Home » Canterbury Tales » کینٹربری کہانیاں – کردار – حصہ3

کینٹربری کہانیاں – کردار – حصہ3

کینٹربری کہانیاں/پہلے چھ کردار/تیسرا حصہ

چاسر کی اصل وجہء شہرت مجموعہء حکایات “کینٹربری کہانیاں ‘ ہے جس میں قریب 29 زائرین نے سُنانے کے لئے جو کہانیاں منتخب کیں وہ قرونِ وسطیٰ میں ان کے معاشرتی مقام اور زندگی کی نمائندگی کرتی تھیں اور ان کرداروں کی انفرادی شخصیتوں کا عکس بھی تھیں – کسی ادبی شہ پارے میں اِس طرز کا استعمال اِس سے پہلے نہیں دیکھا گیا تھا-

چاسر نے میڈیول معاشرے میں بہت سے فرائض سرانجام دئیے جیسے قاصد، سپاہی، پیامبر، منشی، نگران، سربراہِ محکمہ، حکومتی اہلکار، سرکاری وفد – – – – یہ تمام عہدے اُس کے مشاہدے اور جہاں بینی کی تربیت میں معاون ثابت ہوئے- کینٹربری کہانیوں میں تمام ادبی اصنافِ سخن کچھ اس طرح شامل ہیں کہ مجموعی طور پہ کسی ایک صنف کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا – ان کہانیوں میں جنگی کارنامے، رومانوی قصّے، عشق و شجاعت کی کہانیاں، مذہبی واقعات، علامتی حکایتیں، آپ بیتیاں، جگ بیتیاں، جانوروں کی فیری ٹیلز، احمقانہ حادثے اور ایک مرثیہ بھی شامل ہے- جہاں تک لہجے کا تعلق ہے تو وہ بھی ایک وسیع تنوّع پر مشتمل ہے جس میں نیک، رزمیہ اور سبق آموز سے لے کر بےباکانہ، واہیات اور مہمل تک سب شامل ہیں-

موسمِ بہار کی آمد اور کڑکڑاتے بےرحم جاڑے کی رخصت کی شاعرانہ اور طویل منظرنگاری کے بعد راوی رُتبے کے لحاظ سے سب سے پہلے سب سے قابلِ قدر مسافر کا تذکرہ کرتا ہے-

KNIGHT-1- نائٹ: یہ ایک بہادُر جہاندیدہ سُورما ہے جس نے40سال جنگی مہمات میں برسرِ پیکار رہ کر گزارے ہیں- تقریبا پندرہ صلیبی معرکوں کے سِلسلے میں یورپ کے طُول و عرض اور ایشیائے کوچک (ایشیا مائنر) کا سفر کر رکھا ہے-اسکندریہ کے سقوط کے وقت وہ وہیں تھا، لیتھوانیا، رشیا، پروشیا، غرناطہ، الجیریا، موروکو، ٹرکی، بلماریا اور اطالیہ کی مہمات پہ نامزد رہا- کئی بار قاتلانہ حملوں میں بچا- کئی خوفناک مقابلوں میں اپنے حریف کو زیر کیا- اس کے نام کے ساتھ ‘سر’ کا خطاب اُس کے اونچے عہدے کی دلالت کرتا ہے- یہ سُورما بہت مؤدبانہ گفتگو کرتا ہے اور عامیانہ، لغو باتوں سے احتراز کرتا ہے- اس نے موٹے سے فُسطین کپڑے کی مردانہ صدری پہنی ہوئی ہے- فُسطین ایک عام سوتی کپڑا ہے جس میں اُونی تار شامل ہوتے ہیں- نائٹ کے کپڑے گردآلود ہیں کیونکہ وہ حال ہی میں کسی جنگی مہم کے طویل سفر سے لَوٹاہے اور بخیر و خُوبی واپسی پر کینٹربری کے کلیسا پر شکرانہ ادا کرنے جارہا ہے- راوی اِس مہم جُو سورما کا مداح ہے اور اُس کی صفات بیان کرتا ہے،جن میں 1-شجاعت، 2-وفاداری، 3-ناموری، 4-فراخدلی، اور 5-باریک خیالی شامل ہیں-

