Home » Canterbury Tales » The Monk’s Tale Starts – 23

The Monk’s Tale Starts – 23

-مونک کی کہانی:

تعارف میں یہ ذکر ہو چکا ہے کہ ‘ایک روایتی تپسّوی یا جوگی کو مونک کہا جاتا ہے۔ گرجا گھر کے بیرونی دنیا کے معاملات اور خارجی لین دین مونک کے فرائض میں شامل ہوا کرتا تھا۔ چاوسر کا مونک، چودہویں صدی کا روایتی بدعنوان درویش ہے ، جس کی گنج شیشے کی طرح چمک رہی ہے ۔ کام میں کاہل اور مطالعے کا چور ہے حالانکہ اُس کی تپسّیا کے لئے کام اور مطالعہ ضروری ہیں۔’

a-szyk-the-monk

میزبان نے شرارت سے مونک کے . . ہٹّے کٹّے وجود پر طنز کیا کہ . . . .اگر مذہب نے تپسوی مونک کو پابند نہ کیا ہوتا . . . تو وہ افزائشِ نسل کے جانور کا کیا خوب کردار ادا کرتا ۔ . . افسوس کہ . بریڈنگ کے لئے بہترین تگڑے افراد کو مذہب نے مصروف کر رکھا ہے . . . اور دنیا کی آبادی بڑھانے کی تمام ذمہ داری لاغر اور ناتواں افراد کے کندھوں پر آگئی ہے۔

مونک نے مذاق کو دل پر نہیں لیا . . .اور ایک باقاعدہ کہانی کی جگہ . . . مختلف تاریخی اور نامور شخصیات کا تذکرہ پیش کیا۔ یہ تمام وہ شخصیات ہیں جنھوں نے اپنے عہد میں عروج پایا ، بلند بختی اور شان و شوکت اُن کے قدم چُومتی تھی اور پھر کسی نہ کسی سبب، کسی کمزوری کے ہاتھوں ، یا قسمت کے پھیر کی وجہ سے زوال کا شکار ہو گئیں۔

I will bewail in manner of tragedy
The ills of those that stood in high degree
And fell so far there was no remedy
To bring them out of their adversity
Be warned by these examples true and old

010-monk

بہت سے ماہرینِ ادب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ چاوسر نے “مونک کی کہانی” میں جس طرح نامور شخصیات کے عروج و زوال کا حال لکھا ہے، وہ اُسلوب مشہور اطالوی شاعر ‘جیونی بوکاچیو'(1313-1375)سے ہوبہو مشابہ ہے۔ جیوانی بوکاچیو رینے سانس شاعر اور ادیب تھا ۔ چاوسر نے اپنی زندگی میں اطالوی ادب کا عمیق مطالعہ کیا اور بوکاچیو سے شدید متاثر نظر آتا ہے ۔ بوکاچیو کے ہاں، طاعون کے مرض سے بچنے کی خاطر کچھ لوگ ، شہر سے باہر ایک عمارت میں رہنے لگتے ہیں اور وقت گزاری کے لئے کہانیاں سناتے ہیں۔ بوکاچیو کی اس طویل نظم کا نام “ڈی کامرون” ہے۔ اس کے علاوہ بوکاچیو کی ایک تصنیف مشہور آدمیوں کے زوال پر بھی ہے جس سے متاثر ہو کر شاید چاوسر نے مونک کی کہانی لکھی۔

De Casibus Virorum Illustrium (On the Fates of Famous Men) is a work of 56 biographies in Latin prose composed by the Florentine poet Giovanni Boccaccio of Certaldo in the form of moral stories of the falls of famous people.

اِن المیہ واقعات میں انسان کے لئے عبرت ہے کہ آسودہ حالی پہ اندھا اعتماد نہ کرے کیونکہ تقدیر کے رنگ بدلتے رہتے ہیں ۔ اور قسمت کی دیوی کے مزاج میں ہمواری اور استواری نہیں ہے۔ عروج آتا ہے تو پھر زوال بھی چلا آتا ہے ۔جب عروج آتا ہے تو انسان لامحالۃ غرور اور منہ زوری کا شکار بنتا ہے، ایسے میں دامن بچاکر رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اقتدار اور ناموری کی راہیں بہت پھسلن والی ہوتی ہیں اور ایک غلط قدم بھی انسان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔

دِن چڑھتا ہے، چہار سُو اُجالا پھیلتا ہے تو رات کی سیاہی تعاقب میں ہوتی ہے اور رات کے ختم ہونے پر روشنی کا راج ہوجاتا ہے۔ . . کبھی کے دِن بڑے اور کبھی کی راتیں بڑی . . . .

