The Monk depicts Cresus – 30

خوبصورت اور بہادر جُوڈتھ کے ہاتھوں،اولفرنو کی دردناک موت کا ماجرا سنانے کے بعد ، جیفری چاوسر کے مونک نے ، پانچویں صدی قبل مسیح میں، لیڈیا کے بادشاہ، کری سَس کا آٹھواں عبرت ناک انجام پیش کیا۔ کری سس کی کہانی کو ، بوکاچیو نے بھی اپنی المیہ داستانوں کی کتاب میں شامل کیا ہے۔

-کری سَس:

کری سس،580ق م سے547ق م تک لِیڈیا کا حکمران تھا۔ لیڈیا ، قدیم زمانے میں ترکی کے اناطولیہ صوبے میں مَنیسا کے مقام پر واقع ایک ریاست تھی۔ کری سس کے زیرِ انتظام یہ ریاست قائم و دائم تھی۔

Lydia

Lydia


display-155

کری سس لیڈیا کا بے انتہا امیر بادشاہ تھا جس کی دولت، خزانہ اور خوشحالی ضرب المثل تھی۔کری سس ٹیکسوں اور محصول لگان وغیرہ کی وصولی کے معاملے میں کوئی رعایت نہیں برتتا تھا۔

Croesus by Claude Vignon_

Croesus by Claude Vignon_

لیڈیا کے لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پہلی ٹکسال انہی لوگوں نے قائم کی ۔ سکّہ سازی کا ہنر یہیں شروع ہوا اور کری سس کے نام والے سونے کے سکّے ڈھالے گئے۔ آج بھی یہ سکّے مختلف نمائش گھروں میں محفوظ ہیں ۔ کری سس کے عہد کے سکّوں میں سونے اور دوسری دھات کا تناسب دیگر زمانوں میں دریافت کردہ سکوں سے الگ ہے جو اُسی کے سکّوں سے مخصوص ہے۔

images

Gold coin of Croesus, Lydian, around 550 BC, from modern Turkey.

Gold coin of Croesus, Lydian, around 550 BC, from modern Turkey.


lydia02

کئی روایات اور تاریخی شواہد کے مطابق کری سس ہی قارون تھا ۔ بہرحال مونک کے مطابق ، کری سس اور سولن کی ملاقات ہوئی۔ سولن، پرانے یونان میں ایتھنز کا ایک شاعر، دانشور، سیاستدان اور قانون دان تھا ۔ سولن نے قدیم ایتھنز کی سیاسی اور معاشی اصلاح میں نمایاں کردار ادا کیا۔

قبل مسیح کے مؤرخ ، ہیروڈوٹس کے مطابق، سولن اناطولیہ کا سفر کرتے ہوئے سارڈِس پہنچا جہاں کری سس نے بڑے تپاک سے ، اپنے شاندار محل میں اُس کا استقبال کیا۔ کری سس اپنے یہاں ایسی بڑی شخصیت کو پا کر بہت خوش تھا ۔ سولن نے اُسے اُمورِ سلطنت پر کئی مشورے دئیے اور دانائی کی باتیں بتائیں۔ کری سس نے ان مشوروں پر کان نہ دھرا اور خطا کھائی۔ بعد ازاں، جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت، کری سس کو سولن کی نصیحت کی قدر معلوم ہوئی۔

Croesus showing Solon his riches

Croesus showing Solon his riches

سولن کے قیام کے دوران کری سس نے اُسے اپنا عالی شان محل، بیش قیمت نوادرات، خزانوں کے انبار، سکّے اور جواہرات اور خوبصورت باغات دکھائے۔اور پوچھا کہ کیا اِس قدر دولت کا مالک ہونے کے سبب میں دنیا کا سب سے خوش ترین انسان نہیں ہوں؟

سولن نے اُسے جواب دیا :

Count no man happy until he be dead.