KNIGHT

KNIGHT

SQUIRE-2- سکوائر: یہ اِسی سُورما کا نوابی آن بان والا بیٹا ہے- 20سال عمر ہے- مروّجہ لمبائی سے کافی چھوٹی قمیض ہے جس کی کھُلی آستینیں ہیں- سُرخ اور سُفید پھولدارکپڑے کے لباس میں ملبوس درمیانے قد کا صاحبانہ بانکپن لئے ، اپنے بالوں کو گھنگھریالا کروا رکھا ہے- موسیقی، شاعری، مصوّری اور دیگر فنونِ لطیفہ میں دلچسپی رکھتا ہے- فنِ سپاہ گری کا ماہر ہے- کئی معرکے لڑ چُکا ہے-باپ کا ادب کرتا ہے- کھانے پر باپ کو گوشت کے ٹکڑے کاٹ کر پیش کرتا ہے- گوشت کاٹ کر پیش کرنا ایسا کام تھا جس میں جدوجہد صرف ہوتی تھی کیونکہ چودہویں صدی میں کھانے پکانے کے رواج بہت سادہ تھے- معلوم ہوتا ہے کہ اُس کی تمام سپاہ گری اور مظہر کسی محبوبہ کا اعجاب پانے کے لئے ہے- رات کو ایک فاختہ کی مانند کم نیند لیتا ہے- زمینداری نوابوں والا التفات اور ادائیں بدرجہءاتم پائی جاتی ہیں- وہ موسمِ بہار کے جُولانی مزاج کی ہوبہو تصویر ہے-

Canterbury_Tales__Squire_by_kekumbaz

YEOMAN-3- یومین: رابن ہُڈ جیسے حلیے میں ایک مزارع ہے جو نائٹ کا وفادار اور تابعدار ہے- سبز لباس میں ، تیر کمان لٹکا ئے ، ایک چاقو اور تلوار سے لیس، مستعد شخص ہے – یہ ہتھیار سادہ ہیں اور اُس کے طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں- چاوسر ہتھیاروں کی اچھی حالت اورچمک کی تعریف کرتا ہے- چھوٹے چھوٹے بال اور سنولایا ہوا رنگ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ظاہری وضع قطع سے بےنیاز، اپنے کام کو خلوص سے انجام دیتا ہے- سینے پر سینٹ کرسٹوفر کا میڈل آویزاں کیا ہوا ہے جو اس کی مذہبی وابستگی کو ظاہر کرتاہے- اس مزارع کا تذکرہ آگے کہانیوں میں نہیں آتا، غالبا اس کردار کا ذکر کرنے کی وجہ یہ بتانا ہے کہ نائٹ ایک کم پروٹوکول والا افسر ہے جس کا حفاظتی سکواڈ اکیلے مزارع پہ ہی مشتمل ہے – یہ بات بھی پتہ چلتی ہے کہ نائٹ کچھ زرعی رقبے کا مالک ہے جس کی دیکھ بھال کے لئے اُس نے مزارعے کو ملازمت پہ رکھا ہوا ہے –

