کینٹربری کہانیاں- کردار- حصہ 5

کینٹربری کہانیاں/ حصہ 5

-18-Wife of Bath- وائف آف باتھ: کینٹربری کہانیوں کے کرداروں میں سے دلچسپ ترین “باتھ شہر سے آنے والی بیگم” ہے- نقادوں اور انگریزی دانوں نے اِس کردار سے متعلق بہت بحث کی ہے اور کئی تشریحیں کی ہیں- چاوسر نے وائف آف باتھ کو چودہویں صدی کے معاشرے کے نمائندہ کردار کے طور پر پیش کیا ہے وہیں اِس میں انفرادی رحجانات بھی دکھائے ہیں-

WIFE of bath

صاف، چمکتے اور سُرخی مائل چہرے والی ، گول مٹول زندہ دل خاتون ہے- اگلے دو دانتوں کے درمیان فاصلہ ہے- اُونچا سنتی ہے- سر کے رومال کا بہت شوق ہے، ہر ہفتے نیا رومال پہنتی ہے- اُس کے رومال خوبصورت اور بھاری کپڑے کے ہیں- نئے جوتے ہیں جن کے ساتھ گہری عنابی سُرخ جرابیں پہن رکھی ہیں – باتھ کا شہر کپڑے سازی اور اُس کی رنگائی میں خاص شہرت رکھتا تھا- چنانچہ اوّل تو وہ خُود کپڑے کی صنعت سے منسلک تھی اور دوسرے سرخ عنابی رنگائی بہت نایاب اور مہنگی تھی، صرف اُمراء ہی اس خرچ کے متحمل تھے، لہٰذا چاوسر کی تصویر کشی کے مطابق اِن بیگم صاحبہ کا مظہر اُن کی امارت کا ثبوت ہے-

wife of bath

جہاں دیدہ خاتون ہے، کپڑے کی صنعت سے تعلق ہونے کی وجہ سے اِس کاروبار کی تمام باریکیوں سے واقف ہے-کئی مشہور جگہوں کی زیارت کے سفر کرچکی ہے اور اپنے سفری تجربات کا ذکر کرتی رہتی ہے- تین بار تو یروشلم ہی گئی،اِس کے علاوہ روم، کومپوسٹیلا، بولون وغیرہ کے سفر کا تذکرہ باتوں کے درمیان آجاتا ہے- بہت باتونی اور خوش مزاج ہے- گرجا ہو یا کوئی بھی مجلس، وہ پہلی صف میں بیٹھنے پر اصرار کرتی ہے- اِن سب کے باوجود گھریلو رحجان بھی رکھتی ہے – گھرداری کے سب کاموں میں طاق اور باخبر ہے-عورت اور مرد کے تعلق کی باریکی اور کیمسٹری پہ اتھارٹی ہونے کا دعویٰ ہے – اپنے پانچویں شوہر کے ساتھ خُوش و خرم زندگی گزار رہی ہے جو کہ اِس سے کم عمر ہے- اِس بات کے تذکرے سے یہ بات بتانا مقصود ہے کہ انگلستان میں اُس وقت متمول خواتین کا اکیلا رہنا بہت مشکل تھا کیونکہ شادی کے ساتھ جائیداد کی شراکت کسی طور مشروط تھی- مالدار خواتین کے لئے اُمیدواران کی لائن لگی رہتی تھی- اُن کی جائیداد پہ نظر رکھنے والے مرد اُن کے طلبگار رہتے تھے-

-19-Physician- فزیشن: کینٹربری کیتھڈرل کے لئے عازمینِ سفر میں ایک فیشن ایبل ڈاکٹر بھی شامل ہے جس کو علمِ فلکیات پہ عبور حاصل ہے اور ستاروں کی چال کے علم پہ بھی دسترس رکھتا ہے- اکثر اوقات مریضوں کا علاج اُن کی قسمت کے حال کے مطابق کرتا ہے- اِس تعارُف میں چاوسر نے زیرِ لب مسکراہٹ اور طنز کا اِضافہ کیا ہے – ڈاکٹر دین سے کوسوں دُور ہے اور دُنیا کی بھاگ دوڑ میں بُری طرح مصروف ہے –

کافی مالدار ہے- بڑے نامی گرامی حکیموں کے نُسخوں کے بارے میں معلومات رکھتا ہے- دوا سازوں سے تعلقات بہت اچھے ہیں اور باہم مِلی بھگت سے خُوب پیسہ بناتا ہے- شعبہء طِب کے تمام محکموں اور میڈیکل سٹاف سے اچھی طرح جان پہچان رکھتا ہے- اُس کا کمپاؤنڈر اُسی کی طرح سمجھدار اور مُستعد ہے- طاعون کی وبا پھیلی تو اُس کی خُوب چاندی ہوئی ، بہت نوٹ کھرے کئے – خرچ کے معاملے میں بہت محتاط ہے، پیسے کو بہت سوچ سمجھ کے خرچ کرتا ہے- اُس دور کے کیمیا گروں (اور آج کل کے ڈاکٹروں )کی طرح سونا بنانے میں دلچسپی رکھتا ہے اور سونا اُس کی پسندیدہ دھات ہے- ہندی ریشم اور تافتان کا قیمتی گہرا سُرخ اور نیلگوں سرمئی لباس پہنا ہوا ہے- کھانے کے معاملے میں بہت محتاط ہے اور متوازن خوراک کھاتا ہے-

doctor 2

-20-Parson- پارسن: پارسن علاقہ دار پادری جس کے پاس گِرجے کے لئے وقف کردہ زمین کا چارج ہو اور وہ اُس زمین کی آمدن سے گِرجا کا نظام چلاتا ہو- یہ اعلٰی افکار کا مالک ایک غریب شخص ہے- اپنے کلیسائی حلقے میں رہنے والوں کی پروا کرتا ہے اور اُن کی خبرگیری ایسے کرتا ہے جیسے کہ ایک اچھا چرواہا مستعد ہوتا ہے- اپنے مذہبی اجتماعات اور مجالس کے بارے میں محتاط اور پابند رہتا ہے- جِس شخص سے بھی ملتا ہے،اُس کے لئے ہدایت اور جنت کا خواہاں ہے- وہ چاہتا ہے کہ تمام انسانیت راہِ ہدایت اختیار کرلے- آندھی، طوفان اور بارش بھی اُسے کاِر خیر سے روک نہیں سکتے- متواضع اور بُلند کردار ہے-وہ بذاتِ خود نیکی اور بھلائی کا نمونہ بننے پر یقین رکھتاہے- اُس کا کہنا ہے کہ دوسروں کو نیکی کی تلقین کرنے سے پہلے اپنے آپ کو نصیحت کرنی چاہیئے-

If gold rust, what shal iren do?

پارسن کہتا ہے کہ راہِ حق پہ چلنے والے کا بے ایمانی اور نِفاق سے کیا تعلق؟ – – – اگر سونے کو ہی زنگ لگنے لگے تو لوہے کا کیا حال ہوگا؟ – – – یعنی خُدا کے راستے پہ چلنے والے ہی اگر بُرائی اور منافقت سے بچ نہیں پائیں گے تو عام دُنیا دار آدمی کی گمراہی کا کیا عالم ہوگا؟

szyk-parsonparson

-21-Plowman- پلوہ مین: زمینوں میں کام کرنے والا ہاری، یا ہل چلانے والا پلوہ مین ہے- یہ پارسن کا بھائی ہے اور اُسی کی طرح عیسائیت کا مثالی پیروکار ہے- اُس نے دو احکاماتِ خُداوندی کو اپنی زندگی کا مقصد بنارکھا ہے، پہلا یہ کہ خُدا سے محبت کرو اور دوسرا ، یہ کہ اپنے ہمسائے کا اُسی قدر خیال رکھو جس قدر اپنی ذات کا رکھتے ہو- لوگوں کی مدد کرکے خُوشی محسوس کرتا ہے- اپنی زمینوں کا عُشر پابندی سے ادا کرتا ہے- سفید کوٹ اور نیلے ہُڈ میں ایک گھوڑی پہ سوار ہے-

aa ploghman

-22-Miller- مِلّر: ، بڑی کاٹھ اور موٹے سے جسم والا ایک چکّی کا مالک، مِلر ہے – بازوؤں کے پٹھے بنے ہوئےہیں- یہ پن چکّی والا کسی سے بھی گتھم گتھا ہو سکتا ہے- سُرخ داڑھی، کانوں میں بال ہیں، سیاہ نتھنے اور بڑا سا منہ- ناک کی چونچ پہ ایک مسّہ ہے جس میں سے سرخ بالوں کا ایک گچھا نکلا ہوا ہے- آگے کو جُھکا رہتا ہے- ساتھ میں تلوار اور ڈھال لئے ہوئے ہے اور فارغ اوقات میں بیگ پائپ بجاتا ہے- کبھی پُوار نہیں تولتا، پکّا چور اور بے ایمان ہے- اُس کی چکّی پہ جو بھی آٹا پِسوانے آتا ہے، یہ اُس کے تھیلے سے آٹا یا مکئی چوری کرلیتا ہے-بے ایمانی کئے بن رہ نہیں سکتا- واہیات عامیانہ باتیں کرتا ہے- بات بے بات بازاری گالیاں دینے اور گھٹیا مذاق کرنے کا عادی ہے-

