Wife of Bath’s tale – 11

وائف آف باتھ کی کہانی:

وائف آف باتھ نے اپنی کہانی سے پہلے حقوقِ نسواں کے بارے میں ایک طویل تمہید باندھی۔ اِس تمہید میں اتنی گنجائش اور لچک ہے کہ قاری اِس تمہید کو . . . .اپنی مرضی کے مطابق حقوقِ نسواں کے حق میں . . یا خلاف سمجھ سکتا ہے۔

Wife of Bath

Wife of Bath

اُس نے اپنے سابقہ شوہروں کے بارے میں بات کی کہ پہلے تین شوہر عمر رسیدہ تھے جن کے ساتھ وہ دھڑلے سے بات کرتی اور رعب قائم رکھتی تھی۔ ضعیف اور معمر ہونے کی وجہ سے یہ شوہر اُس کی بالادستی تسلیم کئے رہتے اور اپنی کم مائیگی اور تہی دامنی پر خاموش رہتے۔ اِس کے علاوہ بڑی عمر کی وجہ سے ہنگامے سے کسی قدر بیزار ی محسوس کرتے اور اُس کے منہ لگنے سے بچتے۔

ہاں . . آخری دو شوہر، نسبتاََ کم عمر تھے چنانچہ اِن سے معاملہ قدرے مشکل تھا ۔ حالیہ شوہر ، جانکِن (Jankin)، بیگم صاحبہ سے آدھی عمر کا تھا۔ جانکِن مزاج کا تیز تھا اور بیوی کی برتری تسلیم کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اکثر اوقات ایسے لکھاریوں کی کتابوں کے حوالے سے دلیل دیتا جو بیویوں کے مطیع اور زیردست ہونے کے حامی تھے۔

ایک بار بیگم نے طیش میں آکر اُس کی پسندیدہ کتاب کا ایک صفحہ پھاڑ دیا۔ جانکِن صاحب نے اِس زور کا ہاتھ بیگم کو رسید کیا کہ بیگم کا ایک کان سماعت سے محروم ہوگیا۔ اب . . . لینے کے دینے پڑگئے۔ اِس واقعے پر جانکن بہت نادم اور شرمندہ ہوا اور بیگم کا تابع فرمان ہو کر رہنے لگا۔ یوں دونوں کی زندگی میں ٹکراؤ ختم ہوا اور زندگی سکون سے چلنے لگی۔ باتھ کی بیگم صاحبہ نے ایسی کہانی سنائی جو ازدواجی ڈائنامک کی وضاحت اور تشریح کرتی ہے۔

زمانہء قدیم کی بات ہے جب ملکِ انگلستان پر آرتھربادشاہ کی حکومت تھی۔ ایک نائٹ ، کسی دوشیزہ کی عصمت دری کا مرتکب ہوا۔ اُس وقت اس گناہ ِ بد کی سزا موت تھی۔ مجرم کو آرتھر بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا جس نے اُسے پھانسی کی سزا سنائی۔ دربار میں ملکہ موجود تھی، مجرم نے ملکہ سے رحم کی اپیل کی۔ ملکہ نے ایک شرط پہ معافی دینے کا وعدہ کیا ۔ شرط یہ تھی کہ نائٹ ایک مقررہ مدت میں ملکہ کے ایک سوال کا درست جواب معلوم کرے۔ سوال یہ تھا کہ : شادی کے بندھن میں ایک عورت کیا چاہتی ہے؟

Arthur's queen asks a difficult question

Arthur’s queen asks a difficult question

نائٹ نے سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے جگہ جگہ کی خاک چھانی مگر تسلّی بخش جواب نہ مل سکا۔ اُسے مختلف جواب ملے، جیسے مال و دولت۔ کسی نے کہا، خوش مزاج شوہر۔ کسی نے بتایا، معاشرتی مرتبہ و مقام، سٹیٹس، محبوبانہ چاہت، عاشقانہ قربت، وغیرہ لیکن ان میں سے کوئی جواب درست نہیں تھا۔

155-not-a-living-thing-remained

ایک دن، یونہی اپنی پریشانی میں مبتلا جا رہا تھا۔ اب تو پھانسی کا یقین ہوچلا تھا کہ ایک بد صورت بڈھی کھوسٹ ملی جس نے نائٹ کو پریشان دیکھا، وجہ معلوم ہوئی تو کہنے لگی: جواب تو میں جانتی ہوں، اِس سوال کا ، لیکن اگر میرے ساتھ شادی کا وعدہ کرو تو جواب بتاؤں ، ورنہ تم اپنی راہ اور میں اپنی راہ . . . . نائٹ کو جان کے لالے پڑے تھے ، . . . فوراَََ حامی بھر لی۔ دربار میں پیش ہوا-

