Home » Canterbury Tales » The Physician’s Tale – 18

The Physician’s Tale – 18

-فزیشن کی کہانی:

فرینکلن نے ڈوری گن کی ، اپنے شوہر کے لئے اُلفت . . . کا قصّہ اختتام کو پہنچایا ، تو اُس کے بعد ، . . . فزیشن نے اپنی کہانی سُنانے کا آغاز کیا ۔ ڈاکٹر صاحب یا فزیشن نے اپنے پیشہ وارانہ کردار جیسی ہی کہانی سنائی۔ ایک بیٹی اور باپ کے تعلق کی ایسی کہانی جو مشرق اور مغرب کی تفریق کے بغیر، زمانہء قدیم سے تاحال پائی جاتی ہے۔

یہ کہانی ہے ایک نائٹ کی، . . . جو بہت دوستوں یاروں والا تھا، خوب دولت مند تھا ، جی دار اور ملنسار تھا۔ وہ اپنی چاہنے والی بیوی اور بے مثل حُسن والی بیٹی وِرجینیا کے ساتھ پُرسکون زندگی گزار رہا تھا۔

128-the-physicians-tale

نائٹ کی بیٹی بے انتہا خوبصورت اور نیک و باکردار تھی۔ وہ ایسے مواقع سے بھی گریز کرتی جہاں بدی یا فساد کا ڈر ہوتا ۔ راوی نے یہاں کہانی روک کر، . . . اولاد کی تربیت میں ماں باپ کے کردار پر روشنی ڈالی . . اور اِس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ بچوں کی پرورش میں سیرت کی تربیت پر خاص توجہ دینی چاہیے۔

ایک دن نائٹ کی بیوی اور بیٹی وِرجینیا ایک عبادت گاہ کی طرف جا رہی تھیں کہ ایپئس نامی ایک قاضی نے نائٹ کی بیٹی کو دیکھا . . . اور دیکھتا ہی رہ گیا ۔ اُس نے سوچا کہ

This mayde shal be myn.

بس . . اُسی وقت شیطان نے اُس کے دل میں وسوسہ پیدا کیا اور ایک ایسی چال اُس کے ذہن میں ڈالی جس سے وہ دوشیزہ ہمیشہ کے لئے اُس کی ہوجائے۔ ایپئس نے ایک چالاک ساتھی کو منصوبے میں شامل کیا اور نائٹ پر مقدمہ دائر کردیا کہ دراصل ورجینیا اُس کی غلام تھی جس کو نائٹ نے اغوا کر لیا ہے ۔ مِلّی بھگت کے تحت جج نے مقدمے کی سماعت اور اعتراضات سُنے بغیر ، . . . ورجینیا کو ایپئس کی تحویل میں دینے کا حکم صادر کر دیا ۔

144-physicians-tale

مغموم اور اُداس نائٹ گھر واپس پہنچا ، . . بیٹی کو بُلایا اور . . بتایا کہ اب اُس کے سامنے دو ہی راستے ہیں۔ باعزّت موت یا بےعزّت زندگی ۔ بیٹی نے باعزّت موت کو ترجیح دی اور نائٹ نے . . . بیٹی کا سر تن سے جُدا کر دیا ۔ قلم کیا ہوا سر لے کر عدالت پہنچا ، جہاں ورجینیا کا کٹا ہوا سر دیکھ سب لوگ سمجھ گئے کہ نائٹ پر واقعی جھوٹا مقدمہ کیا گیا تھا جبھی تو وہ بیٹی کی عزت پر حرف برداشت نہیں کرسکا ۔ عدالت میں لوگ اِس ناانصافی پہ بپھر گئے۔ اُنھوں نے ایپئس کو جیل میں ڈال دیا اور اُس کے ساتھی کو سزا دی گئی۔ راوی نے کہانی اِس بات پر ختم کی کہ . . . گناہ کا عتاب گناہگار پر ضرور نازل ہوتا ہے ۔

ڈاکٹر کی کہانی میں چاوسر نے ایک ایسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے جو معاشرے میں عزت سے متعلق ہے ۔ اکثر اوقات ، انسان اور خاص طور پہ مرد ، عزت کے بارے میں اُلجھاؤ اور جلد بازی کا فیصلہ کرجاتے ہیں۔ نائٹ دیگر طریقوں سے بیٹی کو بچانے کی کوشش کرسکتا تھا ، بجائے اِس کے کہ، اُس نے بیٹی کی جان ہی لے لی۔

physicianThe Canterbury Pilgrims

ڈاکٹر کی کہانی سُن کر میزبان نے کہا کہ اِس قدر دُکھی اور افسوس ناک کہانی سن کر اُس کا دل کچھ لمحوں کو بند ہی ہوگیا تھا ۔ہائے افسوس ! . . . کہ اُس لڑکی کی خوبصورتی نے ہی اُس کی جان لے لی۔ میزبان نے اِس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ اِس قدر مغموم اور دُکھی کہانی کے بعد اب ایک اچھی اور خوش کُن کہانی ہونی چاہیئے ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s