312-the-millerVIC100395182  01

-23-Manciple -مین سیپل: قانون کے طالبعلموں کے ایک ہاسٹل کا سیانا رکھوالا یا کار مختار ہے- منشی اور فور مین کے فرائض انجام دیتا ہے-قانون پڑھنے والے اِن طلبہ کی تعداد تِیس کے قریب ہے- کفایت شعار اور کم خرچ ہے- تیز فہم اور عیّار بھی ہے- بہت ہوشیاری سے بھاؤ تاؤ کرتا ہے، مال خریدتے ہوئے قیمت کم کروانے کا ماہر ہے- دوسروں کو چُٹکیوں میں بےوقوف بنالیتا ہے- اکیلا ہی تیس طلبہ کو چکمہ دینے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور رقم گول کرجاتا ہے-

The Manciple

The Manciple

-24-Reeve -ری و: ایک بڑی جاگیر کے لارڈ نے اِسے اپنی جاگیر پر مینجر یا منتظم رکھا ہوا ہے-چھوٹی چھوٹی آنکھیں، چھریرا بدن، لمبی لمبی دبلی ٹانگیں ،بال چھوٹے ترشے ہوئے اور اچھی طرح شیو بنا رکھی ہے- متلوّن مزاج اور خوشامدی ہے- کمینگی اُس کے برتاؤ سے نظر آتی ہے- ایک مثالی جی حضوری شخص ہے- جاگیر کے انتظام میں مویشی، گھوڑے، پولٹری فارم کا نظام بھی شامل ہے- یہ مینجر اِس قدر ماہر ہے کہ اپنے لارڈ کو خُوب منافع کما کر دیتا ہے اور اپنی بھی پانچوں گھی میں ہیں- – اپنے مالک سے ہیراپھیری کرکے اپنی جیب بھی بھری رہتی ہے- ہر چیز، ہر معاملے، لین دین اور تعداد کا باریکی سے حساب رکھتا ہے- اُس کے آقا کی جاگیر کے کمّی نوکر اُس سے ڈرتے رہتے ہیں- آنے والی فصلوں کے بارے میں پیشین گوئی کرنے کا بہت شوق ہے- بارش اور موسم کے بارے میں اُس کے اندازے اکثر دُرست ثابت ہوتے ہیں- اپنے آقا کی رضا حاصل کرنے کے لئے اُسے تحائف خرید کر دیتا رہتا ہے-

Reeve

Reeve

344-the-reve

-25-Summoner -سمن نر: کلیسائی عدالت میں جُرم ثابت ہونے والے گناہگاروں کو بُلاوے دیتا ہے- چھوٹی چھوٹی آنکھیں ، کھجلی زدہ بھنویں، سُرخ رنگت، سُوجا ہوا منہ ہے اور چہرے پہ دانے ہیں- چہرے کے دانوں پُھنسیوں کے لئے وہ بہت نسخے آزماچکا ہے جن میں پارہ، سلفر، بورکس کا مرہم، ٹارٹار کا تیل اور اسٹرنجنٹ واش ، کچھ بھی کارگر نہ ہوا- بچے اُس سے ڈرتے ہیں- خُوب چٹخارے دار کھانے اور پیاز پسند ہیں- آسانی سے رشوت لینے پر آمادہ ہوجاتا ہے- مےنوشی بھی کثرت سے کرتا ہے اور پھر نشے میں لاطینی بولتا ہے- چاسر کے وقت کاا یک فاسدکردارہے-

summoner

summoner

-26-Pardoner -پارڈنر: چرچ کی طرف سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنے والوں کو ہدیہ جات کے عوض معافی اور نجات کی نوید دیتا ہے- جن پر گناہ ثابت ہوجائیں اُن کو بخشش بیچتا ہے-یہ باقاعدہ دستخط شُدہ کاغذ کی شکل میں ہوا کرتی تھی- کندھوں پر پڑے لمبے لمبے پیلے بال، زردی مائل رنگت، خرگوش جیسی ہوشیار آنکھیں ،بکری جیسی نحیف اُونچی آواز ،ڈاڑھی کے بغیر صاف چہرہ ہے- زنانہ ادائیں رکھتا ہے- زن صفت ہے- لوگوں کو دِلگداز آواز میں تلقین اور وعظ کرکے تبرکات خریدنے پر آمادہ کرلیتا ہے- معافی کے لئے عوام کے بزرگوں اور فوت شُدگان کی طرف سے غلط پیغامات پہنچاتا ہے- اپنے ساتھ جھوٹے تبرّکات اُٹھائے پھرتا ہے جن کو وہ سائیوں اور اولیاء کی ہڈیاں اور مستعمل اشیاء قرار دیتا ہے- جعلی تبرکات بیچ کر کافی رقم بنا رکھی ہے- – اِس کے پاس موجود تبرکات میں – – – ٭ ایک بادبان کا ٹکڑا جسے وہ ایک پادری یا سینٹ سے منسوب کرتا ہے ٭ ایک نگینے جَڑی ہوئی دھاتی صلیب ٭ ایک راہبہ کے تکیے کا غلاف ٭ اولیا ء کی ہڈیوں سے بھری ایک بوتل-

408-the-pardonerpardoner

-Second nun-27- -سیکنڈ نن: اور

secnun

-nun’s Priest-28- -نن’ز پریسٹ: پرائرس کے تعارف میں ایک دوسری نن اور ایک پریسٹ کا ذکر ہے- تعارفی حصے میں دوسری نن کا بھی زیادہ ذکر نہیں ہے لیکن آگے جا کر دوسری نن نے ایک کہانی سُنائی جس کو شاعر نے کہانیوں میں شامل کیا ہے- اِسی طرح پریسٹ کا بھی تفصیلی تعارف نہیں ہے لیکن اُس کی بیان کردہ کہانی بہت عمدہ اور دلچسپ ہے-

nunspri

-Host-29- – میزبان: ایک کہانی میں میزبان کا نام ہیری بے لے Harry Bailey بتایا گیا ہے-میزبان ہی اِن فریم کہانیوں کی تجویز پیش کرنے والا کردار ہے- نظم کے متن سے ہمیں یہ تاثر ملتا ہے کہ میزبان ایک خوش باش اور شُگفتہ آدمی ہے، اُونچا لمبا ہے اوراُس کی گہری کُھب جانے والی نگاہیں ہیں- اِن کہانیوں کی تجویز سے اُس کا مقصد سفر کے دوران اچھا وقت گزارنا تھا لیکن مونک اور ڈاکٹر جیسے مسافروں کی وجہ سے کچھ بدمزگی پیدا ہوئی- اِن کرداروں نے بہت غمگین اور افسُردہ کہانیاں سنائیں- کچھ مسافروں کی آپس میں لڑائیاں بھی ہوتی رہیں- میزبان زائرین کے درمیان امن و امان قائم کرنے کی ذمہ داری نبھاتا رہا- نن کے پریسٹ نے ایک مزاحیہ کہانی سنائی – میزبان کی مہارت یہ ہے کہ وہ کوئی بھی کہانی سُن کر فورا نتائج پر پہنچ جاتا اور اُس کہانی سے حاصل شُدہ سبق واضح کرکے بیان کرتا ہے- اِس کے علاوہ ، میزبان اکثر مسافروں کہ کہانیوں کو قارئین کی جگہ پہ رہ کر سُنتا ہے گویا وہ اِس نظم میں پہلے سے موجود آڈیئنس کا کردار نبھا رہا ہے-

hosthost..

