Home » Canterbury Tales » کینٹربری کہانیاں / حصہ 4

کینٹربری کہانیاں / حصہ 4

کینٹربری کہانیاں / حصہ4

کم و بیش تین مِشنری کرداروں کے بعد چاوسر سیکولر کرداروں کا تذکرہ کرتا ہے-

A Marchant was ther with a forked berd,

-7-Merchant- مرچنٹ: ایک تاجِر یا سوداگر بھی کینٹربری کی طرف عازمِ سفر ہے، جِس نے رنگین ڈیزائن دار کپڑے کا عالی شان لباس پہنا ہوا ہے- فَر والی فیشن ایبل بیلجئن ٹوپی ہے اور داڑھی بھی نوکدار بنا رکھی ہے – داڑھی سنوارنے کا یہ انداز اُس زمانے میں ‘اِن’ تھا- جوتے بہت اچھے ہیں جِن کے بکّل چمک رہے ہیں- سوداگر کا کرداراُبھرتی ہوئی مڈل کلاس کی بھر پور نمائندگی کرتا ہے- تاجرتَھوک کا کام کرتا ہے-وہ سمندری قزاقوں سے بہت نالاں ہے- اس کی سب سے بڑی خواہش ہے کہ تجارتی راستوں پہ موجود قزاق اور چور ختم ہوجائیں –اپنے کاروباری مقاصد کے لئے یہ سوداگر غیر قانونی ذرائع بہت رغبت سے استعمال کرتا ہے-

سوداگر خود کو ماہرِ معاشیات ظاہر کرتا ہے اور اصل بات یہ ہے کہ وہ کامیابی سے اپنی سُفید پوشی کا بھرم نِبھا رہا ہے- راوی کے مطابق، سب جانتے ہیں کہ وہ قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے- اُس کی اصل مہارت یہ ہے کہ وہ قرض اور اُدھار لے کر اپنا کام جاری و ساری رکھتا ہے- چاوسر نے اُسے طنزیہ “پوری طرح خوشحال” شخص کہا ہے-

merchant

merchant

-8-Clerk- کلرک: اِس سے مراد آکسفورڈ کا طالب علم ہے جو فلسفہ کی تعلیم حاصل کر رہا ہے- خوراک، لِباس اور دیگر اشیا کی بجائے کتابیں اُس کا جنون ہیں- اُس نے اپنے ہمراہ ارسطو اور دیگر فلاسفروں کی کتابیں اُٹھا رکھی ہیں جن کی تعداد بِیس کے قریب ہوگی- راوی بتاتا ہے کہ اِس دُبلے پتلے سے طالب علم کو کہیں سے بھی کوئی پیسہ مِلے تو وہ دیگر ضروریات کی بجائے اپنی کتابوں پر ہی خرچ کردیتا ہے-

دھان پان سے سٹوڈنٹ نے معمولی سا گھِسا ہوا کوٹ پہن رکھا ہے- اُس کا گھوڑا بھی لاغر سا ہے- بہت کم گو ہے لیکن جب بھی کوئی بات کرتا ہے تو وہ انتہائی مدلّل اور ذہانت کی بات ہوتی ہے- تنہائی پسند ہے- ایک عرصے سے علم کے حصول کے لئے کوشاں ہے- بے انتہا تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود غربت کے سائے اُس پر چھائے ہوئے ہیں- – – گویا کہ دنیاوی اور کاروباری ہتھکنڈوں کا عادی نہ ہونے کی وجہ سے ،محض علم اُس کی معاشی حالت میں کوئی بہتری نہیں لا سکتا –

Student

Student

-9-Man of law- مین آف لاء: ایک ماہر وکیل ہے جو تقریبا سولہ سال سے قانون کی پریکٹس کررہا ہے- کئی بار بطور جج بھی نامزد ہوچکا ہے- مہارت کا یہ عالم ہے کہ ہر قانون، ہر فیصلے، ہر مقدمے اور ہر جُرم کی تفصیلات ازبر ہیں- وہ کسی بھول چُوک کے بغیر قانونی ڈرافٹ تیار کرلیتا ہے- اکثر اوقات اپنے علم کو اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرتا ہے-نیلا اور سُرخ دھاری دار ریشمی لباس بھلا لگ رہا ہے- لباس کا ریشمی ہونا، اُس کے بیش قیمت ہونے کی علامت ہے کیونکہ ریشم کو مشرق کی طرف سے درآمد کیا جاتا تھا اور اِسی لئے ریشم کے نَرخ بھی زیادہ ہوا کرتے تھے- اِس پہ مستزاد یہ کہ ریشم کی سِلائی بھی خاصی توجہ طلب اور مہنگی تھی- راوی کسی نہ کسی طرح یہ بھی جانتا ہے کہ کئی مہنگے لباس اور قیمتی تحائف اِس ماہرِ قانون کو فِیس کے ساتھ بھی مِلا کرتے تھے- ہاں یہ بات بھی اس وکیل کے لئے درُست ہے کہ وہ اتنا مصروف ہوتا نہیں جتنا نظر آنے کی کوشش کرتا ہےـ