Judge no man’s happiness before the moments of his death

یعنی موت کا لمحہ آنے سے پہلے حالات پلٹنے کا امکان باقی رہتا ہے۔ زندگی کا کوئی بھی لمحہ ایساہوسکتا ہے جب کایا پلٹ ہوجائے، شان و شوکت جاتی رہے، انسان جن باتوں پر ناز کرتا ہو وہ چھِن جائیں ، زوال آجائے اور خوشی زائل ہوجائے۔ لہٰذا غرور سے اجتناب کرکے ہمیشہ تواضع اور عاجزی سے رہنا چاہیئے۔

Croesus and Solon

Croesus and Solon

کری سس اور سولن کے مابین یہ مکالمہ کئی حوالوں میں ملتا ہے اور مصوروں نے اس منظر کو متعدد طرح پیش کیا ہے۔

croesus
School_Croesus-And-Solon

کری سس کو سولن کی یہ بات آخری لمحات میں یاد آئی جب وہ سائرس کے ہاتھوں تختہء دار پہ پہنچا۔ مونک کے الفاظ ملاحظہ ہوں:

CROESUS

This wealthy Croesus, once the Lydian king
Whom even Persia’s Cyrus held in dread
Was caught in pride until men said to bring
Him to the fire, and that’s where he was led
But such a rain the clouds above then shed
The fire was quenched and he was to escape
This was a lesson, though, he left unread
Till Fortune on the gallows made him gape

When he escaped, the urge he couldn’t stem
To go and start a whole new war again.
And well he might, as Fortune sent to him
Such good luck that he’d made off through the rain
Before he by his foes could there be slain

This rich Croesus, formerly the king of Lydia, albeit he was sorely feared by Cyrus, yet was he caught in the midst of his pride and led to the fire to be burned. But such a rain poured from the sky that it slew the fire and let him escape. Yet he had not the grace to beware until Fortune made him hang, mouth open, upon the gallows

When he was escaped, he could not refrain from beginning a new war again. He deemed well, since Fortune sent him such good luck as to escape by help of the rain, that he could never be killed by his foes

کری سس نے اپنی طاقت کے گھمنڈ میں فارس کے بادشاہ سائرس پر چڑھائی کی اور شکست کھائی۔ سائرس نے اُسے زندہ جلانے کا حکم دیا ۔ چنانچہ چِتا جلانے کی طرح ، لکڑیوں کا انبار لگایا گیا ،آگ بھڑکائی گئی اور کری سس کو زندہ جلانے کی تیاری مکمل ہوگئی۔

creosus on pyre ..depicted on a vase

creosus on pyre ..depicted on a vase

کری سس کو اس موقعے پر سولن کی بات یاد آئی اور اُس نے بے اختیار تین بار سولن کو پکارا ۔ اتنے میں موسلا دھار بارش شروع ہوئی اور آگ بجھ گئی۔ کری سس جان بچانے میں کامیاب ہوگیا۔ اِس واقعے کے بعد وہ مزید خودسر اور محتاط ہوگیا۔ اور اُس نے تائب ہونے کی بجائے دوبارہ فارس سے جنگ کا ارادہ کیا۔خواب کے بارے میں مونک کہتا ہے:

There also was a dream he dreamt one night
That made him feel so eager, proud, and vain
On vengeance he set all his heart and might

He was upon a tree, in dream he thought
Where Jupiter bathed him down every side
And Phoebus a fair towel to him brought
To dry himself. This added to his pride
And of his daughter standing there beside
Him–she in whom, he knew, was to be found
Great insight–he asked what it signified
And she at once his dream set to expound

“The tree,” she said, “the gallows signifies
And Jupiter betokens snow and rain
And Phoebus, with his towel so clean, implies
Beams of the sun, as best I can explain
By hanging, Father, surely you’ll be slain
Washed by the rain, by sun you shall be dried
Such was the warning given, short and plain
By Phania, his daughter at his side

and he dreamed a dream one night; of which he was so glad and proud that he set his whole heart upon vengeance

He was upon a tree, he dreamed, and Jupiter washed him, back and sides, and Phoebus brought a fair towel to dry him. With this he was all puffed up, and bade his daughter, who stood beside him and he knew abounded in high learning, to tell what it signified. She began in this very manner to expound his dream. “The tree,” she said, “betokens the gallows, and Jupiter betokens the rain and snow, and Phoebus with his clean towel, they are the beams of the sun. You shall be hanged, father, in truth; the rain shall wash you and the sun dry you. Thus flat and plainly she warned him, his daughter, called Phania

