے کہ میاں بیوی میں نِفاق ڈالنا شیطانی کام ہے جس کا انجام آج بھی کالے کوے کے صورت میں نشانِ عبرت ہے۔ اور اُس پر مستزاد یہ کہ انتہائی بھدی آواز کی کائیں کائیں ، ہمارے ہاں جیب پر ناگہانی بوجھ پڑنے کا اشارہ بھی سمجھی جاتی ہے۔

داروغہ کی کہانی کی کڑیاں سینکڑوں اقساط پر مشتمل سوپ ڈراموں سے ملائی جائیں تو ایک نادر تحقیق سامنے آتی ہے کہ اوّل اوّل زوجین میں پھوٹ ڈالنے کا کام اِس سفید کوّے سے شروع ہوا اور اب ارتقا کی منازل طے کرتے ہوئے کلف زدہ لباس میں ملفوف کرداروں تک جا پہنچا ہے۔

مینسپل نے اختتام میں یہ کہا کہ زبان پر قابو رکھنا بہت اچھی چیز ہے اور انسان کو فائدہ دیتی ہے۔ چنانچہ تصدیق کئے بغیر کوئی بات نہیں کہہ دینی چاہیئے۔ بدخواہی، کینہ وری اور بد باطنی کی نیت سے کی گئی بات کبھی اپنے ہی گلے پڑجاتی ہے۔ جیسا کہ اِس کہانی میں کوے کو اپنی بات کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ تو صاحبو، میرے بچو، بات کہنے سے پہلے پرکھ کرلو اور پھر بولو اور ہاں …کوے کا انجام ضرور ذہن میں رکھنا۔

A thing that is said, is said. Out it goes into the world, whether the speaker likes it or not. It is too late to repent. He is at the mercy of a person who may have heard words that are now bitterly regretted. My son, be wary and never be the instigator of any tittle-tattle, whether it be false or true. Wherever you are, amongst high or low, kepe wel thy tonge, and thenk up-on the crowe.

The Canon’s Yeoman’s Tale – 43

-کینن کے یومین کی کہانی :

اُنتیس زائرین کا سفر کینٹربری کے بڑے کلیسا کی جانب جاری ہے اور وقت کا بہتر استعمال کرنے کے لئے کہانی سننے سنانے کا شغل ہورہا ہے۔ سفر اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوچکا ہے ۔ابھی کچھ دیر پہلے، سیکنڈ نن نے بہت دلجمعی سے اپنی کہانی سنائی جو کہ سینٹ سیسلیا کی سوانح حیات پر مشتمل تھی ۔ اِس میں راہبہ کی پاکیزہ زندگی اور آزمائشوں کا بیان تھا۔ اِس کہانی کے ختم ہونے کے بعد ابھی قافلے نے پانچ میل کا فاصلہ بھی عبور نہ کیا تھا کہ اُنہیں دو آدمی دِکھائی دئیے ۔

Two travelers overtook them

Two travelers overtook them

Whan ended was the lyf of seint Cecyle, er we had riden fully fyve myle

When the Second Nun had finished telling us about the life of Saint Cecilia, and before we had completed five miles on this final leg of our journey, at Boughton-under-Bleen we were overtaken by a man clothed in black with a white surplice visible underneath his outer clothes. His horse was dapple-grey and sweating profusely, as though it had just galloped for three miles; its chest and withers were covered in so much white foam that it looked piebald, like a magpie! Behind this man’s saddle, a pannier was strapped on either side but it seemed as though he was travelling light and I began to wonder what sort of a man he was, until I noticed that his cloak was sewn onto his hood and I began to realise that he must be some sort of canon. The perspiration dripped down his forehead like the condensation from a medical distillation process

اِن میں سے ایک آدمی ، سیاہ چوغے میں ملبوس تھا اور چوغے کے نیچے سے اُس کا اندرونی سفید گاؤن نظر آرہا تھا ۔ اِس کا چتکبرا سرمئی گھوڑا، پسینے میں بُری طرح شرابور تھا ، معلوم ہوتا تھا کہ وہ قریب تین میل سے گھوڑے کو بھگاتا چلا آرہا ہے۔ اِس آدمی کے گھوڑے کی زین سے ایک ٹوکرا یا کھانچا سا لٹک رہا تھا۔ اِس کے چوغے سے ایک ٹوپ یا ٹوپی بھی جُڑی ہوئی تھی چنانچہ گمان ہوا کہ یہ ایک کینن تھا یعنی پادریوں کی مجلس کا کارکن یا بڑے پادری کا متعین کردہ عہدے دار ۔ اُس کی پیشانی سے پسینے کے قطرے ایسے ٹپک رہے ہیں جیسے کہ کسی طبّی عملِ تقطیر کے دوران کثافت کا عمل ہورہا ہو۔

اُس کینن کے ساتھ ایک ملازم یا یومین بھی تھا۔ قریب آتے ہی اُس کینن نے سفر میں شریک ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ میزبان نے اُن دونوں کو خوش آمدید کہا اور دورانِ سفر جاری، کہانی مقابلے کا بتایا ۔ کینن اور اُس کا ملازم ، دونوں ہی بہت مہذب اور خوش اخلاق معلوم ہوتے تھے۔ میزبان نے اُن دونوں کو دعوت دی کہ اگر وہ کوئی کہانی سنانا چاہیں تو پیش کرسکتے ہیں۔

یہ دعوت سُن کر کینن کے ملازم کی باچھیں کھِل گئیں اور وہ آہستہ آہستہ کھُلنا شروع ہوا۔ پہلے تو اُس نے اپنے مالک کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملائے ، اُسے ذہین و فطین بتایا اور اِس حد تک مبالغے سے کام لیا کہ وہ تعریف کی جگہ تمسخر معلوم ہونے لگی۔ اپنے بارے میں یہ بھی بتایا کہ وہ شہر سے باہر ، مضافات میں ، پوشیدہ جگہوں پر رہتے ہیں۔

میزبان نے، اچانک اُسے اُس کی اُڑی ہوئی رنگت کے بارے میں پوچھا ، اِس سوال کے جواب میں تو ملازم سے بالکل ہی نہ رہا گیا اور اُس نے صاف صاف بتادیا کہ سارا دِن بھٹی میں پھونکنی چلا چلا کر اُس کی رنگت جھُلس گئی ہے ۔ یہ سوال پوچھ کر تو گویا میزبان نے اُس کی دُکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ وہ کیمیا گری کی سب قلعی کھولنے پر آگیا تھا۔ ۔ کینن نے اُسے تنبیہ کی لیکن وہ بے روک بولتا ہی چلا گیا۔

کینن نے ملازم کو بے لگام دیکھا تو ایک طرف کو دُبکا ہورہا اور منہ چھُپا کر نکل لینے میں ہی عافیت جانی۔ یہ دیکھ کر ملازم اور شیر ہوگیا۔ کینن کے یومین کی کہانی کے دو حصے ہیں ۔ پہلے حصے میں اِس نے کیمیا گری کے اسرار و رموز سے پردہ ہٹایا ۔ جبکہ دوسرا حصہ ایک باقاعدہ کہانی ہے۔ اِس ملازم نے اپنے مالک کے ساتھ گزرے ہوئے وہ سب تجربات بیان کئے جن میں مختلف کیمیاوی طریقوں سے قیمتی اور نادر دھاتیں بنانے کی مہمل سعی کی جاتی ہے۔ یومین کا کینن بھی سونا بنانے کی سر توڑ کوشش کرتا رہا تھا۔

I have lived with that canon for seven years, but I’ve never come anywhere near to understanding what he was doing. I’ve lost everything because of him, and God knows, so have many others as well. I was young and carefree once. I dressed myself in fine clothes, but now I wear my stockings on my head! My complexion, which was once rosy and healthy, is now pale and leaden. Whoever follows this path will surely come to regret it. My study has ruined my eyesight, Lo! Who would want to be an alchemist? The shifting sands of this science have taken so much from me that I am left with nothing. I’m so in debt because of all the gold I’ve borrowed that I’ll never be able to pay it all back, however long I live. Let my example be a warning to you all. Whoever sets out along this path can say goodbye to success. But enough of that, I shall speak of our work

.

ملازم نے سات سال لاحاصل ضائع ہوجانے پر پچھتاوے کا اظہار کیا۔ اُلٹا یہ نقصان ہوا کہ اُس کی گُل رنگ جلد خراب ہو کر پیلی ا ور بھدی ہوگئی، گلابی چہرہ کملا گیا اور اُس کی نظر بھی کمزور ہوگئی۔ اِس سب کے باوجود یہ پراسرار اور بے فائدہ سائنس اُسے سمجھ نہیں آئی۔

اور اب حال یہ آن پہنچا کہ . . . کیمیاگری کے نیچ اور گھٹیا کام کے سبب وہ کوڑی کوڑی کو محتاج ہوچکا ہے۔ نہ صرف یہ کہ اُس کی تمام جمع پُونجی لُٹ چکی ہے بلکہ وہ بُری طرح مقروض بھی ہوچکا ہے۔ کیونکہ اکثر سونا بنانے کی آس میں اُدھار لیا جاتا اور نتیجے میں کچھ بھی ہاتھ نہ آتا۔ اپنی لگائی ہوئی رقم بھی ڈوب جاتی اور اُدھار الگ چڑھ جاتا ۔

کینن کے ملازم نے کیمیاگری کے عمل کے بارے میں تکنیکی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے تفصیل سے بتایا ۔ پہلے تو یہاں وہاں سے اُدھار مانگ کر دھاتیں خریدی جاتیں۔ یہ تمام عملیات چار مستحکم عناصر اور سات دھاتوں کے بل بُوتے پر کئے جاتے۔ کیمیاگری کے دیوانے پارس کا پتھر The philosopher’s stoneبنانے کی کوشش کرتے مگر یہ پتھر کبھی بن نہ سکا۔ کئی کئی دن بھٹی دہکائی جاتی، تجربات ہوتے، کئی برتن توڑے، زمین میں دبائے اور چھت سے لٹکائے لیکن کچھ ہاتھ نہ آیا ۔

جب بھی کوئی تجربہ بُری طرح ناکام ہوتا اور ہانڈی ٹوٹ جاتی تو کینن اُسے باقی ماندہ دھات کے ساتھ باہر پھینکوادیتا ۔ ہر ناکام تجربے کے بعد کینن کسی نامعلوم اور احمقانہ وجہ کو موردِ الزام ٹھہراکر دوبارہ تجربہ کرنے کی ٹھان لیتا . . . پر ایسا کرنے کے دوران کبھی بھی قیمتی دھات وجود میں نہ آسکی۔ اُس نے اِس پیشے کی مذمت کی اور سب حاضرین کو اِس سے بچنے کی ہدایت کی۔

آخرکار کینن کا یومین کہنے لگا کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی اور دانا نظر آنے والا ہر شخص دانشمند نہیں ہوتا۔ اکثر ہوتا یہی ہے کہ جو سب سے قابلِ اعتماد نظر آتا ہو وہی دھوکہ دے جاتا ہے۔

260-the-canons-yeomans-tale

اِس کے بعد کینن کے ملازم نے باقاعدہ کہانی کا آغاز کیا کہ . . . لندن میں ایک بےایمان دھوکے باز کینن رہتا تھا جس کی مکّاری کو شمار میں لانا ممکن ہی نہیں تھا۔ ہاں. . اِس تعارف کے ساتھ ہی اُس نے فوراََ صفائی پیش کردی کہ یہ بات بالکل اتفاق ہے کہ کہانی ایک کینن کے بارے میں ہی ہے۔ اُس نے تمام کینن ز سے معافی چاہی اور کہا کہ میری اِس کہانی کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ سب کینن دغاباز ہوتے ہیں، بلکہ کبھی کبھی پورے ٹوکرے میں کوئی دانہ خراب نکل ہی آتا ہے ، ایسے ہی ، یہ کہانی والا کینن بےحد چالاک تھا۔

اچھا تو، اُسی شہر میں ایک پریسٹ بھی رہتا تھا جو جنازوں پر مناجات اور دعائیں پڑھتا اور گاتا تھا۔ ایک دن، یہ کہانی والا کینن، اِس پریسٹ کے پاس آیا اور کچھ سونا اُدھار مانگا ۔ کینن نے بڑی لجاجت سے اُدھار کا مطالبہ کیا اور اِس بات کا یقین دلایا کہ وہ وعدے کے مطابق مقررہ وقت پر اُدھار لیا گیا سونا واپس لوٹا دے گا۔

تیسرے دن ، کینن حسبِ وعدہ اُدھار واپس کرنے آن پہنچا۔ پریسٹ بہت خوش ہوا اور کہنے لگا کہ اُسے اُمید تو نہیں تھی کہ دوبارہ کبھی اپنا مال دیکھے گا۔ اِسی کے ساتھ ، پریسٹ نے ایفائے عہد اور صداقت کی تعریف کی۔ کینن نے جواباََ، فراخ دلی کا ثبوت دیتے ہوئے، پریسٹ پر اپنی کیمیاگری کے کچھ اسرار کھولنے شروع کئے۔

299-canons-yeomans-tale

اُس نے عملی تجربہ پیش کرنے کے لئے پریسٹ کے ملازم سے کچھ پارہ اور کوئلہ منگوایا ۔ اپنے کوٹ کی اندرونی جیب سے ایک کٹھالی نکالی ۔ کٹھالی، مٹی یا چینی کا وہ برتن ہوتا ہے جو کیمیائی تجربات میں کسی چیز کو آگ پر پکانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ کئی کرتبوں کے بعد اِس کینن نے پریسٹ پر ثابت کردیا کہ پارہ کامیابی سے چاندی میں تبدیل ہوچکا ہے۔

‘Sir,’ replied the priest, ‘it shall be done.’ He instructed his servant to fetch what had been asked for; his servant got ready to go at once, went off, shortly returned with the quicksilver and gave three ounces to the canon. The canon laid it down and asked for charcoal to be fetched, so that he could do what he intended to do. The coals were brought and the canon produced a crucible from inside his coat and showed it to the priest

‘Take this instrument that you can see, in your hands,’ he said, ‘put an ounce of quicksilver into it and take your first step, in the name of Christ, towards becoming a philosopher. There are few men indeed whom I honour with a demonstration of my science. You will see that this quicksilver will disappear, right before your eyes, and change into silver as pure as any coin that is in your purse or mine, or anywhere else – silver of such quality that it could be minted

170-canons-yeomans-tale

اُس کینن نے پریسٹ سے کہا اب اگلا تجربہ تانبے پر ہوگا۔ تانبا مہیا کردیا گیا۔ کینن نے پریسٹ سے کہا کہ وہ کٹھالی کے نیچے بھٹی میں کوئلہ ڈال دے ۔ اِسی اثنا میں کینن نے اپنی آستین سے چاندی کا ایک ٹکڑا کٹھالی میں ڈال دیا اور تانبے کو غائب کردیا ۔ اب پریسٹ کو کہا کہ بھیا ذرا کٹھالی میں غور فرماؤ . . کچھ دِکھائی دیتا ہے۔ پریسٹ کو بِلا دِقت چاندی کا ٹکڑا نظر آگیا ۔ قصّہ مختصر یہ کہ پہلے پارہ، پھر چُونا اور پھر تانبا، اِن سب سے کینن نے ، پریسٹ کو فریبِ نظر دے کر چاندی بنا کر دکھائی۔ مختلف تجربات سے حاصل شدہ چاندی کے ٹکڑوں کی تصدیق کے لئے وہ بازار میں ایک سونے چاندی والے کے ہاں گئے جس نے خوب ٹھونک بجا کر تسلّی کی اور پھر اصلی چاندی ہونے کی تائید کی ۔ پریسٹ پورا پورا معترف ہوکر ایسی کیمیاگری سیکھنے کے لئے تیار ہوگیا۔

275-canon-yeomans-tale

This canon put the ounce of copper into the crucible, placed it on the fire, threw in the powder and asked the priest to stoop down low above the coals and blow, as he had done before. But it was all a joke – just as the canon intended, he was making a complete monkey out of the priest. When the crucible was hot enough, the canon cast the contents into the mould and from there into the pan of water, putting his hand in to swish it about. And in his sleeve (as I explained before) he had this strip of silver which he let fall into the bowl and sink to the bottom, this cursed wretch. The priest suspected nothing at all. Then, swishing the water about some more, the canon retrieved the copper with great dexterity, hid it at once, then clasped the priest around the shoulders and said: ‘Lean over, man, come on, help me to find the ingot.’
The priest found the strip of silver without any difficulty and took it out. The canon said: ‘Let’s go at once to a goldsmith, to have these three silver ingots tested for purity; for, by my hood, we can’t be sure whether the silver is pure or not until we’ve done so. Let’s get them quickly assayed.’

