Home » Canterbury Tales » Wife of Bath’s tale – 11

Wife of Bath’s tale – 11

وائف آف باتھ کی کہانی:

وائف آف باتھ نے اپنی کہانی سے پہلے حقوقِ نسواں کے بارے میں ایک طویل تمہید باندھی۔ اِس تمہید میں اتنی گنجائش اور لچک ہے کہ قاری اِس تمہید کو . . . .اپنی مرضی کے مطابق حقوقِ نسواں کے حق میں . . یا خلاف سمجھ سکتا ہے۔

Wife of Bath

Wife of Bath

اُس نے اپنے سابقہ شوہروں کے بارے میں بات کی کہ پہلے تین شوہر عمر رسیدہ تھے جن کے ساتھ وہ دھڑلے سے بات کرتی اور رعب قائم رکھتی تھی۔ ضعیف اور معمر ہونے کی وجہ سے یہ شوہر اُس کی بالادستی تسلیم کئے رہتے اور اپنی کم مائیگی اور تہی دامنی پر خاموش رہتے۔ اِس کے علاوہ بڑی عمر کی وجہ سے ہنگامے سے کسی قدر بیزار ی محسوس کرتے اور اُس کے منہ لگنے سے بچتے۔

ہاں . . آخری دو شوہر، نسبتاََ کم عمر تھے چنانچہ اِن سے معاملہ قدرے مشکل تھا ۔ حالیہ شوہر ، جانکِن (Jankin)، بیگم صاحبہ سے آدھی عمر کا تھا۔ جانکِن مزاج کا تیز تھا اور بیوی کی برتری تسلیم کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اکثر اوقات ایسے لکھاریوں کی کتابوں کے حوالے سے دلیل دیتا جو بیویوں کے مطیع اور زیردست ہونے کے حامی تھے۔

ایک بار بیگم نے طیش میں آکر اُس کی پسندیدہ کتاب کا ایک صفحہ پھاڑ دیا۔ جانکِن صاحب نے اِس زور کا ہاتھ بیگم کو رسید کیا کہ بیگم کا ایک کان سماعت سے محروم ہوگیا۔ اب . . . لینے کے دینے پڑگئے۔ اِس واقعے پر جانکن بہت نادم اور شرمندہ ہوا اور بیگم کا تابع فرمان ہو کر رہنے لگا۔ یوں دونوں کی زندگی میں ٹکراؤ ختم ہوا اور زندگی سکون سے چلنے لگی۔ باتھ کی بیگم صاحبہ نے ایسی کہانی سنائی جو ازدواجی ڈائنامک کی وضاحت اور تشریح کرتی ہے۔

زمانہء قدیم کی بات ہے جب ملکِ انگلستان پر آرتھربادشاہ کی حکومت تھی۔ ایک نائٹ ، کسی دوشیزہ کی عصمت دری کا مرتکب ہوا۔ اُس وقت اس گناہ ِ بد کی سزا موت تھی۔ مجرم کو آرتھر بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا جس نے اُسے پھانسی کی سزا سنائی۔ دربار میں ملکہ موجود تھی، مجرم نے ملکہ سے رحم کی اپیل کی۔ ملکہ نے ایک شرط پہ معافی دینے کا وعدہ کیا ۔ شرط یہ تھی کہ نائٹ ایک مقررہ مدت میں ملکہ کے ایک سوال کا درست جواب معلوم کرے۔ سوال یہ تھا کہ : شادی کے بندھن میں ایک عورت کیا چاہتی ہے؟

Arthur's queen asks a difficult question

Arthur’s queen asks a difficult question

نائٹ نے سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے جگہ جگہ کی خاک چھانی مگر تسلّی بخش جواب نہ مل سکا۔ اُسے مختلف جواب ملے، جیسے مال و دولت۔ کسی نے کہا، خوش مزاج شوہر۔ کسی نے بتایا، معاشرتی مرتبہ و مقام، سٹیٹس، محبوبانہ چاہت، عاشقانہ قربت، وغیرہ لیکن ان میں سے کوئی جواب درست نہیں تھا۔

155-not-a-living-thing-remained

ایک دن، یونہی اپنی پریشانی میں مبتلا جا رہا تھا۔ اب تو پھانسی کا یقین ہوچلا تھا کہ ایک بد صورت بڈھی کھوسٹ ملی جس نے نائٹ کو پریشان دیکھا، وجہ معلوم ہوئی تو کہنے لگی: جواب تو میں جانتی ہوں، اِس سوال کا ، لیکن اگر میرے ساتھ شادی کا وعدہ کرو تو جواب بتاؤں ، ورنہ تم اپنی راہ اور میں اپنی راہ . . . . نائٹ کو جان کے لالے پڑے تھے ، . . . فوراَََ حامی بھر لی۔ دربار میں پیش ہوا-

195-the-knight-spoke
۔

ملکہ کو درست جواب بتانے پر سزا کی بخشش ہوئی۔ اور . . . . جواب یہ تھا کہ

:

