Home » Canterbury Tales » Man of law’s tale – 10

Man of law’s tale – 10

میزبان نے سورج کی پوزیشن اور سائے کی لمبائی سے قیاس کیا کہ صبح کے دس بجے ہیں اور وقت تیزی سے گزرتا جا رہا ہے ۔یونانی فلاسفر سینکا (Seneca)کے مطابق ، گمشدہ ریوڑ واپس مل سکتا ہے لیکن گیا وقت کبھی ہاتھ نہیں آتا – اِسی لئے وقت کی قدر کرنی چاہیئے – اِس کے بعد میزبان نے قانون دان /مین آف لاء کو اگلی کہانی سنانے کا کہا-

مین آف لاء کی کہانی:

معلوم ہوتا ہے کہ مین آف لاء کو ملّر/miller اور رییو/reeve کی کہانیاں ناگوار گزریں کیونکہ اُس نے وضاحت کردی کہ وہ ہرگز ایسی کوئی کہانی سنانے کا ارادہ نہیں رکھتا جو گھٹیا ،عامیانہ معاشقوں اور محرمات باتوں پر مشتمل ہوں۔ وہ ایک بامقصد اعلٰی کردار والی کہانی کا انتخاب کرے گا۔ ساتھ ہی اُس نے نثر میں کہانی سنانے کا خیال ظاہر کیا ۔ دیگر منظوم کہانیوں کی نسبت وہ اپنی کہانی کو نثر میں بیان کرکے انفرادیت دینا چاہتا ہے۔

I speke in prose

مین آف لاء نے رومن شہنشاہ کی خوبصورت، بلند کردار، نیک اور باحیا بیٹی، شہزادی کانسٹینس (Constance) کی کہانی سنائی- شام/Syria سے کچھ مالدار تاجر کاروبار کی غرض سے روم آئے۔ اُس وقت روم اہم تجارتی شہر بھی تھا اور عیسائیت کا مرکز بھی۔ روم کے لوگوں سے ملتے ہوئے انھوں نے رومن بادشاہ کی تعریف سُنی اور ساتھ ہی بادشاہ کی بیٹی ، شہزادی کانسٹینس کی خوبصورتی اور خوب سیرتی کا چرچا سنا۔

they heard much talk about Constance

they heard much talk about Constance

یہ تاجر واپس شام آئے تو انھوں نے شام کے سلطان کو سب حال سنایا- بات یہاں تک آن پہنچی کہ شہزادی کی شادی شام کے بادشاہ سے اِس شرط پر طے پا گئی کہ بادشاہ اپنے دربار سمیت عیسائیت اختیار کرلے گا ۔ شہزادی ایک طرف باپ کے طے کردہ فیصلے کے آگے خاموش تھی مگر ایک غیر عیسائی ، بے مذہب شخص کی بیوی بن کر دور دراز چلے جانے بہت مغموم اور افسُردہ تھی۔ شہزادی کی رُخصتی کا وقت آن پہنچا اور شہزادی شام روانہ ہوئی جہاں شہزادی کے استقبال کے لئے شاندار تقریب کا اہتمام ہورہا تھا۔ اِسی تقریب میں شام کے بادشاہ سلطان کی تبدیلیء مذہب کی رسم بھی انجام پانی تھی۔

Constance leaving for Syria

Constance leaving for Syria

سلطان کی والدہ مذہب تبدیل کرنے والی شرط جان کر بہت برہم ہوئی۔ اُسے کسی صورت گوارا نہیں تھا کہ اُس کا بیٹا اسلام چھوڑ کر عیسائی ہوجائے۔ والدہ نے اپنے وفادار عملے کے ہاتھوں عین تقریب میں سلطان کو ساتھیوں سمیت قتل کروادیا۔ شہزادی کانسٹینس انگلستان جانے والے ایک بحری جہاز پہ فرار ہونے میں بمشکل کامیاب ہوئی-

یہاں مین آف لاء نے تمام زائرین سے پوچھا کہ اِس قدر قتل و غارت میں جہاں بادشاہ کا کوئی ساتھی نہ بچ سکا، شہزادی کیونکر محفوظ رہی؟ پھر وہ جواباََ خود ہی کہنے لگا کہ جس یسوع مسیح نے پیغمبر دانیال کو بھوکے شیروں سے محفوظ رکھا ،اُسی نے شہزادی کانسٹینس کے ایمان کی وجہ سے اُس کی حفاظت کی۔