اِسی دوران کری سس نے ایک خواب دیکھا جو اُس کے اپنے اندازے کے مطابق خوش بختی کی دلالت کرتا تھا۔ کری سس نے دیکھا کہ وہ ایک درخت کی شاخ پر بیٹھا ہے۔ دیوتا مشتری اُس کی کمر پر پانی ڈال رہا ہے اور دیوتا فیبس اپالو اُس کے گیلے جسم کو تولیے سے خشک کررہا ہے۔ کری سس نے اِس خواب کو اچھا سمجھا اور مزید مغرور ہوگیا۔

اُس نے اپنا خواب اپنی بیٹی فانیا کو سنایا جو بہت سے علوم کی ماہر تھی اور ذہین لڑکی تھی۔ کری سس نے بیٹی سے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی کہ تائید ہوسکے۔ بیٹی نے کہا کہ درخت تختہء دار کی علامت ہے، دیوتا مشتری بارش اور برفباری کو ظاہر کرتا ہے اور اپالو سورج کا یونانی دیوتا ہے۔ خواب بتاتا ہے کہ بابا ، آپ کو پھانسی دی جائے گی۔ آپ پر بارش اور برفباری پڑتی رہے گی اور سورج کی تمازت آپ کے جسم کو خشک کرے گی۔

وقت نے ثابت کیا کہ خواب کی یہ تعبیر درست تھی۔

And hanged indeed was Croesus, that proud king
His royal throne to him was no avail
No tragedies may signify a thing
There’s naught in song to cry out and bewail
Except that Fortune always will assail
With sudden stroke the kingdom of the proud
For when men trust her, that’s when she will fail
And cover her bright visage with a cloud

.

So Croesus, the proud king, was hanged; his royal throne did not help him

Tragedy is no other thing than to cry and bewail in song Fortune’s attacks and unexpected strokes upon proud thrones. For when men trust her, then she fails them and covers her bright face with a cloud

کری سس کو پھانسی پر لٹکایا گیا اور بے بہا خزانوں کا مالک ہونے کے باوجود وہ ایسی کسمپرسی والی موت سے نہ بچ سکا۔ اور ٹریجیڈی ہوتی ہی یہی ہے کہ انسان صرف افسوس ہی کرسکتا ہے کیونکہ قسمت کا پھیر جب آتا ہے تو بتا کر نہیں آتا، انسان جس بلند بختی اور قسمت پر غرور اور اندھا اعتماد کرتا ہے، وہی بِنا بتائے ساتھ چھوڑ جاتی ہے ۔ چنانچہ عاقبت سے ڈرتے رہنا چاہیئے۔ اقتدار، دولت اور گھمنڈ میں اپنا آپ بھلا نہیں دینا چاہیئے۔

اب انگریزی میں کری سس کا نام ، اکثر بیش بہا دولت یا قیمتی اور مہنگی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ مختلف مشہورِ زمانہ کمپنیاں اپنی مصنوعات کی پبلسٹی اور دنیا کے مشہور ہوٹلز اپنی خدمات کے لئے اس نام کا اضافہ کرتی نظر آتی ہیں۔

croesus-4pr-copy
11357893

اس کے علاوہ یہ نام ڈزنی گیمز کھیلنے والے بچوں کے لئے بھی نیا نہیں ہوگا کیونکہ کئی گیمز میں خزانے تلاش کرنے کا چیلنج دیا جاتا ہے اور کئی جگہ یہ خزانہ کری سس کا خزانہ کہلاتا ہے ۔