So off they went to a goldsmith, the metal was investigated with fire and hammer and there was no doubt; it was all pure silver. Who was more pleased than this ecstatic priest! No bird was ever more pleased to see the dawn, no nightingale in May more delighted to sing, no lady more pleased to speak about love and no knight more eager to perform deeds of arms than this priest was to learn alchemy.

پریسٹ نے کینن سے یہ فارمولا مانگا جو کہ کینن صاحب نے اُسے پورے پروٹوکول کے ساتھ بڑی بھاری رقم کے عوض بیچا ۔ علاوہ ازیں پریسٹ کو پابند کیا کہ تمام معاملہ صیغہءراز میں رکھے ۔ پریسٹ کے ہاں سے رقم قابو کرتے ہی کینن نے اگلے ہی دن شہر چھوڑ دیا ۔ پریسٹ کو بہت بعد میں معلوم ہوا کہ اُسے بہت مہارت سے بےوقوف بنا کر چکمہ دیا گیا تھا۔

کہانی ختم ہوئی اور کہانی سنانے والے کینن نے ویلانو کے آرنالڈس، ہرمس ٹرس میکٹس اور افلاطون کا ذکر کیا ، یہ سب وہ لوگ ہیں جنھوں نے پارس کے پتھر کے بارے میں تحقیقات کیں اور مقالے، مضامین لکھے ہیں۔

اور کہانی کے اختتام پہ وہ کہتا ہے کہ میرے احباب، چونکہ اِس پتھر کے بنانے کی ترکیب کو اوجھل رکھنا ہی رب کی مرضی ہے چنانچہ انسان کو اِس حقیقت پر سرِ تسلیم خم کردینا چاہیئے ۔ بصورتِ دیگر اِس پتھریا دھات کو بنانے میں محض وقت اور سرمائے کی بربادی ہی ہاتھ آتی ہے۔

My tale is done. God send every honest man relief from his sorrows. Amen.

The 2nd Nun’s Tale – 42

کینٹربری کہانیوں کا سلسلہ جاری ہے، نن کی ہمراہی میں سفر کرنے والے پریسٹ نے لومڑ اور چانٹی کلیر کی شگفتہ کہانی سنائی۔ اِس کے بعد میزبان ، سیکنڈ نن کی طرف متوجہ ہوا اور کہانی سنانے کو کہا۔ یہاں یہ بات واضح ہو کہ اِس کردار کو چاوسر نے خود بھی سیکنڈ نن کہہ کر متعارف کروایا ہے چنانچہ یہ اسی نام سے ادبی حوالوں میں نظر آتا ہے ۔

244-the-2nd-nuns-tale

-سیکنڈ نن کی کہانی:

سیکنڈ نن کی کہانی شاہی بندRime Royalکی شکل میں ہے جبکہ دیگر کہانیاں مثنوی یا رباعی کی صورت میں تھیں۔ شاہی بند میں سات سات مصرعے ہوتے ہیں ، پہلا اور تیسرا، دوسرا اور چوتھا، جبکہ پانچواں ، چھٹا ور ساتواں ہم قافیہ ہوتا ہے ۔

Here bigynneth the Seconde Nonnes Tale of the lyf of Seinte Cecile

کہانی کے آغاز میں نن/ راہبہ نے گناہوں اور شیطانی چالوں سے پناہ مانگی ہے ۔ کاہلی اور بےکاری کی مذمت کی ہے، اور پھر مقدس مریم کے لئے دعائیہ مناجات ہے اور مدد کی التجا ہے کہ بنی نوع آدم کو گناہوں سے محفوظ رکھے . . . اور راہِ حق پر قائم رہنے کی توفیق دے۔ راہبہ، کاہلی کے نقصانات کے ضمن میں کہتی ہے :

The devil cunningly waits with a thousand cords to tie us up, and when he sees a man idle he can quickly catch him in his trap and the man may not even be aware that the devil has hold of him until it’s too late. We should therefore work and avoid idleness. Even if a man doesn’t fear death and judgement, reason ought to be enough to persuade him that idleness is nothing but rotten laziness from which nothing useful is created and no increase is engendered. Sloth keeps us in a cage, where there is nothing to do but sleep and eat, drink and consume what other people have worked hard to produce

So in order to keep us all from idleness, which is a cause of such great distraction, confusion and harm, I have worked on the legend, in translation, of your glorious life and death – you, with your garland of rose and lily – I mean you, maiden and martyr, Saint Cecilia!

سیکنڈ نن نے سینٹ سیسلیا کے صبر و استقامت کی کہانی سنائی۔ نن نے زائرین کی معلومات کے لئے اُس راہبہ کے نام سیسلیا کے بارے میں بتایا کہ اِس نام کا مطلب ہی آسمانی کنول ہے جو کہ اُس راہبہ کے پاکیزہ کردار کی دلالت کرتا ہے۔

First wolde I yow the name of Seint Cecilie
Expowne, as men may in hir storie see.
It is to seye in Englissh “hevenes lilie,”
For pure chaastnesse of virginitee;
Or, for she whitnesse hadde of honestee,
And grene of conscience, and of good fame
The soote savour, “lilie” was hir name.
Or Cecilie is to seye “the wey to blynde,
For she ensample was by good techynge;
Or elles Cecile, as I writen fynde,
Is joyned, by a manere conjoynynge
Of “hevene” and “Lia”; and heere, in figurynge,
The “hevene” is set for thoght of hoolynesse,
And “Lia” for hire lastynge bisynesse

First I will explain to you the name Cecilia, as it is recorded in her legend; her name means Heavenly Lily, from the Latin word Caelum meaning heaven, and signifies her pure virginity or the whiteness of her honesty and the greenness of her conscience; and for the sweet perfume of her high repute she was called Lily. Or perhaps Cecilia means Path for the Blind, from the Latin word Caecus meaning blind, because her life was an example that we can all learn from. Or else, as I find it written, Cecilia may be formed from a joining of the words ‘heaven’ and ‘lia’, and in this context, heaven signifies her holy thoughts and ‘lia’ her holy and active life

سیکنڈ نن کہنے لگی کہ راہبہ سیسلیا پیدائشی رومن تھی۔ وہ اعلٰی خاندانی والدین کے ہاں پیدا ہوئی اور اُس کو عیسائی تعلیمات کے مطابق تربیت دی گئی ۔ یہ وہ وقت تھا جب روم میں رومن دیوتاؤں کی پوجا کی جاتی تھی اور عیسائی تعلیمات کی اتباع کرنا ممنوع اور جان جوکھوں کا کام تھا۔

جب سیسلیا جوان ہوئی اور شادی کی عمر کو پہنچی تو اُسے اِس بات کا خوف لاحق ہوا کہ خدانخواستہ وہ کسی گناہ کی مرتکب نہ ہوجائے۔ چنانچہ اُس نے شادی کی پہلی رات اپنے شوہر کو پوپ اربن کے پاس جا کر ایمان لانے اور مقدس پانی چھڑکاؤ کروانے کی درخواست کی ۔ سیسلیا کا شوہر ویلیرین مان گیا ۔ اگرچہ اُس وقت عیسائیت پر کاربند ہونا قابلِ قتل جرم تھا۔ غالب گمان ہے کہ تاریخی حوالوں کے اعتبار سے یہ پانچویں صدی عیسوی سے پہلے کی بات ہے۔

This maiden, bright Cecilia, was a Roman and she had been born to noble parents. Since her birth she had been nurtured in the Christian faith and held the Gospels of Jesus in her mind always. She never ceased from prayer, as I find it written, and always held in her mind a love and fear of God, asking constantly, in particular, that He might protect her virginity

When the time came that she should be married, Cecilia was betrothed to a young man named Valerian and as the day of her wedding unfolded, she very devoutly and courageously wore an undergarment of coarse hair beneath her golden wedding dress. And while the music played and the organ sounded, she sang in her heart to God alone: ‘Oh lord, keep my soul and my body under Your protection, unblemished, so that I will not be destroyed.’ For the love of He who died upon a tree, she was accustomed to spending every second or third day fasting and in constant prayer

Her wedding night quickly arrived, when she had to go to bed with her husband, as was the custom. She said to him softly: ‘Oh my sweet and well-beloved spouse, there is something that I must tell you, if you will listen, something that I have great joy in telling you, but you must promise not to betray this confidence to anybody

Valerian swore at once that he wouldn’t divulge a word of what she was going to say to him; not to a living soul. Then she said to her husband: ‘I have an angel who loves me so greatly that, whether I am asleep or awake, he is always ready to protect my body. If he perceives that you have touched me or tried to have sex with me, be in no doubt that he will kill you. You will then die at a tragically young age. But if you can learn to love me in a way that does not involve any sex, then he will love you for your cleanness as much as he loves me and he will reveal to you his beauty and his joy

Valerian, instructed as God desired, answered: ‘So that I can trust you, let me see this angel. If it is a real angel then I will do as you have asked, but if it is another man whom you love, I will kill you both with this sword that I am carrying

‘If this is what you want, you shall see my angel,’ replied Cecilia. ‘But you must first believe in Christ and receive baptism. Go to the Appian Way, which is only three miles from this town, and speak to the poor folk who live there, tell them that I, Cecilia, have sent you to meet the good and aged Urban, with a good will and for a private purpose. When you meet Saint Urban, tell him what I have said to you, and when he has purged you of all your sins, then you will be able to see this angel, before you part from him

ولیرین پاکیزہ چھڑکاؤ لے کر واپس گھر پہنچا تو ایک فرشتہ اُن دونوں کے لئے بہشت سے پھولوں کے دو تاج لایا۔ فرشتے نے بتایا کہ صرف متقی اور پرہیزگار ہی اِن پھولوں کو دیکھ سکیں گے ۔

272-2nd-nuns-tale..
CeciliaCrownsDomenichino

ہدایت کی اِس نعمت سے ویلیرین اِس قدر خوش تھا کہ اُس نے فرشتے سے، اپنے بھائی ٹیبرٹس کی ہدایت کا سوال کیا۔ ٹیبرٹس نے خوف ظاہر کیا کہ اگر روم کے لوگوں کو ہمارے عقیدے کا پتہ چل گیا تو وہ ہمیں قتل کردیں گے ۔ سیسلیا نے سب کو ڈھارس دی، بلند ہمتی یاد دلائی اور اِس دنیا کی بے ثباتی کا ذکر کیا کہ اگر ہم قتل ہوگئے تو آخرت میں ایک اچھی زندگی ہماری منتظر ہوگی۔ سیسلیا نے مقدس عقیدہء تثلیث کی تشریح کی اور دیگر نصرانی اصول اور عقائد بیان کئے۔ اِن باتوں نے ٹیبرٹس کے دِل پر اثر کیا ، اس طرح ویلیرین کے بھائی ٹیبرٹس نے بھی حقیقی ہدایت کا راستہ اپنا لیا اور وہ تینوں اچھی زندگی گزارنے لگے۔ اُن پر خدائی برکات اور فیوض نازل ہوتے رہے۔

کچھ عرصے بعد اُن کا راز لوگوں پر کھُل گیا اور شہرِ روم کے لادین سپاہیوں نے ویلیرین اور ٹیبرٹس کو گرفتار کرکے گورنر کے سامنے پیش کردیا ۔ گورنر نے دونوں کی ہلاکت کا حکم جاری کیا ۔ گورنر کا ایک کارندہ میکسمز کہانت کا دعوے دار تھا ۔ سزا کی عمل درآمد کے دوران میکسمز نے اِس بات کا اقرار اور اعلان کیا کہ اُس نے ویلیرین اور ٹیبرٹس کی ارواح کو بہشت کی طرف جاتے ہوئے دیکھا ہے۔

یہ سن کر مجمع میں سے کئی لوگ عیسائیت پر ایمان لے آئے۔ اِس بات پر گورنر نے میکسمز کے قتل کا حکم جاری کردیا ۔ سیسلیا نے اپنے شوہر اور اُس کے بھائی کی نصرانی طریقے سے تدفین کی اور اِس سپاہی کو بھی اُنہی کے ساتھ دفنا دیا۔ گورنر نے سیسلیا کو پیغام بھیجا کہ اپنے فعل پر شرمندہ ہوکر مذہب تبدیل کرلے لیکن سیسلیا نے انکار کردیا اور گورنر کو جھوٹے دیوتاؤں کی پوجا کرنے پر سخت ملامت کی۔

vol-3-063-second-nuns-tale
vol-3-064-second-nuns-tale..

گورنر نے سیسلیا کے لئے ایک کڑی سزا تجویز کی کہ اُسے کھولتے ہوئے پانی میں ڈالا جائے۔ سیسلیا کو پانی میں ڈال کر ایک رات اور ایک دِن آگ بھڑکائی جاتی رہی لیکن . . پھر بھی پانی گرم نہ ہوا۔ اور سیسلیا محفوظ رہی۔

second nuns tale

گورنر نے جلّاد کو اُس کی گردن اُڑانے کا حکم دیا ۔ جلاد نے سیسلیا کی گردن پہ تین کاری ضربیں لگائیں پر سر کو تن سے جُدا نہ ہونے دیا ۔ سیسلیا تین دِن جانکنی کے عالم میں پڑی رہی اور اِس حالت میں بھی تبلیغ اور مناجات کرتی رہی۔ اُس نے اپنی جائیداد غریبوں میں تقسیم کرنے کی وصیت کی ۔

Cecilia2PoorDomenichino

Cecilia said this, and a lot more, and Almachius grew so angry with her that he commanded that she be led back to her house and put to death in a bath of scalding water, amidst roaring flames. His orders were quickly carried out. They secured her in a bath and spent all that night, and all the next day, stoking and fanning a great fire beneath it. But all this time, despite the heat of the flames and the bath, she sat in the cold and felt no discomfort. She produced not a drop of sweat! But she had to die in that bath, because Almachius had given strict and wicked orders to that effect, so her executioner gave her three sharp blows to the neck with his sword, but he did not cut it in two. And because there was at that time a law which decreed that nobody should have to suffer more than three attempts at beheading, he dared not make a fourth attempt, either harshly or to lessen her suffering. So he left her lying there, half dead, with her neck partially severed, and went on his way

OLYMPUS DIGITAL CAMERA

تین دن بعد اُس کی وفات ہوئی تو لوگ اُس کی میت کو پوپ اربن کے پاس لے گئے۔ پوپ اربن نے اُسے رات کے وقت گرجا کے احاطے میں دیگر راہبوں اور راہباؤں کے ساتھ دفنایا اور وہ گرجا گھر آج بھی اُسی کے نام سے پوجا جاتا ہے۔

050424-003santaCecilia
gohistoric_16039_z

 Mosaic/  Valerian and Cecilia

Mosaic/ Valerian and Cecilia

اور اِس طرح سینٹ / سیسلیا کی بائیوگرافی اختتام پذیر ہوئی ۔ اِس کہانی کو ناقدین اور ماہرینِ انگریزیات نے وائف آف باتھ کی کہانی کا متضاد اور تقابلی موضوع بھی ٹھہرایا ہے ۔ کیونکہ وائف آف باتھ کا کردار اور کہانی ، دونوں دنیاوی لذّات اور فطری جبلتوں سے متعلق ہیں . . . جبکہ سیکنڈ نن کی کہانی میں مذکور سینٹ سیسلیا کی زندگی، روحانی اصلاح ، ابدی فلاح اور عقیدے کی استقامت کے بارے میں ہے۔

473px-St_cecilia_guido_reni

The Nun’s Priest’s Tale – 41

کُل سترہ ٹریجیڈی احوال کے بعد میزبان نے مونک کا شکریہ ادا کیا اور اُسے اپنی کہانی موقوف کرنے کو کہا ۔ اب نن کی ہمراہی میں سفر کرنے والے پریسٹ/Priest کی باری تھی کہ وہ اگلی کہانی سنائے۔ مونک کی المیہ کہانیوں کے پیشِ نظر ، میزبان نے پریسٹ کو تاکید کی کہ کہانی پُرلطف ہونی چاہیئے ۔

