The Monk tells of Samson – 25

آدم کے بعد ، مونک نے بائبل کے ایک اور کردار ، سیمسن کا حال سنایا ۔

-3- سیمسن:

مونک نے80سطور میں سیمسن یا سیمپسن کا حال بیان کیا۔ عبرانی کتاب یا بائبل میں مذکور کہانی کے مطابق ، . . کنعان کے علاقے میں . . .بنی اسرائیل (Israelite) کا ایک بے انتہا طاقتور شخص سیمسن تھا ۔ وہ شیر جیسے درندے کو نہتے ہاتھوں سے زیر کر سکتا تھا۔ شیر کو نہتے ہاتھوں ہلاک کرنے کے ساتھ ساتھ ایک اور بات بھی روایات میں عام ملتی ہے کہ اُس نے ایک بار ایک گدھے کے کندھے کی ہڈی سے اپنے تمام دشمنوں کو زیر کیا تھا ۔

421px-Lucas_Cranach_d._Ä._-_Samson's_Fight_with_the_Lion_-_WGA05717 samson

Samson and lion fountain in Russia

Samson and lion fountain in Russia

بچپن کی ایک بشارت کے مطابق سیمپسن کی طاقت برقرار رکھنے کی خاطر اُس کی ماں کو اُس کے بال کاٹنے سے منع کردیا گیا تھا۔ یہ شخص بنی اسرائیل کی طاقت تھا۔

اُس نے اپنے سب فِلسطنPhilistines دشمنوں کو نیست و نابود کر دیا ۔ سیمسن ایک خوبصورت عورت دلیلہ کی محبت کا اسیر ہوا اور اُس کے ساتھ شادی کرکے رہنے لگا ۔

048 SAMSON PART III images

فِلسطن کے شرانگیز سرکردہ لوگوں نے اِس عورت تک رسائی حاصل کی اور لالچ دے کر اُس کو خرید لیا اور چاندی کے سکّوں کے عوض . . . سیمسن کی طاقت کا راز معلوم کرنے کو کہا۔

دلیلہ نے بہت بہلا پھُسلا کر سیمسن سے اُس کی طاقت کا راز پوچھنا چاہا ، پہلے تو وہ ٹالتا رہا لیکن ایک دن بتا بیٹھا کہ اُس کی تمام طاقت اُس کے سر کے لمبے بالوں میں ہے اِسی لئے اُس نے کبھی بال نہیں کٹوائے ۔

ایک رات وہ دلیلہ کی گود میں سر رکھ کر سو گیا اور اُس ستم گر عورت نے اُس کے بال کاٹ دیئے ۔

Samson and Dalilah by Gerrit van Honthorst

Samson and Dalilah by Gerrit van Honthorst


samson-and-delilah 421-monks-tale HowatSam mantegna_samson

وہ کمزور پڑ گیا ۔ اُس کے دشمنوں نے اُسے قید کردیا ، اُس کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر کر اُسے اندھا کر دیا گیا اور یوں شکست اُس کا مقدر بنی۔ قید میں سیمسن کو بھوکا پیاسا رکھا جاتا ، چکّی چلوائی جاتی، دلیلہ کو بہت ندامت ہوئی لیکن اب سیمسن پوری طرح دشمنوں کی قید میں تھا ۔ وقت کے ساتھ ساتھ سیمسن کے بال بڑھے تو اُسے انکشاف ہوا کہ وہ دوبارہ دشمن کو شکست دے سکتا ہے ۔

samson-and-delilah movie shot 442px-Samson_hos_filistrene

ایک مذہبی تہوار کے دوران ، سیمسن کو زنجیروں میں قید ، حاضرین کے سامنے لایا گیا تاکہ دشمن کی ہزیمت پہ اُسے پابندِ سلاسل دیکھ کر اُس کا مذاق اُڑایا جاسکے اور حاضرین کی تفریحِ طبع کا سامان ہو۔