l_d94012b2
l_d94012b1

Treasury Of Croesus_cover

Treasury Of Croesus_cover

The monk narrates of De Oloferno -29

اپریل کا مہینہ ہے اور لندن کے مضافات سے زائرین کا ایک قافلہ کینٹربری کے لئے سفر پر نکلتا ہے۔ میزبان اور راوی سمیت، لگ بھگ اُنتیس زائرین سفر کی کٹھنائی اور طوالت سے بچنے کے لئے ، باہم طے کرتے ہیں کہ ہر مسافر اپنی اپنی باری پر کہانی سنائے گا ۔ اور بہترین کہانی سنانے والے کے لئے ایک موزوں انعامی پیکیج بھی اناؤنس کیا جاتا ہے۔ چاوسر کا مونک روایتی کہانی کی جگہ مشہور شخصیات کے المیہ انجام سنانے کا آغاز کرتا ہے۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں، بابُل کے بادشاہ بخت نصر اور بیلشضر کے بعد، مونک نے، ساتواں ماجرا ، بخت نصر کے ہی ایک سپہ سالار ، ہولوفرنس یا اولو فرنس ، کا سنایا ۔

-ہولوفرنس:

-600ق م میں ، بابُل، اِشوریہ اور نینوا میں مطلقُ العنان اور خود سر بادشاہ بُخت نصر کی حکومت تھی۔ ہولو فرنس، بخت نصر کی فوج کا سپہ سالار تھا۔

بادشاہت اور مطلقُ العنانیت ایسی ظالم ، نشہ آور کیفیت ہے کہ انسان اپنی اوقات بھول جاتا ہے۔ جب بھی آدمی احتساب اور پکڑ کے ڈر سے آزاد ہو جائے، اُس کا گمراہ ہونا لامحالہ طور پر یقینی ہے۔

بابل کے بختُ نصر پہ بھی بادشاہت کی ہوس اور گھمنڈ کا بھوت ایسا سوار ہوا کہ اُس نے اپنی بِلا شرکتِ غیرے حاکمیت اور سلطنت کو وسیع کرنے کا عزم کرلیا۔

مغرب کی جانب کچھ قبائل بخت نصر کے خلاف تھے اور باغیانہ رحجان رکھتے تھے۔ خدائی مذاہب سے انکاری ، بخت نصر نے اپنے سپہ سالار ، ہولو فرنس کو مغرب کی جانب اُن قبائل پہ قہرِ انتقام ڈھانے بھیجا ، جنھوں نے بخت نصر کی نینوا میں حکومت کی تا ئید نہیں کی تھی۔ ہولوفرنس نے مغربی ساحل کے ساتھ ساتھ تمام قبائل کو شکست دی اور وہاں موجود معابد اور بت کدے تباہ کردئیے، تاکہ وہ سب لوگ، نبو گڈ نصر کے مجسمے کی پوجا کریں۔ مونک کے مطابق ، ہولوفرنس نے وہاں کے عوام سے کہا:

“Nebuchadnezzar is our god,” said he
“No other god on earth shall worshipped be
Against him only one town made a case
Bethulia, a strong community
Eliachim the high priest of the place

people_forced_to_worship_idol_by_king_nebuchadnezzar

people_forced_to_worship_idol_by_king_nebuchadnezzar

محلِ وقوع کے اعتبار سے وہ علاقہ ہے جہاں آج اُردن کا دارالحکومت عمّان واقع ہے ۔ اُس وقت وہاں سامی النسل عمونی قبیلہ آباد تھا۔ اِس اسرائیلی قبیلے کے سردار ایچوئر/ ایلیاچم نے ہولوفرنس کو خبردار کیا کہ وہ یہودیوں کے خلاف کاروائی سے باز رہے۔ ہولوفرنس مُصر رہا کہ نبو گُڈ نصر ہی پوجا کے لائق ہے اور یہ لوگ گمراہ کُن ہیں۔

Neo-Babylonian_Empire

سپہ سالار ہولوفرنس نے اسرائیلیوں کے شہر بیتھولیا کا محاصرہ کرکے وہاں پانی کی فراہمی روک دی ۔ وہاں کے لوگوں نے طے کیا کہ اگر پانچ دن تک کہیں سے بھی کُمک نہ پہنچی تو وہ ہتھیار ڈال دیں گے۔