195-the-knight-spoke
۔

ملکہ کو درست جواب بتانے پر سزا کی بخشش ہوئی۔ اور . . . . جواب یہ تھا کہ

:

عورت شادی کے بعد اپنے مرد پر پورا اختیار اور حاکمیت چاہتی ہے، شوہر کی مکمل سپردگی کی تمنا رکھتی ہے کہ وہ پورے کا پورا اُس کا ہو جائے۔

To be in maistrie over their husbands

بات تو یہ وہی ہوئی کہ شاعری اور عورت پورا مرد چاہتی ہیں۔ رہائی پانے کے بعد ، اب نائٹ کو اگلی پریشانی نے آن گھیرا کہ اُسے بڑھیا کھوسٹ سے شادی کرنی ہوگی۔ شادی ہوگئی ۔ شادی کے بعد نائٹ کا تنفر محسوس کرتے ہوئے بڑھیا نے بڑے دھیرج سے اُسے دو آپشن دیئے کہ جو چاہے ، چُن لے . . . کہ بوڑھی، بدصورت کو چُن لے جو اطاعت شعار، فرمانبردار، منکسر مزاج اور سادہ ہوگی . . . . . یا پھر ،جوان، خوبصورت کا انتخاب کرلے جو کہ منہ زور اور طرحدار ، نمایاں اور اپنی بات منوانے والی ہوگی۔

fairyroom_the_wife_of_bath_edward_coley_burne-jones

نائٹ نے خوبصورت اور جوان عورت کا انتخاب کیا ۔ اس شادی میں عورت کی چلتی تھی اور وہ نمایاں تھی مگر دونوں ہمیشہ خوش و خرم رہے۔ وائف آف باتھ نے اختتام پہ کہا :

Surely there is little point in the woman having maistrie if all she is to do with it, is to please her husband.

یعنی جب ایک عورت کو اپنے اختیار اور رضا سے شوہر کی رضامندی حاصل کرنے کے سوا کوئی اور کام نہ ہو تو اُس کو سرداری دینے میں کیا رُکاوٹ ہے؟

میں اُس کی دسترس میں ہوں مگر
وہ مجھ کو میری رضا سے مانگتا ہے

Man of law’s tale – 10

میزبان نے سورج کی پوزیشن اور سائے کی لمبائی سے قیاس کیا کہ صبح کے دس بجے ہیں اور وقت تیزی سے گزرتا جا رہا ہے ۔یونانی فلاسفر سینکا (Seneca)کے مطابق ، گمشدہ ریوڑ واپس مل سکتا ہے لیکن گیا وقت کبھی ہاتھ نہیں آتا – اِسی لئے وقت کی قدر کرنی چاہیئے – اِس کے بعد میزبان نے قانون دان /مین آف لاء کو اگلی کہانی سنانے کا کہا-

مین آف لاء کی کہانی:

معلوم ہوتا ہے کہ مین آف لاء کو ملّر/miller اور رییو/reeve کی کہانیاں ناگوار گزریں کیونکہ اُس نے وضاحت کردی کہ وہ ہرگز ایسی کوئی کہانی سنانے کا ارادہ نہیں رکھتا جو گھٹیا ،عامیانہ معاشقوں اور محرمات باتوں پر مشتمل ہوں۔ وہ ایک بامقصد اعلٰی کردار والی کہانی کا انتخاب کرے گا۔ ساتھ ہی اُس نے نثر میں کہانی سنانے کا خیال ظاہر کیا ۔ دیگر منظوم کہانیوں کی نسبت وہ اپنی کہانی کو نثر میں بیان کرکے انفرادیت دینا چاہتا ہے۔

I speke in prose

مین آف لاء نے رومن شہنشاہ کی خوبصورت، بلند کردار، نیک اور باحیا بیٹی، شہزادی کانسٹینس (Constance) کی کہانی سنائی- شام/Syria سے کچھ مالدار تاجر کاروبار کی غرض سے روم آئے۔ اُس وقت روم اہم تجارتی شہر بھی تھا اور عیسائیت کا مرکز بھی۔ روم کے لوگوں سے ملتے ہوئے انھوں نے رومن بادشاہ کی تعریف سُنی اور ساتھ ہی بادشاہ کی بیٹی ، شہزادی کانسٹینس کی خوبصورتی اور خوب سیرتی کا چرچا سنا۔

they heard much talk about Constance

they heard much talk about Constance

یہ تاجر واپس شام آئے تو انھوں نے شام کے سلطان کو سب حال سنایا- بات یہاں تک آن پہنچی کہ شہزادی کی شادی شام کے بادشاہ سے اِس شرط پر طے پا گئی کہ بادشاہ اپنے دربار سمیت عیسائیت اختیار کرلے گا ۔ شہزادی ایک طرف باپ کے طے کردہ فیصلے کے آگے خاموش تھی مگر ایک غیر عیسائی ، بے مذہب شخص کی بیوی بن کر دور دراز چلے جانے بہت مغموم اور افسُردہ تھی۔ شہزادی کی رُخصتی کا وقت آن پہنچا اور شہزادی شام روانہ ہوئی جہاں شہزادی کے استقبال کے لئے شاندار تقریب کا اہتمام ہورہا تھا۔ اِسی تقریب میں شام کے بادشاہ سلطان کی تبدیلیء مذہب کی رسم بھی انجام پانی تھی۔

