The Squire’s Tale – 16

-سکوائر کی کہانی:

مرچنٹ سے اگلی کہانی سکوائر نے سُنائی جو کہ ایک اعتبار سے نامکمل معلوم ہوتی ہے ۔سکوائر، ایک علاقے زاریف کے تاتاری حکمران کا احوال سناتا ہے جس کا نام وہ “قام بس خان” بتاتا ہے۔ ناقدین کا غالب گمان ہے کہ اِس نام سے سکوائر کا اشارہ چنگیز خان کی طرف ہے۔ قام بس خان ایک بہادر، خوشحال، ذہین، عادل، روادار، رحم دل، معزز، زندہ دِل اور بلند کردار حکمران تھا۔ اِس تاتاری حکمران کی حکومت بڑی شان و شوکت سے چل رہی تھی، ہر طرف امن و امان کا دور دورہ تھا۔ اپنے اقتدار کے بیسویں سال “قام بس خان” نے ایک شاندار تقریب کا اِنعقاد کیا۔

200-the-squires-tale

تقریب جاری ہے اور بادشاہ اپنی ملکہ الفیتا (Elpheta) ، دو شہزادوں اور ایک شہزادی کے ہمراہ محفل میں جلوہ افروز ہے . . . .کہ ایک اجنبی سوار آن پہنچا . . . اور کچھ قیمتی تحائف پیش کئے۔اِن تحائف میں ایک دھاتی گھوڑا ہے جو پیتل جیسی دھات سے بنا ہے اور ایک گھمانے والی چابی سے چلتا ہے ۔ اِس گھوڑے کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ چیزوں کو آناََ فاناََ جادو کے زور سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا دیتا ہے۔

219-squires-tale

اور ایک آئینہ ہے جو بادشاہ کے دوستوں اور دشمنوں کی ذہنی کیفیت اور دل کا اندرونی حال دِکھا سکتا ہے، مستقبل کا حال اور اقرباء کے دل کی کیفیت کا عکس دکھا سکتا ہے۔ . . . . اِس کے علاوہ ایک انگوٹھی ہے جس کے پہننے سے پیغمبر سُلیمان کی طرح پرندوں کی بولی سمجھنے کی قُدرت عطا ہوجاتی ہے۔ اِس کے علاوہ ایک تلوار ہے جو مہلِک زخموں کو جادوئی انداز میں ٹھیک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تقریب تمام رات جاری رہی ۔ تحفے لانے والا سوار بھی تقریب میں شامل ہوا۔

اگلے دن، . . . . شہزادی جادوئی انگوٹھی پہنے باغ کی سیر کو نکلی۔ صبح کا سہانا وقت تھا۔ ہر سُو پرندے چہچہارہے تھے۔ اور جادو کی انگوٹھی پہننے کی وجہ سے، شہزادی کو پرندوں کے حسین اور دل موہ لینے والے نغمات کی معانی سمجھ آرہےتھے ۔

چلتے چلتے وہ ایک پرانے درخت کے قریب آئی تو اُس نے ایک ‘ مادہ باز’ کو آہ و بُکا کرتے ہوئے سُنا . . . جو تکلیف کے عالم میں خود کو زخمی کر رہی تھی۔ خُود اذیتی اور شغلِ سینہ کاوی سے خود کو تڑپانا عاشقوں کے ہاں عام سی بات ہے ۔ یہ ایک بہت تکلیف دہ منظر تھا ۔ شہزادی نے پرندے سے اِس کرب کی وجہ دریافت کی۔

168-canace-and-the-falcon

The falcon and the hawk

The falcon and the hawk

باز نے بتایا کہ اُس کا ساتھی باز ،ایک معمولی سے پرندے کی زُلف کا اسیر ہوا اور اُسے چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ وہ غمِ فراق سے چُور ہے ۔ یہ داستانِ الم بتا کر باز ، شہزادی کی گود میں بےہوش ہوگئی ۔ شہزادی باز کو اپنے ساتھ محل میں آئی اور اُس کے زخموں پر مرحم لگایا اور اُس کا خیال رکھا۔

291-squires-tale

There sat a falcon overhead full high,
That in a pitiful voice began to cry,
rill all the wood resounded mournfully.
For she had beaten herself so pitiably
With both her wings that the red glistening blood
Ran down the tree trunk whereupon she stood.
And ever in one same way she cried and shrieked,
And with her beak her body she so pricked