The_Yeoman

PRIORESS-4- پرائرس: ایج لین ٹائن نام کی یہ خاتون دوسرے درجے کی راہبہ ھے- اس کا رُتبہ راہبہ سے کم ہوتا ہے- چودہویں صدی کے انگلستان میں اِن راہباؤں کے ذمے انتظامی اُمور ہوا کرتے تھے جن میں چرچ میں نظم و ضبط رکھنا، عبادات کی ادائیگی ، مناجات سُننا اور مناجات پڑھنے والوں کو سکھانا اور راہباؤں کا ڈسپلن قائم رکھنا – راوی ایک راہبہ کے اس قدر مرصّع اور سجیلے نام پہ تعّجب کا اظہار کرتا ہے- خاتون گفتگو ،کھانے اور نشست و برخاست کے ماڈرن نفیس آداب رکھتی ہے جو کہ ایک راہبہ کا خاصہ نہیں – چا وسر نے کھانے کے متعلق تفصیل بڑی اچھی طرح لکھی ہے- کھانا کھاتے ہوئے کوئی ذرہ نیچے نہیں گِراتی، نہ ہی اُس کی اُنگلیوں پہ سالن لگتا ہے، شوربے کا کوئی قطرہ لباس پہ نہیں گِرتا، اور اپنے کپ کو منہ لگانے سے پہلے ہونٹ سے چکنائی کو اچھی طرح صاف کر لیتی ہے اِسی لئے اُس کے کپ میں چکنائی تیرتی ہوئی نظر نہیں آتی- چاوسر متعجب ہے کہ خاتون نے زمانے کے رواج سے ہٹ کر ایسے طور طریقے اپنا رکھے ہیں جو صرف اشرافیہ کا خاصہ ہیں- تمام دِن دعائیہ سروس ناک میں گاتی رہتی ہے اور لیاقت جتانے کے لئے غیرمعروف،ایک علاقائی لہجے کی فرانسیسی بولتی ہے – یہ دُنیاداری کی طرف رغبت کو ظاہر کرنے والی بات ہے- تیکھا ناک، سرمئی چمکتی آنکھیں، گلابی ہونٹ اور ہتھیلی جتنا چوڑا کشادہ ماتھا ہے- اس قدر نازک دل ہے کہ کسی کو چوہا مارتے ہوئے دیکھ کرملُول ہوجاتی ہے– اِس راہبہ کے ساتھ ایک نن اور پرییسٹ ہیں – تین چھوٹے پالتو کتّے ہیں جن کو پکا ہوا گوشت ڈالتی ہے- گویا انسانیت کو دی جانے والی محبت کا ایک حصہ اُس کے پالتو وصول کرلیتے ہیں- پرائرس نے بازو پہ سبز اور سُفید قیمتی موتیوں والی ایک تسبیح پہنی ہوئی ہے جس سے لٹکتے لاکٹ پہ کنداں ہے انگریزی میں “محبت فاتحِ عالم” ، یہ راوی کی طرف سے ایک طنزیہ اشارہ ہے- بات بے بات سینٹ لوئی کی قسم کھاتی ہے جو کہ قسم نہ کھانے کے لئے مشہور تھا- چاوسر نے تعریفی انداز میں طنز کا استعمال کیا ہے-

prioress--...

MONK-5- مونک : ایک روایتی تپسّوی یا جوگی کو مونک کہا جاتا ہے- گرجا گھر کے بیرونی دنیا کے معاملات اور خارجی لین دین مونک کے فرائض میں شامل ہوا کرتا تھا- چاوسر کا مونک، چودہویں صدی کا روایتی بدعنوان درویش، جس کی گنج شیشے کی طرح چمک رہی ہے – کام میں کاہل اور مطالعے کا چور ہے حالانکہ اُس کی تپسّیا کے لئے کام اور مطالعہ ضروری ہیں-اُسے کیا ضرورت ہے کہ کسی کمرے میں تنہا بیٹھ کر کسی کتاب میں غرق ہو جائے- عمدہ لباس ہے اور بازو کے آگے علاقے کی بہترین فَر لگی ہوئی ہے- اُسے اپنے لباس پہ لگی ایک سُنہری پِن بہت بھاتی ہے- شکار کا شوقین ہے اور اعلٰی نسل کے شکاری کتّے پال رکھے ہیں – اُس کے گھوڑے کی لگام بہت شاندار ہے جو دُور سے گرجا کی گھنٹیوں کی طرح بجتی سُنائی دیتی ہے- چاوسر نے یہاں بھی تقابلی طنز استعمال کیا ہے- مونک نے سادہ زندگی کے بجائے ہر طرح کا عیش و عشرت اپنا رکھا ہے- مونک خود اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ جدید رحجانات کا حامل ہے اور پرانی روایات میں تبدیلی لانے کا حامی ہےـ بھلا گئے زمانوں کے قاعدے اور قوانین اب کیا کام دیں گے، نئے زمانے کے نئے اطوار ہی بہتر ہیں- الغرض پرائرس کی طرح ، مونک میں بھی وہ سب باتیں موجود ہیں جو کہ ۔ ۔۔ نہیں ہونی چاہیئے تھیں –