Constance leaving for Syria

Constance leaving for Syria

سلطان کی والدہ مذہب تبدیل کرنے والی شرط جان کر بہت برہم ہوئی۔ اُسے کسی صورت گوارا نہیں تھا کہ اُس کا بیٹا اسلام چھوڑ کر عیسائی ہوجائے۔ والدہ نے اپنے وفادار عملے کے ہاتھوں عین تقریب میں سلطان کو ساتھیوں سمیت قتل کروادیا۔ شہزادی کانسٹینس انگلستان جانے والے ایک بحری جہاز پہ فرار ہونے میں بمشکل کامیاب ہوئی-

یہاں مین آف لاء نے تمام زائرین سے پوچھا کہ اِس قدر قتل و غارت میں جہاں بادشاہ کا کوئی ساتھی نہ بچ سکا، شہزادی کیونکر محفوظ رہی؟ پھر وہ جواباََ خود ہی کہنے لگا کہ جس یسوع مسیح نے پیغمبر دانیال کو بھوکے شیروں سے محفوظ رکھا ،اُسی نے شہزادی کانسٹینس کے ایمان کی وجہ سے اُس کی حفاظت کی۔

جہاز انگلستان لنگر انداز ہوا تو شہزادی کو ایک مقامی قلعے کے نگران اور اُس کی بیگم ڈیم ہرمن گِلڈ نے اپنے ہاں رہائش دی۔ جلد ہی وہ دونوں شہزادی کے بلند اخلاق اور دعوتِ تبلیغ سے متاثر ہوکر عیسائی ہوگئے۔

وہیں کا ایک مقامی نائٹ شہزادی کو پسند کرنے لگا ۔ لیکن شہزادی کی طرف سے حوصلہ شکنی پا کر اُس نے شہزادی پر ڈیم ہرمن گلڈ کے قتل کا الزام لگا دیا جس کو اُس نے خود قتل کیا تھا۔ معاملہ وہاں کے بادشاہ کے پاس پہنچا۔ بادشاہ نے نائٹ سے انجیلِ مقدس پر حلف لیا کہ واقعی شہزادی قاتل ہے- نائٹ نے جھوٹا حلف اُٹھایا اور دفعتاََ . .خدائی عذاب سے اُس کی آنکھیں ضائع ہوگئیں۔

vol-1-150-man-of-laws-tale

شہزادی کی بے گناہی ثابت ہوگئی۔ بادشاہ نے شہزادی کی بلند کرداری سے متاثر ہو کر اُس سے شادی کرلی۔ اُن کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام ‘ماریشس’ رکھا گیا ۔ بیٹے کی پیدائش کے وقت بادشاہ ایک جنگی مہم پر سکاٹ لینڈ گیا ہوا تھا۔

066-constaqnce

بادشاہ اور شہزادی کانسٹینس کے مابین خط و کتابت تک ایک بد خواہ دشمن خاتون نے رسائی حاصل کر لی اور اُن کے اصل خطوط کو نقلی خطوط سے تبدیل کرنے لگی، جس کی وجہ سے دونوں میں غلط فہمی اور بد مزگی پیدا ہوئی۔ بادشاہ کے حکم پہ شہزادی کو نکال دیا گیا ۔ شہزادی روم روانہ ہوئی۔

108-when-her-boy-lay-asleepCYS_13859880733

واپسی کے سفر میں شہزادی کے بحری جہاز کا سامنا ایک رومن کشتی سے ہوا۔ کشتی کے اہلکار نے شہزادی کو واپس روم پہنچایا جہاں رومن شہنشاہ نے اپنے نواسے کو اپنا ولی عہد نامزد کردیا۔ اِسی عرصے میں بادشاہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ روم گیا جہاں وہ اپنے بیٹے اور بیوی کو مِلا اور اُن کی زندگیوں میں خوشیاں لَوٹ آئیں۔