نن کے پریسٹ کی کہانی:

پریسٹ نے ایک معمر بیوہ کی کہانی سنائی ۔ ایک جنگل کے کنارے، قدرے نشیب میں اُس بڑھیا کا جھونپڑا تھا۔ وہ ایک چھوٹے سے کھیت میں محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنی بیٹیوں کا پیٹ پالتی تھی۔ گھر کے صحن میں بڑھیا کی مرغیوں کا ڈربہ تھا ۔ بڑھیا کا پولٹری فارم کُل سات مرغیوں اور ایک مرغے سے آباد تھا۔ مرغے کا نام ‘چانٹی کلیر’ Chanticleer تھا جو کہ بانگیں دینے میں ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اُس کا رنگ دیدہ زیب، شوخ اور چونچ سیاہ تھی۔ اِن مرغیوں میں ایک خوش بخت ‘پرٹی لوٹ’Pertelote مرغے کی محبوب اور منہ چڑھی تھی۔

ایک صبح جنابِ چانٹی کلیر بہت متفکر اور خاموش ، اپنے باغیچے میں ٹہل رہے تھے۔ ذہین پرٹی لوٹ نے اُداسی بھانپ کر سبب پوچھا ۔

مرغے نے کہا کہ ایک بُرا خواب دیکھ کر پریشان ہوں، جانے کیا معاملہ ہو، اُس نے خُدا سے دعا کی کہ خواب کی تعبیر نیک ہو۔ خواب سناتے ہوئے مرغے نے کہا : کیا دیکھتا ہوں کہ شکاری کتے جیسا کالے کانوں والا، ایک سُرخ اور پیلا جانور ہمارے صحن میں ہے جس نے میرا تعاقب کرتے ہوئے مجھے ہلاک کردیا ہے۔

پرٹی لوٹ نے اُسے حوصلہ دیا کہ ضروری نہیں کہ ہر خواب ہی سچا ہو۔ کبھی کبھی پیٹ کی گڑبڑ سے نیند ٹھیک نہیں آتی اور مضمحل طبیعت کے سبب بھی بےمعنی خواب نظر آتے ہیں ۔ وہ خاطر جمع رکھے اور پریشانی کو دل میں جگہ نہ دے ۔ بی مرغی نے مرغے میاں کے لئے کچھ جڑی بوٹیاں لانے کا ارادہ ظاہر کیا جن سے اُس کی طبیعت ٹھیک ہوجائے گی۔

چانٹی کلیر نے اپنی بات پر مُصر رہتے ہوئے کہا کہ خواب ضرور اہمیت رکھتے ہیں اور آنے والے واقعات کا اشارہ دیتے ہیں۔ وہ بھی اپنی جگہ پورا دانشور تھا اس لئے اُس نے اپنی بات کی تائید میں کئی مثالیں دیں جیسے کہ ایک شخص نے خواب میں اپنے دوست کو قتل ہوتے دیکھا ۔ جس کی لاش کو گوبر اُٹھانے والے چھکڑے پر چھپایا گیا تھا۔ وہ شخص اپنے خواب کے مطابق، اُسی جگہ گیا جہاں کی نشاندہی کی گئی تھی تو وہاں اُسے اپنے دوست کی لاش مِلی۔

اِسی طرح ، چانٹی کلیر نے اُن دو دوستوں کی مثال بھی دی جن کو ایک سمندری سفر کرنا تھا اور اُن میں سے ایک دوست نے خواب دیکھا کہ وہ ڈوب رہا ہے۔ اُس نے دوسرے کو خواب سنایا تو دوسرے نے اُس کا مذاق اُڑایا اور وہ سفر پر روانہ ہوگئے۔ سفر کے دوران کشتی کے پیندے میں سوراخ ہوا اور وہ ڈوب گئے۔ چانٹی کلیر نے کچھ اور بھی مثالیں دیں۔

خواب اور تعبیروں کے موضوع سے اُکتا کر ، چانٹی کلیر نے پرٹی لوٹ سے کہا: میری نازنیں، زندگی تو فنا ہونے والی چیز ہے، اِس کے لئے پریشانی اور قلق کیسا ؟ آؤ پیاری کچھ دِل لگی کی باتیں کریں جن سے طبیعت بہل جائے۔ جانے دو اِن غیب کی الہامی باتوں کو ، آج تمہارے رُخسار اور زلف کی کچھ بات ہو، تمہاری مدُھر کُٹ کٹاک سے میرے من کے تار گُنگنائیں، تمہارے چہرے کے حُسن میں کھو جاؤں ۔ کتنے نصیب کی بات ہے کہ تم میری شریکِ حیات ہو۔ تمہارے پیار بھرے ساتھ کی وجہ سے میں تمام عالم کے غم سے بےگانہ ہوجاتا ہوں۔ آؤ دِل کے بہلانے کو کچھ میٹھی دِلنشیں باتیں ہوں۔

پھر اُس نے پرٹی لوٹ کو ایک ضرب المثل سنائی کہ . . .وہ جو کہتے ہیں کہ . . اچھی عورت کے دم سے مرد کی زندگی نعمت بن جاتی ہے۔ اِسی طرح وہ دیر تک اپنی محبوب بیوی پرٹی لوٹ سے راز و نیاز کی باتیں کرتا رہا، اور اس کے دل سے خواب کی پریشانی جاتی رہی۔

مارچ کا مہینہ تقریباََ گزر چکا تھا جب ایک دن مُرغا چانٹی کلیر بڑے تپاک سے صحن میں چہل قدمی کررہا تھا ۔ اُس کی مرغیاں ، اُس کے دائیں بائیں ٹہلتی ہوئی ٹھونگیں لگا رہی تھیں۔ اِسی اثنا میں ایک سیاہ لُومڑ اُس طرف آنکلا ۔

026-chanticleer-and-dan-russell

چانٹی کلیر فرار ہونے کے لئے کے لئے پر تول ہی رہا تھا کہ لومڑ نے سلام دعا شروع کرتے ہوئے کہا کہ وہ تو چانٹی کلیر کے ماں باپ کا پرانا واقف ہے۔ لومڑ نے چانٹی کلیر کے باپ کی خوبصورت بانگ کی تعریف کرتے ہوئے ویسی ہی بانگ کی فرمائش کی۔ چانٹی کلیر نے بانگ دینے کے لئے ابھی گردن اکڑائی ہی تھی کہ لومڑ نے اُسے گردن سے دبوچا اور جنگل کی طرف بھاگ گیا ۔ مرغیوں نے اپنے سرتاج کے اغوا ہونے پر دُہائی ڈال دی۔

056-after-him-the-fox nun s oriest

بے چاری بڑھیا اور اُس کی دو بیٹیوں نے مرغیوں کی کٹ کٹاک اور آہ و فغوں سنی تو وہ بھی جنگل کی طرف بھاگیں۔ گاؤں کے کچھ مرد اور بچے بھی ساتھ بھاگ پڑے ۔ چانٹی کلیر نے بڑی دقّت سے آواز نکالتے ہوئے لُومڑ سے کہا کہ دیکھو شکاری بھیا، اب مزہ تو تب ہے کہ . . تم اِن پیچھا کرنے والوں کو گالیاں دو اور کہو کہ پیچھا کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ . . اب تم مجھے کھا جاؤ گے ۔

113-all-the-neighbors-joined
A Scene from The Nun's Priest's Tale

لومڑ کو آئیڈیا اچھا لگا اور جیسے ہی اُس نے منہ کھولا . . .چانٹی کلیر پھڑپھڑاتا ہوا اُڑ کر ایک درخت کی ٹہنی پر جا بیٹھا ۔ لومڑ نے ہزار کہا کہ . . بھیا ، نیچے آجاؤ، میں تمہیں سچ میں کھا ہی تو نہ جاؤں گا۔

Renart_illumination

مگر چانٹی کلیر موت کے منہ میں جا کر واپس آیا تھا اور دوبارہ ایسی سنگین غلطی نہیں کرسکتا تھا ۔ لومڑ نے ہار مان لی ، بہت پچھتایا اور اُن سب پہ ملامت کی . . . جو خاموش رہنے کے وقت بول پڑتے ہیں ۔ کبھی کبھی بات کرنے کا وقت نہیں ہوتا ، خاموش رہنے کی ساعت ہوتی ہے، جن وقتوں میں خاموش رہنا ، عافیت کا وسیلہ ہوتا ہے اور نادان لوگ ایسے میں بول کر اپنا نقصان کرلیتے ہیں۔

So you see, this is what happens when you allow yourself to fall prey to flattery. But all those of you who think that this tale is just a foolish fable about a fox, or a cockerel and a hen, be aware of the moral of the story, good men. Saint Paul wrote that all that is written is there for our instruction. Take the heart of the matter, and let the rest blow away like chaff in the wind

Now goode God, if that it be thy wille,
As seith my lord, so make us alle goode men,
And brynge us to his heighe blisse. Amen۔
Now God, if it is your desire, make us all into good men and grant us heaven at last. Amen

میزبان نے اِس شگفتہ کہانی کا لُطف اُٹھاتے ہوئے، تمام مسافروں کو اِس کے مرکزی خیال کی طرف توجہ دینے کا مشورہ دیا اور یوں . . . نن کے پریسٹ کی کہانی ختم ہوئی اور زائرین کا سفر جاری رہا ۔

‘Sir Nun’s Priest,’ said our host. ‘God bless the seat of your pants and every one of your balls! This was a merry tale of Chanticleer. By my faith, if you were not of the clergy I bet you would be a proper breeding-fowl, having hens to keep you satisfied to the number of seven times seventeen and more – yes! – do you see the muscles on this noble priest, his great neck and manly chest? His eyes are like a sparrow-hawk’s! His complexion is like an artists’ pigments, and no need to embellish them with colours from Portugal! May fortune smile upon you, sir, for this tale

Then, with a merry laugh, he turned to another of the pilgrims

269-nus-priests-tale

The End of Monk’s Tale – 40

اپریل کا مہینہ ہے جس میں اُنتیس زائرین کینٹربری کے بڑے کلیسا کی جانب مذہبی زیارت کے لئے رواں دواں ہیں اور چودہویں صدی کے سفر کی صعوبت کے پیشِ نظر ، اِن مسافروں نے باہم کہانیاں سناکر وقت گزاری کا منصوبہ بنایا۔ سفر کی مشکلات سے نبرد آزما ہونے کے علاوہ، کہانی سنانے کا فن ، کم از کم اُتنا ہی پرانا ہے جس قدر پرانا خود انسان ہے۔ کہانی سناکر، کہانی سُن کر اور نسل در نسل کہانی منتقل کرکے ہی روایات کا ایک بڑا حصہ ارتقائی منازل طے کرتا ہوا آج کی موجودہ شکل تک پہنچا ہے۔ کلاسیکی سٹیج ڈرامے، فلم سازی، جدید دور کا ڈرامہ، تھری ڈی ، اینیمیٹیڈ اور تاریخی فلمیں، سب کہانی کاری کے پہلو سے ہی نمودار ہونے والی اصناف ہیں۔

اب ایسا ہوا کہ جب میزبان نے مونک سے کہانی کی فرمائش کی تو مونک نے اُس چلن سے ہٹ کر کہانی سنائی جو کہ پہلے سے مسافروں میں چل رہا تھا۔ مونک نے اپنے منصب کے اعتبار سے ، اپنی علمی لیاقت کی غمازی کرتے ہوئے، دیومالائی، تاریخِ قبل مسیح اور ماضی قریب کی چند شخصیات کا حال سنایا ۔

The monk says: I will lament, then, in the manner of tragedy, the suffering of those who once enjoyed a high status in this world and then fell from grace in such a dreadful way that there was no hope of them ever recovering from it. Certainly, when fortune flies from us, no one has the power to alter her course. So let no man feel secure in his prosperity. Draw caution from these old and true stories

.

اِن سب شخصیات کے چُناؤ میں یہ بات مماثل تھی کہ یہ سب کردار بدترین انجام سے دوچار ہوئے ۔ زندگی میں، کسی نہ کسی سبب انہوں نے عروج پایا لیکن اپنی خطا یا قسمت کے پھیر کی وجہ سے زوال کا سامنا کیا ، دردناک موت دیکھی، بےبسی اور ذلّت اِن کا مقدّر ہوئی۔

اِن کرداروں میں سے بیشتر کا ماخذ بائبل ہے اور چونکہ مونک خود ایک کلیسائی کردار ہے تو ظاہری بات ہے کہ اُس کی علمی مہارت کا شعبہ یہی تھا۔ مونک نے لوسیفر، آدم، ہرکولیئس، سیمپسن، بخت نصر، بیلشضر ، ہولوفرنو، کریسص، سکندرِ اعظم، ملکہ زینوبیا، انطیوخوس، جولئیس سیزر، نیرو، ہوگولینو، بارنابو وِزکونٹی، پیٹر آف قبرص اور پیٹر آف قشتالہ کی المناک رودادیں سنائی۔

The monk tells a series of tragic falls and claims to have a hundred of these stories but the Knight stops him after only seventeen, saying that they have had enough sadness and depression. In all these stories, noble figures are brought low and experience a fall from grace. The Knight finds his listing of historical tragedies monotonous and depressing

کل سترہ ٹریجیڈی احوال سنانے کے بعد ، نائٹ نے مونک کو ٹوکنا مناسب سمجھا کیونکہ پے در پے زوال ، ہزیمت اور موت کے تذکرے سُن سُن کر تمام زائرین یاسیت کا شکار ہونے لگے تھے۔دل ڈوبنے لگے تھے اور اُن کے چہروں سے ہبوطِ نفس اور ہیبت عیاں تھی۔ میزبان نے بھی، مونک کی بات کی تائید کی اور اِن تاریخی المیوں کو روک دینے میں ہی عافیت جانی۔

Here the Knight “stynteth” (stops) the monk’s tale

نائٹ نے کہا کہ یوں تو تاریخی واقعات میں عبرتِ عالم ہوتی ہے اور زوال پذیر ہونے والے افراد کا حال جان کر انسان سبق اور تجربہ حاصل کرتا ہے مگر اب یہ سلسلہ روک دینا اچھا ہے کہ ماحول بہت بوجھل اور سوگوار ہوچلا ۔

The Canterbury Pilgrims

ہونے کو تو یہ اتفاقیہ بات بھی ہوسکتی ہے کہ نائٹ ہی وہ شخص ٹھہرا جس نے مونک کو الم و غم بھرے حالات سنانے سے روکا۔ لیکن ، کہانیوں کے آغاز میں ، نائٹ کا جو شخصی خاکہ پیش کیا گیا ہے اُس کے مطابق تاریخ، تخت اور مبارزت سے متعلق واقعات نائٹ کی دلچسپی کا محور ہوتے . . . اور یہاں نائٹ ہی اُکتاہٹ کا شکار ہوا۔

ماہرینِ ادب نے کڑی سے کڑی ملا کر ، اِس بات کی یہ توجیہہ پیش کی ہے کہ نائٹ کے تعارف میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ وہ بہت سے صلیبی معرکوں میں اپنے جوہر دکھا چکا ہے جن میں سکندریہ پر حملے کی جنگی مہم کا ذکر تھا ۔ چنانچہ اگر وہ سکندریہ پر لشکر کشی کرنے والے صلیبی دستے میں شامل تھا تو یہ وہی صلیبی جنگ ہوئی جس کی کمان قبرص/سائپرس کا پیٹر اوّل کررہا تھا۔

یہی بات ہے کہ نائٹ اپنے سابقہ آرمی چیف کا المیہ سُن کر دلبرداشتہ ہوگیا، اپنے سپہ سالار کے لئے ایسا محسوس کرنا بالکل فطری تھا ، اُس سے رہا نہ گیا اور وہ بول پڑا۔ یوں مونک کی المیہ داستانوں کا سلسلہ سترہ سے آگے نہ بڑھ سکا۔ سترہ شہرہ آفاق شخصیات کے مؤلم انجام کے بعد مونک خاموش ہوا اور میزبان نے قافلے میں شامل ایک پریسٹ سے درخواست کی کہ اگلی کہانی وہ سنائے۔

‘Ho!’ quod the knight, ‘good sir, namore of this, that ye han seyd is right y-nough, y-wis, and mochel more…

‘Hey!’ exclaimed the knight. ‘Good sir, no more of this! What you have said is quite enough – in fact, I would say, too much! A small amount of seriousness is enough for most people. For myself, I think it’s a great shame when someone who’s enjoyed wealth and comfort loses it all suddenly. It’s a huge pleasure to hear of its opposite, in fact. If a man who has been poor betters himself and climbs up the social ladder, has some good luck and ends up living in prosperity – a thing like this is a pleasure to hear, to my way of thinking, and makes for a much better tale.’
‘I totally agree!’ exclaimed our host. ‘By the bell of Saint Paul’s, you’re right! This monk chimes on and on about “fortune overshadowed by a cloud” or some other crap
‘Sir Monk, may God bless you, but no more of this. Your tale is annoying us. Such talk is not worth a butterfly. There is no pleasure to be gained from it. Therefore Sir Monk, Sir Peter rather, I plead with you, tell us about something else. If it wasn’t for the clinking of all the bells hanging from your bridle
‘No,’ replied the monk. ‘I can’t be bothered any more. Let someone else have their go, for I have finished.’
‘Come here then, Sir Priest, come over here Sir John,’ said the host to one of the Nuns’ Priests, rather roughly and insistently. ‘Tell us something that will make us laugh. Be upbeat, although I can see you’re riding an old nag; but so what if your horse is mangy and thin? If he serves your purpose, he’s good enough, so be in good spirits.’
‘Yes, sir,’ replied the Nun’s Priest. ‘Yes, host, I will be merry, may good luck come to me, or else I will annoy you all, I understand this.’
Then he began his tale and spoke out to everybody, this sweet priest, Sir John.

