کینٹربری کہانیاں/ حصہ 5

کینٹربری کہانیاں/ حصہ 5

-18-Wife of Bath- وائف آف باتھ: کینٹربری کہانیوں کے کرداروں میں سے دلچسپ ترین “باتھ شہر سے آنے والی بیگم” ہے- نقادوں اور انگریزی دانوں نے اِس کردار سے متعلق بہت بحث کی ہے اور کئی تشریحیں کی ہیں- چاوسر نے وائف آف باتھ کو چودہویں صدی کے معاشرے کے نمائندہ کردار کے طور پر پیش کیا ہے وہیں اِس میں انفرادی رحجانات بھی دکھائے ہیں-

WIFE of bath

صاف، چمکتے اور سُرخی مائل چہرے والی ، گول مٹول زندہ دل خاتون ہے- اگلے دو دانتوں کے درمیان فاصلہ ہے- اُونچا سنتی ہے- سر کے رومال کا بہت شوق ہے، ہر ہفتے نیا رومال پہنتی ہے- اُس کے رومال خوبصورت اور بھاری کپڑے کے ہیں- نئے جوتے ہیں جن کے ساتھ گہری عنابی سُرخ جرابیں پہن رکھی ہیں – باتھ کا شہر کپڑے سازی اور اُس کی رنگائی میں خاص شہرت رکھتا تھا- چنانچہ اوّل تو وہ خُود کپڑے کی صنعت سے منسلک تھی اور دوسرے سرخ عنابی رنگائی بہت نایاب اور مہنگی تھی، صرف اُمراء ہی اس خرچ کے متحمل تھے، لہٰذا چاوسر کی تصویر کشی کے مطابق اِن بیگم صاحبہ کا مظہر اُن کی امارت کا ثبوت ہے-

wife of bath

جہاں دیدہ خاتون ہے، کپڑے کی صنعت سے تعلق ہونے کی وجہ سے اِس کاروبار کی تمام باریکیوں سے واقف ہے-کئی مشہور جگہوں کی زیارت کے سفر کرچکی ہے اور اپنے سفری تجربات کا ذکر کرتی رہتی ہے- تین بار تو یروشلم ہی گئی،اِس کے علاوہ روم، کومپوسٹیلا، بولون وغیرہ کے سفر کا تذکرہ باتوں کے درمیان آجاتا ہے- بہت باتونی اور خوش مزاج ہے- گرجا ہو یا کوئی بھی مجلس، وہ پہلی صف میں بیٹھنے پر اصرار کرتی ہے- اِن سب کے باوجود گھریلو رحجان بھی رکھتی ہے – گھرداری کے سب کاموں میں طاق اور باخبر ہے-عورت اور مرد کے تعلق کی باریکی اور کیمسٹری پہ اتھارٹی ہونے کا دعویٰ ہے – اپنے پانچویں شوہر کے ساتھ خُوش و خرم زندگی گزار رہی ہے جو کہ اِس سے کم عمر ہے- اِس بات کے تذکرے سے یہ بات بتانا مقصود ہے کہ انگلستان میں اُس وقت متمول خواتین کا اکیلا رہنا بہت مشکل تھا کیونکہ شادی کے ساتھ جائیداد کی شراکت کسی طور مشروط تھی- مالدار خواتین کے لئے اُمیدواران کی لائن لگی رہتی تھی- اُن کی جائیداد پہ نظر رکھنے والے مرد اُن کے طلبگار رہتے تھے-

-19-Physician- فزیشن: کینٹربری کیتھڈرل کے لئے عازمینِ سفر میں ایک فیشن ایبل ڈاکٹر بھی شامل ہے جس کو علمِ فلکیات پہ عبور حاصل ہے اور ستاروں کی چال کے علم پہ بھی دسترس رکھتا ہے- اکثر اوقات مریضوں کا علاج اُن کی قسمت کے حال کے مطابق کرتا ہے- اِس تعارُف میں چاوسر نے زیرِ لب مسکراہٹ اور طنز کا اِضافہ کیا ہے – ڈاکٹر دین سے کوسوں دُور ہے اور دُنیا کی بھاگ دوڑ میں بُری طرح مصروف ہے –

