Home » Canterbury Tales » The friar’s tale – 12

The friar’s tale – 12

-فرائر کی کہانی:

وائف آف باتھ کی کہانی ختم ہوتے ہی، فرائرfriar نے اگلی کہانی سنانے کی فرمائش کی۔ کہانی کے آغاز سے پہلے اُس نے سمنّر (Summoner) سے معذرت چاہی کہ اُس کی کہانی ایک سمنر کے بارے میں ہوگی۔ اُس نے وضاحت کی کہ . . . دراصل وہ، خود قصداََ اِس پیشے کو تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہتا لیکن وہ بھی کیا کرے، . . . . جبکہ سمنرز اپنی عیاشیوں اور بد کرداریوں کی وجہ سے ہی مشہور ہیں۔ بظاہر تو سمنر نے اس بات پہ کسی فوری ردّعمل کا اظہار نہیں کیا لیکن معلوم ہوتا تھا کہ دل میں اُسے بہت تپ چڑھی تھی اور اُس نے بدلہ لینے کی ٹھان لی تھی۔

Hubert the friar

Hubert the friar

سمنر (Summoner) کا کام یہ ہوتا تھا کہ کلیسا کی عدالت ، غیر شرعی تعلقات کے ضمن میں، جن گناہگاروں کے جُرم ثابت کردیا کرتی، یہ اُن کو عدالتی سمن دیا کرتے . . . جو کہ باقاعدہ تحریری شکل میں ہوا کرتے تھے۔ جبکہ آج کل لوگ زبانی ہی دوسروں کے بارے میں سندیں جاری کردیا کرتے ہیں۔ اِن گناہگاروں کو اپنے گناہوں اور جُرم کی پاداش میں، عدالت میں، جُرمانے سمیت معافی نامے جمع کروانے ہوتے تھے۔ اور اکثر اوقات ، یہ نقد جُرمانے سمنر ہی ہڑپ کر لیا کرتے۔ اِسی خُرد بُرد والی بات پر فرائر نے اِس پیشے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

friars-tale

فرائر نے ایک چالاک سمنر(Summoner) کی کہانی سنائی جو ایک بار جادو ٹونے اور بد کرداری کے خلاف عدالتی فرمان لے جا رہا تھا۔ یہ سمنر ایسے گناہگاروں کو دریافت کرنے میں بہت ماہر تھا جو کہ بالخصوص مالدار بھی ہوں۔ اِس مقصد کے لئے اِس نے کالے علم والوں سے رابطے قائم کر رکھے تھے۔ مالدار آسامیاں پھانسنے کے لئے مختلف طوائفوں تک بھی اِس کی رسائی تھی جو نام کی رازداری کی شرط پر اِس کو اپنے کسٹمرز کے نام بتاتی اور یہ عدالت سے سمن جاری کرواتا۔اِس چکر میں سمنر کو طوائفوں سے خصوصی پیکیج بھی ملا کرتا ۔

عدالتی فرمان لے جاتے ہوئے جنگل میں سمنر(Summoner) کا ایک مزارعے سے سامنا ہوا۔سمنر نے خود کو بیلف والا سرکاری اافسر ظاہر کیا کیونکہ سمنر ہونا بڑے عار کی بات تھی، وہ بھلا کیوں بتاتا؟ . . . دونوں نے اکٹھے سفر طے کرنے کا ارادہ کیا اور اِسی دوران باتیں جو چل نکلیں تو کرپشن، کاروباری رازوں اور ہتھکنڈوں تک جا پہنچیں۔ مزارعے نے بتایا کہ اُس کی آمدن کا ایک بڑا حصہ چوری چکاری، لُوٹ مار اور اُوپر کی کمائی سے حاصل ہوتا ہے۔ سمنر نے بھی اپنے غلط ذرائع کا پول کھولا۔

بہت باتوں کے بعد ، مزارعے نے بتایا کہ اصل میں وہ ایک بدروح ہے ، جس کا ٹھکانہ دوزخ ہے، اور اُس نے بڑی اُمید سے کہا کہ اگر سمنر بھی اِسی طرح بدی کے راستے پر قائم اور دائم رہا تو ضرور اُن کی ملاقات دوزخ میں ہوگی۔ اور وہ دونوں دانتے ؔ اور وِرجلؔ سے بہتر انداز میں دوزخ کا مشاہدہ کر سکیں گے۔ مِلٹنMilton کی طرح دانتےDante اور وِرجلVirgil نے بھی دوزخ کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا تھا۔

آخر کار سمنر(Summoner) اُس بڑھیا کے ہاں پہنچا جس کو سمن پہنچانے کے لئے اُس نے سفر کیا تھا۔ سمنر نے اُسے بدکرداری پر آرچ ڈیکون کے پیش ہونے کا پروانہ تھمایا ۔ بیوہ نے کہا کہ وہ ایک بیمار عورت ہے اور سفر نہیں کرسکتی۔ کیا ہی اچھا ہو اگر سمنر اُس کی طرف سے پیشی بھُگتا دے۔ سمنر نے اِس کام کے لئے جو پیسے طلب کئے ، وہ رقم خاتون نے دینے سے انکار کردیا۔ کہ اوّل تو سِرے سے وہ گناہگار ہی نہیں اور دوسرے بیماری کی وجہ سے سفر کرنے سے قاصر ہے۔ بیوہ عورت نے سمنر کو بُرا بھلا کہا اور دوزخ میں جانے کی بددُعا دی۔

068-the-summoner-making-his-unjust-demands

بدروح مزارعے نے یہ بد دُعا سنی اور تہیہ کرلیا کہ اُسی رات وہ سمنر کو دوزخ میں لے جائے گا اور پھر وہ دونوں اپنی اصل جگہ پہنچ گئے جو کہ بد عنوانی، بد کرداری اور بے ایمانی کی وجہ سے سمنرز کا اصل ٹھکانہ ہوگی۔ کہانی کا اختتام ہوا تو سمنر کو خُوب غصہ چڑھا ہوا تھا۔

2 thoughts on “The friar’s tale – 12

  1. نیب والوں کو یہ ٹِپ توٹ کرنی چاہیئے
    آجکل یہ کام ہماری بوڑھی خواتین کرلیتی ہین، کون کیسا ہے؟ کس کا کردار کیسا ہے ؟ کس کی بخشش ہوگی ؟ کس کی نہیں ؟ اور شادی بیاہ یا فوتگی پہ یہ کام گروپ کی شکل میں کرتی ہیں۔ جوائنٹ وینچر

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s