اِسی اثنا میں یہودی عبرانی نسل کی ایک عورت جوڈتھ کا کردار سامنے آتا ہے جس نے کسی نہ کسی طرح ہولوفرنس تک رسائی حاصل کی اور اپنے لوگوں کی جاسوسی کرنے کا یقین دِلا کر ہولوفرنس کا اعتماد حاصل کیا۔ ایک رات جوڈتھ اپنی خادمہ کے ساتھ ہولوفرنس کے خیمے میں داخل ہوئی، اور شراب کے نشے میں مدہوش ہولوفرنس کا سر تن سے جُدا کردیا ۔

Caravaggio's painting Judith Beheading Holofernes

Caravaggio’s painting Judith Beheading Holofernes

ہولوفرنس کا کٹا ہوا سر لے کر اپنے قبیلے کے لوگوں کے پاس آئی اور اپنے شہر بیتھولیا کو ظالِم اور لادین ہولوفرنس کے عتاب سے بچا لیا۔

A painting by Andrea  Mantegna

A painting by Andrea Mantegna

مصّوری میں ایک موضوع کے طور پر جوڈتھ اور ہولوفرنس کو بے شمار مصّوروں نے اپنے اپنے تخیّل کے مطابق دِکھانے کی کوشش کی۔ عبرانی انجیل کے مخصوص نسخوں میں جوڈتھ کا یہ عمل اُس کے کردار کی استقامت اور پرہیزگاری کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جو اپنی قوم کو مشکل سے بچانے کے لئے ، اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کر ایک سفّاک سپہ سالار کو جُل دینے میں کامیاب ہوئی۔

475px-Judith_with_the_head_of_Holofernes

لیکن اس موضوع کو پیش کرنے والے ، ہر عہد کے مصوّروں نے اپنے شہ پاروں اور پینٹنگز میں جوڈتھ کے کردار کو حسبِ منشا . . اور . . .حسبِ پسند رنگین اور نمکین پیش کیا ہے۔ اِس موضوع پہ اس قدر وافر اور شوخ امیجیز ملتے ہیں کہ انتخاب کرنے میں دقّت کا سامنا ہونے لگتا ہے۔

Judith by August Riedel

Judith by August Riedel


Artemisia Gentileschi's painting Judith Beheading Holofernes

Artemisia Gentileschi’s painting Judith Beheading Holofernes


Judith by  Giorgione

Judith by Giorgione


Judith is commonly depicted as being assisted by an older maidservant

Judith is commonly depicted as being assisted by an older maidservant


Judith Cutting Off the Head of Holofernes by Trophime Bigot ( 1640)

Judith Cutting Off the Head of Holofernes by Trophime Bigot ( 1640)

چاوسر کا مونک کہتا ہے کہ اِس سپہ سالار ہولوفرنس کا انجام بھی اُس کی استبداد والی زندگی کے برعکس افسوسناک ہوا ۔

According to the Book of Judith, the Jewish widow Judith saved the Israelites from the Assyrians by decapitating their general Holofernes, whose army had besieged her city. She did this after having made him drunk at a banquet. Judith is commonly depicted as being assisted by an older maidservant in placing the head in a sack. The contrast between Holofernes’s crude features and the heroine’s beauty underlines the moral message of the eventual triumph of virtue over evil

Judith with the head of Holofernes  by Cristofano Allori

Judith with the head of Holofernes by Cristofano Allori

Monk presents Belshazzar – 28

دنیا کے بڑے بڑے کہانی کاروں کا ، اِس بات پراتفاقِ رائے ہے کہ کہانی جب بھی کہیں جنم لیتی ہے تو اُس کے پیچھے ضرور حقیقت کا عمل دخل ہوتا ہے۔ خود ساختہ اور من گھڑت کہانی کی عمر ، کم سِنی میں وفات پا جانے والے بچوں کی طرح، بہت کم ہوتی ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ یہاں نظر آتا ہے۔ چاوسر کا میزبان ، کینٹربری کے سفر کے دوران، سفر کی کوفت سے بچنے کے لئے، مسافروں سے کہانی سننے سنانے کی بات طے کرتا ہے۔ چودہویں صدی کا سفر ہے جو آجکل کے سفر کی طرح تیز رفتار اور آرام دہ نہیں ۔ اور یہ عام بات تھی کہ سفر میں ایسی باتیں ہوں۔ اہلِ فارس کے چہار درویشوں نے بھی سفر ہی میں اپنی حکایات بیان کیں تھیں۔ چاوسر کے مسافر اپنی اپنی کہانی سناتے جا رہے تھے کہ مونک کی باری آئی ۔ اور مونک نے ایک ثابت کہانی کی جگہ ، مختلف زمانوں سے تعلق رکھنے والے،کئی ایک المیہ حالات سنائے جن میں سننے والوں کے لئے عبرت ہو کہ