King Ella meeting his son

King Ella meeting his son

مین آف لاء کی کہانی اِس قدر روح پرور تھی کہ تما م مسافر مذہب سے وابستہ ہونے کی برکات کے معترف ہوئے۔ کہانی دلچسپ بھی تھی اور حوصلہ افزا بھی ۔ کہانی سے یہ سبق ملا کہ راہِ خدا میں آنے والی مشکلات کو شہزادی نے صبر سے برداشت کیا اور دعوتِ حق کرتی رہی۔ سچ کے راستے پر چلنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے ، ازمائشیں بھی آتی ہیں مگر اُخروی نجات کے لئے انسان کو استقامت کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیئے۔

The reeve’s tale – 9

-رییو کی کہانی:

VANIF00Z

اوسولڈ (Oswald) نامی رییو (reeve) نے وضاحت کی کہ وہ چکّی مالکان کی خُوب جانتا ہے- اُس نے “دُھوپ میں بال سُفید کرنے” اور “پکے پھل” کی طرح کے کئی محاوروں کے اضافے کے ساتھ بتایا کہ وہ دنیا کو خُوب جانتا ہے- اُس نے بڑی عمر کی مثال ایک سبز پیاز سے دی جب کہ انسان کا سر سُفید ہوجاتا ہے لیکن باقی سب ہرا رہتا ہے- رییو کہتا ہے کہ اب زندگی کی شام ڈھلنے کو ہے، جیسے کہ شراب کے ایک لبالب بھرے ہوئے پیپے یا کنستر کی ٹونٹی کھُلی ہو اور پیپا اب خالی ہونے کو ہو- عمرڈھلنے کے بعد انسان کے پاس عہدِ رفتہ کی یادیں رہ جاتی ہیں جن کو وہ دُہراتا رہتا ہے-

The four powers of elderly, are, boasting, lying, anger and covetousness.

یعنی کہ بڑھاپے میں انسان کے پاس تکیہ کرنے کو چار باتیں رہ جاتی ہیں، خُود ستائشی و فخریہ گفتگو، جھوٹ بولنا، غصّہ کرنا، حرص اور لوبھ۔

اتنی باتوں پہ میزبان نے رییو کو ٹوکا کہ کہانی کا آغاز کرے اور باتوں میں وقت ضائع نہ کرے۔ اب رییو بھی کہانی کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا : چونکہ ملّر نے قصداََ اُس کو نشانہ بناتے ہوئے ایک بڑھئی کی حماقت کے متعلق کہانی سنائی ہے ، اس لئے وہ بھی اب جوابی وار کے طور پہ اپنی کہانی سنائے گا۔

A Mill

A Mill

اُس نے ایک بے ایمان حرام خور چکی مالک سِمکن Symkan کا قصہ سنایا جو ہر گاہک سے ہیراپھیری اور بے ایمانی کرنے کا عادی ہے۔ کیمبرج کے دو طالبعلم اُس سے مکئی اور آٹا خریدنے آتے ہیں ۔ سِمکن نظر بچا کر اُن کے گھوڑے کھول دیتا ہے – جب وہ دونوں گھوڑے باندھنے جاتے ہیں تو سمکن اُن کے تھیلوں سے غلّہ چراتا ہے اور ایک الگ تھیلے میں ڈال کر دروازے کے پیچھے چھُپا دیتا ہے۔

اِس سارے ماجرے میں دیر ہوجانے کی وجہ سے اُن دونوں کے لئے واپسی ممکن نہیں رہتی اور انھیں چکی والے کے ہاں رات گزارنی پڑتی ہے- دونوں طالبعلموں کو غلّے کی چوری کا شک گزرتا ہے اور وہ چکی مالک سے بدلہ لینے کی ٹھانتے ہیں۔

index

چونکہ یہ چودہویں صدی کا واقعہ ہے لہٰذا سورج ڈوبنے کے بعد روشنی کا خاطرخواہ انتظام نہیں ہوتا تھا، اور اُس وقت لوگوں نے یو پی ایس اور جنریٹر بھی نہیں لگوائے تھے تو بس . . . . اندھیرے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے رات کو ایک لڑکا چکی مالک کی بیٹی کے پاس جا گھُسا جبکہ دوسرا اُس کی بیوی کو پریشان کرنے لگا ۔ چکی مالک اپنی بیوی سے پوچھنے گیا کہ کیا پریشانی ہے – بیوی نے اندھیرے میں اُس کو اجنبی سمجھتے ہوئے اُس کے سر میں کوئی وزنی چیز دے ماری جس کی وجہ سے وہ بے ہوش ہوگیا – ملّر بے ہوش پڑا تھا۔ صبح کی روشنی کے آثار ہونے لگے تھے چنانچہ دونوں لڑکے موقعے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے، اور جاتے ہوئے اپنے غلے کے ساتھ ساتھ دروازے کے پیچھے سے غلے کا وہ تھیلا بھی اُٹھا کر لے گئے جو چکی مالک نے اُن کے تھیلوں سے چُرایا تھا۔

