Home » Canterbury Tales » The Squire’s Tale – 16

The Squire’s Tale – 16

-سکوائر کی کہانی:

مرچنٹ سے اگلی کہانی سکوائر نے سُنائی جو کہ ایک اعتبار سے نامکمل معلوم ہوتی ہے ۔سکوائر، ایک علاقے زاریف کے تاتاری حکمران کا احوال سناتا ہے جس کا نام وہ “قام بس خان” بتاتا ہے۔ ناقدین کا غالب گمان ہے کہ اِس نام سے سکوائر کا اشارہ چنگیز خان کی طرف ہے۔ قام بس خان ایک بہادر، خوشحال، ذہین، عادل، روادار، رحم دل، معزز، زندہ دِل اور بلند کردار حکمران تھا۔ اِس تاتاری حکمران کی حکومت بڑی شان و شوکت سے چل رہی تھی، ہر طرف امن و امان کا دور دورہ تھا۔ اپنے اقتدار کے بیسویں سال “قام بس خان” نے ایک شاندار تقریب کا اِنعقاد کیا۔

200-the-squires-tale

تقریب جاری ہے اور بادشاہ اپنی ملکہ الفیتا (Elpheta) ، دو شہزادوں اور ایک شہزادی کے ہمراہ محفل میں جلوہ افروز ہے . . . .کہ ایک اجنبی سوار آن پہنچا . . . اور کچھ قیمتی تحائف پیش کئے۔اِن تحائف میں ایک دھاتی گھوڑا ہے جو پیتل جیسی دھات سے بنا ہے اور ایک گھمانے والی چابی سے چلتا ہے ۔ اِس گھوڑے کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ چیزوں کو آناََ فاناََ جادو کے زور سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا دیتا ہے۔

219-squires-tale

اور ایک آئینہ ہے جو بادشاہ کے دوستوں اور دشمنوں کی ذہنی کیفیت اور دل کا اندرونی حال دِکھا سکتا ہے، مستقبل کا حال اور اقرباء کے دل کی کیفیت کا عکس دکھا سکتا ہے۔ . . . . اِس کے علاوہ ایک انگوٹھی ہے جس کے پہننے سے پیغمبر سُلیمان کی طرح پرندوں کی بولی سمجھنے کی قُدرت عطا ہوجاتی ہے۔ اِس کے علاوہ ایک تلوار ہے جو مہلِک زخموں کو جادوئی انداز میں ٹھیک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تقریب تمام رات جاری رہی ۔ تحفے لانے والا سوار بھی تقریب میں شامل ہوا۔

اگلے دن، . . . . شہزادی جادوئی انگوٹھی پہنے باغ کی سیر کو نکلی۔ صبح کا سہانا وقت تھا۔ ہر سُو پرندے چہچہارہے تھے۔ اور جادو کی انگوٹھی پہننے کی وجہ سے، شہزادی کو پرندوں کے حسین اور دل موہ لینے والے نغمات کی معانی سمجھ آرہےتھے ۔

چلتے چلتے وہ ایک پرانے درخت کے قریب آئی تو اُس نے ایک ‘ مادہ باز’ کو آہ و بُکا کرتے ہوئے سُنا . . . جو تکلیف کے عالم میں خود کو زخمی کر رہی تھی۔ خُود اذیتی اور شغلِ سینہ کاوی سے خود کو تڑپانا عاشقوں کے ہاں عام سی بات ہے ۔ یہ ایک بہت تکلیف دہ منظر تھا ۔ شہزادی نے پرندے سے اِس کرب کی وجہ دریافت کی۔

168-canace-and-the-falcon

The falcon and the hawk

The falcon and the hawk

باز نے بتایا کہ اُس کا ساتھی باز ،ایک معمولی سے پرندے کی زُلف کا اسیر ہوا اور اُسے چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ وہ غمِ فراق سے چُور ہے ۔ یہ داستانِ الم بتا کر باز ، شہزادی کی گود میں بےہوش ہوگئی ۔ شہزادی باز کو اپنے ساتھ محل میں آئی اور اُس کے زخموں پر مرحم لگایا اور اُس کا خیال رکھا۔

291-squires-tale

There sat a falcon overhead full high,
That in a pitiful voice began to cry,
rill all the wood resounded mournfully.
For she had beaten herself so pitiably
With both her wings that the red glistening blood
Ran down the tree trunk whereupon she stood.
And ever in one same way she cried and shrieked,
And with her beak her body she so pricked

اِس کے بعد سکوائر نے کہا کہ اب . . . وہ ، قام بس خان کے معرکوں کا ذکر کرے گا اور یہ کہ اُس کے بیٹے ‘الگارسف’ نے جادو کے گھوڑے سے کیا کمالات سر انجام دیئے اور . . . دوسرے بیٹے ‘کامبلو’ نے جادو کی تلوار سے کیسی کامیابیاں حاصل کیں۔

Knight. Squire and Yeoman on the way

Knight. Squire and Yeoman on the way

کہانی ابھی یہاں تک پہنچی تھی کہ فرینکلن نے بات کاٹتے ہوئے سکوائر کی بہت تعریف کی کہ اِس کم سنی میں کیسی شاندار کہانی سنائی ہے ، اور خواہش ظاہر کی کہ کاش اُس کا اپنا بیٹا بھی سکوائر جیسی ذہانت اور اُٹھان رکھتا ہو۔ میزبان نے فرینکلن کو کہانی ٹوکنے پر سرزنش کی ، جس کے بعد فرینکلن نے اپنی کہانی کا آغاز کیا۔

سکوائر کی کہانی ، . . . سفرِ مشرق کا موضوع لئے ہوئے ایک منفرد اضافہ ہے۔ کہانی میں سکوائر کے مزاج کے مطابق رومانوی اور افسانوی رنگ ہے ۔ شاہی شان و شوکت ، چمک دمک اور جشن کا تذکرہ ہے۔ تاہم یہ بات نقادوں کے لئے ہمیشہ اچھنبے کا سبب رہی کہ . . . . یہ کہانی ادھوری کیوں رہی ؟

6 thoughts on “The Squire’s Tale – 16

    • شاید چاوسر بهی یہی سوچتا ہوگا . . . لیکن اس کے پاس آگے مزید کہانیاں لکهنے کا کام تها اس لئے اس نے ورائٹی دینے کی خاطر اس کہانی کو ادهورا سا رہنے دیا.

      Like

  1. ابتہائی خوبصورت اور عام فہم انداز بیان کی بدولت یہ کہانیاں تاریخ کے کچھ ان، ان سنے ان دیکھے حالات و واقعات سے پردہ اٹھا کر قاری کو گویا اسی دنیا میں لے جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سدا خوش آباد و خوش مراد سائیں

    Like

    • بہت عنایت ۔ ۔ ۔ آپ کی میرے بلاگ پر آمد عین حوصلہ افزائی ہے ۔ ۔ آپ واقعی اِن کہانیوں کے فریم میں جھانکتی تاریخ کو دیکھ رہے ہیں، اور تاریخ بھی نوآبادیاتی عہد سے پہلے کی۔ ۔ ۔یعنی ایمپریلزم کا پیش منظر اور ساتھ ہی ایک ادبی شہ پارے کا آسان ورژن بھی ہے ۔

      Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s