The monk mourns Pedro of Castile – 39

چاوسر کی کینٹربری کہانیاں جاری ہیں ، مونک کی باری ہے اور مونک تاریخی مشاہیر کے زوال کی حکایات سنارہا ہے۔ سولہ رودادیں سنائی جا چکی ہیں اور سترہویں اب پیشِ خدمت ہے۔ آخری دو شخصیات چودہویں صدی سے تعلق رکھتی ہیں اور تقریباََ سبھی مسافرین اِن ناموں سے مانوس ہیں۔

سولہواں ماجرا، مونک نے تیرھویں صدی میں ، تخت و تاج پر متمکن رہنے والے ، سائپرس کے بادشاہ پیٹر اوّل کا ، سُنایا جو دنیا میں ایک نامور حکمران تھا مگر موت آئی تو اپنے ہی تین افسروں یعنی نائٹز نے اُسے اُس کے اپنے ہی محل کی خوابگاہ میں قتل کردیا۔ گویا تاج وری نے وہ دن دکھایا کہ اپنی آرام گاہ ہی مقتل ٹھہری۔

سترہواں ماجرا مونک نے ایک سفاک بادشاہ کا سنایا جس کا تذکرہ تاریخ دانوں نے کافی تفصیل میں کیا ہے۔ اور کئی متضاد روایات بھی ملتی ہیں۔ اس ضمن میں جو معلومات ملیں وہ قدرے طویل ہیں ۔ شاید دلچسپ اور عبرت ناک بھی۔

– پیڈرو آف کیسٹائل:

De Petro Rege Ispannie

قشتالہ کا بادشاہ پیڈرو(1334-1369)

سپین کی ریاست قشتالہ اور لیون کا بادشاہ جو ظالم پیڈرو کے نام سے مشہور ہوا۔ گیارہویں الفانسو آف قشتالہ اور اُس کی قانونی ملکہ ماریا آف پرتگال کا بیٹا تھا جس نے شیطانی بےرحمی میں نام کمایا ۔ اگرچہ اُس کے مرنے کے بعد اُس کے حمایتی طبقے نے اُسے ‘عادل پیڈرو’ کے لقب سے مشہور کرنے کی کوشش کی لیکن پھر بھی وہ ظالم پیڈرو یا پیٹر ہی کے نام سے تاریخ کے صفحات میں جانا جاتا ہے۔

Pedro of Castile

Pedro of Castile

O noble Pedro, glory once of Spain
Whom Fortune held so high in majesty
Well ought men read thy piteous death with pain
Out of thy land thy brother made thee flee
Chaucer, The Canterbury Tales

King Peter of Spain

Oh worthy Pedro, the glory of Spain, whom fortune held in such high majesty! Well might men lament your piteous death. Your brother made you flee from your land, then you were betrayed during a siege and led into his tent where he killed you. All your lands and taxes were now his. A rogue tricked you, as a hunter sets a branch that is coated with lime

سپین کا علاقہ مسلمان سپہ سالار طارق بن زیاد نے 19جولائی711 میں عیسائی بادشاہ راڈرک یا روڈریگو کو شکست دے کر حاصل کیا تھا۔ اس جگہ کا نام جرمن قوم وانڈلز(Vandalus) کی نسبت سے واندلس اور پھر اندلُس کہلایا اور بہت سی سیاسی خونی جنگوں کا میدان بنا۔

ظالم پیڈرو نے 1350سے1369تک حکومت کی باگ ڈور سنبھالی۔ کم سنی میں تعلیم کے ساتھ ساتھ مصوّری، شاعری اور موسیقی سیکھی۔نیلی آنکھوں ، پیلے بالوں اور ہکلا کر بولنے والا پیڈرو، سولہ سال کی عمر میں تخت نشین ہوا اور باقی کی تمام عمر قتل و غارت اور خونریز معرکوں میں گزری جہاں اُس کا سامنا تخت کے دعویدار، اپنے ہی دس غیر قانونی سوتیلے بھائیوں سے تھا جن میں سے دو کا ذکر تاریخ میں زیادہ آتا ہے۔ یہ اولادیں اُس کے باپ الفانسو کی ایک منظورِ نظر ‘ایلینور’Eleanor سے تھیں۔

506-Castile_1210

اِن خونی معرکوں میں فرانس، انگلستان اور پُرتگال کے شاہی خاندانوں کے فوجی دستے بھی ، اُسی اعتبار سے شامل ہوتے جیسے جیسے اُن کے مفادات یا وفاداریاں ہوتیں ۔ کیونکہ قشتالہ کے تخت نشین خاندان سے انگلستان کے آرگون خاندان کی کانٹے دار رشتہ داری اور اقتدار میں شراکت تھی۔

پیڈرو کے نزدیک حزبِ اختلاف میں ہونا دھوکہ دہی اور ظلم کے مترادف تھا۔ شکّی مزاج بادشاہ سے مصالحت کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہوتا، اشرافیہ میں سے جب کسی کو گمان ہوتا کہ بادشاہ سے صلح ہوگئی ہے تبھی اُسے قتل کروادیا جاتا ۔ اِسی کے عہد میں . . . دس سال تک بادشاہ کے مصاحبوں میں شامل رہنے والے ایک مقرّب کا سر قلم کروایا گیا تو مرنے والے نے اپنے آخری خط میں بادشاہ کو مخاطب کر کے لکھا کہ: ” موت کی اِس آخری گھڑی میں تمھارے لئے میرا صاف سچا مشورہ یہ ہے کہ تباہی سے بچنے کے لئے اپنا خونی خنجر ایک طرف رکھ دو ورنہ بدترین انجام تمھارا نصیب ہوگا ۔”

Retrato de Pedro I of castile

Retrato de Pedro I of castile

جدید ماہرینِ نفسیات پیڈرو کو نفسیاتی واہموں اور عدم تحفظ کے وسوسے کا شکار ٹھہراتے ہیں جو ہم نسل کُش اور قاتلانہ رحجان کا مالک تھا۔ جب پیڈرو کا باپ الفانسو یازدہم ایک بیماری سے مرا تو اُس کی تدفین سے پہلے ہی پیڈرو کے غیر قانونی سوتیلے بھائی اور اُن کی ماں فرار ہو کر روپوش ہوچکے تھے۔ تخت نشین ہوتے ہی اُس نے اپنے باپ کی منظورِ نظر کو قتل کروایا اور بعد ازاں سوتیلے بھائیوں فریڈریک اور ہنریک کے درپے رہا۔

فرانس کے ساتھ سیاسی استحکام کے پیشِ نظر ، پیڈرو کی شادی اُٗس کی ماں کی خواہش پہ ایک فرانسیسی شہزادی بلانچی،Blanche سے ہوئی لیکن دو دن بعد ہی بادشاہ اپنی محبوبہ اور خفیہ بیوی ماریا آف پڈیلاMaria of Padilla کے ہاں چلا آیا جس پر فرانس کے شاہی افراد اور پوپ سے متعلق حلقے سخت برہم ہوئے اور بدمزگی پھیل گئی ، چار دن بعد پیڈرو نے بلانچی کو قید کروادیا جہاں وہ قتل کروادی گئی۔ مؤرخین کا کہنا ہے کہ پیڈرو کو بےوفائی کی فطرت اپنے والد کی طرف سے ملی تھی لیکن الفانسو یازدہم نے اپنی بیوی کو قید یا قتل نہیں کروایا تھا ۔ پیٹر نے یقینی طور پر بلانچی آف بوربون کو قید کروایا تھا چنانچہ غالب گمان ہے کہ قتل بھی اُسی نے کروایا ہوگا۔ پیڈرو کے پاس دعویٰ کرنے کو ماریا آف پڈیلا کی طوفانی محبت کا عذر بھی نہیں تھا کیونکہ اُس نے ماریا سے اپنے تعلق کا انکار کرکے ہی فرانس کی بلانچی سے شادی کی تھی، اس کے علاوہ ماریا سے بےوفائی کا مرتکب ہوکر ، کاسترو خاندان کی ایک عورت سےبھی اُس کا ایک غیرقانونی بیٹا تھا۔ تاہم ماریا آف پڈیلا اُس کے حرم کی وہ واحد عورت تھی جس سے اُس کا دل کبھی نہیں اُکتایا ۔

پیڈرو کے جنگی جنون نے اُسے زیادہ سے زیادہ رقبے کو اپنی مملکت میں شامل کرنے پر اُکسایا، اور 1356سے1375تک جاری رہنے والی طویل جنگ ہوئی جسے دو پیٹروں کی جنگ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جو کہ تاجِ قشتالہ اور تاجِ آرگون کے مابین ہوئی جس میں پیٹر آف قشتالہ اور پیٹر آف آرگون مدِّ مقابل تھے۔

Capture

قشتالہ کا پیڈرو یا پیٹر ، ویلنشیا کی ریاست کو زیرِ نگین کرنا چاہتا تھا جس میں مرسیہ، الِش، الیکانتی اور اوریویلا کے شہر شامل تھے۔ سپین میں نہر شقورہ یا سفید نہر کے کنارے مُرسیہ کا شہر825میں قرطبہ کے امیر عبدالرحمٰن الداخل نے آباد کیا اور نہر شقورہ سے نکالی گئی نہروں پر مبنی ایک شاندار نظامِ آبپاشی قائم کیا جس سے شہر کی زراعت نے بےحد ترقی کی۔ گرتی اُبھرتی مسلم حکومتوں میں مُرسیہ کی ترقی جاری رہی یہاں تک کہ1266 میں جیمز اوّل آف آرگون نے مُرسیہ کو عیسائی قلمرو میں شامل کر لیا ۔

Murcia

Murcia


Entrance of James 1 in Murcia 1266

Entrance of James 1 in Murcia 1266

پیڈرو کا سوتیلا بھائی ہنریکEnrique, Henrique, Fedrique,، پیڈرو کو ‘یہودیوں کا بادشاہ’ مشہور کروانے میں کامیاب ہوگیا تھا اور قشتالہ کی یہودی مخالف آبادی میں ایسا کرنا اُس کے سیاسی مفاد میں ثابت ہوا تھا۔ اسی نے منظم قتلِ عام اور جبری تنصیری تحریکوں کی سرپرستی کی۔ جس کے بدلے میں پیڈرو نے ان تحریکوں کے سرکردہ یہودی مخالف افراد کو قتل کروایا۔ یہ ایسا زمانہ تھا جب صلیبی جنگوں کی فضا پورے یورپ پہ چھائی ہوئی تھی اور اسی سبب لوگوں میں عیسائی شعور اُجاگر کرنے کے لئے کلیسائی سرگرمیاں عروج پہ تھیں۔ سیاسی اور معاشرتی معاملات میں مذہبی تعصب نمایاں تھا۔ مسلمانوں کو بربر اور مُور کہا جاتا تھا۔

Palace-of-pedro-1

Palace-of-pedro-1

مؤرخ لکھتا ہے کہ . . . پیڈرو نے اشبیلیہ(Seville) کے محل میں اپنے سوتیلے بھائی فیڈریک کو کھانے پر مدعو کیا ۔ فیڈریک اپنے محافظوں کے ساتھ وہاں پہنچا تو اُسے خطرہ محسوس ہوا، وہ اُلٹے قدموں واپس جانے ہی لگا تھا کہ پیڈرو کے آدمی نے اُس کے سر میں گُرز دے مارا ، پیڈرو اُٹھا ور فیڈریک کے محافظوں کو خود قتل کیا ، کھانے کی میز پہ واپس پہنچا تو بھائی کو زندہ تڑپتے پایا ، ایک گارڈ کو اپنا خنجر دیا کہ فیڈریک کا کام تمام کردے۔ مؤرخ کے مطابق ، اِس کے بعد . . .پیڈرو نے وہیں کھانا کھایا جہاں سامنے اُس کے بھائی کی لاش پڑی ہوئی تھی۔

بہت سے معرکوں کے بعد ، ایک دفعہ میدانِ جنگ میں ہنری/ہنریک (Enrique ) کسی طرح پیڈرو کے خیمے میں داخل ہوگیا ۔ دونوں بھائی آمنے سامنے آئے جو کئی سالوں سے ایک دوسرے کے خلاف محاذآرائی کی تیاری کرتے رہے تھے۔ خیمے کے اندر کیا ہوا . . . اِس بارے میں کئی روایات ملتی ہیں۔ ایک روایت ہے کہ ہنریک کے ساتھی نے پکارا، یہ رہا تمھارا دشمن، چونکہ ہنریک نے عرصہء دراز سے پیڈرو کو نہیں دیکھا تھا اس لئے پہلی نظر میں پہچان نہ سکا ۔ پیڈرو نے جواباََ چلّا کر کہا : ہاں میں ہی ہوں، میں ہی ہوں۔

ایک دوسرے وقائع نگار کے مطابق، ہنریک یہ کہتا ہوا خیمے میں داخل ہوا کہ: کہاں ہے وہ یہودی طوائف کا بیٹا جو خود کو قشتالہ کا بادشاہ کہتا ہے۔پیڈرو نے جواب دیا کہ : تم ہو ایک کم ذات عورت کی اولاد جبکہ میں تو بادشاہ الفانسو کا بیٹا ہوں۔ دونوں نے ہتھیار تان لئے اور کچھ دیر بعد دونوں زمین پر گتھم گتھا تھے جبکہ قشتالہ کے تخت کی قسمت کا فیصلہ ہونے کو تھا۔ ہنریک کا خنجر پیڈرو کے سینے میں گہرائی تک اُتر چکا تھا اور اُس کی لاش اپنے ہی بھائی کے قدموں میں پڑی تھی۔

Pedro_Castile_beheading

Pedro_Castile_beheading


War of Peter the Cruel in Castile

بالآخر1369میں پیڈرو اپنے سوتیلے بھائی ہنریک کے ہاتھوں قتل ہوا جس نے اپنے آدمیوں کو مردہ پیڈرو کا سر قلم کرنے کا حکم دیا ۔ انتقام کے طور پر تین دن اُس کا سر بُریدہ جسم بے گور و کفن خیمے کے باہر لٹکا رہنے دیا جہاں وہ توہین اور تمسخر کا نشانہ بنتا رہا۔ ہنریک نے اگلے دس سال قشتالہ پر حکومت کی اور آرگون کے پیٹر سوم سے صلح کی، باہم بچوں کی شادیاں کیں جس کے نتیجے میں ان دونوں خاندانوں نے پندرہویں صدی کے سپین میں مضبوط عیسائی حکومت قائم کی۔