reeves-tale
reeve2jpg

سب زائرین خوب کھِلکھلا کر ہنسے اور باورچی کو تو رییو کی کہانی سُن کر ایسا مزا آیا جیسے کوئی اُس کی کمر کھُجا رہاہے۔ باورچی نے رییو کی کہانی پر تبصرہ کرتے ہوئے مشہور مقولہ پیش کیا کہ ہر ایرے غیرے کو گھر میں نہیں ٹھہرانا چاہیئے – کُک نے اِس بات کا برملا اظہار کیا کہ اُس نے اِس سے پہلے کسی ملّر کی ایسی دُرگت بننے کا احوال نہیں سنا۔

کُک نے اعلان کیا کہ وہ شہر میں ہونے والے ایک مزاحیہ حادثے کے بارے میں کہانی سنائے گا ۔ میزبان نے موقعہ غنیمت جانتے ہوئے ، جہاں باورچی کو تنبیہی انداز میں یاد دلایا کہ کہانی اچھی ہونی چاہیئے ، وہیں یہ شکوہ بھی کردیا کہ وہ باسی کھانے پیش کرتا ہے اور پکوائی میں صفائی کا خیال نہیں رکھتا ۔ اس شکوے کے ساتھ ہی میزبان نے معذرت بھی کر لی کہ وہ محض مذاق کر رہاہے اور باورچی کو خفا نہیں ہونا چاہیئے ۔

کُک نے خندہ پیشانی سے میزبان کی بات سُنی، اُس کی بات سے اتفاق کیا ۔ اب اُس کی کچی سی ہوگئی ، بس اُس نے اپنا کہانی سنانے کا ارادہ ملتوی کردیا کہ وہ سفر میں پھر کبھی اپنی کہانی سنائے گا۔

The miller’s tale – 8

Heere bigynneth the Millere his tale.

نائٹ کی کہانی کے بعدملّر بضد ہوا کہ اگلی کہانی وہ سنائے گا – کہانی شروع کرنے سے پہلے ملّر نے پیشگی معذرت کی کہ وہ نشے میں ہے اور چونکہ نشے میں بھی وہ نشے کی قباحت جانتا ہے اور اگر نشے کی وجہ سے وہ کچھ غلط سلط کہہ جائے تو مسافراُسے درگزر کریں- ملّر کی کہانی انتہائی احمقانہ واقعات پر مبنی معاشقے کے بارے میں ہے جو ملّر کی ذہنی سطح کو ظاہر کرتی ہے-

The miller

The miller

ملّر نے ایک بوڑھے بڑھئی جون اور اُس کی جواں سال حسین بیوی ایلیسن کی کہانی سنائی، اُن دونوں کے ساتھ رہنے والے ایک لڑکے نکولس کا دل ، بڑھئی کی بیوی پر آگیا تھا-

Alison

Alison


This Nicholas gan mercy for to crye,
And spak so faire, and profred him so faste,

This Nicholas began to cry for mercy,
And spoke so fair, and pressed his suit so fast,

ایلیسن کو بھی اپنا ہم عمر نوجوان اچھا لگنے لگا- اِن دونوں نے خفیہ ملاقات کا پروگرام بنایا- نکولس نے بڑھئی جون کو ایک پیشین گوئی کا بتایا جس کے مطابق طوفانِ نوح جیسا ایک بڑا سیلاب متوقع ہے- بچاؤ کی تدبیر کرنی ہوگی، لہذٰا مکان کی چھت پر رسی سے ایک ٹب کو معّلق کر کے اُس میں بیٹھنا کارگر ہوگا تاکہ زیادہ پانی چڑھ جانے کی صورت میں رسی کاٹ کر ٹب میں تیرنے کی سہولت حاصل ہوسکے-

untitled
“Now John,” said Nicholas, “I will not lie
I have found in my astrology,
As I have looked on the bright moon,
That now on Monday next, after midnight,
Shall fall a rain, and that so wild and raging
That Noah’s flood was never half so large
“Thy wife and thou must hang far apart,
So that between yow shall be no sin
Page 2 tubs

جون ٹب میں چھپ کر بیٹھ گیا جبکہ نکولس اور ایلیسن نظر بچا کر گھر کے اندر چلے گئے- ایک وِلن کا بندوبست ٹب میں کرکے آئے تھے کہ ایک اور آدھمکا- بوڑھے آدمی کی جواں سال اور حسین بیوی کو دیکھ کر اکثر مردوں میں ترس والی چاہت کا پیدا ہونا فطری ہے آخر . . .

