Home » Canterbury Tales » The Franklin’s Tale – 17

The Franklin’s Tale – 17

– فرینکلن کی کہانی:

franklins tale

فرینکلن چودہویں صدی کا زمیندار ہے جس کی گفتگو ظاہر کرتی ہے کہ وہ معاشرتی مقام اور رُتبے میں بلندی کا شدید متمنّی ہے۔ فرینکلن نے آغازِ کلام کیا اور معذرت چاہی کہ وہ بہت زیادہ ادبی صلاحیت نہیں رکھتا اور نہ ہی بہت شاندار اندازِ بیان کی قُدرت رکھتا ہے ، لہٰذا وہ قدیم بریٹون انداز کی ایک منظوم لوک کہانی سُنائے گا ۔ اِس سادگی کی وجہ یہ ہے کہ وہ فنِ خطابت کے رنگوں سے نا آشنا ہے اور فطرت کے رنگوں پر عبور رکھتا ہے۔

These ancient gentle Bretons, in their days,
Of divers high adventures made great lays
And rhymed them in their primal Breton tongue,
The which lays to their instruments they sung,
Or else recited them where joy might be;
And one of them have I in memory,
Which I shall gladly tell you, as I can.
But, sirs, because I am an ignorant man

فرینکلن کی کہانی ایک نائٹ آرویراگس (Arviragus) اور دوشیزہ ڈوری گن Dorigen کے بارے میں ہے جنھوں نے خوشی خوشی شادی کی ۔ یہ شادی دو برابر اور ہم پلّہ افراد کے درمیان ہوئی تھی اِس لئے کوئی دوسرے کا ماتحت یا سربراہ نہیں تھا۔ وہ دونوں برابر کے ساتھ تھے۔ ہم قبیلہ اور ہم سر ۔ ایک شادی میں . . میاں بیوی کے تعلق کو واضح کرتے ہوئے . . . یہاں فرینکلن ایک بات کہتا ہے جو کہ سولہ آنے درست ہے ۔ وہ کہتا ہے . . . . . . . . .کہ جب کسی تعلق میں برتری یا کمتری کا احساس پیدا ہوجائے تو . . . اُس تعلق سے خلوص اور محبت . . .یکدم غائب ہوجاتے ہیں، اور پھر وہ تعلق آزارِ جان بن جاتا ہے۔

the_franklin_s_tale_page_01_by_orwel-d67hq8n

آرویراگس اور ڈوری گن میں محبت کی شادی ہوئی، دو دل ملے اور گویا ہر طرف چاہت کی بارش ہوا کرتی، دنیا حسین رنگوں میں نہاگئی۔ اور وصل کے لمحوں کا رقیب، فراق آن پہنچا ۔

232-franklins

آرویراگس کو دو سال کے لئے ایک جنگی مہم پہ برطانیہ جانا پڑا۔ اور یہاں فرانس میں ، سراپا اپنے پریتم کی دیوانی، ڈوری گن اُس کے فراق میں رویا کرتی اور اپنے محبوب شوہر کو خطوط لکھا کرتی۔ کبھی کبھی وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ سمندر کے کنارے چلی جاتی، اُس کی ہم جولیاں اُس کا دل بہلانے کی کوشش کرتیں۔ وہ گہرے پانیوں کو دیکھ کر سوچا کرتی کہ اُس کا محبوب دُور کہیں ان لہروں کے دوش پہ سفر کرتا ہوگا . . .اور اُسے یاد کرتا ہوگا ۔

037-dorigen-the-franklins-tale

اُسے سمندر کے کنارے کالی کالی چٹانوں سے بہت خوف آتا ،محبت کے مارے دل کو اندیشے گھیر لیتے، وہ سوچا کرتی کہ . . . . کہیں ایسا نہ ہو کہ واپسی پر اُس کے محبوب کا جہاز اِن چٹانوں سے ٹکرا کر تباہ ہوجائے۔

152-she-was-prey-to-bitter-despair - franklin

قریب کا ایک نوجوان آریلس (Aurelius) دل ہی دل میں ڈوری گن کو بہت چاہتا تھا اور اُس کی نظرِ التفات کا متمنی تھا۔ اِدھر ڈوری گن اپنے شوہر کے سِوا کسی کا تصوّر بھی نہیں کر سکتی تھی۔اور اِسی لئے وہ کبھی آریلس کی بات نہ سُنتی ۔