یہ مجمع ایک بڑے معبد میں جمع تھا جہاں فِلسطن والوں کے بڑے دیوتا کا بت تھا ، مندر میں بڑے بڑے ستونوں پہ دیوتا کی مورتی ایستادہ تھی۔ دلیلہ کسی بہانے سے سیمسن کو اُن ستونوں کے قریب لے جانے میں کامیاب ہوگئی۔ سیمسن نے ایک ہی آن میں ستون ہِلا کر رکھ دئیے۔ مورتی زمین پر آپڑی اور پورا مندر ملبے کے ڈھیر میں بدل گیا۔ دلیلہ اور سیمسن وہیں ، اُنہی پتھروں میں دب کر مرگئے اور ایک لازوال طاقت والا شخص اپنے انجام کو پہنچا۔

samson-brings-down-the-house lutherlge photo 4 samson hair

سیمسن اور دلیلہ کے موضوع نے بہت سےکہانی کاروں اور مصوّروں کو اپنی طرف متوجّہ کئے رکھا ۔ جس کے سبب بہت سی پینٹنگز اور خاکے ملتے ہیں اس کے علاوہ فلم اور ٹی وی کے لئے بھی یہ موضوع پُرکشش رہا ہے۔

by Rembrandt

by Rembrandt

Samson_and_delilah_(1949)

Samson_and_delilah_(1949)

samson-and-delilah-movie-poster-1959

samson-and-delilah-movie-poster-1959

Samson and Dalilah 1996

Samson and Dalilah 1996

samson_and_dalida_belgian

samson_and_dalida_belgian

samson and delilah cd

samson and delilah cd

The Monk’s Tale Proceeds – 24

مونک کہانی سُنا رہا ہے جو متعدد نامور شخصیات کے احوالِ زندگی پر مشتمل ہے ۔ لوسیفر کے بعد . . . مونک نے کہانی آگے بڑھائی۔

کرّہ ارض پر پہلے انسان کی تخلیق کا تذکرہ میڈیول ادب کا ایک مرغوب موضوع تھا۔ قریب قریب تمام مشہور شاعروں اور ادیبوں نے تخلیقِ آدم و حوّا اور اُن کے بہشت سے نکالے جانے کے موضوع پر اپنا قلم اُٹھایا اور بائبل کے اِس موضوع کو باعثِ برکت سمجھتے ہوئے اپنی کاوشیں اِس پر صَرف کیں۔

مِلٹن کی “پیراڈائز لوسٹ” Paradise Lost پوری طرح اِسی موضوع کا احاطہ کرتی ہے ۔ ایڈمAdam ، ایوEve اور لوسیفرLucifer نمایاں کردار ہیں۔ ملٹن، اپنی عمر کے آخری حصے میں ، ادب کے کسی نمایاں اور اہم موضوع پر بڑا کام کرنا چاہتا تھا ، بہت سوچ بچار کے بعد اُس نے بائبل سے آدم ، حوّا اور لوسیفر پہ ایک ضخیم نظم تصنیف کی جو کئی جِلدوں پر مشتمل ہے ۔

-2- آدم :

یہ نام ایسا ہے جس میں زیادہ بحث کی بجائے اُنہی الفاظ پر اکتفا کیا ہے جو مونک نے استعمال کیے۔ آدم کی تخلیق بنیادی گناہ کے ذریعے نہیں ہوئی تھی بلکہ اُس کو خداوند نے خود تخلیق کیا تھا ۔ لیکن اپنی بھول اور نافرمانی کے ہاتھوں وہ بہشت سے محروم ہوا اور اپنی ہم جنس کے ہمراہ جنت سے نکالا گیا۔