اگرچہ میزبان نے مونک پر یہ طنز کیا کہ . . وہ مطالعے کا چور ہے پھر بھی، مونک نے اِن سترہ حکایتوں کے لئے ، جِن ناموں کا انتخاب کیا وہ بِلا شبہ اُس کے دنیاوی ٹھاٹھ باٹھ اور تصنّع کے باوجود، اُس کی علمی لیاقت کو ظاہر کرتا ہے۔ مونک چودہویں صدی کا ایک کلیسائی کردار ہے اور یہ ٹریجیڈی تذکرے اُس کے نصاب، سوچ اور رحجان کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔ کئی کرداروں کا مصدر انجیلِ مقدس ہے اور وہ بائبل کی معروف روایتی کہانیاں ہیں۔ کچھ تاریخی کردار آسمانی ادیان سے انکار اور بغاوت کرنے والوں کے انجام کے بارے میں ہیں۔

عام طور پر ادبی ذرائع اور حوالوں میں مونک کی کہانی بیان کرتے ہوئے ، . . . اِن نامور شخصیات کا تذکرہ برائے نام ، یا بہت مختصر ہے ۔ کہیں محض ناموں کی فہرست پر ہی اکتفا کرلیا گیا ہے۔ چونکہ یہاں کینٹربری کہانیوں کے ساتھ . . . دو دو ہاتھ کرنے کا مقصد چودہویں صدی میں مٹرگشت اور اُس زمانے کی تخیّلاتی سیر کرنا ہے اِس کے ساتھ ساتھ اس مختصر احوال کو جہاں بینی اور تاریخ کی کھڑکی سے جھانکنے کا تجربہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ . . . لہٰذا اِن شخصیات کا اِس قدر تعارف شامل کیا گیا ہے جو آج کے قاری کے لئے دلچسپ ہو اور موضوع سے ہلکی پُھلکی راہ و رسم کے لئے ضروری بھی ہو۔ ایسے حوالے یکجا کرنے کی کوشش بھی رہی جن کے تاریخی پس منظر اور حالیہ صورتِ احوال میں کسی قدرِ مشترک کا گمان ہوا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ کوشش مہمل بھی رہی ہو ۔

مونک نے زمانی ترتیب سے قطع نظر یہ سبق آموز واقعات سنائے . . . لیکن یہاں اِن تذکروں کو زمانے کے اعتبار سے ترتیب دیا ہے تاکہ . . . مجھے اور پڑھنے والوں کو تسلسل کے احساس کی سہولت حاصل رہے۔

مونک نے بہت سپیڈ سے اپنی سترہ حکایات کا آغاز کیا جو کچھ اِس طرح ہیں۔

-1- لوسیفر: . . . . . جو کہ بہشت کے ملکوتی مقام سے دوزخ میں جا گرا ۔

لوسیفرLucifer ، . . یہ ابلیس کا لاطینی نام ہے۔ اِس نام کا مصدر انجیل نہیں ہے ، لیکن شیطان کا یہ نام ، عام طور ادبی اصناف میں اُس عرصے کو ظاہر کرنے کے لئے رواج پا گیا جب اُسے بہشت سے نکالا نہیں گیا تھا۔ لوسیفر کا لفظ کلیسا میں مستعمل ہے ۔

اس کے علاوہ اطالوی شاعر دانتےؔ نے اپنی نظم “انفرنو” بمعنی ‘جحیم’ اور انگریزی شاعر جان مِلٹنؔ نے اپنی طویل نظم “پیراڈائز لوسٹ” بمعنی ‘جنتِ گم گشتہ’ میں بھی ابلیس کے لئے لوسیفر ()کے نام کو استعمال کیا ہے ۔ انگریزی شاعر اور ڈرامہ نگار کرسٹوفر مارلوؔ کے “ڈاکٹر فاسٹس” میں بھی ابلیس ایک کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

دانتے کا لوسیفر ایک مصور کی نظر میں

دانتے کا لوسیفر ایک مصور کی نظر میں


Illustration of Lucifer in Paradise Lost

Illustration of Lucifer in Paradise Lost

اردو ادب میں اس کردار کے حوالے سے ، ہمارے علامہ اقبال نے بھی “ارمغانِ حجاز” میں ابلیس کو ایک طویل نظم کا موضوع بنایا ہے جس کا عنوان ہے : ابلیس کی مجلسِ شوریٰ اور اس نظم میں ابلیس اپنے ساتھیوں کے ساتھ امتِ مسلمہ کے زوال کے لئے مختلف چالوں اور منصوبوں پہ غور وخوض کرتا دکھایا گیا ہے۔

مونک کے مطابق لوسیفر ایک مقّرب مقام پہ فائز تھا لیکن پھر آدم سے اپنے غرور اور حسد کی وجہ سے لعنت اور پھٹکار کا مستحق ٹھہرا اور خداوند نے اُسے رذیل کردیا۔ خداوند کے مقرب فرشتوں نے، لوسیفر کو دھکیلتے ہوئے جہنم میں پھینک دیا۔ یہ موضوع بھی بہت سے مغربی مصوروں کے ہاں مقبول رہا ۔

401px-Guido_Reni_031

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s