اِس کے بعد سکوائر نے کہا کہ اب . . . وہ ، قام بس خان کے معرکوں کا ذکر کرے گا اور یہ کہ اُس کے بیٹے ‘الگارسف’ نے جادو کے گھوڑے سے کیا کمالات سر انجام دیئے اور . . . دوسرے بیٹے ‘کامبلو’ نے جادو کی تلوار سے کیسی کامیابیاں حاصل کیں۔

Knight. Squire and Yeoman on the way

Knight. Squire and Yeoman on the way

کہانی ابھی یہاں تک پہنچی تھی کہ فرینکلن نے بات کاٹتے ہوئے سکوائر کی بہت تعریف کی کہ اِس کم سنی میں کیسی شاندار کہانی سنائی ہے ، اور خواہش ظاہر کی کہ کاش اُس کا اپنا بیٹا بھی سکوائر جیسی ذہانت اور اُٹھان رکھتا ہو۔ میزبان نے فرینکلن کو کہانی ٹوکنے پر سرزنش کی ، جس کے بعد فرینکلن نے اپنی کہانی کا آغاز کیا۔

سکوائر کی کہانی ، . . . سفرِ مشرق کا موضوع لئے ہوئے ایک منفرد اضافہ ہے۔ کہانی میں سکوائر کے مزاج کے مطابق رومانوی اور افسانوی رنگ ہے ۔ شاہی شان و شوکت ، چمک دمک اور جشن کا تذکرہ ہے۔ تاہم یہ بات نقادوں کے لئے ہمیشہ اچھنبے کا سبب رہی کہ . . . . یہ کہانی ادھوری کیوں رہی ؟

Advertisements

The merchant’s tale – 15

-مرچنٹ کی کہانی:

کلرک کے بعد مرچنٹ کی کہانی سُنانے کی باری تھی۔ مرچنٹ نے گریسِلڈا کی ثابت قدمی اور وفاداری کو سراہا اور کہا کہ بہرحال میری بیوی، والٹر کی بیوی گریسِلڈا جیسی نہیں ہے، بلکہ بہت کایاں اور شریر ہے۔ اور یہ کہ طالب علم کی کہانی سُن کر وہ اپنی بیوی اور گریسِلڈا کا موازنہ کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔

مرچنٹ نے اپنی بات کا آغاز کیا کہ تمام شادی شُدہ مرد اِس روایتی کرب کو جانتے ہیں کہ عورت کے ساتھ رہتے ہوئے کِس قدر طوفانی جذبات انسان کی زندگی میں داخل ہوجاتے ہیں اور ہر وقت ایک ہنسنے، بولنے، رونے، ڈرنے اور پریشان رہنے والی خاتون سے آپ کا سامنا رہتا ہے۔ مرچنٹ نے کلرک کے برعکس ایسی کہانی سنائی جہاں عورت کی طرف سے غلطی اور کوتاہی کا ارتکاب ہوجاتا ہے۔

کہانی ہے . . . ایک نابینا نائٹ جنوری January کی، جس نے زندگی میں بہت سی جنگیں لڑی اور عظیم کارنامے انجام دیئے۔ اور پھر کہیں جا کر اُس نے سوچا کہ اب گھر بسایا جائے۔ راوی نے شادی کرنے اور گھر بسانے کے اچھے اِقدام کو سراہا اور اِسی ضمن میں، قبل مسیح کے ایک فلسفی سائنسدان تھیوفراسٹس (Theophrastus) کا ذکر کیا . . . . جو کہ افلاطون کے نظریات کا پیروکار اور ارسطو کا ہم عصر تھا- تاہم کچھ اعتقادات میں اِس کو ارسطو سے اختلاف تھا۔ راوی نے تھیوفراسٹس (Theophrastus) کے شادی مخالف نظریات پر سخت تنقید کی . . .اور انجیلِ مقدس سے ماخوذ حوالہ جات کی روشنی میں شادی کی افادیت اور نیک اثرات بیان کئے۔ اُس نے نائٹ جنوری کی تائید کی اور اچھی بیوی کو خدا کا سدا قائم رہنے والا تحفہ قرار دیا۔نائٹ کو اپنے دوستوں سے بہت سے مشورے ملے۔ نائٹ نے شادی کے لئے کم عمر لڑکی کو بہتر قرار دیا کہ کم عمر عورت ، موم کی طرح جلد ہی اُس کے نظریات اور مزاج کے مطابق ڈھل سکے گی، یوں اُن کے مابین زیادہ مسائل نہیں ہوں گے۔