038-aurelius-the-franklins-tale

ایک دن اُس نے آریلس کو ٹالنے کے لئے کہہ دیا کہ اگر تم سمندر سے یہ سب کالی چٹانیں ہٹاسکو تو وعدہ کرتی ہوں کہ میں تمھاری ہوجاؤں گی۔

256-franklins-tale

آریلس نے سب ماجرا ایک ماہرِ نجوم کو سنایا ۔ جس نے ایک معاوضے کے بدلے مدد کا یقین دِلایا اور معلوم کیا کہ چاند کی تاریخوں کے حساب سے کب لہریں اتنی بلند ہوں گی کہ چٹانیں نظر نہ آئیں۔ اب آریلس ڈوری گن کے پاس جا پہنچا اور کہنے لگا کہ میری دِلرُبا، تمھاری فرمائش پوری کرنے کا بندوبست ہوگیا ہے۔ ڈوری گن حیران و پریشان رہ گئی کہ اب کیا کرے۔

115-the-meeting-of-dorigen-and-aurelius

اسی اثنا میں آرویراگس کی واپسی ہوئی۔ ڈوری گن خوشی سے نہال ہوئی۔ کہانی کا کلائمکس اُس وقت پیدا ہوا جب ڈوری گن نے آریلس سے کئے گئے وعدے کا معاملہ اپنے شوہر کو سنایا کہ کیسے وہ اُس کے فراق میں باؤلی ہو کر وعدہ کر بیٹھی۔ اُسے کیا پتہ تھا کہ آریلس ایسا کر ہی دِکھائے گا ۔ آرویراگس نے ڈوری گن کو اجازت دی کہ وہ وعدہ خلافی نہ کرے ، اور اُسی نے ڈوری گن کو یقین دلایا کہ حتمی طور پہ آریلس اُس کی قدر کرتا ہے اِسی لئے تو اُس کی خواہش کسی بھی قیمت پہ پوری کر دکھائی۔

آریلس کو یہ بات پتہ چلی تو اُسے ڈوری گن کی شادی شُدہ زندگی خراب کرنے پر افسوس اور ندامت ہوئی۔وہ اُن دونوں کے صاف اور سچے کردار کا معترف ہوا۔ اُس نے ڈوری گن سے وعدہ پورا کرنے کا مطالبہ واپس لے لیا ۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اِس جوڑے کا اعتبار اور شفّافیت داغدار ہو۔ وہ اِس قدر قریب تھے کہ ہر حد تک ایک دوسرے سے سچ کہتے تھے۔ آریلس اُن کی زندگی سے چلا گیا ور ڈوری گن اپنے من چاہے شوہر کے ساتھ پیار محبت سے زندگی گزارنے لگی۔

راوی . . یہاں ایک سوال پہ کہانی ختم کرتا ہے کہ دونوں مردوں میں سے کو ن زیادہ نجیب اور کریم النفس ہے؟

Who was the mooste fre, as thynketh yow?
Who was the most generous /noble, as you think ?
232-the-franklins-tale

اِس کہانی میں بھی دیگر کئی کہانیوں کی طرح شادی اور ازدواجی تعلق ہی زیرِ بحث آیا ہے ۔ ہاں . . . . یہ ضرور ہوا کہ . . . روایتی لوک کہانیوں کی نسبت اِس کہانی میں جادو استعمال نہیں ہوا . . . بلکہ چٹانوں کو غائب کرنے کےلئے ایک ٹھوس سائنسی حقیقت کو زیرِ غور لایا گیا ہے۔ یہ بات چاوسر جیسے ادیب کو ہی زیب دیتی ہے جو کہ خود سائنس کا محقق تھا ور اُس نے “اسطرلاب” کے استعمال پہ ایک کتاب بھی لکھی ۔ یاد رہے کہ اسطرلاب ایک آلہ ہے جس کو مسلمان سائنسدانوں نے ایجاد کیا تھا اور یہ سمت نما (Compass) کی طرح کا ہوتا ہے۔

imagesChaucer_Astrolabe_BM_1909.6-17.1

2 thoughts on “The Franklin’s Tale – 17

  1. @جوانی پِٹّا صاحب: تو کیا آدمی اپنی عورتوں پہ بھی نظر رکھتے ہیں؟
    کیا خوب سچے پیار کی کہانی سنائی، دل کو بہت اچھی لگی

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s