Home » Canterbury Tales » The merchant’s tale – 15

The merchant’s tale – 15

-مرچنٹ کی کہانی:

کلرک کے بعد مرچنٹ کی کہانی سُنانے کی باری تھی۔ مرچنٹ نے گریسِلڈا کی ثابت قدمی اور وفاداری کو سراہا اور کہا کہ بہرحال میری بیوی، والٹر کی بیوی گریسِلڈا جیسی نہیں ہے، بلکہ بہت کایاں اور شریر ہے۔ اور یہ کہ طالب علم کی کہانی سُن کر وہ اپنی بیوی اور گریسِلڈا کا موازنہ کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔

مرچنٹ نے اپنی بات کا آغاز کیا کہ تمام شادی شُدہ مرد اِس روایتی کرب کو جانتے ہیں کہ عورت کے ساتھ رہتے ہوئے کِس قدر طوفانی جذبات انسان کی زندگی میں داخل ہوجاتے ہیں اور ہر وقت ایک ہنسنے، بولنے، رونے، ڈرنے اور پریشان رہنے والی خاتون سے آپ کا سامنا رہتا ہے۔ مرچنٹ نے کلرک کے برعکس ایسی کہانی سنائی جہاں عورت کی طرف سے غلطی اور کوتاہی کا ارتکاب ہوجاتا ہے۔

کہانی ہے . . . ایک نابینا نائٹ جنوری January کی، جس نے زندگی میں بہت سی جنگیں لڑی اور عظیم کارنامے انجام دیئے۔ اور پھر کہیں جا کر اُس نے سوچا کہ اب گھر بسایا جائے۔ راوی نے شادی کرنے اور گھر بسانے کے اچھے اِقدام کو سراہا اور اِسی ضمن میں، قبل مسیح کے ایک فلسفی سائنسدان تھیوفراسٹس (Theophrastus) کا ذکر کیا . . . . جو کہ افلاطون کے نظریات کا پیروکار اور ارسطو کا ہم عصر تھا- تاہم کچھ اعتقادات میں اِس کو ارسطو سے اختلاف تھا۔ راوی نے تھیوفراسٹس (Theophrastus) کے شادی مخالف نظریات پر سخت تنقید کی . . .اور انجیلِ مقدس سے ماخوذ حوالہ جات کی روشنی میں شادی کی افادیت اور نیک اثرات بیان کئے۔ اُس نے نائٹ جنوری کی تائید کی اور اچھی بیوی کو خدا کا سدا قائم رہنے والا تحفہ قرار دیا۔نائٹ کو اپنے دوستوں سے بہت سے مشورے ملے۔ نائٹ نے شادی کے لئے کم عمر لڑکی کو بہتر قرار دیا کہ کم عمر عورت ، موم کی طرح جلد ہی اُس کے نظریات اور مزاج کے مطابق ڈھل سکے گی، یوں اُن کے مابین زیادہ مسائل نہیں ہوں گے۔

اچھی عورت سے شادی کو زمین پر ہی ملنے والی جنت سے مشابہ قرار دیتے ہوئے، نائٹ جنوریؔ نے بہت دُھوم دھام سے شادی کرلی۔ اُس کا نگاہِ انتخاب 20 سالہ مےؔ (May) تھی۔ شادی کی شاندار تقریب میں محبت کی دیوی وینسؔVenus مسکراتی ہوئی تمام مہمانوں کو دیکھتی رہی۔

محبت کی دیوی وینس

محبت کی دیوی وینس

مہمانوں میں جنوری کا مزارع دامینDamain بھی تھا جو عرصے سے مےؔ کو چوری چھپے پسند کرتا تھا۔ وہ مےؔ کی شادی پہ بہت اُداس تھا۔ شادی کے بعد جلد ہی، جنوری کے بزرگانہ اور سنجیدہ روئیے کی وجہ سے ، مےؔ کا دل اُچاٹ ہوگیا اور وہ بھی دامین میں دلچسپی لینے لگی۔ دامین اپنی جگہ، دل کی مراد پوری ہوتی دیکھ کر خوشی سے پھولا نہیں سماتا تھا ۔