اچھی عورت سے شادی کو زمین پر ہی ملنے والی جنت سے مشابہ قرار دیتے ہوئے، نائٹ جنوریؔ نے بہت دُھوم دھام سے شادی کرلی۔ اُس کا نگاہِ انتخاب 20 سالہ مےؔ (May) تھی۔ شادی کی شاندار تقریب میں محبت کی دیوی وینسؔVenus مسکراتی ہوئی تمام مہمانوں کو دیکھتی رہی۔

محبت کی دیوی وینس

محبت کی دیوی وینس

مہمانوں میں جنوری کا مزارع دامینDamain بھی تھا جو عرصے سے مےؔ کو چوری چھپے پسند کرتا تھا۔ وہ مےؔ کی شادی پہ بہت اُداس تھا۔ شادی کے بعد جلد ہی، جنوری کے بزرگانہ اور سنجیدہ روئیے کی وجہ سے ، مےؔ کا دل اُچاٹ ہوگیا اور وہ بھی دامین میں دلچسپی لینے لگی۔ دامین اپنی جگہ، دل کی مراد پوری ہوتی دیکھ کر خوشی سے پھولا نہیں سماتا تھا ۔

vol-2-198-merchants-tale

آنکھوں سے محروم نائٹ، جنوری ؔنے گھر کے ساتھ ایک بہت ہی خوبصورت باغیچہ بنوایا ہوا تھا جس کی میں کسی کو آنے کی اجازت نہیں تھی ۔ جنوری اِس باغیچے میں اپنی بیوی کے ساتھ جایا کرتا اور خوبصورت وقت گزارتا۔

vol-2-213-merchants-tale

مَے نے ایک دن دامینؔ کو بھی باغیچے میں بُلوالیا ۔ دامین باغیچے میں ناشپاتی کے پیڑ پر چڑھا اور چھُپ گیا۔ جنوری کی نابینا آنکھوں کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے مےؔ نے پیڑ پر چڑھنے کی خواہش کا اِظہار کیا جسے نائٹ نے پورا کیا اور وہاں موجود اپنے عاشق دامینؔ کے قُرب میں دنیا سے بے نیاز ہوگئی۔

236-merchants-talemerchants tale

اِسی اثنا میں . . . دیوتا پلوٹوؔPluto اور دیوی پروسپریناؔProsperina باغیچے میں آئے اور اُنہوں نے دامینؔ اور مےؔ کو ایک دوسرے کی قُربت میں دیکھا ۔ باہم مشورہ کرکے اُنہوں نے جنوریؔ کی بینائی بحال کردی . . . کہ وہ سب ماجرا اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے ۔جنوری ؔ نے وہ منظر دیکھا تو چلّایا۔ مےؔ نے اُسے جواب دیا کہ اُس نے یہ قربانی جنوری کے لئے ہی دی ہے۔ اُسے یہ بتایا گیا تھا کہ اگر وہ اپنے شوہر کی بینائی لَوٹانا چاہتی ہے تو . . . اِس کے لئے اُسے کسی اجنبی مرد کی قُربت میں جانا ہوگا۔

pluto and prosperina

pluto and prosperina

اور اب . . . . چونکہ ابھی اُس کی نظر واپس آنے کے مراحل میں ہے اِس لئے وہ ٹھیک سے نہیں دیکھ پا رہا . . . لہذٰا وہ جو کچھ بھی دیکھ رہا ہے اُس پر بھروسہ نہ کرے۔ ابھی بینائی نے ٹھیک سے کام کرنا شروع نہیں کیا۔ جنوریؔ اپنی بینائی واپس پا کر بہت خُوش ہوا۔ پھولا نہیں سمایا ، مےؔ کو گلے سے لگایا اور اُس دن کے بعد سے . . . وہ دونوں سکون سے خوش باش رہنے لگے۔

غیبی طاقتوں کی دیوی پروسپرینا

غیبی طاقتوں کی دیوی پروسپرینا

The clerk’s tale – 14

-کلرک کی کہانی :

