Home » Canterbury Tales » The Shipman’s Tale – 20

The Shipman’s Tale – 20

-شِپ مین کی کہانی:

شِپ مین یا ملّاح نے ایک ایسے مرچنٹ کی کہانی سُنائی جس کی کفایت شعاری کنجوسی کی حد کو جا مِلی تھی۔وہ دولت کمانے میں بری طرح مگن تھا ۔ مرچنٹ کاروباری معاملات میں بہت محنت اور تن دہی سے کام کرتا تھا۔ جبکہ مرچنٹ کی بیوی شاہ خرچ اور اچھا پہننے اوڑھنے کی دلدادہ تھی۔ اور اکثر پیسے پورے کرنے میں اُسے دقّت ہی رہا کرتی۔ ایک مونک اِس مرچنٹ کا قریبی دوست تھا۔ اتنا قریبی کہ بہت سے لوگ اُن دونوں کو بھائی سمجھا کرتے۔

ایک بار مرچنٹ کو کاروبار کے سلسلے میں کہیں سفر پر جانا تھا ۔مرچنٹ کے سفر سے پہلے ایک صبح مونک نے باغیچے میں مرچنٹ کی بیوی کو تنہا دیکھا تو اُس سے باتیں کرنے پہنچ گیا۔

frontispiece-vol-04-shipmans-tale

اُس نے خاتون سے ہمدردی کا اظہار کِیا . . .کہ وہ اپنے شوہر سے خوش نہیں لگتی۔ خاتون نے اقرار تو کیا مگر خود کو کمزور ظاہر نہ ہونے دیا ۔باتوں باتوں کے درمیان مرچنٹ کی بیوی نے مونک سے ہزار فرانک مانگے۔ مونک نے اُدھار دینے کا وعدہ تو کرلیا مگر بدلے میں ایک قُربت کا وعدہ لے لیا۔ مرچنٹ کی بیوی سے معاملہ طے کرکے . . .اُدھر مونک نے خاتون کو اُدھار دینے کے لئے خُود مرچنٹ سے ہی ہزار فرانک کا اُدھار لے لیا۔مرچنٹ نے مونک کا مطالبہ پورا کیا اور سفر پر روانہ ہوگیا۔ رقم مہیّا ہوگئی۔ اُن دونوں نے اُدھار کی رقم کے بدلے طے شُدہ وعدہ بہت خوشدلی سے پورا کیا۔

lovers shipman s tale

مرچنٹ سفر سے واپس آیا تو مونک نے اُسے بتایا کہ . . .اُدھار کے ہزار فرانک . . وہ مرچنٹ کی بیوی کو واپس لَوٹا چکا ہے۔مرچنٹ نے اپنی بیوی سے اُدھار کے اُن پیسوں کا پوچھا تو وہ کہنے لگی کہ ہاں، وہ پیسے اُسے ہی موصول ہوئے تھے مگر وہ اُس رقم کو خرچ کر چکی ہے۔ اور . . .اِس کے بدلے وہ اپنا آپ مرچنٹ کے حوالے کررہی ہے۔ مرچنٹ کے پاس راضی ہونے کے سِوا کیا چارہ تھا۔

میزبان نے شِپ مین کی کہانی کو سراہا اور تمام مسافروں کو مونک جیسے چالاک اور مکّار لوگوں سے ہوشیار رہنے کو کہا کہ ہمارے اطراف ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں جن سے ہمیں خبردار رہنا چاہیئے۔ کس قدر چالاکی سے مونک نے خود پہ مذہب کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا اور حقیقت میں اپنے دوست کو بے وقوف بنایا اور اُس کی بیوی کو بھی۔ یہ کہانی ایک اور بات کی طرف اِشارہ کرتی ہے کہ میاں بیوی کے درمیان کسی اختلاف کی معمولی سی خبر بھی ، جب کسی تیسرے کو پتہ چلتی ہے تو اُن دونوں کو نقصان ہوتا ہے۔ مونک بہت مہارت سے شوہر اور بیوی ، دونوں کو دغا دے گیا ۔

اِس کے بعد میزبان نے پرائرس کو اگلی کہانی سنانے کا کہا، جو اِس پیشکش پر مشکور ہوئی اور کہانی کا آغاز کیا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s