-Narrator-30- – راوی: راوی نے خُود کو بھرپور انداز میں ایک کردار کے طور پہ پیش کیا ہے- شاعر نے اُس کا نام چاوسر بتایا ہے اور گویا اپنے خیالات کا اِظہار ‘راوی’ کی زبانی کیا ہے- سفر کے دوران میزبان ایک دو جگہ پر راوی سے خاموش رہنے کا شکوہ بھی کررہا ہے- چونکہ راوی ہی تمام کرداروں کے تاثرات اور تعارف درج کر رہا ہے اِس لئے یہ راوی کی پسند ناپسند پر منحصر ہے کہ وہ کیا بیان کرے اور کیا نہ لِکھے – قارئین کے پاس راوی کی پہلے سے قائم کردہ رائے اور تجزیئے پر اِنحصار کرنے کے سوا راستہ نہیں – عین مُمکِن ہے کہ راوی جانبداری سے کام لے رہا ہو-

chaucerhoccleve
originally posted on Jan 9, 2014, fonts updated.

کینٹربری کہانیاں – کردار – حصہ 4

کینٹربری کہانیاں / حصہ4

کم و بیش تین مِشنری کرداروں کے بعد چاوسر سیکولر کرداروں کا تذکرہ کرتا ہے-

A Marchant was ther with a forked berd,

-7-Merchant- مرچنٹ: ایک تاجِر یا سوداگر بھی کینٹربری کی طرف عازمِ سفر ہے، جِس نے رنگین ڈیزائن دار کپڑے کا عالی شان لباس پہنا ہوا ہے- فَر والی فیشن ایبل بیلجئن ٹوپی ہے اور داڑھی بھی نوکدار بنا رکھی ہے – داڑھی سنوارنے کا یہ انداز اُس زمانے میں ‘اِن’ تھا- جوتے بہت اچھے ہیں جِن کے بکّل چمک رہے ہیں- سوداگر کا کرداراُبھرتی ہوئی مڈل کلاس کی بھر پور نمائندگی کرتا ہے- تاجرتَھوک کا کام کرتا ہے-وہ سمندری قزاقوں سے بہت نالاں ہے- اس کی سب سے بڑی خواہش ہے کہ تجارتی راستوں پہ موجود قزاق اور چور ختم ہوجائیں –اپنے کاروباری مقاصد کے لئے یہ سوداگر غیر قانونی ذرائع بہت رغبت سے استعمال کرتا ہے-

سوداگر خود کو ماہرِ معاشیات ظاہر کرتا ہے اور اصل بات یہ ہے کہ وہ کامیابی سے اپنی سُفید پوشی کا بھرم نِبھا رہا ہے- راوی کے مطابق، سب جانتے ہیں کہ وہ قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے- اُس کی اصل مہارت یہ ہے کہ وہ قرض اور اُدھار لے کر اپنا کام جاری و ساری رکھتا ہے- چاوسر نے اُسے طنزیہ “پوری طرح خوشحال” شخص کہا ہے-

merchant

merchant

-8-Clerk- کلرک: اِس سے مراد آکسفورڈ کا طالب علم ہے جو فلسفہ کی تعلیم حاصل کر رہا ہے- خوراک، لِباس اور دیگر اشیا کی بجائے کتابیں اُس کا جنون ہیں- اُس نے اپنے ہمراہ ارسطو اور دیگر فلاسفروں کی کتابیں اُٹھا رکھی ہیں جن کی تعداد بِیس کے قریب ہوگی- راوی بتاتا ہے کہ اِس دُبلے پتلے سے طالب علم کو کہیں سے بھی کوئی پیسہ مِلے تو وہ دیگر ضروریات کی بجائے اپنی کتابوں پر ہی خرچ کردیتا ہے-

دھان پان سے سٹوڈنٹ نے معمولی سا گھِسا ہوا کوٹ پہن رکھا ہے- اُس کا گھوڑا بھی لاغر سا ہے- بہت کم گو ہے لیکن جب بھی کوئی بات کرتا ہے تو وہ انتہائی مدلّل اور ذہانت کی بات ہوتی ہے- تنہائی پسند ہے- ایک عرصے سے علم کے حصول کے لئے کوشاں ہے- بے انتہا تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود غربت کے سائے اُس پر چھائے ہوئے ہیں- – – گویا کہ دنیاوی اور کاروباری ہتھکنڈوں کا عادی نہ ہونے کی وجہ سے ،محض علم اُس کی معاشی حالت میں کوئی بہتری نہیں لا سکتا –

Student

Student

-9-Man of law- مین آف لاء: ایک ماہر وکیل ہے جو تقریبا سولہ سال سے قانون کی پریکٹس کررہا ہے- کئی بار بطور جج بھی نامزد ہوچکا ہے- مہارت کا یہ عالم ہے کہ ہر قانون، ہر فیصلے، ہر مقدمے اور ہر جُرم کی تفصیلات ازبر ہیں- وہ کسی بھول چُوک کے بغیر قانونی ڈرافٹ تیار کرلیتا ہے- اکثر اوقات اپنے علم کو اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرتا ہے-نیلا اور سُرخ دھاری دار ریشمی لباس بھلا لگ رہا ہے- لباس کا ریشمی ہونا، اُس کے بیش قیمت ہونے کی علامت ہے کیونکہ ریشم کو مشرق کی طرف سے درآمد کیا جاتا تھا اور اِسی لئے ریشم کے نَرخ بھی زیادہ ہوا کرتے تھے- اِس پہ مستزاد یہ کہ ریشم کی سِلائی بھی خاصی توجہ طلب اور مہنگی تھی- راوی کسی نہ کسی طرح یہ بھی جانتا ہے کہ کئی مہنگے لباس اور قیمتی تحائف اِس ماہرِ قانون کو فِیس کے ساتھ بھی مِلا کرتے تھے- ہاں یہ بات بھی اس وکیل کے لئے درُست ہے کہ وہ اتنا مصروف ہوتا نہیں جتنا نظر آنے کی کوشش کرتا ہےـ

Lawyer

Lawyer

-10-Franklin- فرینکلِن: یہ نام چودہویں یا پندرہویں صدی کے انگلستان میں اُن نودولتی اشخاص کو دیا گیا ہے جو حسب نسب کے اعتبار سےغیر خاندانی ہوں – بہرحال یہ فرینکلِن ایک ایسی کلاس کی عکاسی کر رہا ہے جو پیسے کے بَل بُوتے پر شُرفاء بن جاتے ہیں اور حکومتی، سیاسی شخصیات سے قُربت حاصل کرکے اپنا اثر و رسوخ قائم کر لیتے ہیں-ہر وقت شادماں اور بااعتماد نظر آنا اِس کردار کا خاص وصف ہے- شاہانہ عادات ہیں اور مہمان نوازی میں نام رکھتا ہے- اپنے ہاں ضیافت پہ آنے والوں کو بہترین کھانا پیش کرتا ہے- مچھلی، گوشت اور اعلٰی درجے کی “ڈرنک” اُس کے دسترخوان کا امتیازی جُزو ہیں- ڈیزی کے پھول جیسی سُفید داڑھی ہے –

franklin 2

-11-Haber-dasher- ہیبر ڈےشر: کپڑا فروش یا بزاز

-12-Carpenter- کارپنٹر: بڑھئی، ترکھان

-13– ویئور: جولاہا

-14-Dyer- ڈائیر: رنگ ساز،صباغ

15-Tapestry-weaver- ٹیپ سٹ ری ویئور: غالیچہ بُننے والا

ہنر مند طبقے کے اِن پانچ کرداروں کا ذکر چاوسر نے اجتماعی انداز میں کیا ہے- قافلے میں شامل اِن دستکاروں کے لباس اچھی طرح، عمدگی سے سِلے ہوئے ہیں- تانبے کے چمک دار بکّل ہیں اور کہیں کہیں عمدہ قسم کی چاندی استعمال کی ہوئی ہے- یہ سب دستکار اپنے اپنے فن کے ماہِر ہیں اور خوب خُوشحال ہیں- اتنے خُوشحال ہیں کہ ذرا اندازہ کرو۔ ۔ ۔ ۔ ۔اِن کی بیویاں اِن سے “راضی” رہتی ہیں- ان کی بیگمات دعوتوں اور پارٹیوں میں ‘مادام’ کہلوانا پسند کرتی ہیں اور یہ شوہر حضرات عین وقت پہ اُن کی من پسند پوشاکیں مہیّا کر دیتے ہیں-

