Home » Canterbury Tales » The Pardoner’s Tale – 19

The Pardoner’s Tale – 19

-پارڈونر کی کہانی:

ڈاکٹر کی اُداس کہانی کے بعد پارڈونر کی باری آئی۔ پارڈونر کی کہانی ادبی اعتبار سے ایک ممتاز مقام رکھتی ہے اور اِس مشرقی کہانی کی کئی دیگر مشابہ صورتیں بھی ملتی ہیں۔ پارڈونر، اپنی کہانی سے پہلے اپنی پیشے کی گمراہ کُن نوعیت کے بارے میں ایک اعتراف پیش کرتا ہے۔ وہ مسافروں کی جماعت کو مخاطب کرکے بتاتا ہے کہ . . . گرجا میں وعظ و تبلیغ کرتے ہوئے اُس کی آواز بہت گُونج دار ہوتی ہے اور اُس کے وعظ کا مرکزی نکتہ لالچ کے مفاسِد کے بارے میں ہوتا ہے. . .کیونکہ تمام برائیوں کی جڑ لالچ ہے۔

Radix malorum est cupiditas
Greed is the root of all evil

028-pardoner

اُس نے اپنے پاس موجود تبرکات کی بوتل دِکھائی جس کو وہ اولیاء سے منسوب کرتا ہے اور اُن کے غیبی اور جادوئی فضائل بتاتا ہے- ۔ پارڈونر نے زائرین سے پوچھا کہ اگر کوئی اپنے گناہ کی تلافی چاہتا ہے تو آئے اور تبرکات کا ہدیہ ادا کرکے گناہوں کا ازالہ کرلے ۔اس کے علاوہ پارڈونر کے پاس پہلے سے تحریر شدہ اور پوپ کی مہر والے مختلف گناہوں کے معافی نامے بھی ہوتے ہیں۔ یہ معافی نامے وہ لوگ خریدتے ہیں جو اپنے گناہوں پہ نادم ہوتے ہیں اور معافی کی تحریری سند حاصل کرنے کے بعد کفّارے کے خواہشمند افراد اپنی خوشی سے گرجا گھر کے لئے چندے کی رقم پارڈونر کو دے دیتے ہیں۔ آہستہ آہستہ چندے کی یہ رقم ہی معافی ناموں کا لازمی جزو سمجھی جانے لگی اور یہ تصوّر عام ہوگیا کہ چرچ اور گرجا پہ چڑھاوے چڑھا کر، پارڈونر کی مٹھی گرم کرکے، نذر نیاز دے کر اور متبرکات پہ رقم خرچ کرکے نیکی اور پارسائی خریدی جا سکتی ہے۔

pardonner

پارڈونر نے صاف بتایا کہ اِس پیشے میں اُس نے بہت کمایا ہے۔ خاص طور پر جب اُس کا سامنا تماش بِین اور کمینے بدکاروں سے ہو، . . . .کیونکہ ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ پیسے کے بَل پر وہ پرہیزگاری اختیار کرسکتے ہیں۔ اور جب سامنے سے ایسے کھُلم کھُلا دولت کی پیشکش ہورہی ہو تو انسان کا بھٹکنا مشکل نہیں ہوتا ۔ چنانچہ ایسے گناہگاروں کی موجودگی میں دل میں لالچ آہی جاتا ہے اور گناہوں کی تطہیر سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔خواہ . . مرنے کے بعد ایسے گناہگاروں کی ارواح عالمِ ظلمات میں بھٹکتی رہیں . . لیکن لالچ اور حرص کا شکار ہوکر وہ ظاہری تقوٰی اور پاکیزگی کا ڈھکوسلا کرنے لگتا ہے، . . . . اور اُسی طمع کا شکار ہوجاتا ہے جس کے خلاف وہ خود تبلیغ کرتا ہے۔

اُس نے اپنے ساتھی مسافروں کو یہ بھی بتایا کہ وہ گناہوں کا اعتراف کرنے والوں کو زمانہءقدیم کی سچی جھوٹی غیر مُستند حکایتیں بھی سناتا ہے۔

