Home » Canterbury Tales » The miller’s tale – 8

The miller’s tale – 8

Heere bigynneth the Millere his tale.

نائٹ کی کہانی کے بعدملّر بضد ہوا کہ اگلی کہانی وہ سنائے گا – کہانی شروع کرنے سے پہلے ملّر نے پیشگی معذرت کی کہ وہ نشے میں ہے اور چونکہ نشے میں بھی وہ نشے کی قباحت جانتا ہے اور اگر نشے کی وجہ سے وہ کچھ غلط سلط کہہ جائے تو مسافراُسے درگزر کریں- ملّر کی کہانی انتہائی احمقانہ واقعات پر مبنی معاشقے کے بارے میں ہے جو ملّر کی ذہنی سطح کو ظاہر کرتی ہے-

The miller

The miller

ملّر نے ایک بوڑھے بڑھئی جون اور اُس کی جواں سال حسین بیوی ایلیسن کی کہانی سنائی، اُن دونوں کے ساتھ رہنے والے ایک لڑکے نکولس کا دل ، بڑھئی کی بیوی پر آگیا تھا-

Alison

Alison


This Nicholas gan mercy for to crye,
And spak so faire, and profred him so faste,

This Nicholas began to cry for mercy,
And spoke so fair, and pressed his suit so fast,

ایلیسن کو بھی اپنا ہم عمر نوجوان اچھا لگنے لگا- اِن دونوں نے خفیہ ملاقات کا پروگرام بنایا- نکولس نے بڑھئی جون کو ایک پیشین گوئی کا بتایا جس کے مطابق طوفانِ نوح جیسا ایک بڑا سیلاب متوقع ہے- بچاؤ کی تدبیر کرنی ہوگی، لہذٰا مکان کی چھت پر رسی سے ایک ٹب کو معّلق کر کے اُس میں بیٹھنا کارگر ہوگا تاکہ زیادہ پانی چڑھ جانے کی صورت میں رسی کاٹ کر ٹب میں تیرنے کی سہولت حاصل ہوسکے-

untitled
“Now John,” said Nicholas, “I will not lie
I have found in my astrology,
As I have looked on the bright moon,
That now on Monday next, after midnight,
Shall fall a rain, and that so wild and raging
That Noah’s flood was never half so large
“Thy wife and thou must hang far apart,
So that between yow shall be no sin
Page 2 tubs

جون ٹب میں چھپ کر بیٹھ گیا جبکہ نکولس اور ایلیسن نظر بچا کر گھر کے اندر چلے گئے- ایک وِلن کا بندوبست ٹب میں کرکے آئے تھے کہ ایک اور آدھمکا- بوڑھے آدمی کی جواں سال اور حسین بیوی کو دیکھ کر اکثر مردوں میں ترس والی چاہت کا پیدا ہونا فطری ہے آخر . . .

اس کہانی میں ، ایلیسن کے ایک ایسے ہی جانثار نے کھڑکی کے قریب کھڑے ہوکر گانے کا نذرانہ پیش کیا اور بوسے کا تقاضا کیا-

And softe he cougheth with a semy soun:
“What do ye, hony-comb, sweete Alisoun,

And softly he coughs with a gentle sound:
“What do you, honey-comb, sweet Alisoun,

اُس جانثار کو اندھیرے میں ہونٹوں پہ بوسہ نہ مل سکا –

But with his mouth he kiste her naked ers,
Ful savourly, er he were war of this.
Abak he sterte, and thoughte it was amis,
For wel he wiste a woman hath no beerd.
He felte a thing al rough and longe yherd,
And saide, “Fy, allas, what have I do?”

غصے میں وہ ایک دھاتی اوزار گرم کرکے لایا اور مزید ایک بوسے کا کہہ کر نکولس کی پیٹھ کو داغ دیا –نکولس چلّایا: پانی، پانی- چیخنے کی آواز اور ہنگامہ سُن کر بڑھئی جون نے ٹب کی رسی کاٹ لی اور نیچے آن گرا –کہانی ختم ہوئی-

end

نشے میں مدہوش ملّر نے اِس بےڈھبی کہانی کا خلاصہ یوں پیش کیا کہ انسان کو ہمیشہ اپنی ہم پلّہ اور ہم عمر عورت سے ہی شادی کرنی چاہئے-

Men sholde wedden after hire estaat,
For youthe and elde is often at debaat.

Men should wed according to their status in life,
For youth and old age are often in conflict.

ملّر کی کہانی پر تمام مسافر خوب دِل کھول کر ہنسے . . . . . . اور محظوظ ہوئے، . . . . ما سوائے رِیو کے، جس نے اِس کو ذاتی توہین سمجھا- رِیو، پیشے کے اعتبار سے بڑھئی تھا اور یہ کہانی سُن کر بہت برہم ہوا-
رِیو اور ملّر میں وفاداری اور بے وفائی کے موضوع پر خاصی بحث ہوئی-

3 thoughts on “The miller’s tale – 8

  1. کیا بات کی
    بوڑھے آدمی کی جواں سال اور حسین بیوی کو دیکھ کر اکثر مردوں میں ترس والی چاہت کا پیدا ہونا فطری ہے آخر . . .
    ایسی ویسی ہمدردی کہ توبہ
    اور وہی عورت اپنے پہلو میں ہو تو مجال ہے کہ اُس کی کوئی اچھی بات نظر آجائے

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s