Home » Canterbury Tales » The Tale of Melibee – 22

The Tale of Melibee – 22

-مے لی بی . .کی کہانی :

کینٹربری کہانیوں میں ایک کردار چاوسر کو بھی متعارف کروایا گیا ہے جو سادہ لوح ہے اور کھری کھری ناگوار باتیں کرتا ہے۔ شاعر نے اس کردار کو بد سلیقہ اور کم سخن کے طور پر پیش کیا ہے ۔ یہ شخص تجاہلِ عارفانہ سے کام لیتا ہے ۔ عین مُمکن ہے کہ شاعر اس کردار کی صورت میں اپنا مافی الضمیر پیش کررہا ہو یا پھر تحت السطور وہ کہنے کی سعی ہے جو سرِ عام نہ کہہ سکتا ہو۔ خیر یہ موضوع نقادوں کا دردِ سر ہے۔

پرائرس کے بعد اگلی کہانی اسی کردار نے سنائی۔ جب اِس کردار نے کہانی سنانی شروع کی تو اِس کی شخصیت کا ایک اور پرت کھُلا . . . . کہ کہانی سناتے ہوئے یہ مبہم، بے معنی اور تمسخر آمیز باتیں کرتا ہے جو کسی نتیجہ تک نہیں پہنچتی۔

کردار چاوسر نے “سر ٹوپاس” کی کہانی سنانی شروع کی جو انتہائی مشکل اور مرصّع مثنوی کی شکل میں تھی ۔ بھاری بھرکم اصطلاحات کے ساتھ منظوم کہانی سے تمام مسافروں کو کوفت ہونے لگی۔آخرکار پیچیدہ تُک بندی اور زٹل قافیوں سے تنگ آکر میزبان نے کہانی رُکوا دی اور نسبتاََ آسان کہانی سنانے کا کہا جو سادہ اور سلیس زبان میں ہو۔ پھر چاوسر نے مےلی بی کی کہانی سنائی۔

3040925-M

مےلی بی ایک طاقتور اور مالدار شخص تھا جس کے خلاف اُس کے دشمنوں نے ایک منصوبہ بنایا اور ایک دن اُس کی عدم موجودگی میں اُس کے گھر پہ حملہ کرکے اُٗس کے گھر والوں کو اذیّت پہنچائی۔ اُس کی بیوی کی بےحرمتی کی ، اُس کی بیٹی کا چہرہ، ہاتھ اور پاؤں شدید زخمی کرکے مرنے کے لئے چھوڑ کر چلے گئے۔

وہ بہت غضبناک ہوا، اور انتقام کے منصوبے بنانے لگا۔ اُس نے اپنے ساتھیوں کو بُلا بھیجا تاکہ جوابی کاروائی کا پلان بنایا جا سکے۔ اُس کے ساتھیوں نے اُسے بہت سے مشورے دیئے۔ لیکن اُس کی بیوی اُسے روکنا چاہتی تھی کہ مبادا اُس کی جان نہ چلی جائے۔ وہ اپنے شوہر کو جنگ کے خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔

prudence-seeking-to-comfort-melibeus

prudence-seeking-to-comfort-melibeus

اِس مقام پر میلےبی اور اُس کی بیوی پرُوڈینس کے مابین طویل بحث اور دلائل کا تبادلہ ہے۔ چارہ سازی اور ظلم کی دادرسی پر غوروفکر ہے۔اِس بحث میں دونوں نے مشہور و معروف شخصیات کے اقوال اور بائبل کے حوالے استعمال کئے۔ کئی ناقدین اس کو علامتی کہانی قرار دیتے ہیں جس میں مے لی بی انسان کو ظاہر کرتا ہے ، اس کی بیوی اور بیٹی، دل اور دماغ کو ظاہر کرتی ہیں جن پر دنیاوی کشش اور گناہوں کا حملہ ہوتا ہے ۔ انسان دماغ اور دنیا کے مابین حتمی فیصلہ نہیں کرپاتا۔ کئی ایک انگریزی دان یہ سمجھتے ہیں کہ، . . چونکہ میزبان نے چاوسر کی پہلی کہانی کو ٹوکا تھا اِس لئے اُس کردار نے غصے میں دوسری کہانی ایک کمزور پلاٹ والی سنائی۔ بین السطور یہ کہانی عفو و درگزر اور تحمل کی عیسائی تعلیمات کے بارے میں محسوس ہوتی ہے۔

آخرکار میلےبی نے اپنی بیوی کی بات مان کر صلح جوئی کا راستہ اپنایا ۔ چودہویں صدی میں ، کلیسائی عملے کی طرف سے، بائبل کے حوالوں کے ساتھ اِس طرز کی کہانیاں تبلیغ اور اصلاحِ کُل کے لئے سنائی جاتی تھیں جن میں تحمل، صبر اور برداشت کی تلقین اور نصیحت ہوتی۔

چاوسر کی کہانی سن کر میزبان نے کہا کہ . . .کمال تحمل والی تھی میلےبی کی بیوی . . .ورنہ میری بیوی تو ذرہ برابر برداشت نہیں رکھتی۔ اور . . . سچ تو یہ ہے کہ اگر میری بیوی کا بس چلے تو میرے ہاتھوں کوئی خون کروادے۔ اِس کے بعد میزبان نے مونک یعنی کلیسائی جوگی کو دعوتِ کلام دی۔

One thought on “The Tale of Melibee – 22

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s