اس کہانی میں ، ایلیسن کے ایک ایسے ہی جانثار نے کھڑکی کے قریب کھڑے ہوکر گانے کا نذرانہ پیش کیا اور بوسے کا تقاضا کیا-

And softe he cougheth with a semy soun:
“What do ye, hony-comb, sweete Alisoun,

And softly he coughs with a gentle sound:
“What do you, honey-comb, sweet Alisoun,

اُس جانثار کو اندھیرے میں ہونٹوں پہ بوسہ نہ مل سکا –

But with his mouth he kiste her naked ers,
Ful savourly, er he were war of this.
Abak he sterte, and thoughte it was amis,
For wel he wiste a woman hath no beerd.
He felte a thing al rough and longe yherd,
And saide, “Fy, allas, what have I do?”

غصے میں وہ ایک دھاتی اوزار گرم کرکے لایا اور مزید ایک بوسے کا کہہ کر نکولس کی پیٹھ کو داغ دیا –نکولس چلّایا: پانی، پانی- چیخنے کی آواز اور ہنگامہ سُن کر بڑھئی جون نے ٹب کی رسی کاٹ لی اور نیچے آن گرا –کہانی ختم ہوئی-

end

نشے میں مدہوش ملّر نے اِس بےڈھبی کہانی کا خلاصہ یوں پیش کیا کہ انسان کو ہمیشہ اپنی ہم پلّہ اور ہم عمر عورت سے ہی شادی کرنی چاہئے-

Men sholde wedden after hire estaat,
For youthe and elde is often at debaat.

Men should wed according to their status in life,
For youth and old age are often in conflict.

ملّر کی کہانی پر تمام مسافر خوب دِل کھول کر ہنسے . . . . . . اور محظوظ ہوئے، . . . . ما سوائے رِیو کے، جس نے اِس کو ذاتی توہین سمجھا- رِیو، پیشے کے اعتبار سے بڑھئی تھا اور یہ کہانی سُن کر بہت برہم ہوا-
رِیو اور ملّر میں وفاداری اور بے وفائی کے موضوع پر خاصی بحث ہوئی-

The knight’s tale – 7

-1- نائٹ کی کہانی:

بہادری اور زندگی میں بلند مقاصد کے حامل نائٹ کو احتراماََ سب سے پہلے کہانی سنانے کے لئے کہا گیا – نائٹ نے شعری وزن اور بحر میں شجاعت پر مبنی ایک رومانی کہانی سنائی- یہ یونان کے شہر تھیبن ( THEBAN) کے دو جواں سال بہادر سُورماؤں ، آرسائٹ اور پالامون کا قصہ ہے-

Arcite on his horse

Arcite on his horse

آپس میں کزن ، دونوں سُورما، ایتھنز کے بادشاہ تھیسیوز/THESEUS کی سالی ایمیلی کی محبت میں دل ہار بیٹھے تھے-

Once upon a time, old stories tell us,
There was a duke whose name was Theseus.
Of Athens he was lord and governor,
And in his time was such a conqueror

یہ دونوں جوان ایک بار کسی جنگ میں ہارنے کے بعد قیدی بنا لئے گئے- قید خانے کی ایک کھڑکی شاہی باغیچے میں کھُلتی تھی- جہاں بادشاہ کی حسین ملکہ اور ملکہ کی پھولوں جیسی خوبصورت بہن ٹہلنے آیا کرتی تھیں- بادشاہ کی سالی باغیچے سے پھول چُنا کرتی تھی- بس کیوپڈ نے تیر چلایا اور دل گھائل ہوگیا-

018-emelye-the-queens-sister-in-the-palace-garden
So year by year it went, and day by day,
Until one morning it befell in May
That Emily, a fairer sight to see
Than lilies on a stalk of green could be,
And fresher than the flowers May discloses–
Her hue strove with the color of the roses
Till I know not the fairer of the two–

She thought of the two princes/ A painting

She thought of the two princes/ A painting

اب جواں مردی کی آزمائش کا مرحلہ تھا- بادشاہ کے رائے کے مطابق، ایک سال تک لشکر تیار کرنے کے بعد وہ دونوں ایک دوسرے کے مدِّ مقابل آئے، ایک مارا گیا اور دوسرے کو اپنی محبت نصیب ہوئی- پالامون نے بڑی شان و شوکت سے شہزادی ایمیلی سے شادی کی-

Wedding of Palamon and Emelye

Wedding of Palamon and Emelye


Original text:
Bitwixen hem was maad anon the bond
That highte matrimoigne or mariage,
By al the conseil and the baronage.
And thus with alle blisse and melodye
2240 Hath Palamon ywedded Emelye;
And God, that al this wyde world hath wroght,
Sende hym his love that hath it deere aboght,
For now is Palamon in alle wele,
Lyvynge in blisse, in richesse, and in heele,
2245 And Emelye hym loveth so tendrely,
And he hir serveth al so gentilly,
That nevere was ther no word hem bitwene,
Of jalousie, or any oother teene.
Thus endeth Palamon and Emelye,
2250 And God save al this faire compaignye! Amen.