میزبان نے نوٹس کیا کہ کلرک / سٹوڈنٹ تمام سفر کے دوران حد درجہ خاموش رہا ہے، یہاں تک کہ میزبان کو گُمان ہوا کہ وہ پڑھائی کررہا ہے۔ میزبان نے طالبعلم سے کہا کہ اب اُس کی باری ہے اور اب ، . . . . . وہ تمام مسافروں کو ایک مسرور کُن اور ہشاش بشاش کہانی سُنائے۔ اور ہاں . . ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی علمی سطح کے مطابق کوئی عالمانہ یا پیچیدہ واقعہ شروع کردے ، بلکہ کوشش کرے کہ عام فہم اور سادہ الفاظ استعمال کرے۔

طالبعلم نے مؤدبانہ انداز میں میزبان کا شکریہ ادا کیا اور ارادہ ظاہر کیا کہ وہ ایک مشہور عالم فرانسِس پیٹرارچ سے سُنی ہوئی کہانی سنائے گا ۔ اِس عالم نے اطالوی زبان کے زیرِ اثر بہت شاندار شاعری کی لیکن آخرکار ہر ذی رُوح کی طرح موت نے اُسے آلیا ، اور اُس کا ادبی سفر تمام ہوا۔ کلرک کی گفتگو اُس کی ذہنی سطح اور لیاقت کی آئینہ دار تھی۔

کہانی ہے اطالیہ کے علاقے سالوزو کی، جو کہ ویزو پہاڑی کے دامن میں واقع تھا۔ اِس علاقے میں والٹر ؔ نامی ایک مارکوئیس رہتا تھا۔ مارکوئیس کا خطاب ڈیوک سے چھوٹے درجے کے کے اُمراء کو دیا جاتا تھا۔ اور . . . والٹر ایک معزز اور ذہین شخص تھا۔ کافی عمر گزر جانے کے باوجود اُس نے شادی نہیں کی ۔ اُس کے آس پاس کے لوگوں نے اُسے شادی کرنے کا مشورہ دیا کہ . . . اُس کا کوئی وارث ہو اور ذہانت کا یہ سِلسلہ جاری رہے۔والٹر ایک شرط پر شادی کے لئے رضامند ہوا کہ اُس کی بیوی خواہ عالی نسب نہ ہو، وہ کسی معمولی گھرانے کی لڑکی سے شادی کرے لیکن پھر بھی خود اُس کے رُتبے اور مقام کے اعتبار سے اُس کی بیوی کوکسی شہزادی کی طرح عزت دی جائے۔ لوگ اِس بات پہ رضامند ہوئے۔

028-this-is-my-bride

آخر کار ، . . . والٹر نے ایک عام سےغریب گھرانے کی لڑکی “گریسِلڈا” سے شادی کرلی۔

346clr11

گریسلڈا ، غریب گھرانے سے ہونے کے باوجود بہت بلند کردار، خوش مزاج اور اچھی عورت تھی جِس نے جلد ہی سب کے دِل میں گھر کر لیا ۔ سب اُسے معزز جانتے اور مِل کے خوش ہوتے۔ پھر اُن کے ہاں ایک بیٹی نے جنم لیا۔ زندگی خوش باش گزر رہی تھی۔ایک بار والٹر کو اپنی بیوی گریسلڈا کی جانثاری اور خلوص آزمانے کا خیال آیا۔

یہاں راوی کہتا ہے کہ والٹر کو بیوی کی آزمائش کا یہ خیال بلا وجہ آیا ، اور یہاں تو وہی مثال صادق آتی ہے کہ . . . . جتنا چھانو اُتنا وہم بڑھے گا-

To assaye a wyf whan that it is no need.

والٹر نے گریسِلڈا سے کہا کہا کہ اُس کی برادری کے لوگ اُس کی چھوٹے گھرانے میں شادی پر ناخوش ہیں اور اِس بچی کے نسب پر معترض ہیں، چنانچہ بچی کا زندہ رہنا ہمیشہ قابلِ ندامت ہوگا ۔ والٹر نے گریسِلڈا سے بچی کو لے لیا

080-griselda-bereft-of-her-first-born

اور چوری چھُپے اپنی بہن کے ہاں بھجوا دیا ۔ گریسِلڈا بےچاری صبر کا کڑوا گھونٹ بھر کر چُپ رہی۔ والٹر کو دل ہی دل میں اپنی بیوی پر بہت ترس آیا لیکن . . . . . کیا کیجیئے کہ آزمانے کا بھُوت سوار تھا۔