کافی مالدار ہے- بڑے نامی گرامی حکیموں کے نُسخوں کے بارے میں معلومات رکھتا ہے- دوا سازوں سے تعلقات بہت اچھے ہیں اور باہم مِلی بھگت سے خُوب پیسہ بناتا ہے- شعبہء طِب کے تمام محکموں اور میڈیکل سٹاف سے اچھی طرح جان پہچان رکھتا ہے- اُس کا کمپاؤنڈر اُسی کی طرح سمجھدار اور مُستعد ہے- طاعون کی وبا پھیلی تو اُس کی خُوب چاندی ہوئی ، بہت نوٹ کھرے کئے – خرچ کے معاملے میں بہت محتاط ہے، پیسے کو بہت سوچ سمجھ کے خرچ کرتا ہے- اُس دور کے کیمیا گروں (اور آج کل کے ڈاکٹروں )کی طرح سونا بنانے میں دلچسپی رکھتا ہے اور سونا اُس کی پسندیدہ دھات ہے- ہندی ریشم اور تافتان کا قیمتی گہرا سُرخ اور نیلگوں سرمئی لباس پہنا ہوا ہے- کھانے کے معاملے میں بہت محتاط ہے اور متوازن خوراک کھاتا ہے-

doctor 2

-20-Parson- پارسن: پارسن علاقہ دار پادری جس کے پاس گِرجے کے لئے وقف کردہ زمین کا چارج ہو اور وہ اُس زمین کی آمدن سے گِرجا کا نظام چلاتا ہو- یہ اعلٰی افکار کا مالک ایک غریب شخص ہے- اپنے کلیسائی حلقے میں رہنے والوں کی پروا کرتا ہے اور اُن کی خبرگیری ایسے کرتا ہے جیسے کہ ایک اچھا چرواہا مستعد ہوتا ہے- اپنے مذہبی اجتماعات اور مجالس کے بارے میں محتاط اور پابند رہتا ہے- جِس شخص سے بھی ملتا ہے،اُس کے لئے ہدایت اور جنت کا خواہاں ہے- وہ چاہتا ہے کہ تمام انسانیت راہِ ہدایت اختیار کرلے- آندھی، طوفان اور بارش بھی اُسے کاِر خیر سے روک نہیں سکتے- متواضع اور بُلند کردار ہے-وہ بذاتِ خود نیکی اور بھلائی کا نمونہ بننے پر یقین رکھتاہے- اُس کا کہنا ہے کہ دوسروں کو نیکی کی تلقین کرنے سے پہلے اپنے آپ کو نصیحت کرنی چاہیئے-

If gold rust, what shal iren do?

پارسن کہتا ہے کہ راہِ حق پہ چلنے والے کا بے ایمانی اور نِفاق سے کیا تعلق؟ – – – اگر سونے کو ہی زنگ لگنے لگے تو لوہے کا کیا حال ہوگا؟ – – – یعنی خُدا کے راستے پہ چلنے والے ہی اگر بُرائی اور منافقت سے بچ نہیں پائیں گے تو عام دُنیا دار آدمی کی گمراہی کا کیا عالم ہوگا؟

szyk-parsonparson

-21-Plowman- پلوہ مین: زمینوں میں کام کرنے والا ہاری، یا ہل چلانے والا پلوہ مین ہے- یہ پارسن کا بھائی ہے اور اُسی کی طرح عیسائیت کا مثالی پیروکار ہے- اُس نے دو احکاماتِ خُداوندی کو اپنی زندگی کا مقصد بنارکھا ہے، پہلا یہ کہ خُدا سے محبت کرو اور دوسرا ، یہ کہ اپنے ہمسائے کا اُسی قدر خیال رکھو جس قدر اپنی ذات کا رکھتے ہو- لوگوں کی مدد کرکے خُوشی محسوس کرتا ہے- اپنی زمینوں کا عُشر پابندی سے ادا کرتا ہے- سفید کوٹ اور نیلے ہُڈ میں ایک گھوڑی پہ سوار ہے-