Translation:
The two at once were joined in the grand
And holy union that is known as marriage
Before the council and the baronage.
And so amid much bliss and melody
Has Palamon been wed to Emily;
So God on high, who all this world has wrought,
Has sent to him his love so dearly bought.
Now Palamon had all that’s known as wealth,
To live in bliss, in richness and in health;
And Emily loved him so tenderly,
And he served her with such nobility,
That not one word between this man and wife
Would ever be of jealousy or strife.
So ended Palamon and Emily,
And God save all this lovely company! Amen.

نائٹ کی کہانی تقریباََ 2240 سطور پر مشتمل ہے جس میں بے جِگری، بہادری اور معرکہ آرائی کا ذکر سُن کر تمام مسافر عَش عَش کر اُٹھے . . . . کہ واقعی دلبری تو یہی ہے کہ جس کو چاہا جائے اُس کی خاطر ہر چیز قربان کردی جائے، اور بےخوف ہو کر انتہا تک چلے جانا بزدلوں کا شیوہ نہیں- بہادری اور شجاعت بہت عظیم اوصاف ہیں- اس موضوع پر فلم بھی بن چُکی ہے لیکن اگر وہ فلم چاوسر صاحب دیکھ لیتے تو رُوٹھ جاتے کہ فلم کی کہانی ِ چاوسر کی اصل کہانی سے بہت فرق ہے-

اِسی اثنا میں ملّر نے ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ اگلی کہانی وہ سنائے گا –

انفرادی کہانیاں – 6

مسافروں کی پیش کردہ انفرادی کہانیاں /کینٹربری ٹیلز/ حصہ 6

شاعر نے تمام زائرین کا فرداََ فرداََ تعارف اس وضاحت سے پیش کیا کہ گویا پڑھنے والا خود اُنھیں دیکھ رہا ہے-شاید اُس زمانے میں ادب کو بطور اّلہ ء جراحی یا ٹارچر ٹول استعمال کرنے کا رحجان نہ تھا –لہذا ٰ اگر کبھی ضرورت کے تحت کڑواہٹ کا اضافہ کیا جاتا تو اُس پر معافی مانگ لی جاتی تھی- یہ بات انگریزی ادب کا ہی خاصہ نہیں تھی بلکہ معذرت کرنے کی یہ روایت اردو ادب میں بھی ملتی ہے- یہاں تک کہ ہجویہ کلام میں بھی ایک حدِّ ادب قائم رکھی جاتی تھی-

کسی مسافر کی کہانی سے قاری کی دل آزاری ہو تو اِس بات کے لئے شاعر آغاز میں ہی معذرت کررہا ہے- اِس کو آجکل کا اعلانِ دستبرداری /ڈِسکلیمر نوٹ سمجھ لیں جیسے کہا جاتا ہے کہ اِس کہانی کے کردار اور واقعات فرضی ہیں ، کسی سے مُماثلت محض اتفاقیہ ہوگی-

رنگ برنگی اور بھانت بھانت کی کہانیاں سنانے سے پہلے راوی نے خُود کو راست بازی کی یاد دہانی کروائی کہ وہ تمام کرداروں کے کہے گئے الفاظ کو ایمانداری سے بیان کرے گا خواہ وہ تلخ یا قابلِ نفرت ہی کیوں نہ ہوں- اُس نے اپنی بات کی تائید میں افلاطون اور یسوع مسیح کا حوالہ دیا کہ کسی قیمت پر صاف گوئی اور سچ کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے- یہ دونوں سچ پر ثابت قدم رہے، موت کو گلے لگا لیا لیکن غلط بات تسلیم نہیں کی-

اب راوی ٹیبرڈ سرائے میں سفر کا ارادہ کرنے والے تمام مسافروں کی پہلی رات کے ذکر سے کہانیوں کے سلسلے کا آغاز کرتا ہے- یہ تمام مسافر اپنے اسباب اور سواری سمیت ، اگلی صبح سفر پہ نکلنے کے ارادے سے، اِس سرائے میں جمع ہوگئے تھے- سرائے کے میزبان نے رات کے کھانے اور بِل کی وصولی کے بعد سب مسافروں کو بڑی گرم جوشی سے خوش آمدید کہا- اور یہ خیال بھی اُس میزبان ہی نے پیش کیا کہ خاموشی رہ کر سفر کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ اِس موقعے کو کہانیوں کے تبادلے اور مقابلے کے لئے استعمال کیا جائے- یہ تجویز بھی میزبان نے ہی پیش کی کہ کینٹربری کی طرف جاتے ہوئے ہر مسافر دو کہانیاں سُنائے گا اور اِسی طرح واپسی کے سفر میں بھی ہر مسافر کو دو کہانیاں سنانی ہوں گی- جس مسافر کی کہانی کو میزبان سب سے بامقصد اور پُر لطف قرار دے گا، اُس مسافر کا ایک کھانا باقی تمام مسافروں کی طرف سے ہوگا – تمام مسافروں نے اِس بات سے اتفاق کیا اور میزبان نے مسافروں کے اِس صائب فیصلے کو سراہا-