-1469میں تاجِ آرگون کے بادشاہ فرڈینینڈ نے . . . تاجِ قشتالہ کی شہزادی ازابیلا سے شادی کی اور دونوں شاہی خاندان شریکِ سلطنت بنے۔ یہ شادی خالصتاََ سیاسی مفادات کے لئے کی یا کروائی گئی تھی- امریکا والا کھوجی کولمبس ملکہ ازابیلا کی زیرِ پرستی1492میں نئی دنیا کی کھوج میں نکلا تھا۔مشہور مؤرخ اور لکھاری نسیم حجازی نے اپنا ناول “کلیسا اور آگ” فرڈینینڈ اور ایزابیلا کے اِس عہد کے پس منظر میں لکھا ہے۔ فرڈینینڈ اور ازابیلا، دونوں کیتھولک شہنشاہ کہلائے جنہیں اُن کی شاندار خدمات کے پیشِ نظر کلیسا نے یہ خطاب دیا۔

Fernando and Isabel

Fernando and Isabel


220px-Sabel_la_Ca izabella 1

-1492میں غرناطہ پر قبضہ کیا ۔ اسپین میں آخری مسلم امارت غرناطہ کے حکمران ابو عبداللہ نے اِن دونوں عیسائی حکمرانوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اور اس طرح اسپین میں صدیوں پر محیط مسلم اقتدار کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوگیا۔ معاہدے کے تحت مسلمانوں کو مکمل مذہبی آزادی کی یقین دہانی کرائی گئی لیکن عیسائی حکمران زیادہ عرصے اپنے وعدے پر قائم نہ رہے اور یہودیوں اور مسلمانوں کو اسپین سے بے دخل کردیا گیا۔

 ابو عبداللہ آئزابیلا اور فرڈیننڈ کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے

ابو عبداللہ آئزابیلا اور فرڈیننڈ کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے

کلیسا سے باقاعدہ حکم نامہ جاری کروانے کے بعد اِن دونوں کیتھولِک شہنشاہان(Reyes Catolics) نے سپین میں استرداد کی مہم شروع کی جو780 سال جاری رہی ۔مسلمانوں اور یہودیوں کو جبرا عیسائی بنایا گیا جنہوں نے اس سے انکار کیا انہیں جلاوطن کردیا گیا۔ جن پہ خفیہ اپنے مذہب پہ قائم رہنے کا الزام عائد کیا جاتا ، اُن کو گرفتار کرکے قید میں ڈال دیا جاتا، ٹارچر اور پوچھ گچھ ہوتی، بعض اوقات جلا دیا جاتا یا پھانسی لٹکا دیا جاتا ۔

Here is how his modern biographer, Clara Estow, sums up Pedro the Cruel:
He was raised at the age of sixteen to the most exalted post in the kingdom and, for the next twenty years, he did not enjoy more than a few moments of pleasure or peace. That many of his troubles were of his own design only makes his story more tragic than pathetic.

PETER, KING OF SPAIN
O Peter, noble, worthy pride of Spain
Whom Fortune held so high in majesty
Well should men of your piteous death complain
Out of your land your brother made you flee
And after, at a siege, by treachery
You were betrayed; he led you to his tent
And by his own hand slew you, so that he
Might then usurp your powers of government

Columbus before the Queen

Columbus before the Queen


Christopher Columbus enlisting the sympathetic interest of Isabella of Castile on behalf of his scheme for discovering the New World

Christopher Columbus enlisting the sympathetic interest of Isabella of Castile on behalf of his scheme for discovering the New World


Queen Isabella is said to have pawned her jewels to fund Columbus’s voyage to the Americas

Queen Isabella is said to have pawned her jewels to fund Columbus’s voyage to the Americas

The monk narrates of De Petro Rege de Cipro – 38

کینٹربری کہانیاں یوں جاری ہیں کہ تمام مسافر ، مونک کے المیہ تذکرے سُن رہے ہیں اور اب مونک بارہویں صدی کے اطالوی برنابو وِزکونٹی کی ہلاکت کے بعد ، سولہواں کردار متعارف کرواتا ہے۔

-پیٹر اوّل آف سائپرس:

1328-1369

Pierre_1er_de_Lusignan

جوکہ قبرص کا بادشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے والد کی، خود اپنی زندگی میں ہی، تخت سے دستبرداری کے بعد1358سے1369میں اپنی وفات تک یروشلم کا برائے نام فرمانروا بھی رہا۔

O worthy Peter, Cypriot king who fought
At Alexandria masterfully
And captured it, who many a heathen brought
To woe! Your lieges in their jealousy
For naught but envy of your chivalry
Have slain you in your sleep before the morrow
So Fortune’s wheel can govern what shall be
And out of gladness bring mankind to sorrow

یہ چودہویں صدی کا زمانہ تھا ۔ چونکہ قبرص اُس وقت ایسی ریاستوں کے گھیرے میں آگیا تھا جو مسلم حکومتوں کے ماتحت تھیں ، چنانچہ قبرص کو مشرقِ وسطٰی میں کلیسا کے نمائندہ کا درجہ دے دیا گیا تھا۔ پیٹر کو اپنی حکومت اور ریاست کی اہمیت کا بخوبی اندازہ تھا ۔ اور اسی ناطے اُسے خود پہ عائد ذمہ داریوں کا شدت سے احساس تھا۔ وہ مسلم حکومت سے مقبوضہ یروشلم واپس لینے کے لئے پُرعزم تھا۔

cyprus-location

اطراف کی مسلم ریاستیں قبرص کے لئے ایک خطرہ تھیں۔ مشرقِ قریب کی سرزمین پر1291میں آخری صلیبی جنگ اپنے انجام کو پہنچی تھی۔ عیسائی گڑھ ختم کردیا گیا تھا۔ اُس وقت ایک نئی اسلامی حکومت اُبھر کر سامنے آئی تھی اور اب . . . عثمانیوں کی آنکھ بازنطینی عیسائی سلطنت کے باقی ماندہ حصّے پر لگی ہوئی تھی جہاں سے شورش کا اندیشہ تھا۔

عثمانی حتمی اور بنیادی طور پر ایک زمینی حقیقت تھے چنانچہ لاطینی عیسائی وحدتوں کو اپنا وجود اور دفاع قائم رکھنے کے لئے سمندر ہی میسر تھا۔ قبرص کے بادشاہ کروسیڈنگ روایات کے وارث تھے تاہم پیٹر کا والد اِس معاملے میں بہت سُست ثابت ہوا تھا۔ اپنے والد کے برعکس پیٹر نے دوبارہ کروسیڈنگ روایت کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔ 1360میں ترک شہر اناطولیہ کے کنارے ایک قلعے “کوریکوس ” پر قبضے کے لئے ترکوں کے ساتھ معرکہ آرا رہا۔ قلعہ زیرِ نگین آگیا ۔ اپنے اہم محلِ وقوع کے سبب یہ قلعہ بہت سے حملہ آوروں کے ہاتھوں سے گزرتا ہوا آخرکار ترکوں کی ملکیت اور مسکن بنا۔

800px-Fortressarmenians5

پھر پیٹر یورپ کی طرف روانہ ہوا۔ یورپ اور روم کے سفر کے دوران اُس نے دیگر حکمرانوں کے سامنے ارضِ مقدسہ اور یروشلم کی فتح کا قصد ظاہر کیا اور اِس سلسلے میں اُن سے مدد کی درخواست کی۔ اُس نے انگلستان، جرمنی، فرانس، وینس، جینوا، پیراگوئے اور پولینڈ کا سفر کیا۔

پولینڈ اور پھر لندن میں تقریبات کے دوران ، رومن ایمپرر، ہنگری کے بادشاہ لوئی اول، ڈنمارک کے ولادی میر چہارم، ماسوریا کے سیموٹ، آسٹریا، پومیرینیا، باواریا اور رومن ڈیوکز سے اُس کی ملاقات ہوئی۔ لیکن اِن تمام ملاقاتوں میں اُس نے کسی سربراہ کو یورپ سے متعلق یا عیسائیت سے متعلق کروسیڈ میں شرکت کی دعوت نہیں دی۔

Feast held in London in honour of the King of Cyprus Pierre I Also present were the Kings of England, Scotland, France and Denmark

Feast held in London in honour of the King of Cyprus Pierre I Also present were the Kings of England, Scotland, France and Denmark

پیٹر، 11اکتوبر1365کو قبرصی اور مغربی قوّت کے ساتھ اسکندریہ کی طرف روانہ ہوا۔ یہ سفر کسی نتیجے کے بغیر ، . . واپسی پر ختم ہوا . . . ماسوائے یہ کہ قاہرہ کے سلطان سے اُس کے تعلقات خراب ہوگئے۔اور عیسائی تاجروں کو مصر اور شام کے تجارتی مراکز میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پوپ اربن پنجم نے اِس صورتِ حال کے پیشِ نظر پیٹر کو فوری طور پر سلطانِ مصر سے صلح کرنے کا کہا۔

The sword was made in Italy in the mid-14th century. Its first duty was diplomatic, as a gift to the Mamluk Sultan of Egypt al-Nasir Hasan from Peter I, By Peter’s time, Cyprus was the last Crusader state in existence.

The sword was made in Italy in the mid-14th century. Its first duty was diplomatic, as a gift to the Mamluk Sultan of Egypt al-Nasir Hasan from Peter I, By Peter’s time, Cyprus was the last Crusader state in existence.

پھر پیٹر نے بیروت پر حملے کا ارادہ کیا . . . لیکن وینس کی جانب سے اُسے معاوضے کے بدلے دمشق پر حملے سے روکا گیا۔ جنوری1366میں طرابلس پر چڑھ دوڑنا، ناکام رہا اور ایک بار پھر پوپ اربن پنجم نے اُسے مصر کے ساتھ امن مذاکرات میں شامل کیا۔

مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ تجارت سے قبرص نے بہت فائدہ اُٹھایا ۔ پیٹر کے وقت میں قبرص کا مشرقی ساحلی شہر “فاماگوستا” بحیئرہء روم کا امیر ترین شہر تھا جہاں آج بھی ترک عمارات نظر آتی ہیں ۔

Lala-Mustafa-Pasa-Mosque-Famagusta-Cyprus

Lala-Mustafa-Pasa-Mosque-Famagusta-Cyprus

مصر کے سلطان نے پیٹر کے طرابلس پر حملے کو صریحاََ بدنیتی سمجھا اور اُس کے ساتھ تجارتی تعلقات نہیں چاہتا تھا۔ سلطانِ مصر نے ایشیائے کوچک کے امراء کو دفاعی امداد دی تاکہ پیٹر کے خلاف کاروائی کی جاسکے۔ ۔ ۔ پیٹر کی، شام کے ساحل، طرابلس اور شامی شہر “لاذقیہ” پر جھڑپیں جاری رہیں اور سلطان سے تعلقات بگڑتے چلے گئے۔ پیٹر کے فوجی دستے دفاعی اخراجات کے لئے آمدنی تنگ ہونے پر بحیرہء روم کے کنارے اسلامی چھاؤنیوں پر چھاپے مارتے اور حاصل ہونے والے مال سے گزارا کرتے۔

The-Taking-of-Alexandria-by-Guillaume-de-Machaut-1372-1377

اِسی دوران قبرص میں اندرونی معاملات انتشار کا شکار ہوگئے، پیٹر اپنے مشیروں اور مصاحبوں کی طرف سے عدم اعتماد کا شکار ہوگیا۔ اور . . . 17جنوری1369کو اُسی کے تین نائٹز اور جرنیلوں نے اُسے اپنے ہی محل کی خوابگاہ میں قتل کردیا ۔

Assassinat of king peter 1 of cyprus

Assassinat of king peter 1 of cyprus

بےانتہا جرات کے باوجود ایک عبرتناک موت پیٹر کا مقدر بنی۔ پیٹر کئی غلط فیصلوں کے باوجود اپنے صلیبی عزم اور ارادے کی وجہ سے بہادری اور شجاعت والا سُورما مانا جاتا ہے۔

2012-03-06 07.40.37

The monk tells of De Barnabo de Lumbardi – 37

کینٹربری کہانیوں میں مونک اپنی کہانی سنارہا ہے اور چودہواں الم ناک انجام اُس نے “ہوگولینو آف پِیسا” کا سنایا جس نے آخری ایام گولانڈی مینار میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر گزارے اور مؤرخین کو اِس بات میں اختلاف ہے کہ آیا وہ مرتے دم آدم خوری کا مرتکب ہوا یا نہیں ۔ یہ سب مسافر کینٹربری کے بڑے کلیسا کی جانب مذہبی زیارت کی غرض سے روانہ ہوئے تھے اور راستے میں ایک دوسرے کو کہانیاں سنانے کا معاملہ طے پایا تھا۔ سب مسافروں نے اپنی اپنی باری پہ کہانی سنائی، یہ کہانیاں الگ الگ اصناف سے تعلق رکھتی ہیں اور جب مونک کی باری آئی تو اس نے ایک مکمل کہانی کی جگہ مشہور شخصیات کےعروج و زوال پہ مشتمل تذکرے سنائے جن کے انجام المیہ اور عبرت ناک تھے ۔ ان تذکروں کو پڑھنے کے دوران آج کا قاری تاریخِ بعید و قدیم کے کئی چہروں سے شناسا ہوتا ہے اور یہ ضرورسوچتا ہے کہ اِن سب واقعات میں کہیں کوئی اشارہ یا سبق پنہاں ہے ؟

مونک کی سولہویں روداد کے مطابق تیرہویں صدی میں سائپرس کا پیٹر اوّل استبداد اور اقتدار کے نشے کا شکار ہوکر بے بسی کی موت مرا۔ پیٹر اوّل کے دردناک قتل کے بعد اُس کا بیٹا پیٹر دوم تخت نشین ہوا ۔ پیٹر دوم نے روم کے علاقے میلان کے گورنر “بارنابو وِزکونٹی”کی بیٹی “ویلنٹینا” سے شادی کی۔

اگلی پندرہویں سوانح اِسی ” بارنابو وِزکونٹی” کی ہے ۔

وِزکونٹی خاندان نے چودہویں صدی سے پندرہویں صدی کے وسط تک، تقریباََ150سال میلان پر شاندار حکومت کی۔ آج کے میلان میں جابجا پُرشکوہ عمارات کی صورت میں اِس خاندانِ شاہی کے جاہ و جلال کی نشانیاں نظر آتی ہیں۔ بارنابو وِزکونٹی کی روداد کے سلسلے میں اِس خاندان کے پس منظر اور چند افراد کا کچھ تعارفی ذکر ضرور دلچسپی اور عبرت کا باعث ہوگا۔

Coat of arms of the House of Visconti, on the Arch-bishops' palace in Piazza Duomo, in Milan, Italy.

Coat of arms of the House of Visconti, on the Arch-bishops’ palace in Piazza Duomo, in Milan, Italy.