                                                <a href="https://sarwataj.files.wordpress.com/2013/12/a-szyk-the-monk.jpg"><img src="https://sarwataj.files.wordpress.com/2013/12/a-szyk-the-monk.jpg?w=238" alt="a-szyk-the-monk" width="238" height="300" class="alignnone size-medium wp-image-285" /></a>                    

FRIAR-6-فرائیر: ایسا درویش جس کا تعلق کیتھولک مذہب سے ہو فرائیر کہلاتا ہے- دیگر ارکانِ گرجا کی نسبت فرائر سب زیادہ تارکُ الدنیا اور درویشی کی علامت سمجھے جاتے تھے- قُرونِ وسطیٰ کے انگلستان میں فرائرز کو گرجا کی طرف سے باقاعدہ لائسنس جاری کئے جاتے تھے جس کے تحت وہ گزر اوقات کے لئے صدقات وغیرہ لینے کے مجاز تھے اور اعترافِ معاصی سُننے اور بخشِش عطا کرنے کا معاوضہ بھی لے سکتے تھے گویا فرائر چرچ کی طرف سے معافی فروخت کیا کرتے تھے- چونکہ وہ کوئی جائیداد رکھنے کے مجاز بھی نہیں تھے اِس لئے یہی ان کا کُل ذریعہءآمدن تھا- یہ لائسنس اکثر اوقات اِن کے بہکنے کا سبب بھی بن جایا کرتا کیونکہ کئی گناہگاروں کی دِلجوئی کرتے ہوئے یہ جذباتی بھی ہوجاتے ہوں گے، شاید یہی وجہ ہے کہ چاوسر کے اس فرائر نے کئی شادیاں کررکھی ہیں-

“maad many a mariage \ of yonge women at his owene cost”

غالبااُس کا حلقہء عقیدت مندان زیادہ تر دُکھی متموّل خواتین پر مشتمل ہوگا کیونکہ یہ درویش یہاں وہاں ایسے لوگوں کی تلاش میں سرگرداں رہا کرتے تھے جو اپنے گزر جانے والوں کی مغفرت کے لئے کچھ خرچ کرنے کے خواہاں ہوں- چاوسر کہتا ہے کہ جن لوگوں کا اوپر والا ہونٹ سخت ہوتا ، وہ اُسے ڈر کے پیسے دے دیا کرتے، اُوپر والے ہونٹ کا سخت ہونا استعارہ ہے کہ انہیں رونا نہیں آیا کرتا تھا، جس پہ وہ خائف ہوتے کہ رونے کے بغیر گناہوں کی معافی نہ ہوئی تو کیا ہوگا چنانچہ وہ بخشش کروانے کے لئے ادائیگی کردیا کرتے تھے- بحث مباحثے اور مقابلوں کے لئے موزوں دلنشین آواز ہے، چمکتی آنکھیں اور فنِ خطابت میں طاق ہے – آواز بہت سُریلی ہے، اکثر گُنگناتا ہے، نغماتِ محبت گانے کے مقابلے میں تو اوّل آسکتا تھا- گناہوں کی معافی اور اعتراف سُننے کی ذمہ داری کے علاوہ صدقہ جات کی طرف راغب کرنے کا اسلُوب رکھتا ہے- غریبوں اور ضرورت مندوں کو قریب پھٹکنے نہیں دیتاـ اُس باتوں سے راوی نے اندازہ لگایا کہ اُسے تمام ہوٹلوں اور مے خانوں کی تفصیلات معلوم ہیں کہ جہاں اُس کے کھانے پینے کا بندوبست ہوسکے- وہ ایک سادہ، درویش فرائر کی نسبت ایک رُعب دار سردار زیادہ معلوم ہوتا ہےـ

szyk-friar

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s