aa ploghman

-22-Miller- مِلّر: ، بڑی کاٹھ اور موٹے سے جسم والا ایک چکّی کا مالک، مِلر ہے – بازوؤں کے پٹھے بنے ہوئےہیں- یہ پن چکّی والا کسی سے بھی گتھم گتھا ہو سکتا ہے- سُرخ داڑھی، کانوں میں بال ہیں، سیاہ نتھنے اور بڑا سا منہ- ناک کی چونچ پہ ایک مسّہ ہے جس میں سے سرخ بالوں کا ایک گچھا نکلا ہوا ہے- آگے کو جُھکا رہتا ہے- ساتھ میں تلوار اور ڈھال لئے ہوئے ہے اور فارغ اوقات میں بیگ پائپ بجاتا ہے- کبھی پُوار نہیں تولتا، پکّا چور اور بے ایمان ہے- اُس کی چکّی پہ جو بھی آٹا پِسوانے آتا ہے، یہ اُس کے تھیلے سے آٹا یا مکئی چوری کرلیتا ہے-بے ایمانی کئے بن رہ نہیں سکتا- واہیات عامیانہ باتیں کرتا ہے- بات بے بات بازاری گالیاں دینے اور گھٹیا مذاق کرنے کا عادی ہے-

312-the-millerVIC100395182  01

-23-Manciple -مین سیپل: قانون کے طالبعلموں کے ایک ہاسٹل کا سیانا رکھوالا یا کار مختار ہے- منشی اور فور مین کے فرائض انجام دیتا ہے-قانون پڑھنے والے اِن طلبہ کی تعداد تِیس کے قریب ہے- کفایت شعار اور کم خرچ ہے- تیز فہم اور عیّار بھی ہے- بہت ہوشیاری سے بھاؤ تاؤ کرتا ہے، مال خریدتے ہوئے قیمت کم کروانے کا ماہر ہے- دوسروں کو چُٹکیوں میں بےوقوف بنالیتا ہے- اکیلا ہی تیس طلبہ کو چکمہ دینے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور رقم گول کرجاتا ہے-

The Manciple

The Manciple

-24-Reeve -ری و: ایک بڑی جاگیر کے لارڈ نے اِسے اپنی جاگیر پر مینجر یا منتظم رکھا ہوا ہے-چھوٹی چھوٹی آنکھیں، چھریرا بدن، لمبی لمبی دبلی ٹانگیں ،بال چھوٹے ترشے ہوئے اور اچھی طرح شیو بنا رکھی ہے- متلوّن مزاج اور خوشامدی ہے- کمینگی اُس کے برتاؤ سے نظر آتی ہے- ایک مثالی جی حضوری شخص ہے- جاگیر کے انتظام میں مویشی، گھوڑے، پولٹری فارم کا نظام بھی شامل ہے- یہ مینجر اِس قدر ماہر ہے کہ اپنے لارڈ کو خُوب منافع کما کر دیتا ہے اور اپنی بھی پانچوں گھی میں ہیں- – اپنے مالک سے ہیراپھیری کرکے اپنی جیب بھی بھری رہتی ہے- ہر چیز، ہر معاملے، لین دین اور تعداد کا باریکی سے حساب رکھتا ہے- اُس کے آقا کی جاگیر کے کمّی نوکر اُس سے ڈرتے رہتے ہیں- آنے والی فصلوں کے بارے میں پیشین گوئی کرنے کا بہت شوق ہے- بارش اور موسم کے بارے میں اُس کے اندازے اکثر دُرست ثابت ہوتے ہیں- اہنے آقا کی رضا حاصل کرنے کے لئے اُسے تحائف خرید کر دیتا رہتا ہے-