Lawyer

Lawyer

-10-Franklin- فرینکلِن: یہ نام چودہویں یا پندرہویں صدی کے انگلستان میں اُن نودولتی اشخاص کو دیا گیا ہے جو حسب نسب کے اعتبار سےغیر خاندانی ہوں – بہرحال یہ فرینکلِن ایک ایسی کلاس کی عکاسی کر رہا ہے جو پیسے کے بَل بُوتے پر شُرفاء بن جاتے ہیں اور حکومتی، سیاسی شخصیات سے قُربت حاصل کرکے اپنا اثر و رسوخ قائم کر لیتے ہیں-ہر وقت شادماں اور بااعتماد نظر آنا اِس کردار کا خاص وصف ہے- شاہانہ عادات ہیں اور مہمان نوازی میں نام رکھتا ہے- اپنے ہاں ضیافت پہ آنے والوں کو بہترین کھانا پیش کرتا ہے- مچھلی، گوشت اور اعلٰی درجے کی “ڈرنک” اُس کے دسترخوان کا امتیازی جُزو ہیں- ڈیزی کے پھول جیسی سُفید داڑھی ہے –

franklin 2

-11-Haber-dasher- ہیبر ڈےشر: کپڑا فروش یا بزاز

-12-Carpenter- کارپنٹر: بڑھئی، ترکھان

-13– ویئور: جولاہا

-14-Dyer- ڈائیر: رنگ ساز،صباغ

15-Tapestry-weaver- ٹیپ سٹ ری ویئور: غالیچہ بُننے والا

ہنر مند طبقے کے اِن پانچ کرداروں کا ذکر چاوسر نے اجتماعی انداز میں کیا ہے- قافلے میں شامل اِن دستکاروں کے لباس اچھی طرح، عمدگی سے سِلے ہوئے ہیں- تانبے کے چمک دار بکّل ہیں اور کہیں کہیں عمدہ قسم کی چاندی استعمال کی ہوئی ہے- یہ سب دستکار اپنے اپنے فن کے ماہِر ہیں اور خوب خُوشحال ہیں- اتنے خُوشحال ہیں کہ ذرا اندازہ کرو۔ ۔ ۔ ۔ ۔اِن کی بیویاں اِن سے “راضی” رہتی ہیں- ان کی بیگمات دعوتوں اور پارٹیوں میں ‘مادام’ کہلوانا پسند کرتی ہیں اور یہ شوہر حضرات عین وقت پہ اُن کی من پسند پوشاکیں مہیّا کر دیتے ہیں-

-16-Cook- کُک: زائرین کے قافلے میں ایک باورچی بھی شامِل ہے جو کہ اپنے زمانے کا ماہر ترین خانساماں ہے- یہ باورچی مذکورہ بالا اِن ہنرمند افراد کا ملازم ہے-کھانا ایسا مزیدار پکاتا ہے کہ اُس جیسا کوئی پکا نہیں سکتا – مصالحہ جات کا استعمال خُوب جانتا ہے، مُرغ اور گوشت اُبالنے کے فن میں طاق ہے – اُبالنا، تلنا، سِنکائی اور بُھنائی، ہر طرح کی پکوائی کر لیتا ہے اور میٹھا بنانے میں تو اُس کا کوئی ثانی ہی نہیں- راوی کہتا ہے کہ اِن سب صفات کے باوجود دِل کو یہ بات بھلی نہیں لگی کہ اُس کی پنڈلی پہ ایک کُھلا زخم نظر آرہا تھا- کیا یہ بات اُس کی مہارت پہ جچتی ہے؟

cook

cook

-17-Ship man- شِپ مین: گُھٹنوں تک لمبا ،کُھردرے سے کپڑے کا گاؤن پہنے ہوئے ایک جہازران بھی ہم رکاب ہے – اُس نے چاقو ایک ڈور کی مدد سے لٹکایا ہوا ہے – سمندری سفر کرتے کرتے اُس کی رنگت خُوب سنولائی ہوئی ہے- غصے کا تیز اور جی بھر کے بد مزاج ہے- مکمل طور پر ایک ضمیر فروش انسان ہے ، جو غیر اخلاقی باتیں کرتے ہوئے کوئی عار نہیں کرتا- راستے میں دیگر مسافروں سے نظر بچا کر ، کئی گلاس ‘اُم الخبائث’ چُرا کر پی گیا – اُس کے جہاز پر کئی ملاح کام کرتے ہیں- جِس قدر شہرہ اِن ملاحوں کی مہارت کا ہے، اُسی قدر اُن کی سفاکی بھی مشہور ہے-

shipman

One thought on “کینٹربری کہانیاں / حصہ 4

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s