سدا نہ باغے بُلبل بولے، سدا نہ باغ بہاراں

اپنے المیہ اور دردناک واقعات میں مونک نے کچھ اساطیری، دیومالائی اور تخیلاتی کرداروں کا حال سنایا ۔ اور پھر سلطنتِ بابُل کے ایک طاقتور بادشاہ بخت نصر کے انجام کا واقعہ بیان کیا جس میں عبرتِ عالم ہے۔ مونک نے اگلا اور چھٹا تذکرہ اسی بادشاہ بخت نصر کے جانشین کا سنایا ۔

p183

– بابُل کا بیلشضر:

بابل کے بادشاہ کا جانشین اور نواسا بیلشضربھی جھوٹے دیوتاؤں ، خداؤں اور بتوں کا پُجاری تھا ۔ مونک کہتا ہے:

BELSHAZZAR

His son and heir–Belshazzar was his name–
Held power after Nebuchadnezzar’s day
But took no warning from his father’s shame
He was so proud of heart and in array
And lived in so idolatrous a way
And on his high estate himself so prided
That Fortune cast him down and there he lay
And suddenly his kingdom was divided

مونک نے یہاں بیلشضر کا ایک مشہور واقعہ ذکر کیا ہے۔ ایک مرتبہ بیلشضر نے اپنی ریاست کے ایک ہزار سرکردہ افراد ، نوابوں اور معززین کی ایک دعوت بُلائی ۔ شاندار دعوت جاری تھی۔ مہمانوں نے مقدس مٹکوں سے مشروب پیا ۔ایک روایت کے مطابق یہ مٹکے بخت نصر یروشلم سے لایا تھا ۔

Belshazzar's Feast

Belshazzar’s Feast

اسی اثنا میں بیلشضر کو ایک کٹا ہوا ہاتھ نظر آیا جو کہ دیوار پہ کچھ تحریر کر رہا تھا۔ یہ تحریر بےحد پُراسرار تھی۔

His wife, his lords, and all his concubines
Then drank, as long as appetite would last
Out of these noble vessels sundry wines
Then on a wall his eyes Belshazzar cast
And saw an armless hand inscribing fast
Which made him quake in fear. Upon the wall
This hand, which had Belshazzar so aghast
Wrote Mane, techel, phares, that was all

belshazzars_feast__image_9_sjpg2348

بادشاہ بیلشضر پہ ہیبت طاری ہوگئی اور وہ خوف سے تھر تھر کانپنے لگا، اُس نے پیغمبر دانیال کو محل میں بلایا ۔ دانیال نے بآسانی اس تحریر کو پڑھ لیا اور بتایا کہ یہ تحریر اُس کی سلطنت کے تباہ ہونے کی پیشین گوئی کررہی ہے۔

balshaz
daniel2

اِس نوشتہءدیوار کا مطلب ہے کہ تمھاری بادشاہی کے دن گنے جاچکے ہیں . . . تمھیں کسوٹی پر پرکھا گیا لیکن تم کم معیار اور ناقص نکلے . . . اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی کرتے رہے . . . عنقریب تمھاری حکومت دشمنوں کے ہاتھ میں چلی جائے گی۔

MENE; God hath numbered thy kingdom, and finished it.
TEKEL; Thou art weighed in the balances, and art found wanting.
PERES; Thy kingdom is divided, and given to the Medes and Persians.