Reeve

Reeve

344-the-reve

-25-Summoner -سمن نر: کلیسائی عدالت میں جُرم ثابت ہونے والے گناہگاروں کو بُلاوے دیتا ہے- چھوٹی چھوٹی آنکھیں ، کھجلی زدہ بھنویں، سُرخ رنگت، سُوجا ہوا منہ ہے اور چہرے پہ دانے ہیں- چہرے کے دانوں پُھنسیوں کے لئے وہ بہت نسخے آزماچکا ہے جن میں پارہ، سلفر، بورکس کا مرہم، ٹارٹار کا تیل اور اسٹرنجنٹ واش ، کچھ بھی کارگر نہ ہوا- بچے اُس سے ڈرتے ہیں- خُوب چٹخارے دار کھانے اور پیاز پسند ہیں- آسانی سے رشوت لینے پر آمادہ ہوجاتا ہے- مےنوشی بھی کثرت سے کرتا ہے اور پھر نشے میں لاطینی بولتا ہے- چاسر کے وقت کاا یک فاسدکردارہے-

summoner

summoner

-26-Pardoner -پارڈنر: چرچ کی طرف سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنے والوں کو ہدیہ جات کے عوض معافی اور نجات کی نوید دیتا ہے- جن پر گناہ ثابت ہوجائیں اُن کو بخشش بیچتا ہے-یہ باقاعدہ دستخط شُدہ کاغذ کی شکل میں ہوا کرتی تھی- کندھوں پر پڑے لمبے لمبے پیلے بال، زردی مائل رنگت، خرگوش جیسی ہوشیار آنکھیں ،بکری جیسی نحیف اُونچی آواز ،ڈاڑھی کے بغیر صاف چہرہ ہے- زنانہ ادائیں رکھتا ہے- زن صفت ہے- لوگوں کو دِلگداز آواز میں تلقین اور وعظ کرکے تبرکات خریدنے پر آمادہ کرلیتا ہے- معافی کے لئے عوام کے بزرگوں اور فوت شُدگان کی طرف سے غلط پیغامات پہنچاتا ہے- اپنے ساتھ جھوٹے تبرّکات اُٹھائے پھرتا ہے جن کو وہ سائیوں اور اولیاء کی ہڈیاں اور مستعمل اشیاء قرار دیتا ہے- جعلی تبرکات بیچ کر کافی رقم بنا رکھی ہے- – اِس کے پاس موجود تبرکات میں – – – ٭ ایک بادبان کا ٹکڑا جسے وہ ایک پادری یا سینٹ سے منسوب کرتا ہے ٭ ایک نگینے جَڑی ہوئی دھاتی صلیب ٭ ایک راہبہ کے تکیے کا غلاف ٭ اولیا ء کی ہڈیوں سے بھری ایک بوتل-

408-the-pardonerpardoner

-Second nun-27- -سیکنڈ نن: اور

secnun

-nun’s Priest-28- -نن’ز پریسٹ: پرائرس کے تعارف میں ایک دوسری نن اور ایک پریسٹ کا ذکر ہے- تعارفی حصے میں دوسری نن کا بھی زیادہ ذکر نہیں ہے لیکن آگے جا کر دوسری نن نے ایک کہانی سُنائی جس کو شاعر نے کہانیوں میں شامل کیا ہے- اِسی طرح پریسٹ کا بھی تفصیلی تعارف نہیں ہے لیکن اُس کی بیان کردہ کہانی بہت عمدہ اور دلچسپ ہے-