-16-Cook- کُک: زائرین کے قافلے میں ایک باورچی بھی شامِل ہے جو کہ اپنے زمانے کا ماہر ترین خانساماں ہے- یہ باورچی مذکورہ بالا اِن ہنرمند افراد کا ملازم ہے-کھانا ایسا مزیدار پکاتا ہے کہ اُس جیسا کوئی پکا نہیں سکتا – مصالحہ جات کا استعمال خُوب جانتا ہے، مُرغ اور گوشت اُبالنے کے فن میں طاق ہے – اُبالنا، تلنا، سِنکائی اور بُھنائی، ہر طرح کی پکوائی کر لیتا ہے اور میٹھا بنانے میں تو اُس کا کوئی ثانی ہی نہیں- راوی کہتا ہے کہ اِن سب صفات کے باوجود دِل کو یہ بات بھلی نہیں لگی کہ اُس کی پنڈلی پہ ایک کُھلا زخم نظر آرہا تھا- کیا یہ بات اُس کی مہارت پہ جچتی ہے؟

cook

cook

-17-Ship man- شِپ مین: گُھٹنوں تک لمبا ،کُھردرے سے کپڑے کا گاؤن پہنے ہوئے ایک جہازران بھی ہم رکاب ہے – اُس نے چاقو ایک ڈور کی مدد سے لٹکایا ہوا ہے – سمندری سفر کرتے کرتے اُس کی رنگت خُوب سنولائی ہوئی ہے- غصے کا تیز اور جی بھر کے بد مزاج ہے- مکمل طور پر ایک ضمیر فروش انسان ہے ، جو غیر اخلاقی باتیں کرتے ہوئے کوئی عار نہیں کرتا- راستے میں دیگر مسافروں سے نظر بچا کر ، کئی گلاس ‘اُم الخبائث’ چُرا کر پی گیا – اُس کے جہاز پر کئی ملاح کام کرتے ہیں- جِس قدر شہرہ اِن ملاحوں کی مہارت کا ہے، اُسی قدر اُن کی سفاکی بھی مشہور ہے-

shipman

کینٹربری کہانیاں – کردار – حصہ3

کینٹربری کہانیاں/پہلے چھ کردار/تیسرا حصہ

چاسر کی اصل وجہء شہرت مجموعہء حکایات “کینٹربری کہانیاں ‘ ہے جس میں قریب 29 زائرین نے سُنانے کے لئے جو کہانیاں منتخب کیں وہ قرونِ وسطیٰ میں ان کے معاشرتی مقام اور زندگی کی نمائندگی کرتی تھیں اور ان کرداروں کی انفرادی شخصیتوں کا عکس بھی تھیں – کسی ادبی شہ پارے میں اِس طرز کا استعمال اِس سے پہلے نہیں دیکھا گیا تھا-

چاسر نے میڈیول معاشرے میں بہت سے فرائض سرانجام دئیے جیسے قاصد، سپاہی، پیامبر، منشی، نگران، سربراہِ محکمہ، حکومتی اہلکار، سرکاری وفد – – – – یہ تمام عہدے اُس کے مشاہدے اور جہاں بینی کی تربیت میں معاون ثابت ہوئے- کینٹربری کہانیوں میں تمام ادبی اصنافِ سخن کچھ اس طرح شامل ہیں کہ مجموعی طور پہ کسی ایک صنف کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا – ان کہانیوں میں جنگی کارنامے، رومانوی قصّے، عشق و شجاعت کی کہانیاں، مذہبی واقعات، علامتی حکایتیں، آپ بیتیاں، جگ بیتیاں، جانوروں کی فیری ٹیلز، احمقانہ حادثے اور ایک مرثیہ بھی شامل ہے- جہاں تک لہجے کا تعلق ہے تو وہ بھی ایک وسیع تنوّع پر مشتمل ہے جس میں نیک، رزمیہ اور سبق آموز سے لے کر بےباکانہ، واہیات اور مہمل تک سب شامل ہیں-

موسمِ بہار کی آمد اور کڑکڑاتے بےرحم جاڑے کی رخصت کی شاعرانہ اور طویل منظرنگاری کے بعد راوی رُتبے کے لحاظ سے سب سے پہلے سب سے قابلِ قدر مسافر کا تذکرہ کرتا ہے-

KNIGHT-1- نائٹ: یہ ایک بہادُر جہاندیدہ سُورما ہے جس نے40سال جنگی مہمات میں برسرِ پیکار رہ کر گزارے ہیں- تقریبا پندرہ صلیبی معرکوں کے سِلسلے میں یورپ کے طُول و عرض اور ایشیائے کوچک (ایشیا مائنر) کا سفر کر رکھا ہے-اسکندریہ کے سقوط کے وقت وہ وہیں تھا، لیتھوانیا، رشیا، پروشیا، غرناطہ، الجیریا، موروکو، ٹرکی، بلماریا اور اطالیہ کی مہمات پہ نامزد رہا- کئی بار قاتلانہ حملوں میں بچا- کئی خوفناک مقابلوں میں اپنے حریف کو زیر کیا- اس کے نام کے ساتھ ‘سر’ کا خطاب اُس کے اونچے عہدے کی دلالت کرتا ہے- یہ سُورما بہت مؤدبانہ گفتگو کرتا ہے اور عامیانہ، لغو باتوں سے احتراز کرتا ہے- اس نے موٹے سے فُسطین کپڑے کی مردانہ صدری پہنی ہوئی ہے- فُسطین ایک عام سوتی کپڑا ہے جس میں اُونی تار شامل ہوتے ہیں- نائٹ کے کپڑے گردآلود ہیں کیونکہ وہ حال ہی میں کسی جنگی مہم کے طویل سفر سے لَوٹاہے اور بخیر و خُوبی واپسی پر کینٹربری کے کلیسا پر شکرانہ ادا کرنے جارہا ہے- راوی اِس مہم جُو سورما کا مداح ہے اور اُس کی صفات بیان کرتا ہے،جن میں 1-شجاعت، 2-وفاداری، 3-ناموری، 4-فراخدلی، اور 5-باریک خیالی شامل ہیں-

KNIGHT

KNIGHT

SQUIRE-2- سکوائر: یہ اِسی سُورما کا نوابی آن بان والا بیٹا ہے- 20سال عمر ہے- مروّجہ لمبائی سے کافی چھوٹی قمیض ہے جس کی کھُلی آستینیں ہیں- سُرخ اور سُفید پھولدارکپڑے کے لباس میں ملبوس درمیانے قد کا صاحبانہ بانکپن لئے ، اپنے بالوں کو گھنگھریالا کروا رکھا ہے- موسیقی، شاعری، مصوّری اور دیگر فنونِ لطیفہ میں دلچسپی رکھتا ہے- فنِ سپاہ گری کا ماہر ہے- کئی معرکے لڑ چُکا ہے-باپ کا ادب کرتا ہے- کھانے پر باپ کو گوشت کے ٹکڑے کاٹ کر پیش کرتا ہے- گوشت کاٹ کر پیش کرنا ایسا کام تھا جس میں جدوجہد صرف ہوتی تھی کیونکہ چودہویں صدی میں کھانے پکانے کے رواج بہت سادہ تھے- معلوم ہوتا ہے کہ اُس کی تمام سپاہ گری اور مظہر کسی محبوبہ کا اعجاب پانے کے لئے ہے- رات کو ایک فاختہ کی مانند کم نیند لیتا ہے- زمینداری نوابوں والا التفات اور ادائیں بدرجہءاتم پائی جاتی ہیں- وہ موسمِ بہار کے جُولانی مزاج کی ہوبہو تصویر ہے-

Canterbury_Tales__Squire_by_kekumbaz

YEOMAN-3- یومین: رابن ہُڈ جیسے حلیے میں ایک مزارع ہے جو نائٹ کا وفادار اور تابعدار ہے- سبز لباس میں ، تیر کمان لٹکا ئے ، ایک چاقو اور تلوار سے لیس، مستعد شخص ہے – یہ ہتھیار سادہ ہیں اور اُس کے طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں- چاوسر ہتھیاروں کی اچھی حالت اورچمک کی تعریف کرتا ہے- چھوٹے چھوٹے بال اور سنولایا ہوا رنگ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ظاہری وضع قطع سے بےنیاز، اپنے کام کو خلوص سے انجام دیتا ہے- سینے پر سینٹ کرسٹوفر کا میڈل آویزاں کیا ہوا ہے جو اس کی مذہبی وابستگی کو ظاہر کرتاہے- اس مزارع کا تذکرہ آگے کہانیوں میں نہیں آتا، غالبا اس کردار کا ذکر کرنے کی وجہ یہ بتانا ہے کہ نائٹ ایک کم پروٹوکول والا افسر ہے جس کا حفاظتی سکواڈ اکیلے مزارع پہ ہی مشتمل ہے – یہ بات بھی پتہ چلتی ہے کہ نائٹ کچھ زرعی رقبے کا مالک ہے جس کی دیکھ بھال کے لئے اُس نے مزارعے کو ملازمت پہ رکھا ہوا ہے –