100-griselda-deprived-of-her-child

اگلی اولاد ایک بیٹا ہوا اور اب کی بار بھی والٹر نے یہی کہانی دُہرائی ۔ گریسِلڈا کے رنج و الم کی کوئی انتہا نہ رہی مگر وہ بھلی مانس زبان سے صرف اِتنا ہی کہہ سکی کہ اُس کے نصیب میں اولاد کی جانِب سے صرف حمل اور وِلادت کی تکلیف اور جُدائی کے صدمے ہی لِکھے ہیں۔

Lord Walter came

Lord Walter came

پھر وہ دِن آیا کہ گریسِلڈا کی آزمائش تمام ہوئی۔ والٹر نے اُس کی وفاداری کا اعتراف کرتے ہوئے اُسے اُس کے بچوں سے مِلوادیا ۔ بچے جوان ہو کے بہت حسین و جمیل ہو گئے تھے اور وہ سب انتہائی محبت سے رہنے لگے۔

184-clerks-tale

طالب علم نے کہانی کے اِختتام پر وضاحت کی کہ اِس کہانی کی طرح . .کوئی مرد اپنی بیوی کو نہ آزمائے کیونکہ عورت بہت نازک ہوتی ہے اور اُس کا دل جلدی ٹوٹ جاتا ہے ۔ اگرچہ یہ ایک غیر حقیقی کہانی ہے لیکن یہ کہانی سبق دیتی ہے کہ مرد اپنی بیوی سے غیر معمولی اور جان جوکھم خلوص کا متمنّی ہوتا ہے ۔

شوہر حضرات نارمل سطح سے زیادہ توجہ اور وفا کے طلبگار رہتے ہیں جو نہ کبھی عورت پُورا کر سکتی ہے اور نہ ہی اُن مردوں کی تسلّی ہوتی ہے۔ بہت سے مرد اپنی عورت سے اِس قدر زیادہ توقعات وابستہ کرلیتے ہیں جن کا پورا ہونا نامُمکن ہوتا ہے، لہٰذا عورت اُس معیار پر کبھی پہنچ ہی نہیں سکتی۔ اور مرد کبھی عورت کی جانثاری کا درست اندازہ اور قدر نہیں کرتے حالانکہ عورت اپنی جگہ پیار اور معصومیت کا مجسم ہے۔ پُرسکون اور اچھی زندگی کے لئے مرد کو عورت کی چاہت اور محبت کی قدر کرنی چاہیئے اور کبھی آزمانا نہیں چاہیئے۔-

The summoner’s tale – 13

– سمنر کی کہانی:

سمنرsummoner کو فرائرfriar کی کہانی سُن کر بہت طیش آیا ، اِس قدر کہ وہ غصے سے کھڑا ہوکر کانپنے اور چٹخنے لگا۔ خیر اُس نے اپنی کہانی سے پہلے ایک گھٹیا سی جُگت سنائی کہ . . . . . ایک فرائر دوزخ میں گیا ، اور کچھ دیر وہاں گھومنے کے بعد یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ . . .وہاں کوئی بھی فرائر نہیں ہے ۔ اُس کو دوزخ میں لے جانے والے فرشتے نے اُس کی پریشانی بھانپ لی اور اِبلیس کی کئی گز بڑی دُم اُٹھاکر دِکھائی، جس کے نیچے بھِڑوں کی طرح ہزاروں فرائرز بھنبھنارہے تھے۔ اور پھر ، سمنر نے فرائرز کے بارے میں کراری اور توہین آمیز کہانی سنائی۔

ایک فرائر وعظ و نصیحت کی غرض سے بستیوں ، قصبوں اور دیہاتوں کا سفر کررہا تھا۔ اپنی موبائل سروس کے دوران ، وہ لوگوں کو راہِ خدا میں صدقات اور خیرات دینے کے فضائل بھی بیان کر رہاتھا۔ یونہی گلی گلی اور گھر گھر وعظ کے دوران تھامس کے گھر پہنچا۔ تھامس اُسے وقتاََ فوقتاََ نوازتا رہتا تھا، لیکن آج تھامس بیمار پڑا تھا۔ فرائر نے بڑے طمطراق سے تھامس کی بیوی کو بُلایا اور کھانے کی فرمائش کی۔