میلان کے وِزکونٹی خاندان نے ایک قوی الجثہ سانپ کے نشان کو اپنی علامت کے طور پر اپنایا ۔ اس سانپ کو اطالوی میں بِزکوائن کہا جاتا ہے ۔ اِس سانپ کا منہ کھلا ہے اور ایک “ساراکین” کو نِگل رہا ہے۔ ساراکین کا لفظ میڈیول زمانے میں اہلِ شرق، اہلِ اسلام یا عربوں کے لئے مستعمل تھا۔ غالب گمان ہے کہ . . . ساراکین یا ساراسین کا لفظ، عربی لفظ ‘شرقیّوں’ سے ماخوذ ہے۔ یہ علامت آج بھی میلان سے بخوبی منسوب ہے۔

420px-Coat_of_arms_of_the_House_of_Visconti_(1395).svg
600px-Alfa_Romeo.svg

-برنابو وِزکونٹی :

1323-1385

برنابو ایک اطالوی سپاہی تھا جو بعد میں میلان کا لارڈ اور گورنر بنا۔ میلان میں پیدا ہوا۔ 27 سال کی عمر میں ویرونا کے لارڈ کی بیٹی “بیٹرائس” سے شادی ہوئی جس سے دونوں شہروں میلان . . اور . . ویرونا میں سیاسی اور ثقافتی تعلقات بڑھے۔

Bernabò_e_Beatrice_Visconti

O Barnabo Visconti, Milan’s great
God of delight, scourge of Lombardy, why
Should not all your misfortunes I relate
Once you had climbed to an estate so high
Your brother’s son, in double sense ally
Your nephew and your son-in-law as well
Put you inside his prison, there to die
Though why or how I do not know to tell

-1354میں اپنے چچا جیوانی کی وفات پر میلان کا لارڈ بنا۔ اقتدار کو وسعت دینے کے جنون میں، بہت سی جنگی مہمات کے بعد ، ویرونا سمیت کئی مشرقی علاقوں پر قابض ہوگیا ۔ برنابو کے ساتھ اِن علاقوں کی حکمرانی میں اُس کے دو بھائی، ماتیو اور گلیاتزو بھی شریک تھے۔ ماتیو پر چالاکی کا شُبہ گزرا تو باقی دونوں نے1355میں اُس کے کھانے میں زہر ڈلوا کر اُسے مروادیا۔ اُس کی جاگیر کو برنابو اور گلیاتزو نے شرقاََ غرباََ آپس میں تقسیم کرلیا۔

Galeazzo II Visconti

Galeazzo II Visconti

کچھ عرصے بعد ، برنابو کے بھائی گلیاتزو کی صحت خراب ہونے لگی ، اور اُس نے اپنی زندگی پاویا کے شہر تک محدود کرلی جہاں ایک عالی شان قلعہ اُس نے خود بڑے اہتمام سے تعمیر کروایا تھا۔ گلیاتزو نے ریاست کے مجرموں کو “پہیے پر پھانسی” دینے کی وجہ سے بہت بدنامی کمائی۔ پہیہ ، پُر اذیّت سزائے موت دینے کا ایک آلہ تھا جس میں ریاستی یا سرکاری مجرموں کو نوکدار کیلوں والے ایک بڑے چوبی پہیے سے باندھ کر لوہے یا لکڑی کے لَٹھ سے مارا جاتا جس سے اُن کی ہڈیاں ٹوٹ جاتیں۔ ایک دن ہولناک تعذیب اور تشدد ہوتا اور ایک دن چھوڑ دیا جاتا ۔ چالیس دن تک جاری رہنے والی اِس سزا کے لئے کلیسائی اصطلاح ‘قارسیما’ استعمال کی جاتی تھی جس کے معنی چالیس دن کا عمل یا چِلّہ ہے۔ یہ پہیہ اُنیسویں صدی تک جرمنی میں مستعمل تھا۔

Cartoucheroué
a96697_a458_st-catherine

برنابو ایک ظالمانہ ، بےرحم حکمران اور چرچ کا سفّاک دشمن تھا۔ اطراف کی ریاستوں سے مستقل جھڑپیں جاری رکھنے پر1364میں ایک امن معاہدے کے تحت برنابو پر5لاکھ اطالوی سکوں کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ اس کے بعد بھی اُس نے متعدد بار اپنے اطراف کے شہروں پر چڑھائی کی۔ جب اُس نے پوپ کے شہر بولوگنا پر قبضہ کیا تو پوپ اربن پنجم نے اِس کی اتھارٹی مسترد کردیا ۔ برنابو کئی بار پوپ کے خلاف محاذ آرا ہوا لیکن ہر بار پوپ اور کلیسا کے وفادار فوجیوں کے ہاتھوں منہ کی کھانا پڑی۔

Visconti,_Barnabò

اِن حرکتوں کی وجہ سے1373میں برنابو اور گلیاتزو پر دین سے خارج ہونے کا تکفیری حکم اور قطع تعلق کا فرمان جاری کردیا گیا۔ کلیسائی جائیداد ضبط کرلی گئی۔ لین دین اور معاشرتی تعلقات سے منع کردیا گیا۔ بارنابو کو لادین قرار دے کر اُس کے خلاف کروسیڈ کو جائز قرار دیا گیا۔

برنابو نے . . . . پوپ کا فرمان لانے والے دو قاصدوں یا مندوبین کو حراست میں رکھا اور انھیں مجبور کیا کہ وہ . . . چمڑے کا فرمان، اُس پر لگی مہر اور ریشمی ڈوری ، جس سے فرمان باندھا گیا تھا، کھائیں۔

quill and parchment

-1378 میں ایک طرف گلیاتزو کی موت واقع ہوئی اور دوسری طرف میلان میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی لیکن ایسے میں بھی برنابو کی شورشیں جاری رہیں اور اُس نے کلیسا کے خلاف مزاحمت جاری رکھی۔ اُس وقت تک برنابو کی خود سر مطلق العنانیت اور بے تحاشا ٹیکسوں نے میلان کے عوام کو مشتعل کردیا تھا۔ ظلم آخری حد پہ پہنچ چکا تھا اور اقتدار کی سرمستی سر چڑھ کر بول رہی تھی۔ ازل کے فیصلوں میں ایسی بدمستی کے بعد زوال کا وقت طے ہے۔

402px-Josse_Lieferinxe_-_Saint_Sebastian_Interceding_for_the_Plague_Stricken_-_Walters_371995

آخرکار1385میں بارنابو کے بھتیجے، گیان گلیاتزو وِزکونٹی نے اُسے معزول کردیا اور اپنے لارڈ ہونے کا اعلان کردیا ۔ گیان نے اپنے چچا برنابو کو اطالوی صوبے لومبارڈی، کے ضلع میلان کے علاقے ٹریزو میں واقع، طاقتور وزکونٹی خاندان کی ملکیت ایک بہت بڑے اور مضبوط قلعے میں قید کروادیا۔ قسمت کی ستم ظریفی دیکھیئے . . . کہ بارنابو اپنے دورِ حکومت میں خود ٹریزو کے اس قلعے کا مختارِ کُل رہا تھا اور اِس قلعے کی تعمیر اور آرائش پر خصوصی توجہ دی تھی۔

2013-09-07-15-39-23

اِس قلعے میں برنابو آخری سانس تک قید رہا ۔ کہا جاتا ہے کہ اُسی سال کے آخر میں اُسے بھتیجے کے حکم پر زہر دے کر مار دیا گیا تھا۔ جبر و استبداد اور طاقت کے گھمنڈ کے بعد قلعے کی خاموش اور کرخت دیواروں کے درمیان بےبسی کی موت نے برنابو کو اپنی آغوش میں لے لیا ۔

برنابو وزکونٹی کی سترہ اولادیں ہوئیں جن میں سے سات بیٹیاں تھیں۔ ایک بیٹی “ویلنٹینا” کی شادی پیٹر دوم آف سائپرس سے ہوئی ۔ جبکہ ایک بیٹی “کترینا وزکونٹی” نے اپنے چچا کے بیٹے “گیان گلیاتزو وزکونٹی” سے شادی کی اور ڈچس آف میلان کہلائی۔ اُس کے دو بیٹوں گیان اور فلپّو میں سے تخت و تاج فلپّو کے نصیب میں آیا اور وزکونٹی خاندانِ عالیہ کی روایت قائم رہی۔ البتہ فلپّو، وِزکونٹی خاندان کے آخری مرد کی حیثیت سے1447میں اِس دنیا سے رخصت ہوا۔ اُس کی واحد طبعی اولاد، اُس کی بیٹی “بیانکا ماریا ” تھی جو ایک کنیز کے بطن سے تھی۔ یوں میلان کا تخت ، جس کی خاطر زمین کئی بار وزکونٹی خون سے رنگی گئی، وِزکونٹی خاندان سے سفورزا خاندان کو منتقل ہوگیا۔ میلان کا اقتدار، فلپّو کی بیٹی کے ذریعے اُس کے داماد فرانسسکو سفورزا اوّل کے نصیب میں آیا جو ایک اطالوی سُورما کی سات غیر قانونی اولادوں میں سے ایک تھا۔

Bianca_Maria_Visconti_and_Francesco_I_Sforza

Bianca_Maria_Visconti_and_Francesco_I_Sforza

بارنابو وِزکونٹی کی اپنی تیرہ غیر قانونی اولادیں تھیں جن کو1384کی ایک تقریب میں قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔

برنابو کے بعد اُس کا بھتیجا گیان گلیاتزو وِزکونٹی میلان کی حکومت کو بامِ عروج پر لے گیا۔ وہ میلان کا پہلا ڈیوک اور “سی نی یور” کہلایا ۔ بہت سی تعمیرات اور اصلاحی کام کروائے۔

Gian Galeazzo Visconti

Gian Galeazzo Visconti

میلان کا مشہور گرجا گھر / دوعومو دی میلانو/ Duomo di Milano
اٹلی کے شہر میلان میں واقع ہے اور میلان کے آرک بشپ کی نشست ہے۔ گیان گلیاتزو نے اس گرجا گھر کی تعمیر میں خصوصی دلچسپی لی، مشہور معمار متعین کئے ۔ لگ بھگ ڈیڑھ سو میٹر بلند گرجا گھر کیتھولک عیسائی طرز عبادت کی روایات، غیر معمولی ورثہ اور شاندار گوتھک طرز تعمیر کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ چودھویں صدی عیسوی سے انیسویں صدی عیسوی تک تعمیر ہونے والے اس گرجا گھر کا شمار دنیا کے بڑے ترین گرجا گھروں میں ہوتا ہے۔

Duomo Di Milano

Duomo Di Milano


OLYMPUS DIGITAL CAMERA

پاویا کا “وزکونٹی قلعہ” بھی ایک نشانِ عبرت ہے جسے برنابو کے بھائی گلیاتزو نے تعمیر کروایا اور وہیں قیام پذیر رہا۔ بعد ازاں گیان گلیاتزو نے اِس سے ملحقہ ایک چارٹر ہاؤس بنوایا ۔ چارٹر ہاؤس سے مراد مختلف عمارات پہ مشتمل ایسا کمپلیکس ہے جس میں گرجا گھر، خانقاہیں، راہبوں کے حجرے، مزار اور مقبرے، میوزیم، لائبریری، رہائشی محلات اور دربار شامل ہوں۔ چارٹر ہاؤس کی عمارات پہلے پہل کلیسائی اثر کے تحت سادہ بنائی جاتی تھیں مگر بعد ازاں رینے سانس نے جدّت کی راہیں کھولیں اور کلیسا ئی گرفت کمزور پڑنے لگی ۔

پاویا کا وزکونٹی قلعہ

پاویا کا وزکونٹی قلعہ


800px-Lombardia_Pavia2_tango7174
pavese-certosa-chiostro_piccolo_or-foto_U.Barcella
800px-PathToTheCertosaDiPavia
pavese-certosa-chiostro_grande-foto_U.Barcella
Pavese-Certosa_di_Pavia_(PV)-int

رینے سانس کے زیرِ اثر اِن عمارات اور اِس چارٹر ہاؤس کے لئے نامور مصوّر اور معمار متعین کئے جاتے جو غمِ روزگار سے بےگانہ ہوکر لازوال شہ پارے تخلیق کرتے۔ رینے سانس یا نشاۃ الثانیہ کا بہت سا تخلیقی کام اسی طرح وجود میں آیا ۔ پاویا کے چارٹر ہاؤس میں ، جہاں وزکونٹی خاندان کے مقبروں پر مشتمل شہرِ خاموشاں اِس دنیا کی بے ثباتی کی داستان ہے ، وہیں سو سے زائد مصوّروں کے بےمثل شہ پارے آویزاں ہیں جو رینے سانس آرٹ میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ یہیں لیونارڈو ڈونچی کی پُراسرار مسکراہٹ والی “مونا لیزا ” بھی آرٹ کے قدردانوں میں گھِری نظر آتی ہے۔

800px-MonaLisaShield

آج کے میلان میں جابجا وِزکونٹی خاندان کے پُرشکوہ محلات اور مضبوط، بلند و بالا قلعے دیکھنے والوں کی دلچسپی کا باعث ہیں۔ اِن میں ٹریزو کا قلعہ سرِ فہرست ہے۔ دو جانب سے دریا میں گھِرا ، یہ وہی قلعہ ہے جہاں برنابو نے قید میں آخری لمحات گزارے اور پھر زہر خورانی سے ہلاک ہوا۔ ایک شاندار زندگی کے بعد زوال آیا اور پھر بے بسی کی موت اُس کا مقدر ہوئی۔ بس اقتدار کو جانے والا راستہ ایسا ہی مشکل ہوتا ہے جہاں چلنے والے بڑے بڑے پھسل جاتے ہیں اور بدنام ہوکر اگلے جہان سِدھارتے ہیں۔ میلان کے سفورزا قلعے میں برنابو کا ایک مجسمہ بھی عبرتِ عالم بنا کھڑا ہے۔

Castello de trezzo

Castello de trezzo


Trezzocentraletaccani-Centrale Taccani Trezzo d'Adda
Castello_Sforzesco

Castello_Sforzesco


Monument to Bernabò Visconti (1323-1385). The monument comes from the now demolished church of San Giovanni in Conca (whose ruins s

The monk regrets De Hugelino comite de Pize -36

کینٹربری کہانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ موسمِ بہار کی آمد کے ساتھ ہی، لندن کے مضافات سے اُنتیس مسافروں کا ایک قافلہ ، کینٹربری کے بڑے کلیسا کی جانب عازمِ سفر ہے۔ چودہویں صدی میں سفر کچھ ایسے آسان نہ تھے، چنانچہ سفر کی صعوبتوں سے توجہ ہٹانے اور جی کو بہلانے کے لئے زائرین نے دورانِ سفر،آپس میں کہانیاں سنانے کا مقابلہ طے کیا۔ سولہ مسافروں کے بعد جب مونک کی باری آئی تو مونک نے ایک مکمل کہانی نہیں سنائی بلکہ بہت سی مشہور شخصیات کی شاندار زندگی اور بالآخر عبرت انجام پر مبنی حالات سنائے۔ ان شخصیات میں سے چند ایک دیومالائی کردار تھے اور کچھ قبل مسیح کے تاریخی مشاہیر، اور اب وہ بارہویں صدی کے ایک کردار کا ذکر کررہا ہے جو کہ بدترین انجام سے دوچار ہوا۔

مونک کی المیہ روداد آگے بڑھتی ہے اور مونک اب گیارہویں شخص کے حالِ زندگی اور بدترین موت کا ماجرا سناتا ہے۔

– اوگولینو/ہوگولینو آف پِیسا:

Conte-Ugolino-Pisa-Dante-Stampa-antica-1700

(1220 – 1289)

اطالوی ٹھاکر یا نواب، منصب دار ، سیاستدان اور نیوی کمانڈر تھا۔ متعدد بار غداری کا مرتکب ٹھہرا، الزامات عائد ہوئے ، مقدمات چلائے گئے ، جیل ہوئی ، اور سزائے موت پائی ۔ اطالوی شاعر دانتے نے ڈیوائن کامیڈی میں اِس کردار کے بارے میں خاصی تفصیل سے لکھا ہے اور اس کے عبرت ناک انجام کا نقشہ کھینچا ہے۔ جن مصوروں نے ڈیوائن کامیڈی کو کینوس پہ رنگوں کی مدد سے پیش کیاِ، انہوں نے ہوگولینو کو بھی اپنے تخیّل کے زور پر دِکھایا۔ مجسمہ سازوں نے اپنے تئیں ہوگولینو کے انجام سے انصاف کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے ۔

tumblr_mcs4apVVeI1rufr77o8_500
tumblr_lppulmmjBY1qggdq1

Of Ugolino, Count of Pisa’s woe
No tongue can tell the half for hot pity
Near Pisa stands a tower, and it was so
That to be there imprisoned doomed was he
While with him were his little children three
The eldest child was scarce five years of age
Alas, Fortune! It was great cruelty
To lock such birds into such a cage

MetaArchibishop of Pisa, accuses Ugolino of treachery and orders him, his sons, his grandsons thrown into prison, where they are abandoned, the key thrown into the river.
Count Ugolino della Gherardesca and his sons left to starve in the Muda
Ugolino