vol-2-198-merchants-tale

آنکھوں سے محروم نائٹ، جنوری ؔنے گھر کے ساتھ ایک بہت ہی خوبصورت باغیچہ بنوایا ہوا تھا جس کی میں کسی کو آنے کی اجازت نہیں تھی ۔ جنوری اِس باغیچے میں اپنی بیوی کے ساتھ جایا کرتا اور خوبصورت وقت گزارتا۔

vol-2-213-merchants-tale

مَے نے ایک دن دامینؔ کو بھی باغیچے میں بُلوالیا ۔ دامین باغیچے میں ناشپاتی کے پیڑ پر چڑھا اور چھُپ گیا۔ جنوری کی نابینا آنکھوں کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے مےؔ نے پیڑ پر چڑھنے کی خواہش کا اِظہار کیا جسے نائٹ نے پورا کیا اور وہاں موجود اپنے عاشق دامینؔ کے قُرب میں دنیا سے بے نیاز ہوگئی۔

236-merchants-talemerchants tale

اِسی اثنا میں . . . دیوتا پلوٹوؔPluto اور دیوی پروسپریناؔProsperina باغیچے میں آئے اور اُنہوں نے دامینؔ اور مےؔ کو ایک دوسرے کی قُربت میں دیکھا ۔ باہم مشورہ کرکے اُنہوں نے جنوریؔ کی بینائی بحال کردی . . . کہ وہ سب ماجرا اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے ۔جنوری ؔ نے وہ منظر دیکھا تو چلّایا۔ مےؔ نے اُسے جواب دیا کہ اُس نے یہ قربانی جنوری کے لئے ہی دی ہے۔ اُسے یہ بتایا گیا تھا کہ اگر وہ اپنے شوہر کی بینائی لَوٹانا چاہتی ہے تو . . . اِس کے لئے اُسے کسی اجنبی مرد کی قُربت میں جانا ہوگا۔

pluto and prosperina

pluto and prosperina

اور اب . . . . چونکہ ابھی اُس کی نظر واپس آنے کے مراحل میں ہے اِس لئے وہ ٹھیک سے نہیں دیکھ پا رہا . . . لہذٰا وہ جو کچھ بھی دیکھ رہا ہے اُس پر بھروسہ نہ کرے۔ ابھی بینائی نے ٹھیک سے کام کرنا شروع نہیں کیا۔ جنوریؔ اپنی بینائی واپس پا کر بہت خُوش ہوا۔ پھولا نہیں سمایا ، مےؔ کو گلے سے لگایا اور اُس دن کے بعد سے . . . وہ دونوں سکون سے خوش باش رہنے لگے۔

غیبی طاقتوں کی دیوی پروسپرینا

غیبی طاقتوں کی دیوی پروسپرینا

3 thoughts on “The merchant’s tale – 15

  1. تمام شادی شُدہ مرد اِس روایتی کرب کو جانتے ہیں کہ عورت کے ساتھ رہتے ہوئے کِس قدر طوفانی جذبات انسان کی زندگی میں داخل ہوجاتے ہیں اور ہر وقت ایک ہنسنے، بولنے، رونے، ڈرنے اور پریشان رہنے والی خاتون سے آپ کا سامنا رہتا ہے۔

    Like

  2. شادی مخالف نظریات اُس وقت بھی مغربی معاشرے میں موجود تھے ، لیکن پھر بھی لوگوں شادی کے پاک اور محفوظ بندھن کو بہتر سمجھتے تھے۔۔۔۔۔آج بھی یہی مخمصہ ہے ۔۔نئے دور کی یہی پریشانی ہے۔
    اس کہانی میں یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ جب کہیں شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے حق میں کمی کریں گے تو بدی کا راستہ کھل جانا آسان ہوگا۔

    Like

    • جی عتیقہ ۔ ۔ ایسی ہی بات ہے ۔ ۔ ۔ بلاگ پہ آنے کا شکریہ اور اچھا لگا کہ آپ کہانیاں شوق اور توجہ سے پڑھ رہی ہیں۔

      Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s