Home » Canterbury Tales » انفرادی کہانیاں – 6

انفرادی کہانیاں – 6

مسافروں کی پیش کردہ انفرادی کہانیاں /کینٹربری ٹیلز/ حصہ 6

شاعر نے تمام زائرین کا فرداََ فرداََ تعارف اس وضاحت سے پیش کیا کہ گویا پڑھنے والا خود اُنھیں دیکھ رہا ہے-شاید اُس زمانے میں ادب کو بطور اّلہ ء جراحی یا ٹارچر ٹول استعمال کرنے کا رحجان نہ تھا –لہذا ٰ اگر کبھی ضرورت کے تحت کڑواہٹ کا اضافہ کیا جاتا تو اُس پر معافی مانگ لی جاتی تھی- یہ بات انگریزی ادب کا ہی خاصہ نہیں تھی بلکہ معذرت کرنے کی یہ روایت اردو ادب میں بھی ملتی ہے- یہاں تک کہ ہجویہ کلام میں بھی ایک حدِّ ادب قائم رکھی جاتی تھی-

کسی مسافر کی کہانی سے قاری کی دل آزاری ہو تو اِس بات کے لئے شاعر آغاز میں ہی معذرت کررہا ہے- اِس کو آجکل کا اعلانِ دستبرداری /ڈِسکلیمر نوٹ سمجھ لیں جیسے کہا جاتا ہے کہ اِس کہانی کے کردار اور واقعات فرضی ہیں ، کسی سے مُماثلت محض اتفاقیہ ہوگی-

رنگ برنگی اور بھانت بھانت کی کہانیاں سنانے سے پہلے راوی نے خُود کو راست بازی کی یاد دہانی کروائی کہ وہ تمام کرداروں کے کہے گئے الفاظ کو ایمانداری سے بیان کرے گا خواہ وہ تلخ یا قابلِ نفرت ہی کیوں نہ ہوں- اُس نے اپنی بات کی تائید میں افلاطون اور یسوع مسیح کا حوالہ دیا کہ کسی قیمت پر صاف گوئی اور سچ کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے- یہ دونوں سچ پر ثابت قدم رہے، موت کو گلے لگا لیا لیکن غلط بات تسلیم نہیں کی-

اب راوی ٹیبرڈ سرائے میں سفر کا ارادہ کرنے والے تمام مسافروں کی پہلی رات کے ذکر سے کہانیوں کے سلسلے کا آغاز کرتا ہے- یہ تمام مسافر اپنے اسباب اور سواری سمیت ، اگلی صبح سفر پہ نکلنے کے ارادے سے، اِس سرائے میں جمع ہوگئے تھے- سرائے کے میزبان نے رات کے کھانے اور بِل کی وصولی کے بعد سب مسافروں کو بڑی گرم جوشی سے خوش آمدید کہا- اور یہ خیال بھی اُس میزبان ہی نے پیش کیا کہ خاموشی رہ کر سفر کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ اِس موقعے کو کہانیوں کے تبادلے اور مقابلے کے لئے استعمال کیا جائے- یہ تجویز بھی میزبان نے ہی پیش کی کہ کینٹربری کی طرف جاتے ہوئے ہر مسافر دو کہانیاں سُنائے گا اور اِسی طرح واپسی کے سفر میں بھی ہر مسافر کو دو کہانیاں سنانی ہوں گی- جس مسافر کی کہانی کو میزبان سب سے بامقصد اور پُر لطف قرار دے گا، اُس مسافر کا ایک کھانا باقی تمام مسافروں کی طرف سے ہوگا – تمام مسافروں نے اِس بات سے اتفاق کیا اور میزبان نے مسافروں کے اِس صائب فیصلے کو سراہا-

روانگی سے پہلے سرائے میں مسافرین

روانگی سے پہلے سرائے میں مسافرین

دلچسپ بات جو نوٹ کرنے کی ہے کہ شاعر نے ہر مسافر کی جانب سے چار چار کہانیوں کی جگہ مسافروں کی تعداد جتنی کہانیاں بھی شامل نہیں کیں-کئی مسافر ایسے ہیں جن کا تعارف تو کروایا گیا ہے مگر اُن کی جانب سے کوئی کہانی پیش نہیں کی گئی- نقّادوں اور ادبی ماہرین نے اپنی اپنی سمجھ کے مطابق گنتی کے اِس تفاوت کی توجیہات پیش کی ہیں-

جو کہانیاں ، مسافروں نے پیش کیں وہ بہت مختلف اقسام کی ہیں اور اِن کہانیوں میں اُسی قدر تنّوع ہے جو کہ خود مسافروں میں نظر آتا ہے- ہر مسافرنے سنانے کے لئے جو کہانی منتخب کی وہ میڈیول معاشرے میں اُس مسافر کے معاشرتی مقام کے مطابق تھی اور ساتھ ہی ، اُس مخصوص کردار کی ذہنی سطح کی عکاسی کرتی تھی- یعنی کہ اِن کہانیوں کے ذریعے آج کا قاری چودہویں صدی کے معاشرے کو دیکھ سکتا ہے، نہ صرف معاشرے کی ایک تصویری جھلک بلکہ اُس عہد کے لوگوں کی انفرادی شخصیت کا مطالعہ کرنا بھی ممکن ہے- اِس رنگا رنگ گروہ نے بہت مختلف اقسام کی کہانیاں پیش کیں جو اپنی جگہ ایک کمال کی بات ہے-

تمام کہانیاں مختلف اہم موضوعات سے متعلق ہیں، اگرچہ ظاہری طور پہ مہمل بھی لگتی ہوں- بہت کم کہانیوں میں مشابہت ملتی ہے، کچھ سنجیدہ کہانیاں ہیں، کچھ مزاحیہ، کچھ علامتی ، . . . . لیکن سب کہانیا ں بہت محتاط انداز میں انسانی فطرت کے رحجانات اور خامیوں کو پیش کرتی ہیں- بہت سی کہانیاں آپس میں کسی مشترکہ مرکزی خیال (theme) کی وجہ سے مربوط ہیں- یہ مرکزی خیال یا تھیم اِن سب میں کارفرما نظر آتی ہیں- کچھ کہانیوں میں بعض کرداروں کو طنز اور تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے- اور کچھ کہانیاں جوابی کاروائی کے طور پر پیش کی گئیں- کہیں کہیں کہانیاں استدلال، حجت یا مکالمہ/argument کی شکل میں ہیں- چاوسر نے مسافروں کو باہم برابر اور ہم پلّہ کرداروں کے طور پر پیش کیا ہے- اُص نے کہانیوں اور تعارف میں یہ بات ملحوظِ خاطر رکھی کہ کوئی کردار دوسرے سے برتر، نمایاں یا کمتر نہ رہے- کرداروں میں افسر نوابی سُورما، متّقی صالح پارسن، میلا نفرت انگیز باورچی ، کئی بار مطلقہ بیگم ، دلچسپ پرائرس، اور اِسی طرح ہر کردار اپنی جگہ منفرد ہے-

the_canterbury_tales_by_eljiasan-d4mmjo1

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s