Adam and Eve, stained glass work in a church

Adam and Eve, stained glass work in a church

آدم کا موضوع، ہر دور کے مصوّروں کے لئے بہت. . بلکہ بہت ہی زیادہ توجہ کا مرکز بنا رہا ۔ اور تقریباََ سبھی نے کینوس پہ اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی . . . اُس زمانے میں کپڑے کی صنعت . . .نہیں تھی ، نہ ہی ایسا کوئی خیال تھا۔ مونک اپنی کہانی میں بائبل کے کرداروں سے متعلق ذکر کر رہا ہے جو اُس کے منصب کا عین تقاضا ہے ۔

Tht Expulsion of Adam and Eve by Benjamin West

Tht Expulsion of Adam and Eve by Benjamin West

The Monk’s Tale Starts – 23

-مونک کی کہانی:

تعارف میں یہ ذکر ہو چکا ہے کہ ‘ایک روایتی تپسّوی یا جوگی کو مونک کہا جاتا ہے۔ گرجا گھر کے بیرونی دنیا کے معاملات اور خارجی لین دین مونک کے فرائض میں شامل ہوا کرتا تھا۔ چاوسر کا مونک، چودہویں صدی کا روایتی بدعنوان درویش ہے ، جس کی گنج شیشے کی طرح چمک رہی ہے ۔ کام میں کاہل اور مطالعے کا چور ہے حالانکہ اُس کی تپسّیا کے لئے کام اور مطالعہ ضروری ہیں۔’

a-szyk-the-monk

میزبان نے شرارت سے مونک کے . . ہٹّے کٹّے وجود پر طنز کیا کہ . . . .اگر مذہب نے تپسوی مونک کو پابند نہ کیا ہوتا . . . تو وہ افزائشِ نسل کے جانور کا کیا خوب کردار ادا کرتا ۔ . . افسوس کہ . بریڈنگ کے لئے بہترین تگڑے افراد کو مذہب نے مصروف کر رکھا ہے . . . اور دنیا کی آبادی بڑھانے کی تمام ذمہ داری لاغر اور ناتواں افراد کے کندھوں پر آگئی ہے۔

مونک نے مذاق کو دل پر نہیں لیا . . .اور ایک باقاعدہ کہانی کی جگہ . . . مختلف تاریخی اور نامور شخصیات کا تذکرہ پیش کیا۔ یہ تمام وہ شخصیات ہیں جنھوں نے اپنے عہد میں عروج پایا ، بلند بختی اور شان و شوکت اُن کے قدم چُومتی تھی اور پھر کسی نہ کسی سبب، کسی کمزوری کے ہاتھوں ، یا قسمت کے پھیر کی وجہ سے زوال کا شکار ہو گئیں۔

I will bewail in manner of tragedy
The ills of those that stood in high degree
And fell so far there was no remedy
To bring them out of their adversity
Be warned by these examples true and old

010-monk

بہت سے ماہرینِ ادب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ چاوسر نے “مونک کی کہانی” میں جس طرح نامور شخصیات کے عروج و زوال کا حال لکھا ہے، وہ اُسلوب مشہور اطالوی شاعر ‘جیونی بوکاچیو'(1313-1375)سے ہوبہو مشابہ ہے۔ جیوانی بوکاچیو رینے سانس شاعر اور ادیب تھا ۔ چاوسر نے اپنی زندگی میں اطالوی ادب کا عمیق مطالعہ کیا اور بوکاچیو سے شدید متاثر نظر آتا ہے ۔ بوکاچیو کے ہاں، طاعون کے مرض سے بچنے کی خاطر کچھ لوگ ، شہر سے باہر ایک عمارت میں رہنے لگتے ہیں اور وقت گزاری کے لئے کہانیاں سناتے ہیں۔ بوکاچیو کی اس طویل نظم کا نام “ڈی کامرون” ہے۔ اس کے علاوہ بوکاچیو کی ایک تصنیف مشہور آدمیوں کے زوال پر بھی ہے جس سے متاثر ہو کر شاید چاوسر نے مونک کی کہانی لکھی۔

De Casibus Virorum Illustrium (On the Fates of Famous Men) is a work of 56 biographies in Latin prose composed by the Florentine poet Giovanni Boccaccio of Certaldo in the form of moral stories of the falls of famous people.