The_Yeoman

PRIORESS-4- پرائرس: ایج لین ٹائن نام کی یہ خاتون دوسرے درجے کی راہبہ ھے- اس کا رُتبہ راہبہ سے کم ہوتا ہے- چودہویں صدی کے انگلستان میں اِن راہباؤں کے ذمے انتظامی اُمور ہوا کرتے تھے جن میں چرچ میں نظم و ضبط رکھنا، عبادات کی ادائیگی ، مناجات سُننا اور مناجات پڑھنے والوں کو سکھانا اور راہباؤں کا ڈسپلن قائم رکھنا – راوی ایک راہبہ کے اس قدر مرصّع اور سجیلے نام پہ تعّجب کا اظہار کرتا ہے- خاتون گفتگو ،کھانے اور نشست و برخاست کے ماڈرن نفیس آداب رکھتی ہے جو کہ ایک راہبہ کا خاصہ نہیں – چا وسر نے کھانے کے متعلق تفصیل بڑی اچھی طرح لکھی ہے- کھانا کھاتے ہوئے کوئی ذرہ نیچے نہیں گِراتی، نہ ہی اُس کی اُنگلیوں پہ سالن لگتا ہے، شوربے کا کوئی قطرہ لباس پہ نہیں گِرتا، اور اپنے کپ کو منہ لگانے سے پہلے ہونٹ سے چکنائی کو اچھی طرح صاف کر لیتی ہے اِسی لئے اُس کے کپ میں چکنائی تیرتی ہوئی نظر نہیں آتی- چاوسر متعجب ہے کہ خاتون نے زمانے کے رواج سے ہٹ کر ایسے طور طریقے اپنا رکھے ہیں جو صرف اشرافیہ کا خاصہ ہیں- تمام دِن دعائیہ سروس ناک میں گاتی رہتی ہے اور لیاقت جتانے کے لئے غیرمعروف،ایک علاقائی لہجے کی فرانسیسی بولتی ہے – یہ دُنیاداری کی طرف رغبت کو ظاہر کرنے والی بات ہے- تیکھا ناک، سرمئی چمکتی آنکھیں، گلابی ہونٹ اور ہتھیلی جتنا چوڑا کشادہ ماتھا ہے- اس قدر نازک دل ہے کہ کسی کو چوہا مارتے ہوئے دیکھ کرملُول ہوجاتی ہے– اِس راہبہ کے ساتھ ایک نن اور پرییسٹ ہیں – تین چھوٹے پالتو کتّے ہیں جن کو پکا ہوا گوشت ڈالتی ہے- گویا انسانیت کو دی جانے والی محبت کا ایک حصہ اُس کے پالتو وصول کرلیتے ہیں- پرائرس نے بازو پہ سبز اور سُفید قیمتی موتیوں والی ایک تسبیح پہنی ہوئی ہے جس سے لٹکتے لاکٹ پہ کنداں ہے انگریزی میں “محبت فاتحِ عالم” ، یہ راوی کی طرف سے ایک طنزیہ اشارہ ہے- بات بے بات سینٹ لوئی کی قسم کھاتی ہے جو کہ قسم نہ کھانے کے لئے مشہور تھا- چاوسر نے تعریفی انداز میں طنز کا استعمال کیا ہے-

prioress--...

MONK-5- مونک : ایک روایتی تپسّوی یا جوگی کو مونک کہا جاتا ہے- گرجا گھر کے بیرونی دنیا کے معاملات اور خارجی لین دین مونک کے فرائض میں شامل ہوا کرتا تھا- چاوسر کا مونک، چودہویں صدی کا روایتی بدعنوان درویش، جس کی گنج شیشے کی طرح چمک رہی ہے – کام میں کاہل اور مطالعے کا چور ہے حالانکہ اُس کی تپسّیا کے لئے کام اور مطالعہ ضروری ہیں-اُسے کیا ضرورت ہے کہ کسی کمرے میں تنہا بیٹھ کر کسی کتاب میں غرق ہو جائے- عمدہ لباس ہے اور بازو کے آگے علاقے کی بہترین فَر لگی ہوئی ہے- اُسے اپنے لباس پہ لگی ایک سُنہری پِن بہت بھاتی ہے- شکار کا شوقین ہے اور اعلٰی نسل کے شکاری کتّے پال رکھے ہیں – اُس کے گھوڑے کی لگام بہت شاندار ہے جو دُور سے گرجا کی گھنٹیوں کی طرح بجتی سُنائی دیتی ہے- چاوسر نے یہاں بھی تقابلی طنز استعمال کیا ہے- مونک نے سادہ زندگی کے بجائے ہر طرح کا عیش و عشرت اپنا رکھا ہے- مونک خود اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ جدید رحجانات کا حامل ہے اور پرانی روایات میں تبدیلی لانے کا حامی ہےـ بھلا گئے زمانوں کے قاعدے اور قوانین اب کیا کام دیں گے، نئے زمانے کے نئے اطوار ہی بہتر ہیں- الغرض پرائرس کی طرح ، مونک میں بھی وہ سب باتیں موجود ہیں جو کہ ۔ ۔۔ نہیں ہونی چاہیئے تھیں –

                                                <a href="https://sarwataj.files.wordpress.com/2013/12/a-szyk-the-monk.jpg"><img src="https://sarwataj.files.wordpress.com/2013/12/a-szyk-the-monk.jpg?w=238" alt="a-szyk-the-monk" width="238" height="300" class="alignnone size-medium wp-image-285" /></a>                    

FRIAR-6-فرائیر: ایسا درویش جس کا تعلق کیتھولک مذہب سے ہو فرائیر کہلاتا ہے- دیگر ارکانِ گرجا کی نسبت فرائر سب زیادہ تارکُ الدنیا اور درویشی کی علامت سمجھے جاتے تھے- قُرونِ وسطیٰ کے انگلستان میں فرائرز کو گرجا کی طرف سے باقاعدہ لائسنس جاری کئے جاتے تھے جس کے تحت وہ گزر اوقات کے لئے صدقات وغیرہ لینے کے مجاز تھے اور اعترافِ معاصی سُننے اور بخشِش عطا کرنے کا معاوضہ بھی لے سکتے تھے گویا فرائر چرچ کی طرف سے معافی فروخت کیا کرتے تھے- چونکہ وہ کوئی جائیداد رکھنے کے مجاز بھی نہیں تھے اِس لئے یہی ان کا کُل ذریعہءآمدن تھا- یہ لائسنس اکثر اوقات اِن کے بہکنے کا سبب بھی بن جایا کرتا کیونکہ کئی گناہگاروں کی دِلجوئی کرتے ہوئے یہ جذباتی بھی ہوجاتے ہوں گے، شاید یہی وجہ ہے کہ چاوسر کے اس فرائر نے کئی شادیاں کررکھی ہیں-

“maad many a mariage \ of yonge women at his owene cost”

غالبااُس کا حلقہء عقیدت مندان زیادہ تر دُکھی متموّل خواتین پر مشتمل ہوگا کیونکہ یہ درویش یہاں وہاں ایسے لوگوں کی تلاش میں سرگرداں رہا کرتے تھے جو اپنے گزر جانے والوں کی مغفرت کے لئے کچھ خرچ کرنے کے خواہاں ہوں- چاوسر کہتا ہے کہ جن لوگوں کا اوپر والا ہونٹ سخت ہوتا ، وہ اُسے ڈر کے پیسے دے دیا کرتے، اُوپر والے ہونٹ کا سخت ہونا استعارہ ہے کہ انہیں رونا نہیں آیا کرتا تھا، جس پہ وہ خائف ہوتے کہ رونے کے بغیر گناہوں کی معافی نہ ہوئی تو کیا ہوگا چنانچہ وہ بخشش کروانے کے لئے ادائیگی کردیا کرتے تھے- بحث مباحثے اور مقابلوں کے لئے موزوں دلنشین آواز ہے، چمکتی آنکھیں اور فنِ خطابت میں طاق ہے – آواز بہت سُریلی ہے، اکثر گُنگناتا ہے، نغماتِ محبت گانے کے مقابلے میں تو اوّل آسکتا تھا- گناہوں کی معافی اور اعتراف سُننے کی ذمہ داری کے علاوہ صدقہ جات کی طرف راغب کرنے کا اسلُوب رکھتا ہے- غریبوں اور ضرورت مندوں کو قریب پھٹکنے نہیں دیتاـ اُس باتوں سے راوی نے اندازہ لگایا کہ اُسے تمام ہوٹلوں اور مے خانوں کی تفصیلات معلوم ہیں کہ جہاں اُس کے کھانے پینے کا بندوبست ہوسکے- وہ ایک سادہ، درویش فرائر کی نسبت ایک رُعب دار سردار زیادہ معلوم ہوتا ہےـ