nunspri

-Host-29- – میزبان: ایک کہانی میں میزبان کا نام ہیری بے لے Harry Bailey بتایا گیا ہے-میزبان ہی اِن فریم کہانیوں کی تجویز پیش کرنے والا کردار ہے- نظم کے متن سے ہمیں یہ تاثر ملتا ہے کہ میزبان ایک خوش باش اور شُگفتہ آدمی ہے، اُونچا لمبا ہے اوراُس کی گہری کُھب جانے والی نگاہیں ہیں- اِن کہانیوں کی تجویز سے اُس کا مقصد سفر کے دوران اچھا وقت گزارنا تھا لیکن مونک اور ڈاکٹر جیسے مسافروں کی وجہ سے کچھ بدمزگی پیدا ہوئی- اِن کرداروں نے بہت غمگین اور افسُردہ کہانیاں سنائیں- کچھ مسافروں کی آپس میں لڑائیاں بھی ہوتی رہیں- میزبان زائرین کے درمیان امن و امان قائم کرنے کی ذمہ داری نبھاتا رہا- نن کے پریسٹ نے ایک مزاحیہ کہانی سنائی – میزبان کی مہارت یہ ہے کہ وہ کوئی بھی کہانی سُن کر فورا نتائج پر پہنچ جاتا اور اُس کہانی سے حاصل شُدہ سبق واضح کرکے بیان کرتا ہے- اِس کے علاوہ ، میزبان اکثر مسافروں کہ کہانیوں کو قارئین کی جگہ پہ رہ کر سُنتا ہے گویا وہ اِس نظم میں پہلے سے موجود آڈیئنس کا کردار نبھا رہا ہے-

hosthost..

-Narrator-30- – راوی: راوی نے خُود کو بھرپور انداز میں ایک کردار کے طور پہ پیش کیا ہے- شاعر نے اُس کا نام چاوسر بتایا ہے اور گویا اپنے خیالات کا اِظہار ‘راوی’ کی زبانی کیا ہے- سفر کے دوران میزبان ایک دو جگہ پر راوی سے خاموش رہنے کا شکوہ بھی کررہا ہے- چونکہ راوی ہی تمام کرداروں کے تاثرات اور تعارف درج کر رہا ہے اِس لئے یہ راوی کی پسند ناپسند پر منحصر ہے کہ وہ کیا بیان کرے اور کیا نہ لِکھے – قارئین کے پاس راوی کی پہلے سے قائم کردہ رائے اور تجزیئے پر اِنحصار کرنے کے سوا راستہ نہیں – عین مُمکِن ہے کہ راوی جانبداری سے کام لے رہا ہو-

chaucerhoccleve

کینٹربری کہانیاں / حصہ 4

کینٹربری کہانیاں / حصہ4

کم و بیش تین مِشنری کرداروں کے بعد چاوسر سیکولر کرداروں کا تذکرہ کرتا ہے-

A Marchant was ther with a forked berd,

-7-Merchant- مرچنٹ: ایک تاجِر یا سوداگر بھی کینٹربری کی طرف عازمِ سفر ہے، جِس نے رنگین ڈیزائن دار کپڑے کا عالی شان لباس پہنا ہوا ہے- فَر والی فیشن ایبل بیلجئن ٹوپی ہے اور داڑھی بھی نوکدار بنا رکھی ہے – داڑھی سنوارنے کا یہ انداز اُس زمانے میں ‘اِن’ تھا- جوتے بہت اچھے ہیں جِن کے بکّل چمک رہے ہیں- سوداگر کا کرداراُبھرتی ہوئی مڈل کلاس کی بھر پور نمائندگی کرتا ہے- تاجرتَھوک کا کام کرتا ہے-وہ سمندری قزاقوں سے بہت نالاں ہے- اس کی سب سے بڑی خواہش ہے کہ تجارتی راستوں پہ موجود قزاق اور چور ختم ہوجائیں –اپنے کاروباری مقاصد کے لئے یہ سوداگر غیر قانونی ذرائع بہت رغبت سے استعمال کرتا ہے-

