Home » Canterbury Tales » The reeve’s tale – 9

The reeve’s tale – 9

-رییو کی کہانی:

VANIF00Z

اوسولڈ (Oswald) نامی رییو (reeve) نے وضاحت کی کہ وہ چکّی مالکان کی خُوب جانتا ہے- اُس نے “دُھوپ میں بال سُفید کرنے” اور “پکے پھل” کی طرح کے کئی محاوروں کے اضافے کے ساتھ بتایا کہ وہ دنیا کو خُوب جانتا ہے- اُس نے بڑی عمر کی مثال ایک سبز پیاز سے دی جب کہ انسان کا سر سُفید ہوجاتا ہے لیکن باقی سب ہرا رہتا ہے- رییو کہتا ہے کہ اب زندگی کی شام ڈھلنے کو ہے، جیسے کہ شراب کے ایک لبالب بھرے ہوئے پیپے یا کنستر کی ٹونٹی کھُلی ہو اور پیپا اب خالی ہونے کو ہو- عمرڈھلنے کے بعد انسان کے پاس عہدِ رفتہ کی یادیں رہ جاتی ہیں جن کو وہ دُہراتا رہتا ہے-

The four powers of elderly, are, boasting, lying, anger and covetousness.

یعنی کہ بڑھاپے میں انسان کے پاس تکیہ کرنے کو چار باتیں رہ جاتی ہیں، خُود ستائشی و فخریہ گفتگو، جھوٹ بولنا، غصّہ کرنا، حرص اور لوبھ۔

اتنی باتوں پہ میزبان نے رییو کو ٹوکا کہ کہانی کا آغاز کرے اور باتوں میں وقت ضائع نہ کرے۔ اب رییو بھی کہانی کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا : چونکہ ملّر نے قصداََ اُس کو نشانہ بناتے ہوئے ایک بڑھئی کی حماقت کے متعلق کہانی سنائی ہے ، اس لئے وہ بھی اب جوابی وار کے طور پہ اپنی کہانی سنائے گا۔

A Mill

A Mill

اُس نے ایک بے ایمان حرام خور چکی مالک سِمکن Symkan کا قصہ سنایا جو ہر گاہک سے ہیراپھیری اور بے ایمانی کرنے کا عادی ہے۔ کیمبرج کے دو طالبعلم اُس سے مکئی اور آٹا خریدنے آتے ہیں ۔ سِمکن نظر بچا کر اُن کے گھوڑے کھول دیتا ہے – جب وہ دونوں گھوڑے باندھنے جاتے ہیں تو سمکن اُن کے تھیلوں سے غلّہ چراتا ہے اور ایک الگ تھیلے میں ڈال کر دروازے کے پیچھے چھُپا دیتا ہے۔

اِس سارے ماجرے میں دیر ہوجانے کی وجہ سے اُن دونوں کے لئے واپسی ممکن نہیں رہتی اور انھیں چکی والے کے ہاں رات گزارنی پڑتی ہے- دونوں طالبعلموں کو غلّے کی چوری کا شک گزرتا ہے اور وہ چکی مالک سے بدلہ لینے کی ٹھانتے ہیں۔

index

چونکہ یہ چودہویں صدی کا واقعہ ہے لہٰذا سورج ڈوبنے کے بعد روشنی کا خاطرخواہ انتظام نہیں ہوتا تھا، اور اُس وقت لوگوں نے یو پی ایس اور جنریٹر بھی نہیں لگوائے تھے تو بس . . . . اندھیرے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے رات کو ایک لڑکا چکی مالک کی بیٹی کے پاس جا گھُسا جبکہ دوسرا اُس کی بیوی کو پریشان کرنے لگا ۔ چکی مالک اپنی بیوی سے پوچھنے گیا کہ کیا پریشانی ہے – بیوی نے اندھیرے میں اُس کو اجنبی سمجھتے ہوئے اُس کے سر میں کوئی وزنی چیز دے ماری جس کی وجہ سے وہ بے ہوش ہوگیا – ملّر بے ہوش پڑا تھا۔ صبح کی روشنی کے آثار ہونے لگے تھے چنانچہ دونوں لڑکے موقعے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے، اور جاتے ہوئے اپنے غلے کے ساتھ ساتھ دروازے کے پیچھے سے غلے کا وہ تھیلا بھی اُٹھا کر لے گئے جو چکی مالک نے اُن کے تھیلوں سے چُرایا تھا۔

reeves-tale
reeve2jpg

سب زائرین خوب کھِلکھلا کر ہنسے اور باورچی کو تو رییو کی کہانی سُن کر ایسا مزا آیا جیسے کوئی اُس کی کمر کھُجا رہاہے۔ باورچی نے رییو کی کہانی پر تبصرہ کرتے ہوئے مشہور مقولہ پیش کیا کہ ہر ایرے غیرے کو گھر میں نہیں ٹھہرانا چاہیئے – کُک نے اِس بات کا برملا اظہار کیا کہ اُس نے اِس سے پہلے کسی ملّر کی ایسی دُرگت بننے کا احوال نہیں سنا۔

کُک نے اعلان کیا کہ وہ شہر میں ہونے والے ایک مزاحیہ حادثے کے بارے میں کہانی سنائے گا ۔ میزبان نے موقعہ غنیمت جانتے ہوئے ، جہاں باورچی کو تنبیہی انداز میں یاد دلایا کہ کہانی اچھی ہونی چاہیئے ، وہیں یہ شکوہ بھی کردیا کہ وہ باسی کھانے پیش کرتا ہے اور پکوائی میں صفائی کا خیال نہیں رکھتا ۔ اس شکوے کے ساتھ ہی میزبان نے معذرت بھی کر لی کہ وہ محض مذاق کر رہاہے اور باورچی کو خفا نہیں ہونا چاہیئے ۔

کُک نے خندہ پیشانی سے میزبان کی بات سُنی، اُس کی بات سے اتفاق کیا ۔ اب اُس کی کچی سی ہوگئی ، بس اُس نے اپنا کہانی سنانے کا ارادہ ملتوی کردیا کہ وہ سفر میں پھر کبھی اپنی کہانی سنائے گا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s