the-friar-and-thomas-the-summoners-tale

خاتون نے اُسے بتایا کہ اُن کے بچے کو وفات پائے دو ہفتے سے زیادہ وقت نہیں گزرا اور وہ دونوں بہت صدمے میں ہیں۔فرائر نے فوراََ بشارت دی کہ ابھی ابھی اُسے الہام اور غیبی اشارہ ہوا ہے کہ اُن کا بچہ بہت مزے سے بہشت میں ہے۔ آخر کار فرائرز خدا کے اِس قدر مقّرب اشخاص ہوتے ہیں کہ اِن کو غیبی اشارے ملتے رہتے ہیں اور اِن سے غیب کے پردے ہٹا دیئے جاتے ہیں۔ اُس نے سمجھایا کہ تھامس کی بیماری کا سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اِس بار تھامس نے کلیسا کے لئے قلیل نذرانہ دیا تھا۔ تھامس نے وضاحت کی کہ اُس نے نذرانے کی رقم کو تقسیم کرکے کئی ایک فرائرز کے ذریعے ادایئگی کردی تھی۔ اِس بات پہ فرائر کو بہت ہی تشویش ہوئی کہ چندے کی کُل رقم اُس کے ہاتھ کیوں نہ لگی . . . .؟ اُس نے کہا کہ ” ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ہر شے اپنی قدر و قیمت کھو بیٹھتی ہے۔” اور اپنی بات کی دلیل کے طور پر دو بادشاہوں کے واقعات بھی سناڈالے ۔

اِس تمام تقریر کے بعد ، . . . حسبِ عادت فرائر پھر چندہ مانگنے والے نکتے پر آگیا۔تھامس کو فرائر کی بات پر تَپ چڑھی اور اُس نے فرائر کو بتایا کہ ایک تحفہ اُس کا مُنتظر ہے ۔ لیکن شرط صرف ایک ہے کہ فرائر کو وہ تُحفہ دیگر فرائرز کے ساتھ بانٹنا ہوگا ۔ اور یہ کہ . . . . تھامس خُود تحفے کے اُوپر بیٹھا ہوا ہے۔ فرائر نے اپنا ہاتھ تھامس کے پہلو کے نیچے کھِسکایا تو تھامس نے گھوڑے سے بھی بُلند آواز میں، زور دار ہوا خارج کی. . . ! فرائر غصے میں لال پیلا ہوتا ، دھمکیاں دے ہی رہا تھا کہ گھر کے ملازموں نے اُسے نکال باہر کیا ۔ فرائر غصے میں گاؤں کے نمبردار سے مِلا، تھامس کی شکایت کی، اور پوچھا ، . . . کیا بھلا فارٹ (fart) کو بارہ حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ؟ نمبردار کے مزارعے نے اُسے ایسا کرنے کا طریقہ بتایا۔

summoner1jpg

سب مُسافر کہانی سُن کر لوٹ پوٹ ہوئے اور سمنر کے دل کی بھڑاس کسی قدر کم ہوئی۔

The friar’s tale – 12

-فرائر کی کہانی:

وائف آف باتھ کی کہانی ختم ہوتے ہی، فرائرfriar نے اگلی کہانی سنانے کی فرمائش کی۔ کہانی کے آغاز سے پہلے اُس نے سمنّر (Summoner) سے معذرت چاہی کہ اُس کی کہانی ایک سمنر کے بارے میں ہوگی۔ اُس نے وضاحت کی کہ . . . دراصل وہ، خود قصداََ اِس پیشے کو تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہتا لیکن وہ بھی کیا کرے، . . . . جبکہ سمنرز اپنی عیاشیوں اور بد کرداریوں کی وجہ سے ہی مشہور ہیں۔ بظاہر تو سمنر نے اس بات پہ کسی فوری ردّعمل کا اظہار نہیں کیا لیکن معلوم ہوتا تھا کہ دل میں اُسے بہت تپ چڑھی تھی اور اُس نے بدلہ لینے کی ٹھان لی تھی۔