جہاز انگلستان لنگر انداز ہوا تو شہزادی کو ایک مقامی قلعے کے نگران اور اُس کی بیگم ڈیم ہرمن گِلڈ نے اپنے ہاں رہائش دی۔ جلد ہی وہ دونوں شہزادی کے بلند اخلاق اور دعوتِ تبلیغ سے متاثر ہوکر عیسائی ہوگئے۔

وہیں کا ایک مقامی نائٹ شہزادی کو پسند کرنے لگا ۔ لیکن شہزادی کی طرف سے حوصلہ شکنی پا کر اُس نے شہزادی پر ڈیم ہرمن گلڈ کے قتل کا الزام لگا دیا جس کو اُس نے خود قتل کیا تھا۔ معاملہ وہاں کے بادشاہ کے پاس پہنچا۔ بادشاہ نے نائٹ سے انجیلِ مقدس پر حلف لیا کہ واقعی شہزادی قاتل ہے- نائٹ نے جھوٹا حلف اُٹھایا اور دفعتاََ . .خدائی عذاب سے اُس کی آنکھیں ضائع ہوگئیں۔

vol-1-150-man-of-laws-tale

شہزادی کی بے گناہی ثابت ہوگئی۔ بادشاہ نے شہزادی کی بلند کرداری سے متاثر ہو کر اُس سے شادی کرلی۔ اُن کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام ‘ماریشس’ رکھا گیا ۔ بیٹے کی پیدائش کے وقت بادشاہ ایک جنگی مہم پر سکاٹ لینڈ گیا ہوا تھا۔

066-constaqnce

بادشاہ اور شہزادی کانسٹینس کے مابین خط و کتابت تک ایک بد خواہ دشمن خاتون نے رسائی حاصل کر لی اور اُن کے اصل خطوط کو نقلی خطوط سے تبدیل کرنے لگی، جس کی وجہ سے دونوں میں غلط فہمی اور بد مزگی پیدا ہوئی۔ بادشاہ کے حکم پہ شہزادی کو نکال دیا گیا ۔ شہزادی روم روانہ ہوئی۔

108-when-her-boy-lay-asleepCYS_13859880733

واپسی کے سفر میں شہزادی کے بحری جہاز کا سامنا ایک رومن کشتی سے ہوا۔ کشتی کے اہلکار نے شہزادی کو واپس روم پہنچایا جہاں رومن شہنشاہ نے اپنے نواسے کو اپنا ولی عہد نامزد کردیا۔ اِسی عرصے میں بادشاہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ روم گیا جہاں وہ اپنے بیٹے اور بیوی کو مِلا اور اُن کی زندگیوں میں خوشیاں لَوٹ آئیں۔

King Ella meeting his son

King Ella meeting his son

مین آف لاء کی کہانی اِس قدر روح پرور تھی کہ تما م مسافر مذہب سے وابستہ ہونے کی برکات کے معترف ہوئے۔ کہانی دلچسپ بھی تھی اور حوصلہ افزا بھی ۔ کہانی سے یہ سبق ملا کہ راہِ خدا میں آنے والی مشکلات کو شہزادی نے صبر سے برداشت کیا اور دعوتِ حق کرتی رہی۔ سچ کے راستے پر چلنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے ، ازمائشیں بھی آتی ہیں مگر اُخروی نجات کے لئے انسان کو استقامت کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیئے۔

3 thoughts on “Man of law’s tale – 10

  1. ثروت صاحبہ، آخرکار کینٹربری کی کہانیاں آج ساری پڑھ ہی لیں- بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے اردو ترجمہ بہت ہی اچھے اور رواں انداز میں کیا ہے- مزید کا انتظار ہے اب

    Like

  2. اپنے راست نظریات سے وفا ہی کردار کی عظمت کا آئینہ دار ہوتی ہے
    موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
    ۔
    جگ جگ جئیں ثروت بیٹا ۔۔۔۔ سدا خوش آباد

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s