For lewed peple loven tales olde

The Pardoner from The Gentle Pardoner of Rouncival

اُس نے کہا کہ . . .اگرچہ نہ وہ کوئی دستکار ہے اور ٹوکریاں بُننے جیسا کوئی ہنر نہیں جانتا، لیکن پھر بھی اُسے ہر چیزِ ، پیسے، پنیر، اُون اور گندم کے دانے مِل جاتے ہیں، اور بھلا کیا چاہیئے۔ اِن نذرانوں کے دینے والوں میں گاؤں کی غریب ترین بیوہ سے لے کر کمّی مزدور تک شامل ہوتے ہیں۔ چنانچہ پارڈونر کو ہر جگہ من پسند کھانے اور مشروب مل جاتے ہیں ۔ گویا کہ اُس کا پیشہ لوگوں کو گناہوں سے متنفر کرنے کی بجائے گناہوں سے خوفزدہ کرنے پہ مرکوز ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے گناہوں کی بخشش کے لئے زیادہ سے زیادہ نذرانے ادا کریں۔. . . .. . اب مسافرین دِل اور مثانے تھام کر بیٹھیں کہ وہ اپنی کہانی شروع کرنے لگا ہے۔

138-the-pardoners-tale

ایک علاقے، فِلانڈرز میں تین عیّاش اور دنگے باز ڈاکوؤں کا ایک گروہ رہتا تھا جو گھٹیا اور غلط کاموں کے علاوہ کچھ نہیں کرتے تھے۔ پارڈنر نے یہاں ، . . . . نشے . . اور زیادہ کھانے کے بارے میں تلخ تنقید کی، . . شرابیوں کو ملامت کیا اور نشے میں انسان کی بُری حالت پر افسوس کا اظہار کیا ۔

اُن لوگوں کا ذکر بھی کیا جو اپنے معدوں کو اپنا خُدا مان لیتے ہیں۔ اُس نے معدے کو متعفن تھیلا کہا . . . . جس میں صرف وہ چیزیں ڈالی جاتی ہیں جن کو گلانا ہو ، گویا کہ گلنے والی خوراک کا تھیلا ! یہ وہ لوگ ہیں جن کا مقصدِ حیات محض کھانا ہوتا ہے اور وہ اپنے کھانے میں ذرا بھی اُونچ نیچ برداشت نہیں کرتے ۔ اور سچی بات تو یہ ہے کہ ایسے لوگ بہت ہی زیادہ ہوتے ہیں۔

ایک رات تینوں ڈاکو ایک سرائے میں بیٹھے . . پِی رہے تھے کہ اُنھوں نے ایک جنازہ دیکھا ۔ نشے میں غارت تینوں ساتھیوں نے اُس میّت کی موت کا سبب پوچھا تو معلوم ہوا کہ موت نے اُس کا دل ساکت کردیا تھا۔ نشے میں مدہوش دماغوں کے ساتھ اُن تینوں نے طے کیا کہ وہ اِس موت نامی شے کو تلاش کریں گے ، جو بہت سے لوگوں کی وفات کی ذمہ دار ہے اور اُس کو مار ڈالیں گے۔

052-pardoners-tale

وہ سرائے سے نکل کر آدھا مِیل بھی نہیں گئے ہوں گے کہ انھیں ایک بہت بُوڑھا شخص ملا جس نے اُنھیں بہت خوشدلی سے بُلایا ۔ تینوں شرابیوں میں سب سے بد دماغ نے اُس کا تمسخر اُڑایا . .. کہ ایسی پکّی عمر تک پہنچ جانے کے باوجود بھی وہ زندہ کیوں ہے ۔ بڈھے نے بہت ناگواری سے کہا کہ یہ کیا گُستاخ اندازِ گفتگو ہے؟ . . .اور یہ کہ وہ خود چاہ کر تو مر نہیں سکتا ۔ تینوں نے پوچھا کہ موت کا اتا پتا ہو تو بتاؤ ۔بوڑھے آدمی نے بتایا کہ اُنہیں . .موڑ والے راستے پر . . شاہ بلوط کے درخت کے نیچے . . موت مِل سکتی ہے ۔

