Home » Canterbury Tales » The clerk’s tale – 14

The clerk’s tale – 14

-کلرک کی کہانی :

میزبان نے نوٹس کیا کہ کلرک / سٹوڈنٹ تمام سفر کے دوران حد درجہ خاموش رہا ہے، یہاں تک کہ میزبان کو گُمان ہوا کہ وہ پڑھائی کررہا ہے۔ میزبان نے طالبعلم سے کہا کہ اب اُس کی باری ہے اور اب ، . . . . . وہ تمام مسافروں کو ایک مسرور کُن اور ہشاش بشاش کہانی سُنائے۔ اور ہاں . . ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی علمی سطح کے مطابق کوئی عالمانہ یا پیچیدہ واقعہ شروع کردے ، بلکہ کوشش کرے کہ عام فہم اور سادہ الفاظ استعمال کرے۔

طالبعلم نے مؤدبانہ انداز میں میزبان کا شکریہ ادا کیا اور ارادہ ظاہر کیا کہ وہ ایک مشہور عالم فرانسِس پیٹرارچ سے سُنی ہوئی کہانی سنائے گا ۔ اِس عالم نے اطالوی زبان کے زیرِ اثر بہت شاندار شاعری کی لیکن آخرکار ہر ذی رُوح کی طرح موت نے اُسے آلیا ، اور اُس کا ادبی سفر تمام ہوا۔ کلرک کی گفتگو اُس کی ذہنی سطح اور لیاقت کی آئینہ دار تھی۔

کہانی ہے اطالیہ کے علاقے سالوزو کی، جو کہ ویزو پہاڑی کے دامن میں واقع تھا۔ اِس علاقے میں والٹر ؔ نامی ایک مارکوئیس رہتا تھا۔ مارکوئیس کا خطاب ڈیوک سے چھوٹے درجے کے کے اُمراء کو دیا جاتا تھا۔ اور . . . والٹر ایک معزز اور ذہین شخص تھا۔ کافی عمر گزر جانے کے باوجود اُس نے شادی نہیں کی ۔ اُس کے آس پاس کے لوگوں نے اُسے شادی کرنے کا مشورہ دیا کہ . . . اُس کا کوئی وارث ہو اور ذہانت کا یہ سِلسلہ جاری رہے۔والٹر ایک شرط پر شادی کے لئے رضامند ہوا کہ اُس کی بیوی خواہ عالی نسب نہ ہو، وہ کسی معمولی گھرانے کی لڑکی سے شادی کرے لیکن پھر بھی خود اُس کے رُتبے اور مقام کے اعتبار سے اُس کی بیوی کوکسی شہزادی کی طرح عزت دی جائے۔ لوگ اِس بات پہ رضامند ہوئے۔

028-this-is-my-bride

آخر کار ، . . . والٹر نے ایک عام سےغریب گھرانے کی لڑکی “گریسِلڈا” سے شادی کرلی۔

346clr11

گریسلڈا ، غریب گھرانے سے ہونے کے باوجود بہت بلند کردار، خوش مزاج اور اچھی عورت تھی جِس نے جلد ہی سب کے دِل میں گھر کر لیا ۔ سب اُسے معزز جانتے اور مِل کے خوش ہوتے۔ پھر اُن کے ہاں ایک بیٹی نے جنم لیا۔ زندگی خوش باش گزر رہی تھی۔ایک بار والٹر کو اپنی بیوی گریسلڈا کی جانثاری اور خلوص آزمانے کا خیال آیا۔

یہاں راوی کہتا ہے کہ والٹر کو بیوی کی آزمائش کا یہ خیال بلا وجہ آیا ، اور یہاں تو وہی مثال صادق آتی ہے کہ . . . . جتنا چھانو اُتنا وہم بڑھے گا-

To assaye a wyf whan that it is no need.