Hubert the friar

Hubert the friar

سمنر (Summoner) کا کام یہ ہوتا تھا کہ کلیسا کی عدالت ، غیر شرعی تعلقات کے ضمن میں، جن گناہگاروں کے جُرم ثابت کردیا کرتی، یہ اُن کو عدالتی سمن دیا کرتے . . . جو کہ باقاعدہ تحریری شکل میں ہوا کرتے تھے۔ جبکہ آج کل لوگ زبانی ہی دوسروں کے بارے میں سندیں جاری کردیا کرتے ہیں۔ اِن گناہگاروں کو اپنے گناہوں اور جُرم کی پاداش میں، عدالت میں، جُرمانے سمیت معافی نامے جمع کروانے ہوتے تھے۔ اور اکثر اوقات ، یہ نقد جُرمانے سمنر ہی ہڑپ کر لیا کرتے۔ اِسی خُرد بُرد والی بات پر فرائر نے اِس پیشے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

friars-tale

فرائر نے ایک چالاک سمنر(Summoner) کی کہانی سنائی جو ایک بار جادو ٹونے اور بد کرداری کے خلاف عدالتی فرمان لے جا رہا تھا۔ یہ سمنر ایسے گناہگاروں کو دریافت کرنے میں بہت ماہر تھا جو کہ بالخصوص مالدار بھی ہوں۔ اِس مقصد کے لئے اِس نے کالے علم والوں سے رابطے قائم کر رکھے تھے۔ مالدار آسامیاں پھانسنے کے لئے مختلف طوائفوں تک بھی اِس کی رسائی تھی جو نام کی رازداری کی شرط پر اِس کو اپنے کسٹمرز کے نام بتاتی اور یہ عدالت سے سمن جاری کرواتا۔اِس چکر میں سمنر کو طوائفوں سے خصوصی پیکیج بھی ملا کرتا ۔

عدالتی فرمان لے جاتے ہوئے جنگل میں سمنر(Summoner) کا ایک مزارعے سے سامنا ہوا۔سمنر نے خود کو بیلف والا سرکاری اافسر ظاہر کیا کیونکہ سمنر ہونا بڑے عار کی بات تھی، وہ بھلا کیوں بتاتا؟ . . . دونوں نے اکٹھے سفر طے کرنے کا ارادہ کیا اور اِسی دوران باتیں جو چل نکلیں تو کرپشن، کاروباری رازوں اور ہتھکنڈوں تک جا پہنچیں۔ مزارعے نے بتایا کہ اُس کی آمدن کا ایک بڑا حصہ چوری چکاری، لُوٹ مار اور اُوپر کی کمائی سے حاصل ہوتا ہے۔ سمنر نے بھی اپنے غلط ذرائع کا پول کھولا۔

بہت باتوں کے بعد ، مزارعے نے بتایا کہ اصل میں وہ ایک بدروح ہے ، جس کا ٹھکانہ دوزخ ہے، اور اُس نے بڑی اُمید سے کہا کہ اگر سمنر بھی اِسی طرح بدی کے راستے پر قائم اور دائم رہا تو ضرور اُن کی ملاقات دوزخ میں ہوگی۔ اور وہ دونوں دانتے ؔ اور وِرجلؔ سے بہتر انداز میں دوزخ کا مشاہدہ کر سکیں گے۔ مِلٹنMilton کی طرح دانتےDante اور وِرجلVirgil نے بھی دوزخ کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا تھا۔

آخر کار سمنر(Summoner) اُس بڑھیا کے ہاں پہنچا جس کو سمن پہنچانے کے لئے اُس نے سفر کیا تھا۔ سمنر نے اُسے بدکرداری پر آرچ ڈیکون کے پیش ہونے کا پروانہ تھمایا ۔ بیوہ نے کہا کہ وہ ایک بیمار عورت ہے اور سفر نہیں کرسکتی۔ کیا ہی اچھا ہو اگر سمنر اُس کی طرف سے پیشی بھُگتا دے۔ سمنر نے اِس کام کے لئے جو پیسے طلب کئے ، وہ رقم خاتون نے دینے سے انکار کردیا۔ کہ اوّل تو سِرے سے وہ گناہگار ہی نہیں اور دوسرے بیماری کی وجہ سے سفر کرنے سے قاصر ہے۔ بیوہ عورت نے سمنر کو بُرا بھلا کہا اور دوزخ میں جانے کی بددُعا دی۔

068-the-summoner-making-his-unjust-demands

بدروح مزارعے نے یہ بد دُعا سنی اور تہیہ کرلیا کہ اُسی رات وہ سمنر کو دوزخ میں لے جائے گا اور پھر وہ دونوں اپنی اصل جگہ پہنچ گئے جو کہ بد عنوانی، بد کرداری اور بے ایمانی کی وجہ سے سمنرز کا اصل ٹھکانہ ہوگی۔ کہانی کا اختتام ہوا تو سمنر کو خُوب غصہ چڑھا ہوا تھا۔