اِن المیہ واقعات میں انسان کے لئے عبرت ہے کہ آسودہ حالی پہ اندھا اعتماد نہ کرے کیونکہ تقدیر کے رنگ بدلتے رہتے ہیں ۔ اور قسمت کی دیوی کے مزاج میں ہمواری اور استواری نہیں ہے۔ عروج آتا ہے تو پھر زوال بھی چلا آتا ہے ۔جب عروج آتا ہے تو انسان لامحالۃ غرور اور منہ زوری کا شکار بنتا ہے، ایسے میں دامن بچاکر رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اقتدار اور ناموری کی راہیں بہت پھسلن والی ہوتی ہیں اور ایک غلط قدم بھی انسان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔

دِن چڑھتا ہے، چہار سُو اُجالا پھیلتا ہے تو رات کی سیاہی تعاقب میں ہوتی ہے اور رات کے ختم ہونے پر روشنی کا راج ہوجاتا ہے۔ . . کبھی کے دِن بڑے اور کبھی کی راتیں بڑی . . . .

اگرچہ میزبان نے مونک پر یہ طنز کیا کہ . . وہ مطالعے کا چور ہے پھر بھی، مونک نے اِن سترہ حکایتوں کے لئے ، جِن ناموں کا انتخاب کیا وہ بِلا شبہ اُس کے دنیاوی ٹھاٹھ باٹھ اور تصنّع کے باوجود، اُس کی علمی لیاقت کو ظاہر کرتا ہے۔ مونک چودہویں صدی کا ایک کلیسائی کردار ہے اور یہ ٹریجیڈی تذکرے اُس کے نصاب، سوچ اور رحجان کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔ کئی کرداروں کا مصدر انجیلِ مقدس ہے اور وہ بائبل کی معروف روایتی کہانیاں ہیں۔ کچھ تاریخی کردار آسمانی ادیان سے انکار اور بغاوت کرنے والوں کے انجام کے بارے میں ہیں۔

عام طور پر ادبی ذرائع اور حوالوں میں مونک کی کہانی بیان کرتے ہوئے ، . . . اِن نامور شخصیات کا تذکرہ برائے نام ، یا بہت مختصر ہے ۔ کہیں محض ناموں کی فہرست پر ہی اکتفا کرلیا گیا ہے۔ چونکہ یہاں کینٹربری کہانیوں کے ساتھ . . . دو دو ہاتھ کرنے کا مقصد چودہویں صدی میں مٹرگشت اور اُس زمانے کی تخیّلاتی سیر کرنا ہے اِس کے ساتھ ساتھ اس مختصر احوال کو جہاں بینی اور تاریخ کی کھڑکی سے جھانکنے کا تجربہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ . . . لہٰذا اِن شخصیات کا اِس قدر تعارف شامل کیا گیا ہے جو آج کے قاری کے لئے دلچسپ ہو اور موضوع سے ہلکی پُھلکی راہ و رسم کے لئے ضروری بھی ہو۔ ایسے حوالے یکجا کرنے کی کوشش بھی رہی جن کے تاریخی پس منظر اور حالیہ صورتِ احوال میں کسی قدرِ مشترک کا گمان ہوا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ کوشش مہمل بھی رہی ہو ۔

مونک نے زمانی ترتیب سے قطع نظر یہ سبق آموز واقعات سنائے . . . لیکن یہاں اِن تذکروں کو زمانے کے اعتبار سے ترتیب دیا ہے تاکہ . . . مجھے اور پڑھنے والوں کو تسلسل کے احساس کی سہولت حاصل رہے۔