والٹر نے گریسِلڈا سے کہا کہا کہ اُس کی برادری کے لوگ اُس کی چھوٹے گھرانے میں شادی پر ناخوش ہیں اور اِس بچی کے نسب پر معترض ہیں، چنانچہ بچی کا زندہ رہنا ہمیشہ قابلِ ندامت ہوگا ۔ والٹر نے گریسِلڈا سے بچی کو لے لیا

080-griselda-bereft-of-her-first-born

اور چوری چھُپے اپنی بہن کے ہاں بھجوا دیا ۔ گریسِلڈا بےچاری صبر کا کڑوا گھونٹ بھر کر چُپ رہی۔ والٹر کو دل ہی دل میں اپنی بیوی پر بہت ترس آیا لیکن . . . . . کیا کیجیئے کہ آزمانے کا بھُوت سوار تھا۔

100-griselda-deprived-of-her-child

اگلی اولاد ایک بیٹا ہوا اور اب کی بار بھی والٹر نے یہی کہانی دُہرائی ۔ گریسِلڈا کے رنج و الم کی کوئی انتہا نہ رہی مگر وہ بھلی مانس زبان سے صرف اِتنا ہی کہہ سکی کہ اُس کے نصیب میں اولاد کی جانِب سے صرف حمل اور وِلادت کی تکلیف اور جُدائی کے صدمے ہی لِکھے ہیں۔

Lord Walter came

Lord Walter came

پھر وہ دِن آیا کہ گریسِلڈا کی آزمائش تمام ہوئی۔ والٹر نے اُس کی وفاداری کا اعتراف کرتے ہوئے اُسے اُس کے بچوں سے مِلوادیا ۔ بچے جوان ہو کے بہت حسین و جمیل ہو گئے تھے اور وہ سب انتہائی محبت سے رہنے لگے۔

184-clerks-tale

طالب علم نے کہانی کے اِختتام پر وضاحت کی کہ اِس کہانی کی طرح . .کوئی مرد اپنی بیوی کو نہ آزمائے کیونکہ عورت بہت نازک ہوتی ہے اور اُس کا دل جلدی ٹوٹ جاتا ہے ۔ اگرچہ یہ ایک غیر حقیقی کہانی ہے لیکن یہ کہانی سبق دیتی ہے کہ مرد اپنی بیوی سے غیر معمولی اور جان جوکھم خلوص کا متمنّی ہوتا ہے ۔

شوہر حضرات نارمل سطح سے زیادہ توجہ اور وفا کے طلبگار رہتے ہیں جو نہ کبھی عورت پُورا کر سکتی ہے اور نہ ہی اُن مردوں کی تسلّی ہوتی ہے۔ بہت سے مرد اپنی عورت سے اِس قدر زیادہ توقعات وابستہ کرلیتے ہیں جن کا پورا ہونا نامُمکن ہوتا ہے، لہٰذا عورت اُس معیار پر کبھی پہنچ ہی نہیں سکتی۔ اور مرد کبھی عورت کی جانثاری کا درست اندازہ اور قدر نہیں کرتے حالانکہ عورت اپنی جگہ پیار اور معصومیت کا مجسم ہے۔ پُرسکون اور اچھی زندگی کے لئے مرد کو عورت کی چاہت اور محبت کی قدر کرنی چاہیئے اور کبھی آزمانا نہیں چاہیئے۔-

2 thoughts on “The clerk’s tale – 14

  1. اگرچہ یہ ایک غیر حقیقی کہانی ہے لیکن یہ کہانی سبق دیتی ہے کہ مرد اپنی بیوی سے غیر معمولی اور جان جوکھم خلوص کا متمنّی ہوتا ہے

    Like

  2. کیا کیجیئے کہ آزمانے کا بھُوت سوار تھا . . .
    ثروت آپی ، یہی مسئلہ تو ہوتا ہے اکثر مردوں کو اور خاص طور پر شوہروں کو
    آپ کی بتائی گئی کہانی کے مطابق مردوں کو یہ عارضہ زمانہء قدیم سے ہے، بس تو لا علاج ہی ہوا۔
    اور عورتوں کو کم عقل کہتے ہیں

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s