053-pardoners-tale

وہ تینوں افراتفری میں بھاگتے ہوئے شاہ بلوط کے درخت کے پاس پہنچے اور . . اُن کی حیرت کا ٹھکانہ نہ رہا . . جب اُنہوں نے وہاں . . سونے کے سِکّوں سے بھرے ہوئے آٹھ ٹوکرے دیکھے۔

photo

انہوں نے سوچا کہ اِس خزانے سے اُن کی تمام عمر آسانی سے گزر سکتی ہے . .مگر اِس کو گھر لے جانے کی کیا صورت ہو؟ لوگوں کی نظروں سے چھُپا کر اِسے گھر لےجانا نامُمکن ہے یہاں تک کہ رات کا انتظار کیا جائے۔ تو گویا رات تک اِسی جگہ رہنا ہوگا ۔

055-pardoners-tale

ایک ڈاکو کو اُنہوں نے بازار بھیجا تاکہ . . . وہ کھانا اور شراب لے آئے ، وہ تینوں دن بھر آرام کر سکیں اور رات کو خزانہ منتقل کرنے کا کام ہو سکے۔ تیسرے کے جاتے ہی باقی دونوں کو لالچ نے آن گھیرا ۔ اُنہوں نے طے کیا کہ تیسرے کی واپسی پر اُسے مار دیا جائے اور . . خزانہ دو حصوں میں تقسیم کرلیا جائے ۔ اور . . . اِسی اثنا میں . .بازار جانے والے شخص کے ذہن میں بھی طمع نے ایک خونی منصوبہ پیدا کردیا ۔ اُس نے کھانا اور تین بوتلیں شراب خریدی اور ایک انتہائی تیز اثر رکھنے والا زہر خرید کر دو بوتلوں میں ملا دیا ۔ تیسری بوتل اُس نے اپنے لئے الگ سے چھُپا کے رکھ لی۔

Pardoner`s Tale

اب جونہی تیسرا ساتھی زہریلی شراب کے ساتھ واپس پہنچا ، باقی دو نے اُسے مار ڈالا . . اور اِس ہوشیاری کا جشن منانے کے لئے کھانا کھانے بیٹھ گئے۔ زہریلی شراب پی ۔ تیز اثر زہر سے دونوں فوراََ ہی مر گئے۔ گویا کہ تینوں ڈاکوؤں کو اپنے طمع کی صورت میں موت مل گئی۔

076-pardoners-tale

کہانی کے اختتام پر پارڈونر نے لالچ اور حرص کے بارے میں ایک مختصر وعظ دیا کہ . . میری کہانی یہ سبق دیتی ہے کہ لالچ بھی موت کا دوسرا نام ہے ، اکثر اوقات انسان لالچ کے ہاتھوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔ اگر جان نہ بھی جائے تو بھی ایسی صورت پیدا ہوجاتی ہے کہ انسان کی زندگی موت سے بدتر ہوجاتی ہے ۔ پارڈونر نے دعا کی کہ خداوند تمام انسانوں سے سرزد ہونے والے گناہ معاف کرے اور لالچ سے بچنے کی توفیق دے۔

135-the-pardoner-had-his-cakes

اِس کے ساتھ ہی اُس نے زائرین کو تبرکات اور معافی نامے خریدنے کی ترغیب دِلائی۔ میزبان کو معافی نامہ لینے کا کہا تو وہ بھڑک اُٹھا اور دونوں میں بہت گھٹیا الفاظ کا تبادلہ ہوا۔ لیکن نائٹ نے درمیان میں پڑ کر صلح کروائی، دونوں کو گلے مِلوایا . . . اور سفر جاری رہا اور شِپ مین کی کہانی شروع ہوئی۔

089-pardoners-tale

2 thoughts on “The Pardoner’s Tale – 19

  1. پہلے تو میں نہیں سمجھ سکا لیکن اب مجھے کچھ شک ہو رہا ہے کہ یہ کہانی میں نے اُس زمانہ میں پڑھی تھی جب میں سکول یا کالج میں پڑھتا تھا لیکن انجنیئرنگ کالج جانے سے قبل

    http://www.theajmals.com

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s