عورت شادی کے بعد اپنے مرد پر پورا اختیار اور حاکمیت چاہتی ہے، شوہر کی مکمل سپردگی کی تمنا رکھتی ہے کہ وہ پورے کا پورا اُس کا ہو جائے۔

To be in maistrie over their husbands

بات تو یہ وہی ہوئی کہ شاعری اور عورت پورا مرد چاہتی ہیں۔ رہائی پانے کے بعد ، اب نائٹ کو اگلی پریشانی نے آن گھیرا کہ اُسے بڑھیا کھوسٹ سے شادی کرنی ہوگی۔ شادی ہوگئی ۔ شادی کے بعد نائٹ کا تنفر محسوس کرتے ہوئے بڑھیا نے بڑے دھیرج سے اُسے دو آپشن دیئے کہ جو چاہے ، چُن لے . . . کہ بوڑھی، بدصورت کو چُن لے جو اطاعت شعار، فرمانبردار، منکسر مزاج اور سادہ ہوگی . . . . . یا پھر ،جوان، خوبصورت کا انتخاب کرلے جو کہ منہ زور اور طرحدار ، نمایاں اور اپنی بات منوانے والی ہوگی۔

fairyroom_the_wife_of_bath_edward_coley_burne-jones

نائٹ نے خوبصورت اور جوان عورت کا انتخاب کیا ۔ اس شادی میں عورت کی چلتی تھی اور وہ نمایاں تھی مگر دونوں ہمیشہ خوش و خرم رہے۔ وائف آف باتھ نے اختتام پہ کہا :

Surely there is little point in the woman having maistrie if all she is to do with it, is to please her husband.

یعنی جب ایک عورت کو اپنے اختیار اور رضا سے شوہر کی رضامندی حاصل کرنے کے سوا کوئی اور کام نہ ہو تو اُس کو سرداری دینے میں کیا رُکاوٹ ہے؟

میں اُس کی دسترس میں ہوں مگر
وہ مجھ کو میری رضا سے مانگتا ہے

9 thoughts on “Wife of Bath’s tale – 11

  1. شاعری اور عورت پورا مرد چاہتی ہیں۔ رہائی پانے کے بعد ، اب نائٹ کو اگلی پریشانی نے آن گھیرا کہ اُسے بڑھیا کھوسٹ سے شادی کرنی ہوگی۔ شادی ہوگئی ۔ شادی کے بعد نائٹ کا تنفر محسوس کرتے ہوئے بڑھیا نے بڑے دھیرج سے اُسے دو آپشن دیئے کہ جو چاہے ، چُن لے . . . کہ بوڑھی، بدصورت کو چُن لے جو اطاعت شعار، فرمانبردار، منکسر مزاج اور سادہ ہوگی . . . . . یا پھر ،جوان، خوبصورت کا انتخاب کرلے جو کہ منہ زور اور طرحدار ، نمایاں اور اپنی بات منوانے والی ہوگی۔

    بس یہی حقیقت ہے باقی تو سب مایا ہے۔

    Liked by 2 people

  2. Pingback: The 2nd Nun’s Tale – 42 | SarwatAJ- ثروت ع ج

  3. کاش آج بھی اِس گناہِ بد کی سزا پھانسی ہوتی …….اس میں کہانیاں بڑی سادہ اور نہایت سبق آموز ہیں

    Like

  4. اور بڑا گہرا پوائنٹ ہے بڈھی کی بات میں ۔ ۔ ۔
    ایک پیکیج میں سب چیزیں نئی ملتی
    پر لوگ تو ڈھونڈتے ہیں کہ لڑکی ڈھیر سارا جہیز بھی لائے، حور پری بھی ہو اور ماسی شِیداں کی طرح کام بھی کرے۔
    اب آس ہی اتنی اُونچی لگاہیں گے تو نامراد ہی رہیں گے۔ تو اور کیا

    Like

    • بہت شکریہ عتیقہ کہ آپ نے کہانی پڑھی بھی اور ایک مرکزی خیال پہ تبصرہ کیا ،
      اچھا لگے گا کہ آپ سب کہانیوں پہ ایسے ہی رائے کا اظہار کریں

      Like

  5. یہ لائن پڑھ کے میرے ذہن میں آجکل خبروں میں رہنے والے ریپ کیسز آگئے۔
    “ایک نائٹ ، کسی دوشیزہ کی عصمت دری کا مرتکب ہوا۔ اُس وقت اس گناہ ِ بد کی سزا موت تھی”
    کاش آج بھی اِس گناہِ بد کی سزا پھانسی ہوتی۔

    Like

  6. اس میں کہانیاں بڑی سادہ اور نہایت سبق آموز ہیں
    آپ کا ترجمہ بھی لائق تعریف ہے، بہت اچھا ترجمہ کررہی ہیں آپ
    یہ کہانی بھی پسند آئی ہے

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s