پیسا . . .آج بھی اپنے مشہور ٹیڑھے مینار کی وجہ سے تمام عالم کی دلچسپی کا محور ہے اور ہر سال سیاحوں کی ایک بڑی تعداد اس مینار کو دیکھنے آتی ہے۔ سائنسدانوں نے ہر ممکن سعی کرلی کہ اس مینار کے جھکاؤ کا سبب معلوم کرسکیں مگر یہ راز کبھی کسی پہ نہ کھُلا ۔ مشہور ریاضی دان اور ماہرِ فلکیات، گیلیلیو کا شہر بھی پِیسا ہی تھا۔ کم ہی لوگ جانتے یا سوچتے ہوں گے کہ اسی شہر میں بدبخت ہوگولینو بھی کبھی تخت و تاج پہ متمکن تھا جو ایک کرب ناک موت سے ہم آغوش ہوا۔

Pisa-Italia
Gallileo on the tower of Pisa

تیرہویں صدی کے اٹلی میں ، پِیسا کا علاقہ ، دو نمایاں گروہوں ، گولیفر اور گھیبلن کے مابین بٹا ہوا تھا ۔ اقتدار اور حکم کی رسّہ کشی ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک عرصے سے جاری تھی۔ اوگولینو کا تعلق ، گھیبلن والوں سے تھا۔

-1271 میں اوگولینو کی بہن کی شادی نسبتاََ زیادہ مستحکم ، وِزکونٹی خاندان میں ہوئی جو کہ مخالف گروہ گولیفر کے حلیف تھے ۔ اوگولینو نے اپنی وفاداریاں مخالف گروہ سے وابستہ کرلیں جس پر اُس کے حامیوں میں اُس کے خلاف شکوک و شبہات پیدا ہوگئے۔

-1274 میں اوگولینو کو اپنے بہنوئی جیوانی کے ہمراہ گرفتار کرلیا گیا اور اُن پر گولیفرز کے ساتھ مِل کر پِیسا کی حکومت کے خلاف سازشوں کا الزام عائد کیا گیا۔ اوگولینو کو جیل کی سزا ہوئی اور جیوانی کو شہر بدر کر دیا گیا۔ جیوانی کچھ ہی دنوں بعد چل بسا ۔ تو گویا جس کے سبب اوگولینو پر شک تھا، وہ سبب ختم ہوجانے پر ، اُسے آزاد کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد اوگولینو نے دشمن گولیفرز کے ساتھ مِل کر اپنے آبائی شہر پِیسا پر حملہ کیا اور دشمن کے تمام قیدی آزاد کروا لئے۔

fight  between the militias of the Guelf and Ghibelline factions in the Italian commune of Bologna

fight between the militias of the Guelf and Ghibelline factions in the Italian commune of Bologna

-1284 میں پِیسا اور جنواGenoa میں جنگ چھڑ گئی۔ اوگولینو ، پِیسا کا نیوی کمانڈر تھا ۔ پِیسا کے بحری جنگی بیڑے میں شامل جہازوں اور سپاہیوں کو خاطر خواہ نقصان پہنچا اور . . . .پھر ایک بدترین مانوس منظر . . . کہ اوگولینو اور اُس کی ڈویژن نے دشمن کے سامنے ہتھیار ڈال کر . . اپنی شکست تسلیم کر لی۔ بعد ازاں اُس کے اِس اقدام کو صریحاََ غداری، ملّی بھگت اور وطن دشمنی کا نام دیا گیا ۔ جس کی پاداش میں اُس پر سنگین فردِ جرم عائد کی گئی ۔

ِپیسا کے دشمن، جنوا کی طرف سے ، قبضے کے بعد غدارِ وطن اوگولینو کو ، پِیسا کا حاکم مقرر کیا گیا۔ اوگولینو نے جنوا اور پِیسا کے مابین قیامِ امن کی ہر کوشش کو ناکام بنایا ، امن کی ہر پیشکش میں رکاوٹ ڈالی کیونکہ امن کی صورت میں ، اُس کے اپنے بھائی بندے اُسے غدار قرار دیتے اور اُس کی حاکمیت خطرے میں پڑ جاتی۔ چنانچہ وہ دشمن کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے ، اپنی ہی مادرِ وطن پر ، دشمن کا نمائندہ بن کر حکومت کے مزے لیتا رہا۔

-1287 میں اوگولینو کا ، اپنے بھانجے سے جھگڑا ہوگیا اور اُس کا بھانجا مخالف گروہ گھیبلن سے جا ملا۔ اِس حرکت کے جواب میں اوگولینو نے گھیبلنز کے سرکردہ گھرانوں کو پِیسا شہر سے نکال باہر کیا اور اُن کے محلات تباہ کر دیئے ۔

-1288- جنوا سے امن مذاکرات نہ ہونے کی وجہ سے ، پِیسا کی معیشت پر بہت بُرا اثر پڑا۔ کاروبار تباہ ہوگئے۔ افراطِ زر بے انتہا بڑھ گئی۔ خوراک کی قلت ہوگئی اور جرائم بڑھ گئے۔ لوگوں میں بےچینی اور تشویش پھیل گئی۔ عوامی مظاہرے اور باغیانہ تحریکیں عام ہونے لگی۔

ایک عوامی مظاہرے کے دوران ، اوگولینو نے آرچ بشپ کے بھتیجے کو قتل کر دیا جس سے عوام مشتعل ہوگئے ۔ گھیبلن کی سربراہی میں ایک مسلح گروہ نے اوگولینو کا تعاقب کیا۔ اوگولینو ٹاؤن ہال میں مورچہ بند ہوگیا ۔ بپھرے عوام نے ٹاؤن ہال کو آگ لگا دی اور اوگولینو کو ہار ماننی پڑی۔ وہ گرفتار ہوگیا۔

مختلف الزامات اور غداری کے مقدمات کے بعد، اوگولینو کو اُس کے دو بیٹوں، اور دو پوتوں کے ساتھ ، گولانڈی مینار میں قید کردیا گیا۔ گولانڈی مینار آج بھی موجود ہے اور ایک عمارت کی تعمیر میں شامل کرلیا گیا ہے۔

The Torre dei Gualandi

The Torre dei Gualandi


Conte_Ugolino_torre_della_fame_gualandi_pisa

The clock tower connects two Medieval towers, one of which is part of an infamous historic event. In the 1200s, prominent Pisan citizen Count Ugolino was involved in political intrigue which resulted in his arrest. He and his family were supposedly locked up in the Torre dei Gualandi and left to starve. Legend has it that the Count went mad and consumed his granddaughter. The episode is featured in Dante’s Inferno and is the reason the tower is more commonly known as Torre dei Fame, or Tower of Hunger

Arno_River_in_Pisa

Arno_River_in_Pisa

-1289میں آرچ بشپ کے حکم پر مینار کی چابیاں ، آرنو دریا میں پھینک دی گئیں ۔ جو اس بات کی دلالت تھی کہ اب اوگولینو کو تا دمِ مرگ اسی مینار میں تڑپنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس کے بعد اوگولینو کا حال کسی کو معلوم نہیں کہ مینار کے اندر کیا ہوا۔ البتہ تاریخی محققین ، مصوروں اور شاعروں نے اپنا اپنا دماغ لڑایا اور اپنے اپنے اندازے پیش کئے کہ آخری ایّام میں اوگولینو اور اُس کے بیٹوں اور پوتوں کے مابین کیا ہوا ہوگا۔ بھوک، پیاس اور قیدِ تنہائی کے ہاتھوں تڑپ تڑپ کر جان دیتے ہوئے ، مینار کے اندر آخری مناظر کیا ہوں گے؟ بیٹوں نے باپ کو کیا پیشکش کی ہوگی، میرے قلم میں وہ الفاظ لکھنے کی سکت نہیں، چنانچہ دانتے کے اشعار اور مندرجہ ذیل اقتباس پیش ہے۔

اطالوی شاعر دانتےؔ(1205-1321)نے اپنی نظم “انفرنو” بمعنی ‘جحیم’ میں، اوگولینو کو جہنم کے اُس حصے میں دکھایا ہے جہاں اپنے وطن ، نسل اور قبیلے کے غداروں کو دردناک سزا دی جارہی ہے۔

69ugolino

دانتےؔ ہی نے ایک تمثیلی نظم “ڈیوائن کامیڈی” میں اوگولینو اور اُس کے بیٹوں کا مکالمہ لکھا ہے جو اُن کے مابین مرنے سے پہلے ہوا۔

‘Father our pain’, they said,
‘Will lessen if you eat us you are the one
Who clothed us with this wretched flesh: we plead
For you to be the one who strips it away’.
(Canto XXXIII, ln. 56–59)

… And I,
Already going blind, groped over my brood
Calling to them, though I had watched them die,
For two long days. And then the hunger had more
Power than even sorrow over me
(Canto XXXIII, ln. 70-73)

Ugolino’s statement that hunger proved stronger than grief, has been interpreted in two ways, either that Ugolino devoured his offspring’s corpses after being driven mad with hunger, or that starvation killed him after he had failed to die of grief

Ugolino and his sons
Inferno_Canto_33,_Gustave_Dorè_2
Inferno_Canto_33,_Gustave_Dorè

Scientific analysis of the remains

In 2002, paleoanthropologist Francesco Mallegni conducted DNA testing on the recently excavated bodies of the Ugolino and his children. His analysis agrees with the remains being a father, his sons and his grandsons. Additional comparison to DNA from modern day members of the Gherardesca family leave Mallegni about 98 percent sure that he has identified the remains correctly. However, the Forensic analysis discredits the allegation of cannibalism. Analysis of the rib bones of the Ugolino skeleton reveals traces of magnesium, but no zinc, implying he had consumed no meat in the months before his death. Ugolino also had few remaining teeth and is believed to have been in his 70s when he was imprisoned, making it further unlikely that he could have outlived and eaten his descendants in captivity. Additionally, Mallegni notes that the putative Ugolino skull was damaged; perhaps he did not ultimately die of starvation, although malnourishment is evident

Blake_Hell_33_Ugolino

Ugolino and his sons in their cell, as painted by William Blake circa 1826. Ugolino della Gherardesca was an Italian nobleman who, together with his sons Gaddo and Uguccione and his grandsons Nino and Anselmuccio were detained in the Muda, in March 1289. The keys were thrown into the Arno river and the prisoners left to starve. According to Dante, the prisoners were slowly starved to death and before dying Ugolino’s children begged him to eat their bodies

452px-Ugolino

The monk tells of Nero – 35

چودہویں صدی کے مشہور انگریز شاعر جیفری چاوسر کی کئی جلدوں پر مشتمل نظم کینٹربری کہانیاں، آج بھی انگریزی پڑھنے والوں کے لئے ایک خاص کشش رکھتی ہے۔ تقریباََ دنیا کی سبھی یونیورسٹیوں کے انگریزی نصاب میں یہ نظم یا اس کے کچھ حصے شامل کئے جاتے ہیں۔ اس نظم کے تمام کردار اپنی اپنی جگہ منفرد ہیں ۔ اس نظم کے مطابق لگ بھگ انتیس مسافروں نے اکٹھے کینٹربری کے بڑے کیتھیڈرل کے لئے سفر کا ارادہ کیا ۔

چاوسر کے زائرین کا سفر کینٹربری کی جانب رواں دواں ہے اور اب باری ہے مونک کی . . . کہ وہ سفر کے آغاز میں طےکردہ اصول کے مطابق اپنی کہانی سُنائے لیکن مونک نے ایک باقاعدہ کہانی کی بجائے سترہ ایسی شخصیات کا احوال سنایا جو سطوت اور سلطنت کے عروج پہ تھیں اور پھر اپنے کسی عمل کی پاداش میں اُن پہ زوال آیا اور اُن کا دردناک انجام ہوا۔

رومی جولیئس سیزر کی عبرت ناک موت کے بعد تیرہواں نام “نیرو” کا ہے۔

-12-نیرو:

37-68عیسوی

NERO

NERO

نیرو ، سلطنتِ روم کا پانچواں اور آخری سیزر تھا۔ جی ہاں . . .بالکل بانسری والا نیرو۔ اِس کا پورا نام ” نیرو کلاڈئیس سیزر آگسٹس ” تھا اور نیرو کے ساتھ ہی جولیو کلاڈئیس ڈائے نیسٹی یا خاندان ِ شاہی کا عہد اختتام پذیر ہوا۔

-37 عیسوی میں پیدا ہوا ۔54سے68تک روم کے سیاہ و سفید کا مالک رہا ۔ مؤرخ فیصلہ نہیں کرپائے کہ اُس کے سیاہ کارنامے زیادہ ہیں یا سفید۔ نیرو ظلم، جنونی سفاکی اور بے حسی میں شہرت رکھتا تھا۔ نیرو کے عہد کا ایک مؤرخ زیادہ مستند مانا جاتا ہے جس کا نام “ٹیسی ٹس” Tacitus تھا ۔آج نیرو کے بارے میں حاصل کردہ بیشتر معلومات کا مصدر یہی مؤرخ ہے۔

نیرو اپنے چچا کے قتل کے بعد تخت نشین ہوا۔ نیرو کو اُس کے چچا کلاڈئیس نے گود لیا ہوا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ کلاڈئیس کو نیرو کی ماں “اگرِپنا” نے قتل کروایا تھا ۔ اگرِپنا نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد کلاڈئیس سے اسی مقصد کے تحت شادی کرلی تھی۔ نیرو کی ماں چاہتی تھی کہ کلاڈئیس کے اپنے طبعی بیٹے ” بریٹا نیکا س” کے جگہ نیرو بادشاہ بنے۔

نیرو شروع سے ہی منہ زور اور جنونی تھا ۔ اقتدار نے اِس فطرت کو ہوا دی اور اُس نے اپنی ماں اگرِپنا، دو بیویوں اوکتاویا اور پوپیا سبینا . . . اور اپنے محسن چچا کلاڈئیس کے بیٹے بریٹانیکا سBritannicus کو قتل کروایا۔ نیرو نے پہلی بیوی اوکتاویا کو قتل کروایا اور اُس کے بعد پوپیا سبینا کے شوہر کو مروا کر اُس سے شادی کی۔ نیرو کی ماں نے اِس اقدام کو اُس کی بادشاہت کے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے مخالفت کی تو نیرو نے ماں کو ایک کشتی میں ڈبو کر مارنے کا پلان بنایا ۔ کشتی ڈوبی تو اگرِپنا تیر کر جان بچانے میں کامیاب ہوگئی۔ چار ناکام قاتلانہ حملوں کے بعد نیرو نے اپنے جلادوں سے ماں پر حملہ کروایا ۔ کئی وقائع نگاروں کے مطابق نیرو خود بھی ماں کو قتل کرنے والوں میں شامل تھا۔ اگرِپنا نے مرنے سے پہلے بیٹے پر لعنت بھیجی ، بد دعا مانگی اور آخری الفاظ تھے کہ ‘میری کوکھ پر ضرب لگاؤ جہاں سے ایسے بدبخت بیٹے نے جنم لیا’۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ الفاظ نیرو سے ہی مخاطب ہو کر اگرِپنا نے کہے جس نے ایسا ہی کیا ۔

Smite my womb

Agrippina crowns her son Nero

Agrippina crowns her son Nero

Though Nero was as vile and villainous
With rubies, sapphires, pearls of purest white
Were all his clothes embroidered; one could tell
In precious stones he took a great delight

He had Rome burnt for his delight, a whim
And senators he ordered slain one day
That he might hear the cries that came from them

He slew his brother, by his sister lay
And mangled his own mother–that’s to say
He slit his mother’s womb that he might see
Where he had been conceived. O well away
That he held her no worthier to be

Not one tear from his eye fell at the sight
He simply said, “A woman fair was she
The wonder is how Nero could or might
Be any judge of her late beauty.