مونک نے بہت سپیڈ سے اپنی سترہ حکایات کا آغاز کیا جو کچھ اِس طرح ہیں۔

-1- لوسیفر: . . . . . جو کہ بہشت کے ملکوتی مقام سے دوزخ میں جا گرا ۔

لوسیفرLucifer ، . . یہ ابلیس کا لاطینی نام ہے۔ اِس نام کا مصدر انجیل نہیں ہے ، لیکن شیطان کا یہ نام ، عام طور ادبی اصناف میں اُس عرصے کو ظاہر کرنے کے لئے رواج پا گیا جب اُسے بہشت سے نکالا نہیں گیا تھا۔ لوسیفر کا لفظ کلیسا میں مستعمل ہے ۔

اس کے علاوہ اطالوی شاعر دانتےؔ نے اپنی نظم “انفرنو” بمعنی ‘جحیم’ اور انگریزی شاعر جان مِلٹنؔ نے اپنی طویل نظم “پیراڈائز لوسٹ” بمعنی ‘جنتِ گم گشتہ’ میں بھی ابلیس کے لئے لوسیفر ()کے نام کو استعمال کیا ہے ۔ انگریزی شاعر اور ڈرامہ نگار کرسٹوفر مارلوؔ کے “ڈاکٹر فاسٹس” میں بھی ابلیس ایک کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

دانتے کا لوسیفر ایک مصور کی نظر میں

دانتے کا لوسیفر ایک مصور کی نظر میں


Illustration of Lucifer in Paradise Lost

Illustration of Lucifer in Paradise Lost

اردو ادب میں اس کردار کے حوالے سے ، ہمارے علامہ اقبال نے بھی “ارمغانِ حجاز” میں ابلیس کو ایک طویل نظم کا موضوع بنایا ہے جس کا عنوان ہے : ابلیس کی مجلسِ شوریٰ اور اس نظم میں ابلیس اپنے ساتھیوں کے ساتھ امتِ مسلمہ کے زوال کے لئے مختلف چالوں اور منصوبوں پہ غور وخوض کرتا دکھایا گیا ہے۔

مونک کے مطابق لوسیفر ایک مقّرب مقام پہ فائز تھا لیکن پھر آدم سے اپنے غرور اور حسد کی وجہ سے لعنت اور پھٹکار کا مستحق ٹھہرا اور خداوند نے اُسے رذیل کردیا۔ خداوند کے مقرب فرشتوں نے، لوسیفر کو دھکیلتے ہوئے جہنم میں پھینک دیا۔ یہ موضوع بھی بہت سے مغربی مصوروں کے ہاں مقبول رہا ۔

401px-Guido_Reni_031

The Tale of Melibee – 22

-مے لی بی . .کی کہانی :

کینٹربری کہانیوں میں ایک کردار چاوسر کو بھی متعارف کروایا گیا ہے جو سادہ لوح ہے اور کھری کھری ناگوار باتیں کرتا ہے۔ شاعر نے اس کردار کو بد سلیقہ اور کم سخن کے طور پر پیش کیا ہے ۔ یہ شخص تجاہلِ عارفانہ سے کام لیتا ہے ۔ عین مُمکن ہے کہ شاعر اس کردار کی صورت میں اپنا مافی الضمیر پیش کررہا ہو یا پھر تحت السطور وہ کہنے کی سعی ہے جو سرِ عام نہ کہہ سکتا ہو۔ خیر یہ موضوع نقادوں کا دردِ سر ہے۔

پرائرس کے بعد اگلی کہانی اسی کردار نے سنائی۔ جب اِس کردار نے کہانی سنانی شروع کی تو اِس کی شخصیت کا ایک اور پرت کھُلا . . . . کہ کہانی سناتے ہوئے یہ مبہم، بے معنی اور تمسخر آمیز باتیں کرتا ہے جو کسی نتیجہ تک نہیں پہنچتی۔