روانگی سے پہلے سرائے میں مسافرین

روانگی سے پہلے سرائے میں مسافرین

دلچسپ بات جو نوٹ کرنے کی ہے کہ شاعر نے ہر مسافر کی جانب سے چار چار کہانیوں کی جگہ مسافروں کی تعداد جتنی کہانیاں بھی شامل نہیں کیں-کئی مسافر ایسے ہیں جن کا تعارف تو کروایا گیا ہے مگر اُن کی جانب سے کوئی کہانی پیش نہیں کی گئی- نقّادوں اور ادبی ماہرین نے اپنی اپنی سمجھ کے مطابق گنتی کے اِس تفاوت کی توجیہات پیش کی ہیں-

جو کہانیاں ، مسافروں نے پیش کیں وہ بہت مختلف اقسام کی ہیں اور اِن کہانیوں میں اُسی قدر تنّوع ہے جو کہ خود مسافروں میں نظر آتا ہے- ہر مسافرنے سنانے کے لئے جو کہانی منتخب کی وہ میڈیول معاشرے میں اُس مسافر کے معاشرتی مقام کے مطابق تھی اور ساتھ ہی ، اُس مخصوص کردار کی ذہنی سطح کی عکاسی کرتی تھی- یعنی کہ اِن کہانیوں کے ذریعے آج کا قاری چودہویں صدی کے معاشرے کو دیکھ سکتا ہے، نہ صرف معاشرے کی ایک تصویری جھلک بلکہ اُس عہد کے لوگوں کی انفرادی شخصیت کا مطالعہ کرنا بھی ممکن ہے- اِس رنگا رنگ گروہ نے بہت مختلف اقسام کی کہانیاں پیش کیں جو اپنی جگہ ایک کمال کی بات ہے-

تمام کہانیاں مختلف اہم موضوعات سے متعلق ہیں، اگرچہ ظاہری طور پہ مہمل بھی لگتی ہوں- بہت کم کہانیوں میں مشابہت ملتی ہے، کچھ سنجیدہ کہانیاں ہیں، کچھ مزاحیہ، کچھ علامتی ، . . . . لیکن سب کہانیا ں بہت محتاط انداز میں انسانی فطرت کے رحجانات اور خامیوں کو پیش کرتی ہیں- بہت سی کہانیاں آپس میں کسی مشترکہ مرکزی خیال (theme) کی وجہ سے مربوط ہیں- یہ مرکزی خیال یا تھیم اِن سب میں کارفرما نظر آتی ہیں- کچھ کہانیوں میں بعض کرداروں کو طنز اور تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے- اور کچھ کہانیاں جوابی کاروائی کے طور پر پیش کی گئیں- کہیں کہیں کہانیاں استدلال، حجت یا مکالمہ/argument کی شکل میں ہیں- چاوسر نے مسافروں کو باہم برابر اور ہم پلّہ کرداروں کے طور پر پیش کیا ہے- اُص نے کہانیوں اور تعارف میں یہ بات ملحوظِ خاطر رکھی کہ کوئی کردار دوسرے سے برتر، نمایاں یا کمتر نہ رہے- کرداروں میں افسر نوابی سُورما، متّقی صالح پارسن، میلا نفرت انگیز باورچی ، کئی بار مطلقہ بیگم ، دلچسپ پرائرس، اور اِسی طرح ہر کردار اپنی جگہ منفرد ہے-

the_canterbury_tales_by_eljiasan-d4mmjo1

Its the same date !

anniversary-1x

I have been missing my blog since many previous days, due to a lengthy and really time taking writing task, which I have assigned to myself, by my self. OH yes. A message has welcomed me as I turned on my pc. It read like: “Happy Anniversary!” So to my wonder, it’s the same date of February when i made this blog! It will be encouraging or can be eye-opening to know, of what quality has been my random writings, that i have been able to put down in the form of posts on the blog, out of a loaded clip-board. Best of wishes and many blessings for every eye that reads this. May ALLAH keep you always happy and safe. aameen