Then ordered wine be brought, which instantly
He drank–he gave no other sign of woe
When power has been joined to cruelty
Alas, how deeply will the venom flow

-65میں نیرو کی دل پسند بیوی “پوپیا سبینا” مرگئی۔ 66کےآغاز میں اُس نے “میسیلینا” سے شادی کرلی اور اُس سے اگلے سال اُس نے ایک لڑکے “سپورس” سے بیاہ رچالیا۔ نیرو نے سپورس کا مخصوص آپریشن کروا کر اُس کو اپنے حرم میں شامل کیا ۔ شاہی اور عوامی تقریبات میں سپورس ملکہ کا مخصوص شاہی لباس پہنا کرتا اور اُسے ‘ایمپرس’ اور ‘لیڈی’ جیسے شاہی القابات سے پکارا جاتا ۔ مؤرخین کے ہاں اِس بارے میں متضاد آراء ملتی ہیں کہ نیرو کے حرم میں سپورس سے پہلے بھی ایک مرد شامل تھا۔ کچھ اُسے دیگر غیر فطری حرکتوں اور محرّمات کی ہتک کا عادی بتاتے ہیں۔ایک تاریخ دان کے مطابق نیرو نے اپنی محبوب بیوی پوپیا کو اُمید کی حالت میں دھکّا دے دیا تھا جو کہ جان لیوا ثابت ہوا، اِسی غم میں نیرو دیوانہ ہوگیا تھا ۔ ایک اور ذریعے کے مطابق سپورس اور پوپیا سبینا میں بہت زیادہ مشابہت تھی جو سپورس کو حرم میں شامل کرنے کی وجہ بنی اور نیرو . . . سپورس کو پوپیا کہہ کر پکارا کرتا ۔

نیرو کا اتالیق ، روم کا مشہور فلسفی “سینکا” نیرو کو اُس کے غلط کاموں پر ٹوکتا رہتا تھا ۔ اِسی بات پہ طیش کھا کر نیرو نے اُسے بھی مروادیا تھا۔

This Nero had a master in his youth
To teach to him the arts and courtesy
This master being the flower of moral truth
In his own time, if books speak truthfully

And while this master held authority
So wise he made him in both word and thought
That it would be much time ere tyranny
Or any vice against him would be brought

This master Seneca of whom I’ve spoken
To Nero had become a cause of dread,
Chastising him for every good rule broken
By word, not deed. As he discreetly said

“An emperor, sir, must always be well bred
Of virtue, hating tyranny.” Defied
He wound up in a bath where he was bled
From both his arms, and that’s the way he died

روم کی بدترین آگ کا دن19جولائی64 عیسوی بتایا جاتا ہے۔ روم شہر کی خوفناک آگ پانچ روز تک بھڑکتی رہی۔ 14میں سے 3اضلاع مکمل طور پر خاکستر ہوگئے۔ اِس آگ کے اسباب میں بھی دو تین مختلف آراء ملتی ہیں۔ کچھ مؤرخ اِسے حادثاتی ، کچھ مسیحیوں کی لگائی ہوئی اور کچھ اِسے خود نیرو کے حکم پر لگائی گئی، بتاتے ہیں۔

799px-Jan_Styka_-_Nero_at_Baiae

زیادہ تر یہی بات کہی جاتی ہے کہ نیرو نے روم کو خود آگ لگوائی تھی تاکہ وہاں وہ مہنگے ترین جواہرات سے مزین اپنا عالی شان محل تعمیر کرسکے۔300ایکڑ رقبے پر بنے اِس شاندار عمارت کا نام (Domus Aurea)تھا جو لاطینی الفاظ پر مشتمل ہے اور اِس کا مطلب ہے “سنہری مکان” “دی گولڈن ہاؤس” ۔ اِس محل کے اصل مقام کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں مگر اِس محل کے نشان اپنے مکین کی طرح ، صفحہءہستی سے مِٹ چکے ہیں۔

entrance Roma, la Domus Aurea, ingresso
e2133 Domus aurea print1

آج “ڈومس آوریا” کی اصطلاح، امارت ، بیش قیمت اور پُر تعیّش کے معانی میں، مارکیٹنگ اور کمرشل مقاصد کے لئے استعمال ہوتی ہے جس میں لگژری ہوٹلوں سے لے کر مہنگی ترین خمر کے اشتہارات شامل ہیں۔

domus-1

عام طور پر یہی مشہور ہے کہ جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا۔ یہ بھی کہا گیا کہ وہ ہومر کی نظم بھی گا رہا تھا جس میں شہر ٹرائے کی تعریف بیان کی گئی ہے۔ تاریخی اعتبار سے اُس وقت روم میں بانسری کا وجود نہیں تھا چنانچہ عین ممکن ہے کہ وہ “بربط ” بجا رہا ہو۔ انگریزی محاورے میں “فِڈل” کا لفظ استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب سارنگی، ایک تارہ یا وائلن جیسا ساز ہے۔ روم کے جلنے کے دوران نیرو کے بربط بجانے میں کتنی سچائی ہوگی، اِس بات سے قطع نظر، نیرو کے ساز بجانے کا منظر بہت سے مصوّروں کے لئے دلچسپی کا باعث رہا اور انھوں نے کینوس پر اپنے اپنے تخیل کے مطابق اِسے پیش کیا۔

412px-Mousai_Helikon_Staatliche_Antikensammlungen_Schoen80_n1
article-2194564-14B7B2B2000005DC-591_624x392

Nero fiddles by Leviathansmiles

Nero fiddles by Leviathansmiles


nero-jpg-749636-757794

To ‘fiddle while Rome burns‘ refers to the belief that the infamous Emperor Nero played the lyre (there were no fiddles yet) while Rome was burning. Idiomatically it means someone is doing nothing about a serious problem

مؤرخ ٹیسی ٹس ایک مختلف روایت بتاتا ہے۔ اُس کے مطابق جب روم شعلوں کی لپیٹ میں تھا تو نیرو ، روم سے 40میل دور اینٹیم شہر میں تھا ۔ اینٹیمAntium سے واپسی پر اُس نے ذاتی خزانے سے متاثرین کی بحالی کے لئے اقدامات کئے۔ بےگھر ہونے والوں کے لئے اپنا محل کھول دیا ۔ روم کو نئے سِرے سے بسایا ۔ عمارتیں اور کشادہ مڑکیں تعمیر کروائیں۔ نیرو کے مخالف تاریخ دان نیرو کو جنون کی حد تک حُبِ نفس اور ذاتی تعریف کا دلدادہ بتاتے ہیں اور اُس کے فلاحی کاموں کی یہی توجیہہ پیش کرتے ہیں۔

-64عیسوی میں نیرو نے روم کی آگ کے الزام میں ، وسیع پیمانے پر عیسائیوں کو قتل کروایا ۔ عیسائی مخالف قتلِ عام کے لئے تعذیب اور قتل کے ہولناک طریقے استعمال کئے۔ ٹیسی ٹس لکھتا ہے کہ عیسائیوں کو صلیبوں پر کِیلا جاتا ، جنگلی جانوروں کی کھالوں میں سِلوایا جاتا ، بھوکے کتوں اور شیروں کے سامنے ڈالا جاتا اور نیرو خود چیر پھاڑ کے مناظر سے لطف اندوز ہوتا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ . . . ملزمان پہ آتش گیر مادہ اُنڈیل کر نیرو کے باغ میں رات کو روشنی کے لئے بطور مشعل جلایا جاتا ۔

sewn in skin by nero

sewn in skin by nero


martyrs
Christian Martyrs in the Coliseum by Konstantin_Flavitsky

Christian Martyrs in the Coliseum by Konstantin_Flavitsky

سزا ؤں پہ عمل درآمد قدیم رومن اکھاڑے “کولوزیئم” میں ہوتا جہاں عوام الناس اِن مناظر کو دیکھنے جمع ہوتے۔ اگرچہ کولوزیئم کی تعمیر کا مقصدگھڑ دوڑ، نیزہ بازی، کُشتی اور مختلف کھیلوں کا انعقاد تھا ، لیکن اِسی اکھاڑے میں ریاست کے دشمنوں کو عبرت ناک سزائیں دی جاتیں۔

colosseum aerial view

colosseum aerial view


colosseum

colosseum


Siemiradzki_Christian_Dirce
XY2-1285447 - © - Classic Vision

مؤرخ کہتا ہے کہ کولوزئیم کے فرش پر ریت بچھائی جاتی تاکہ مجرموں کا رِستا ہوا خون جذب ہوسکے۔ اِسی کولوزئیم میں عیسائیت کے بےشمار پیروکاروں کو موت کے گھاٹ اُتارا گیا۔ اب بہت سی کمپیوٹر گیمز میں کولوزئیم کا تصور متعارف کروایا گیا ہے۔

1024px-Jean-Leon_Gerome_Pollice_Verso

کولوزیم کے احاطے میں بیٹھے لوگ

کولوزیم کے احاطے میں بیٹھے لوگ


CircusMaximus2
dg3-coliseum

-66عیسوی میں یونانی اور یہودی آبادیوں کی طرف سے بھاری ٹیکسوں کے خلاف احتجاج ہونے لگا ۔ یروشلم میں رہنے والے ، رومن باشندوں پر حملے کر کے اُنھیں وہاں سے نکل جانے پر مجبور کیا جانے لگا۔ نیرو نے اپنے سپہ سالار ‘ویس پے سئین’ کو فوج کی کمان دے کر ‘جوڈیا’ بھیجا جہاں اُس نے جوڈیا کی تمام سرزمین پر قبضہ کرلیا اور یروشلم کو محاصرے میں لے لیا۔

-67میں ، نیرو کے حکم پر ، عیسائیت پر کاربند ہونے کے جرم میں سینٹ پیٹر یا پطرس اور سینٹ پال کو قتل کیا گیا۔ کولوزئیم کے قریب واقع ” سرکس میکسی مس” میں سینٹ پیٹر کو اُلٹا مصلوب کیا گیا۔ یہ اقدام پطرس کی درخواست کے جواب میں کیا گیا کیونکہ پطرس نے درخواست کی تھی کہ صلیب پہ مرنے کا اعزاز یسوع مسیح سے وابستہ ہے اس لئے اُسے کسی اور طرح مارا جائے۔ چنانچہ سینٹ پیٹر کو اُلٹا لٹکایا گیا جس کے سبب آج بھی اُلٹی صلیب کو ‘لاطینی صلیب یا سینٹ پیٹر کی صلیب’ کہا جاتا ہے۔ سینٹ پیٹر کو مسیحِ مقدس کے12حواریوں میں سے مقرّب ترین کہا جاتا ہے۔ کیتھولک عیسائی عقیدے کے مطابق، یسوع مسیح نے سینٹ پیٹر کو اپنے بعد کلیسا کی زمامِ کار سونپی تھی جس کے بعد پیٹر کیتھولک کلیسا کے اولین پوپ اور روم کے پہلے پادری بنے۔

780px-Circus_Maximus_(Atlas_van_Loon)
463px-Caravaggio-Crucifixion_of_Peter

کہا جاتا ہے کہ جب پیٹر کی موت ہوگئی تو اُسے قبرستان لے جا کر دفنایا گیا اور اُس کے معتقدین چوری چھُپے اُس کی قبر کو پوجتے رہے۔ سینٹ پیٹر کی قبر پر اُسی جگہ روم میں “سینٹ پیٹر کیتھیڈرل” تعمیر کیا گیا جو کہ عیسائیت کا دل اور پاپائے روم کی رہائش گاہ ہے اور “ویٹیکن سِٹی” کا مرکز ہے ۔ قدیم کلیسا کی تعمیر 320ء میں ہوئی تھی، لیکن کافی عرصہ گذرجانے کی بنا پر عمارت خستہ ہونے لگی ۔ لہذا موجودہ باسلیکا کی تعمیر 1506ء میں شروع کی گئی جو 1626ء میں مکمل ہوئی۔ اس عمارت میں دور نشاۃ ثانیہ کے فن تعمیر کے نمونے جابجا نظر آتے ہیں جن کی تخلیق میں مائیکل اینجلو کا قابلِ ذکر حصہ رہا ہے۔ 1940سے1964تک ہونے والی تحقیقات نے بھی اِس جگہ پر سینٹ پیٹر کے دفن ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔اس نئی تعمیر کے بعد اکثر پاپائے کلیسا ، پطرس کی جانشینی کی علامت کے طور پر باسلیکا کے نیچے واقع ہال میں مدفون ہوئے۔اب یہ عمارت پطرس باسلیکا ، کہلاتی ہے۔لاطینی میں اسے basilica sancti petriکہا جاتا ہے۔ کیتھیڈرل اور باسیلکا میں بنیادی فرق طرزِ تعمیر کا ہے ، دیگر باتوں کے علاوہ باسلیکا میں کلیسا کی مخصوص عبادت گاہ کے علاوہ مذہبی تقریبات کے لئے نیم دائرے کی شکل میں ایک مرکزی جگہ بھی شامل ہوتی ہے ۔

2036287014_60b3df6621_b

-68 عیسوی میں نیرو کے مظالم کے سبب ، دو نمایاں بغاوتوں نے سر اُٹھایا ۔ فوج بھی اِن بغاوتوں کی سرپرستی کر رہی تھی چنانچہ فوج نے نیرو کا تختہ اُلٹ کر حکومت سنبھال لی۔ نیرو فرار ہوگیا۔ فوج اور حکومت کے سرکردہ افراد نے نیرو کو موت کی سزا سنائی۔ نیرو نے شہر سے باہر اپنے ایک وفادار سپاہی کے مکان میں پناہ لی اور اپنی قبر کھُدوائی۔ خودکشی کا ارادہ کیا۔ مرنے سے پہلے اپنی ماں پر لعنت اور ملامت بھیجی جس نے اُسے جنم دے کر یہ دن دِکھایا ۔بہت دیر متردد رہا لیکن جیسے ہی اُسے گرفتار کرنے کے لئے آنے والے سپاہیوں کے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز سنائی دی، اُس نے اپنے ہاتھوں اور پیروں کی نَسیں کاٹ لیں اور خود کو ہلاک کرلیا۔

دوسری جانب نیرو کی موت کا سن کر اُس کے سپہ سالار “ویس پے سئین” نے یروشلم کا محاصرہ چھوڑ کر اقتدار کی فکر کی۔ نیرو کی موت کے ساتھ اُس کے خاندان سیزر کا نام ختم ہوگیا تھا کیونکہ31 سالہ نیرو کی واحد اولاد اُس کی ایک بیٹی تھی جو ‘پوپیا سبینا’ کے بطن سے تھی اور تین ماہ کی عمر میں وفات پا گئی تھی۔ روم کی حکومت کے باقی دعویداروں کو شکست دیتے ہوئے “ویس پے سئین ” کا اپنا بیٹا “ٹائی ٹس” روم کے تخت پر بیٹھا۔

-70عیسوی میں “ٹائی ٹس” نے اپنے باپ کی جنگ جاری رکھتے ہوئے یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور وہاں کا “سیکنڈ ٹیمپل” یا ھیکلِ ثانی تباہ کردیا ۔ رومن سپاہی یروشلم کے مندر سے نوادرات اور مینورہ اُٹھا لائے جو کہ روم کے “کولوزئیم” کی تعمیرِ نو کے لئے چندے میں دے دئیے۔

800px-Arch_of_Titus_Menorah

-نیرو کی موت کے بعد اُس کے تخت پر بیٹھنے والےجانشین ٹائی ٹس نے یروشلم اور جودیا کی فتح کی یادگار کے طور پر روم میں ایک بلند قوس یا محراب (آرچ آف ٹائی ٹس) بنوائی۔ جس پر لاطینی میں ایک عبارت درج ہے۔

800px-Titus_hh2

Arch of Titus - inscription

Arch of Titus – inscription

The inscription reads:
SENATVS
POPVLVSQVE•ROMANVS DIVO•TITO•DIVI•VESPASIANI•F(ILIO) VESPASIANO•AVGVSTO
(Senatus Populusque Romanus divo Tito divi Vespasiani filio Vespasiano Augusto)
which means “The Roman Senate and People (dedicate this) to the divine Titus Vespasianus Augustus, son of the divine Vespasian

مونک نے 100لائنوں میں رومن سلطنت کے جنونی، جابر اور ظالم کا انجام سنایا ۔ نیرو جس کا دامن اپنوں کے خون سے بھی رنگا ہوا تھا اور بےشمار جانیں اُس کے ہاتھوں تکلیف دہ موت سے دوچار ہوئیں، جب مرا تو دنیا میں اُس کی سفاکی اور ستم کی لرزہ خیز داستانوں کے سِوا کچھ نہ رہا۔ سچ ہے کہ اقتدار اور تاجوری دائمی نہیں ہوتی ۔

Marble bust of Nero (palace of Versailles)

Marble bust of Nero (palace of Versailles)