szyk-friar

کینٹربری کہانیاں – Era -دوسرا حصہ –

THE CANTERBURY TALES- PART 2

کینٹربری کہانیاں – زمانہء تحریر – دوسرا حصہ

ماہرینِ انگریزیات نے اتفاقِ باہمی سے اس نظم کو چودہویں صدی کی عکاسی کرنے والا بہترین ادبی شہ پارہ قرار دیاہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جس کو “ازمنہٴ وسطیٰ” کہا جاتا تھا یا کہا جاتا ہے۔
مڈل ایجز” یا “ازمنہٴ وسطیٰ” کی اصطلاح ایک عجیب تاٴثر پیدا کرتی ہے یعنی درمیانی زمانہ یا عرصہ ۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کن دو وقتوں کا درمیانی زمانہ ؟ اور اُس عہد کے رہنے والوں نےیہ کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ وہ “درمیانی زمانے” میں رہنے والے کہلائیں گے ۔

مڈل ایجز کی یہ اصطلاح بعد میں آنے والے اُن لکھاریوں اور موٴرخین نے استعمال کی جن کا تعلق “نشاۃ الثانیہ” سے تھا۔ انگریزی میں نشاٴۃ الثانیہ کو “رینےسانس” کہا گیا جو بذاتِ خود ایک فرانسیسی لفظ ہے اور اِسے “ریستوراں” کے وزن پہ ” رے نی ساں” بولا جاتا ہے۔

میڈیول یا مڈل ایجز، سے وہ عرصہ مراد لیا جاتا ہے جو ۴١٠ میں سلطنتِ روم کی تباہی سے شروع ہوا اور تقریباً پندرہویں صدی میں مختلف علمی تحریکوں پہ اختتام پذیرہوا۔ مغربی رومی سلطنت ۴١٠ اور پھر ۴٧٦ میں جرمینِک اقوام کے ہاتھوں اُجاڑی گئی۔ یورپ کے شمال مغرب سے گوتھ قوم نے شہرِ روم کو بُری طرح ملیامیٹ کردیا تھا ۔ گوتھ انتہائی غیر مہذب قوم تھی۔ جن کے حملے کا مقصد مال اور خوراک کی تلاش تھی۔ گوتھکز پہ کئی فلمیں بنائی گئیں ۔ مغربی گوتھ کو وزی گوتھ کہا جاتا ہے۔

image

قبضے کا روم پہ بہت گہرا اثر ہوا۔ قریب قریب اِسے غالب کے خطوط میں موجود دِلّی کی تباہی جیسا سمجھ لیں ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ روم پر حملہ کرنے والے،وزی گوتھ مسلمہ طور پرجاہل، بد اخلاق اور غیر مہذب تھے ۔ مغربی تاریخ کے تمام ماٴخذ اس بات سے متفق ہیں ۔ جبکہ دِلّی (دہلی) کو تاراج کرنے والے دنیائے عالم میں خود کو عقلِ کُل مانتے تھے۔ خیر روم کی تباہی سے مرکزی رومی حکومت کا نشان مِٹ گیا تھا جس سے معاشی، معاشرتی اور ہر طرح کی بدحالی پھیل گئی۔ غذائی قلت، پے در پے حملے، جنگیں ، طاعون اور سیاسی عدم استحکام نے برا حال کردیا تھا۔

مڈل ایجز کا ابتدائی پانچ سوسالہ عرصہ ڈارک ایجز یا قرونِ مظلمہ کہلاتا ہے ۔ پانچویں صدی سے دسویں صدی تک متعدد لڑائیوں اور بدامنی کا زمانہ تھا ۔ موٴرخین اس دور کے بارے میں حتمی طور پہ کچھ دلیل پیش کرنےسے قاصر ہیں۔ کیونکہ اس وقت میں جان بچانا مشکل تھا، کوئی دستاویز یا تاریخی معلومات تو کیا ملتی ۔ ۔

ازمنہٴ وسطیٰ میں علمی اور ادبی سوچ یکسر معدوم تھی۔ یہ جہالت کا دور تھا۔ روایتی اور کلاسیکی اقدار سِرے سے غائب تھیں ۔ لوگوں کی زندگیوں پر زمینداری نظام کی دھونس بازی اور کلیسا کی مطلق العنانیت کا مکمل اختیار تھا۔ اس زمانے کے تقریباً ابتدائی پانچ سو سالوں میں، عیسائیت نےخود کو پورے یورپ میں مستحکم کیا ، اور ایک ایسا دستوری مذہبی نظام قائم کیا جس میں معاشرے کے تمام پہلووٴں سے نمٹنے کی صلاحیت موجود تھی۔ منظّم ادارتی صورت میں ، بیماروں کی تیمارداری سے لے کر عدالتی اختلافات حل کرنے تک عبور حاصل کیا۔

سیکولر اداروں اورحکومتی ڈھانچوں سے دودو ہاتھ کئے، یورپ کی اکانومی کو مضبوط زمینداری نظام پہ قائم کیا جس میں کلیساوٴں کو بڑے بڑے رقبے سونپے جاتے تھے ۔ کلیسا کی انتظامیہ ان اراضی سے آمدن حاصل کرنے کے لئے مزارعے، مزدور، کسان، ٹھکیدار، منشی، اور ایسا ایک پورا نظام مرتب کیا کرتی تھی۔

اس درمیانی زمانے یا ازمنہٴ وسطیٰ میں کئی خونیں اور خوفناک تنازعے سامنے آئے جن کے کئی اسباب تھے ۔ ۔ ۔ ۔ طاقت کی تقسیم، کلیسا اور اقتدار کے مابین اختیارات کی کھینچا تانی اورکلیسا کے بے تحاشا مضبوط مالیاتی نظام میں غریب طبقے کا حصہ اور مقام ۔ اِسی زمانے میں رواجوں ، اداروں ، طاقت اوراقتدار کے ارتقاٴ کی بنیادیں وضع ہوئیں ۔ اور پھر انہی بنیادوں پر “رے نی ساں” اور اُس کے بعد ماڈرن عہد میں یورپ کی توسیع اورترقی کا کام ہوا۔

چاسر نےاپنی نظم چودہویں صدی کے آخر میں لکھی ۔ اس وقت کو مڈل ایجز کا آخری عرصہ یا “رے نی ساں” کا ابتدائی دور تصور کیا جائے گا۔ شاعر نے اپنی نظم میں معاشرے کے ہر طبقے سے افراد کا تنوع اپنےکرداروں میں پیش کیا ۔ پڑھنے والا بخوبی چودہویں صدی کی اس لفظی تصویر کشی سے اُس وقت کے حالات کو تخیل کے پردے پہ دیکھ سکتا ہے

پندرہویں صدی کے دوران گلوب کے دیگر اطراف:

-570عیسوی: ولادتِ محمدِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
-602 – 629 عیسوی: روم اور فارس کے مابین جنگ ( اس جنگ کے نتیجے میں دونوں اقوام یوں کمزور ہوئیں کہ 630 میں عرب افواج کے سامنے نہ ٹھہر سکیں-
-622 عیسوی: ہجرتِ مدینہ ، مواخات
-632 عیسوی: وفاتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر صدیق خلیفہء اول
اس وقت تمام جزیرہء عرب پہ اِسلام پھیل چکا تھا-
-638عیسوی: خلافتِ عمر کا زمانہ، یروشلم اسلامی قلمرو میں شامل
-641عیسوی: معرکہءنہاوند، فتحِ فارس
-674عیسوی: ارضِ قسطنطنیہ پہ مسلمانوں کا پہلا معرکہ
-711عیسوی: طارق بن زیاد کی سربراہی میں فتحِ سپین
-750عیسوی: عباسی خلافت کا آغاز
-786عیسوی: ہارون الرشید کے دور کا آغاز
-800عیسوی: شارلیمان کی تاج پوشی بطور مقدس رومن ایمپرر
-827عیسوی: فتحِ سسلی، اسلامی سلطنت میں شامل
-929عیسوی: خلافتِ قرطبہ کا آغاز، عبدالرحمٰن ثالث کی تخت نشینی
-978عیسوی: ہسپانیہ میں منصور تخت نشین ہوا
-1097 – 1199 عیسوی: پہلی صلیبی جنگ، یروشلم پر عیسائی قبضہ
-1117عیسوی: آکسفورڈ یونیورسٹی کا قیام
-1187عیسوی: سلطان صلاح الدین ایّوبی نے 91 سال بعد یروشلم دوبارہ فتح کرلیاجو کہ 761 سال مسلم حکومت میں شامل رہا، 1948 تک
-1204عیسوی: چوتھی صلیبی جنگ، قسطنطنیہ کی فتح، اسلامی قلمرو میں شامل
-1258عیسوی: ہلاکو خان کی زیرِ قیادت منگولوں کے ہاتھوں بغداد کی تباہی اور خلافتِ عباسیہ کا خاتمہ، مستعصم باللہ کی عبرت ناک موت
-1260عیسوی: جنگِ عین جالوت، مصری مملوکوں نے منگول افواج کو بدترین شکست دے کر مصر، شام اور یورپ کو منگولوں کی تباہکاریوں سے بچایا
-1272 – 1273عیسوی: نویں صلیبی جنگ جس کو ارضِ مقدسہ پر سب سے بڑی جنگ کہا جاتا ہے
-1299عیسوی: عثمان اول نے عثمانی سلطنت قائم کی
-1380عیسوی: چاسر نے کینٹربری کہانیاں لکھنا شروع کیں
-1453عیسوی: عثمانی ترکوں نے سلطان محمد فاتح کی سربراہی میں قسطنطنیہ فتح کیا- سقوطِ قسطنطنیہ سے مشرقی (بازنطینی) رومن سلطنت کا ختمہ ہوا- قسطنطنیہ(استنبول) خلافتِ عثمانیہ کا دارالحکومت اور اسی کو مڈل ایجز کا نقطہء اختتام کہا جاتا ہے
-1456عیسوی: حکومتِ عثمانیہ کے ہاتھوں فتحِ بلغراد
-1492عیسوی: سقوطِ غرناطہ، آخری مسلم حکمران ابوعبداللہ نے ملکہ ازابیلا اور شاہ فرڈیننڈ کے سامنے ہتھیار ڈالے- کولمبس نے نئی دنیا دریافت کرلی
-1499عیسوی: عثمانی بحری بیڑے نے جنگِ لیپانٹو میں یورپیوں کو شکست دی- پہلی سمندری جنگ جس میں بحری بیڑے پہ نصب توپیں استعمال کی گئیں

Nahavand

Nahavand

Age of the Caliphs

Age of the Caliphs

image
فتحِ هسپانیہ-711

فتحِ هسپانیہ-711

مسجدِ قرطبہ

مسجدِ قرطبہ

قصر الحمراء،غرناطہ

قصر الحمراء،غرناطہ

"A painting of 21 years old Sultan Mehmed 2 approaching Constantinpole,  1453,transporting a giant bombard." by-fausto-zonaro

“A painting of 21 years old Sultan Mehmed 2 approaching Constantinpole, 1453,transporting a giant bombard.” by-fausto-zonaro

1453, Mehmed II, Entering to Constantinople

1453, Mehmed II, Entering to Constantinople


Mehmed_II_ferman-Mehmed II's ahidnâme to the Catholic monks of the recently conquered Bosnia issued in 1463, granting them full religious freedom and protection. Mehmed_II_ferman-Mehmed II’s ahidnâme to the Catholic monks of the recently conquered Bosnia issued in 1463, granting them full religious freedom and protection.
Fatih Sultan Mehmet Bridge over the Bosporus Straits in Istanbul was built in the 20th century

Fatih Sultan Mehmet Bridge over the Bosporus Straits in Istanbul was built in the 20th century


Originally posted on Dec, 12, 2013

کینٹربری کہانیاں – پہلا حصہ

کینٹربری کہانیاں – تعارف – پہلا حصہ

انگریزی ادب کا اولین شاعر جیفری چاوسر Geoffrey Chaucerکو مانا گیا ہے جس کا کلام کسی طور محفوظ پایا گیا ۔ اور یہ بھی کہ چاوسر نے شاعری کے لئے ایسی انگریزی استعمال کی جو آج کا قاری بھی معمولی تُک بندی سے سمجھ سکتا ہے چنانچہ زبان دانوں نے چاوسر کو ماڈرن انگریزی ادب کا باوا تسلیم کرلیا ۔

یہ قصہ الگ کہ ہم ذہنی اعتبار سے انگریزی زبان کے ایسے سگے امین بنے کہ ہماری پرائمری سکول کی استانی کے ہاتھ چاوسر کی کاپی آجاتی تو وہ کئی سپیلنگز پر سرخ پین سے دائرے بناتی بناتی صفر نمبر دیتی اور تحریر کو انگلش نہ جانتی۔ بہرحال انگریز خُود اپنی مرضی سے چاوسر کی شاعری کو جدید انگریزی شاعری کا نقطہٴ آغاز مانتے ہیں ۔

image

چاوسر کی تاریخ پیدائش نامعلوم ہے لیکن تاریخ وفات 1400 کہی جاتی ہے۔ بھلا ہو ناقدین کا جنھوں نے جدیدیت کو چاوسر صاحب کی شاعری کا سب سے نمایاں پہلو قرار دیا ۔ جدیدیت کے علاوہ اس کی شاعری اور بھی کئی خاص صفات رکھتی ہے

چاوسر کی مشہور ترین نظم ” کینٹربری کہانیاں ” ہے ۔ یہ ایک فریم کہانی ہے جس میں مزید کئی چھوٹی چھوٹی کہانیاں ہیں ۔ لندن کے مضافات سے کچھ مسافر ایک قافلے کی صورت کینٹربری کی طرف روانہ ہوتے ہیں جن کا مقصد کینٹربری کے ایک بڑے کلیسا کی زیارت کرنا ہے۔ عام طور پہ ایسے قافلے بہار کی آمد پہ روانہ ہوا کرتے تھے جب برفانی جاڑا رخصت ہوجاتا۔ نظم کا راوی اس سفر کے تمام شرکاٴ کا تعارف کرواتا ہے اور ایسی تصویر کشی کرتا ہے کہ تمام منظر قاری کے سامنے زندە ہوجاتا ہے۔ تعارف کے لئے راوی نے ایسی تفصیلات چنیں جو ہر کردار کی صورت اور سیرت واضح کردیں ۔اُنتیس مسافروں کے اس قافلے میں یہ طے پاتا ہے کہ ہر مسافر منزل کی طرف جاتے ہوئے دو دو کہانیاں سُنائے گا اور واپسی کے سفر میں پھر دو دو کہانیاں سُنائے گا ۔ اِن کہانیوں اور کرداروں کا دلچسپ اور اہم ذکر پھر کبھی سہی ، پہلے اس کے زمانہٴ تحریر پہ بات ہوجائے۔

image

by the brush of an artist

by the brush of an artist


Originally posted on 10th Dec, 2013. Reposting for reference.

The Prioress’s Tale – 21

-پرائرس کی کہانی:

Prioress_back

جنرل پرولؤگGeneral prologue . . .یعنی تعارفی حصے میں پرائرس کا نام مادام ایج لین ٹائن بتایا گیا ہے جو انتہائی نفیس ٹیبل مینرز یا آدابِ طعام سے آراستہ ہے۔

prioress

پرائرس کی کہانی ایک شہید بچے کے بارے میں ہے جو جِیوز کے ہاتھوں مارا گیا۔ یہ مرکزی خیال ازمنہء وسطیٰ کے عیسائی ادب میں عام پایا جانے والا موضوع ہے ۔ جبکہ بعد ازاں اِن موضوعات کو یہودی تعصب اور تنافر پر مبنی ہونے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔ پرائرس نے کنواری مریم سے ہدایت کی دعا کرتے ہوئے اپنی بات کا آغاز کیا۔

099-the-prioresss-tale

پرائرس نے جو کہانی سُنائی وہ ایک مناجات پڑھنے والے بچے کے متعلق ہے جو مقدس مریم کے بارے میں ایک لاطینی نظم پڑھ رہا ہے جس کے معانی بھی وہ نہیں جانتا ۔ یہ کمسِن عیسائی بچہ ایک ایسے علاقے میں رہتا تھا جہاں یہودی آبادی ‘گھیٹو’ قائم تھی اور عیسائی اقلیّت میں تھے۔