کردار چاوسر نے “سر ٹوپاس” کی کہانی سنانی شروع کی جو انتہائی مشکل اور مرصّع مثنوی کی شکل میں تھی ۔ بھاری بھرکم اصطلاحات کے ساتھ منظوم کہانی سے تمام مسافروں کو کوفت ہونے لگی۔آخرکار پیچیدہ تُک بندی اور زٹل قافیوں سے تنگ آکر میزبان نے کہانی رُکوا دی اور نسبتاََ آسان کہانی سنانے کا کہا جو سادہ اور سلیس زبان میں ہو۔ پھر چاوسر نے مےلی بی کی کہانی سنائی۔

3040925-M

مےلی بی ایک طاقتور اور مالدار شخص تھا جس کے خلاف اُس کے دشمنوں نے ایک منصوبہ بنایا اور ایک دن اُس کی عدم موجودگی میں اُس کے گھر پہ حملہ کرکے اُٗس کے گھر والوں کو اذیّت پہنچائی۔ اُس کی بیوی کی بےحرمتی کی ، اُس کی بیٹی کا چہرہ، ہاتھ اور پاؤں شدید زخمی کرکے مرنے کے لئے چھوڑ کر چلے گئے۔

وہ بہت غضبناک ہوا، اور انتقام کے منصوبے بنانے لگا۔ اُس نے اپنے ساتھیوں کو بُلا بھیجا تاکہ جوابی کاروائی کا پلان بنایا جا سکے۔ اُس کے ساتھیوں نے اُسے بہت سے مشورے دیئے۔ لیکن اُس کی بیوی اُسے روکنا چاہتی تھی کہ مبادا اُس کی جان نہ چلی جائے۔ وہ اپنے شوہر کو جنگ کے خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔

prudence-seeking-to-comfort-melibeus

prudence-seeking-to-comfort-melibeus

اِس مقام پر میلےبی اور اُس کی بیوی پرُوڈینس کے مابین طویل بحث اور دلائل کا تبادلہ ہے۔ چارہ سازی اور ظلم کی دادرسی پر غوروفکر ہے۔اِس بحث میں دونوں نے مشہور و معروف شخصیات کے اقوال اور بائبل کے حوالے استعمال کئے۔ کئی ناقدین اس کو علامتی کہانی قرار دیتے ہیں جس میں مے لی بی انسان کو ظاہر کرتا ہے ، اس کی بیوی اور بیٹی، دل اور دماغ کو ظاہر کرتی ہیں جن پر دنیاوی کشش اور گناہوں کا حملہ ہوتا ہے ۔ انسان دماغ اور دنیا کے مابین حتمی فیصلہ نہیں کرپاتا۔ کئی ایک انگریزی دان یہ سمجھتے ہیں کہ، . . چونکہ میزبان نے چاوسر کی پہلی کہانی کو ٹوکا تھا اِس لئے اُس کردار نے غصے میں دوسری کہانی ایک کمزور پلاٹ والی سنائی۔ بین السطور یہ کہانی عفو و درگزر اور تحمل کی عیسائی تعلیمات کے بارے میں محسوس ہوتی ہے۔

آخرکار میلےبی نے اپنی بیوی کی بات مان کر صلح جوئی کا راستہ اپنایا ۔ چودہویں صدی میں ، کلیسائی عملے کی طرف سے، بائبل کے حوالوں کے ساتھ اِس طرز کی کہانیاں تبلیغ اور اصلاحِ کُل کے لئے سنائی جاتی تھیں جن میں تحمل، صبر اور برداشت کی تلقین اور نصیحت ہوتی۔

چاوسر کی کہانی سن کر میزبان نے کہا کہ . . .کمال تحمل والی تھی میلےبی کی بیوی . . .ورنہ میری بیوی تو ذرہ برابر برداشت نہیں رکھتی۔ اور . . . سچ تو یہ ہے کہ اگر میری بیوی کا بس چلے تو میرے ہاتھوں کوئی خون کروادے۔ اِس کے بعد میزبان نے مونک یعنی کلیسائی جوگی کو دعوتِ کلام دی۔