سوداگر خود کو ماہرِ معاشیات ظاہر کرتا ہے اور اصل بات یہ ہے کہ وہ کامیابی سے اپنی سُفید پوشی کا بھرم نِبھا رہا ہے- راوی کے مطابق، سب جانتے ہیں کہ وہ قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے- اُس کی اصل مہارت یہ ہے کہ وہ قرض اور اُدھار لے کر اپنا کام جاری و ساری رکھتا ہے- چاوسر نے اُسے طنزیہ “پوری طرح خوشحال” شخص کہا ہے-

merchant

merchant

-8-Clerk- کلرک: اِس سے مراد آکسفورڈ کا طالب علم ہے جو فلسفہ کی تعلیم حاصل کر رہا ہے- خوراک، لِباس اور دیگر اشیا کی بجائے کتابیں اُس کا جنون ہیں- اُس نے اپنے ہمراہ ارسطو اور دیگر فلاسفروں کی کتابیں اُٹھا رکھی ہیں جن کی تعداد بِیس کے قریب ہوگی- راوی بتاتا ہے کہ اِس دُبلے پتلے سے طالب علم کو کہیں سے بھی کوئی پیسہ مِلے تو وہ دیگر ضروریات کی بجائے اپنی کتابوں پر ہی خرچ کردیتا ہے-

دھان پان سے سٹوڈنٹ نے معمولی سا گھِسا ہوا کوٹ پہن رکھا ہے- اُس کا گھوڑا بھی لاغر سا ہے- بہت کم گو ہے لیکن جب بھی کوئی بات کرتا ہے تو وہ انتہائی مدلّل اور ذہانت کی بات ہوتی ہے- تنہائی پسند ہے- ایک عرصے سے علم کے حصول کے لئے کوشاں ہے- بے انتہا تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود غربت کے سائے اُس پر چھائے ہوئے ہیں- – – گویا کہ دنیاوی اور کاروباری ہتھکنڈوں کا عادی نہ ہونے کی وجہ سے ،محض علم اُس کی معاشی حالت میں کوئی بہتری نہیں لا سکتا –

Student

Student

-9-Man of law- مین آف لاء: ایک ماہر وکیل ہے جو تقریبا سولہ سال سے قانون کی پریکٹس کررہا ہے- کئی بار بطور جج بھی نامزد ہوچکا ہے- مہارت کا یہ عالم ہے کہ ہر قانون، ہر فیصلے، ہر مقدمے اور ہر جُرم کی تفصیلات ازبر ہیں- وہ کسی بھول چُوک کے بغیر قانونی ڈرافٹ تیار کرلیتا ہے- اکثر اوقات اپنے علم کو اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرتا ہے-نیلا اور سُرخ دھاری دار ریشمی لباس بھلا لگ رہا ہے- لباس کا ریشمی ہونا، اُس کے بیش قیمت ہونے کی علامت ہے کیونکہ ریشم کو مشرق کی طرف سے درآمد کیا جاتا تھا اور اِسی لئے ریشم کے نَرخ بھی زیادہ ہوا کرتے تھے- اِس پہ مستزاد یہ کہ ریشم کی سِلائی بھی خاصی توجہ طلب اور مہنگی تھی- راوی کسی نہ کسی طرح یہ بھی جانتا ہے کہ کئی مہنگے لباس اور قیمتی تحائف اِس ماہرِ قانون کو فِیس کے ساتھ بھی مِلا کرتے تھے- ہاں یہ بات بھی اس وکیل کے لئے درُست ہے کہ وہ اتنا مصروف ہوتا نہیں جتنا نظر آنے کی کوشش کرتا ہےـ

Lawyer

Lawyer

-10-Franklin- فرینکلِن: یہ نام چودہویں یا پندرہویں صدی کے انگلستان میں اُن نودولتی اشخاص کو دیا گیا ہے جو حسب نسب کے اعتبار سےغیر خاندانی ہوں – بہرحال یہ فرینکلِن ایک ایسی کلاس کی عکاسی کر رہا ہے جو پیسے کے بَل بُوتے پر شُرفاء بن جاتے ہیں اور حکومتی، سیاسی شخصیات سے قُربت حاصل کرکے اپنا اثر و رسوخ قائم کر لیتے ہیں-ہر وقت شادماں اور بااعتماد نظر آنا اِس کردار کا خاص وصف ہے- شاہانہ عادات ہیں اور مہمان نوازی میں نام رکھتا ہے- اپنے ہاں ضیافت پہ آنے والوں کو بہترین کھانا پیش کرتا ہے- مچھلی، گوشت اور اعلٰی درجے کی “ڈرنک” اُس کے دسترخوان کا امتیازی جُزو ہیں- ڈیزی کے پھول جیسی سُفید داڑھی ہے –