آبادی کی اکثریت بدطینت اور کینہ پرور جِیوز پر مشتمل تھی۔ آبادی کے ایک کنارے، عیسائیوں نے اپنے بچوں کے لئے ایک سکول کھولا جہاں ایک بیوہ کا سات سالہ ہونہار بچہ بھی پڑھتا تھا۔ یہ ننھا بچہ اِس کم عمر میں بھی اپنے مذہب سے بہت گہری محبت رکھتا تھا۔ اپنے مذہب کی محبت اور تعظیم اِس ننھے بچے کے دل میں راسخ ہوچکی تھی۔ اُس نے اپنے سے بڑے ایک طالبعلم سے ایک لاطینی نظم سیکھی جس میں مقدّس مریم کی صفت اور مدح بیان کی گئی تھی۔ ابھی یہ ننھا بچہ لاطینی الفاظ کے معانی سے ناآشنا تھا مگر اپنے شوق کے وجہ سے اِس نظم کو گنگناتا چلا جاتا۔

264-prioresss-tale

ایک دن یہ بچہ سکول سے واپس آتے ہوئے ایک مدحیہ نظم گُنگنارہا تھا ۔ارد گرد کے جیُوز اس بات پہ سخت برہم ہوئے۔ اِن جِیوز کے دل میں شیطان نے حقد ، حسد اور نفرت بھر رکھی تھی۔ کچھ جِیُوز ،نفرت کی وجہ سے اُس بچے کا گلا کاٹ دیتے ہیں- وہ ظالم ، . . بچے کا سر تن سے جُدا کرکے اُس کا جسم گندگی میں پھینک کر چلے گئے۔

بچے کی ماں ساری رات اُسے تلاش کرتی رہی، جیوُز کی منتیں کرتی رہی کہ بچے کا پتہ بتا دیں۔ آخرکار بچے کا مردہ جسم گڑھے سے مل گیا۔

352 small

بچے کے کٹے گلے سے مناجات کی آواز سُن کراُس کی ماں کیا دیکھتی ہے کہ بچہ سر تن سے جُدا ہونے کے باوجود نظم گا رہا ہے ۔ دیگر عیسائی محلے دار بھی اکٹھے ہوگئے اور اِس معجزے پر حیران رہ گئے۔

323 Well removed Bulent moved

محلّے داروں نے ایک بڑے گرجا گھر کے بڑے پادری کو بلایا کہ وہ خود آکر اِس معاملے کو دیکھے اور تشریح کرے۔ بڑے پادری نے آکر یسوع مسیح اور اُس کی مقدس ماں کی حمد و ثنا بیان کی، . . بچے کو وہاں سے اُٹھا کر قریبی خانقاہ میں لے جایا گیا۔ اِس تمام وقت میں . . . بچے کے سر کٹے جسد سے مناجات کی آواز آتی رہی۔

vol-1-185-prioresses-tale

بچے کی تدفین سے پہلے اُس پر مقدس پانی ڈالا گیا تو وہ پھر بولنا شروع ہوگیا۔پادری نے بچے سے پوچھا کہ وہ کس سبب مرنے کے بعد بھی بولنے کے قابل ہوا؟

247-prioresss-tale

بچے نے بتایا کہ . . . مقدس مریم نے اُس کی زبان پہ ایک کراماتی دانہ رکھا ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ کٹے گلے کے ساتھ بھی راہِ حق میں قربان ہوتے ہؤئے یہ پڑھ رہا ہے:

Alma Redemptoris Mater
(Kindly mother of the Redeemer)

پادری نے بغور دیکھا تو معلوم ہوا کہ . . . واقعی وہاں مٹر جتنا ایک کراماتی دانہ موجود ہے۔ جونہی وہ کراماتی دانہ ہٹایا گیا تو بچے کا انتقال ہوگیا ۔ بڑے پادری نے یہودیوں پر لعنت اور پھٹکار بھیجی۔ بچے کو شہیدوں کی طرح شان و شوکت سے دفنایا گیا۔ کہانی کے اختتام پر بچے کی ناگہانی موت پر نوحہ اور ماتم ہے۔

Edward Burne-Jones - The Prioress' Tale

یہ اور اِس جیسی کئی خونیں کہانیاں اُس وقت میں عام تھیں جو کلیسا کی طرف سے بیان کی جاتی تھیں۔ ایک اور ذریعہ کے مطابق ، بارہ سو نوّے عیسوی میں جیوز پر، . . .انگلستان میں پابندی تھی، جو کہ کم و بیش اِس کینٹربری کہانیوں کی تحریر سے سو سال پہلے کی بات ہے۔

The Shipman’s Tale – 20

-شِپ مین کی کہانی:

شِپ مین یا ملّاح نے ایک ایسے مرچنٹ کی کہانی سُنائی جس کی کفایت شعاری کنجوسی کی حد کو جا مِلی تھی۔وہ دولت کمانے میں بری طرح مگن تھا ۔ مرچنٹ کاروباری معاملات میں بہت محنت اور تن دہی سے کام کرتا تھا۔ جبکہ مرچنٹ کی بیوی شاہ خرچ اور اچھا پہننے اوڑھنے کی دلدادہ تھی۔ اور اکثر پیسے پورے کرنے میں اُسے دقّت ہی رہا کرتی۔ ایک مونک اِس مرچنٹ کا قریبی دوست تھا۔ اتنا قریبی کہ بہت سے لوگ اُن دونوں کو بھائی سمجھا کرتے۔

ایک بار مرچنٹ کو کاروبار کے سلسلے میں کہیں سفر پر جانا تھا ۔مرچنٹ کے سفر سے پہلے ایک صبح مونک نے باغیچے میں مرچنٹ کی بیوی کو تنہا دیکھا تو اُس سے باتیں کرنے پہنچ گیا۔

frontispiece-vol-04-shipmans-tale

اُس نے خاتون سے ہمدردی کا اظہار کِیا . . .کہ وہ اپنے شوہر سے خوش نہیں لگتی۔ خاتون نے اقرار تو کیا مگر خود کو کمزور ظاہر نہ ہونے دیا ۔باتوں باتوں کے درمیان مرچنٹ کی بیوی نے مونک سے ہزار فرانک مانگے۔ مونک نے اُدھار دینے کا وعدہ تو کرلیا مگر بدلے میں ایک قُربت کا وعدہ لے لیا۔ مرچنٹ کی بیوی سے معاملہ طے کرکے . . .اُدھر مونک نے خاتون کو اُدھار دینے کے لئے خُود مرچنٹ سے ہی ہزار فرانک کا اُدھار لے لیا۔مرچنٹ نے مونک کا مطالبہ پورا کیا اور سفر پر روانہ ہوگیا۔ رقم مہیّا ہوگئی۔ اُن دونوں نے اُدھار کی رقم کے بدلے طے شُدہ وعدہ بہت خوشدلی سے پورا کیا۔

lovers shipman s tale

مرچنٹ سفر سے واپس آیا تو مونک نے اُسے بتایا کہ . . .اُدھار کے ہزار فرانک . . وہ مرچنٹ کی بیوی کو واپس لَوٹا چکا ہے۔مرچنٹ نے اپنی بیوی سے اُدھار کے اُن پیسوں کا پوچھا تو وہ کہنے لگی کہ ہاں، وہ پیسے اُسے ہی موصول ہوئے تھے مگر وہ اُس رقم کو خرچ کر چکی ہے۔ اور . . .اِس کے بدلے وہ اپنا آپ مرچنٹ کے حوالے کررہی ہے۔ مرچنٹ کے پاس راضی ہونے کے سِوا کیا چارہ تھا۔

میزبان نے شِپ مین کی کہانی کو سراہا اور تمام مسافروں کو مونک جیسے چالاک اور مکّار لوگوں سے ہوشیار رہنے کو کہا کہ ہمارے اطراف ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں جن سے ہمیں خبردار رہنا چاہیئے۔ کس قدر چالاکی سے مونک نے خود پہ مذہب کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا اور حقیقت میں اپنے دوست کو بے وقوف بنایا اور اُس کی بیوی کو بھی۔ یہ کہانی ایک اور بات کی طرف اِشارہ کرتی ہے کہ میاں بیوی کے درمیان کسی اختلاف کی معمولی سی خبر بھی ، جب کسی تیسرے کو پتہ چلتی ہے تو اُن دونوں کو نقصان ہوتا ہے۔ مونک بہت مہارت سے شوہر اور بیوی ، دونوں کو دغا دے گیا ۔

اِس کے بعد میزبان نے پرائرس کو اگلی کہانی سنانے کا کہا، جو اِس پیشکش پر مشکور ہوئی اور کہانی کا آغاز کیا۔