franklin 2

-11-Haber-dasher- ہیبر ڈےشر: کپڑا فروش یا بزاز

-12-Carpenter- کارپنٹر: بڑھئی، ترکھان

-13– ویئور: جولاہا

-14-Dyer- ڈائیر: رنگ ساز،صباغ

15-Tapestry-weaver- ٹیپ سٹ ری ویئور: غالیچہ بُننے والا

ہنر مند طبقے کے اِن پانچ کرداروں کا ذکر چاوسر نے اجتماعی انداز میں کیا ہے- قافلے میں شامل اِن دستکاروں کے لباس اچھی طرح، عمدگی سے سِلے ہوئے ہیں- تانبے کے چمک دار بکّل ہیں اور کہیں کہیں عمدہ قسم کی چاندی استعمال کی ہوئی ہے- یہ سب دستکار اپنے اپنے فن کے ماہِر ہیں اور خوب خُوشحال ہیں- اتنے خُوشحال ہیں کہ ذرا اندازہ کرو۔ ۔ ۔ ۔ ۔اِن کی بیویاں اِن سے “راضی” رہتی ہیں- ان کی بیگمات دعوتوں اور پارٹیوں میں ‘مادام’ کہلوانا پسند کرتی ہیں اور یہ شوہر حضرات عین وقت پہ اُن کی من پسند پوشاکیں مہیّا کر دیتے ہیں-

-16-Cook- کُک: زائرین کے قافلے میں ایک باورچی بھی شامِل ہے جو کہ اپنے زمانے کا ماہر ترین خانساماں ہے- یہ باورچی مذکورہ بالا اِن ہنرمند افراد کا ملازم ہے-کھانا ایسا مزیدار پکاتا ہے کہ اُس جیسا کوئی پکا نہیں سکتا – مصالحہ جات کا استعمال خُوب جانتا ہے، مُرغ اور گوشت اُبالنے کے فن میں طاق ہے – اُبالنا، تلنا، سِنکائی اور بُھنائی، ہر طرح کی پکوائی کر لیتا ہے اور میٹھا بنانے میں تو اُس کا کوئی ثانی ہی نہیں- راوی کہتا ہے کہ اِن سب صفات کے باوجود دِل کو یہ بات بھلی نہیں لگی کہ اُس کی پنڈلی پہ ایک کُھلا زخم نظر آرہا تھا- کیا یہ بات اُس کی مہارت پہ جچتی ہے؟

cook

cook

-17-Ship man- شِپ مین: گُھٹنوں تک لمبا ،کُھردرے سے کپڑے کا گاؤن پہنے ہوئے ایک جہازران بھی ہم رکاب ہے – اُس نے چاقو ایک ڈور کی مدد سے لٹکایا ہوا ہے – سمندری سفر کرتے کرتے اُس کی رنگت خُوب سنولائی ہوئی ہے- غصے کا تیز اور جی بھر کے بد مزاج ہے- مکمل طور پر ایک ضمیر فروش انسان ہے ، جو غیر اخلاقی باتیں کرتے ہوئے کوئی عار نہیں کرتا- راستے میں دیگر مسافروں سے نظر بچا کر ، کئی گلاس ‘اُم الخبائث’ چُرا کر پی گیا – اُس کے جہاز پر کئی ملاح کام کرتے ہیں- جِس قدر شہرہ اِن ملاحوں کی مہارت کا ہے، اُسی قدر اُن کی سفاکی بھی مشہور ہے-

shipman