انجیلِ مقدس کی روایات کے مطابق . . اُسی رات بادشاہ قتل کردیا گیا اور جلد ہی اُس کی سلطنت دو دشمنوں کے قبضے میں چلی گئی . . . اور بیلشضر کا افسوسناک انجام ہوا۔

“This hand was sent from God that on the wall
Wrote Mane, techel, phares, trust in me
Your reign is done, you count for naught at all
Your kingdom is divided, it shall be
Given to Medes and Persians,” augured he
This king was slain upon that very night
Darius then replaced him in degree
Although he had no lawful means or right

اب یہ جملہ یا ضرب المثل . . . نوشتہءدیوار کو پڑھنا . . .تقریبا تمام زبانوں میں استعمال ہوتا ہے . . . جیسے کہ سردار اپنے قبیلے پر ظلم ڈھاتا رہا لیکن اُسے نوشتہء دیوار نظر نہ آیا . . . . یا حکومت میں شامل افراد کو نوشتہء دیوار پڑھ لینا چاہیئے۔

Rembrandt's depiction of the biblical account of Belshazzar seeing the writing on the wall-note the text is vertical rather than horizontal

Rembrandt’s depiction of the biblical account of Belshazzar seeing the writing on the wall-note the text is vertical rather than horizontal

مونک کہنے لگا کہ یہ عبرت ناک واقعات انسان کو بہت سبق سکھاتے ہیں کہ تخت اور اقتدار پہ متمکّن ہو کر عاقبت کو بھولنا نہیں چاہیئے ۔ بُرا وقت آئے تو سب تدبیریں اُلٹ ہو جاتی ہیں۔

My lords, examples hereby you may take
Security is not a lord’s to know
Whenever Fortune chooses to forsake
She takes away one’s reign, one’s wealth also
And friends as well, though they be high or low
If it’s to Fortune that friendships are due
Mishap, I guess, will turn a friend to foe
This is a common proverb and it’s true

مونک کہتا ہے: تو صاحبو اور میرے ہم سفرو: زندگی ایسی بھی قابلِ بھروسہ چیز نہیں ، اور قسمت کا ہیر پھیر بڑی ظالم حقیقت ہے ، کسی چیز کو دوام حاصل نہیں۔ جب اندھیرا ہو تو سایہ بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔

The Monk tells of Nabugodnosor – 27

سیمسن ،دلیلہ اور ہرکولیس کے واقعات سنانے کے بعد مونک نے بابل کا رُخ کیا اورپانچویں ٹریجڈی کے طور پر ، بابل کے ایک بادشاہ کا عبرت ناک واقعہ سنایا ۔

-5- بابل کا بادشاہ نبو گوڈ نصر :

مونک نے بابل کے بادشاہ نبو گوڈ نصر کا حال سنایا جس کا ذکر بائبل میں نبوکد نضر کے نام سے ہے۔ یہ ماجرا ایسا ہے جو بےشمار روایتوں اور حوالوں میں مذکور ہے۔ اس بادشاہ کے احوال کے بارے میں بے شمار ماخذ اور تاریخی مصادر، مترادف اور متضاد باتیں بتاتے ہیں۔ تاہم، کچھ باتیں ہر جگہ کم و بیش تھوڑے فرق سے ایک جیسی پائی جاتی ہیں۔ مونک کہنے لگا:

NEBUCHADNEZZAR

The great and mighty throne, the precious treasure
The glorious scepter, royal majesty
Belonging to the king Nebuchadnezzar
The tongue can scarcely utter. Twice did he
Against Jerusalem win victory
And vessels of the temple bear away
In Babylon, seat of his sovereignty
In glory and delight he held his sway

The mighty throne and precious treasure, the glorious scepter and royal majesty of King Nebuchadnezzar can scarcely be described by tongue

nebuchadnezzar-ii-204x300

مونک نے بابُل کی مملکت کا ذکر کیا ۔ کچھ ذکر بابُل کا ہو جائے ۔

سلطنتِ بابل یا بابلونیا ، ان دو سلطنتوں کا نام ہے جو جنوبی میسو پوٹیمیا (موجودہ عراق) میں قائم ہوئیں۔

-1:قدیم بابلی لونیا (تقریباً 1750 تا 1200 ق م ) اس کا بانی حمورابی تھا۔

-2: نیا بابی لونیا: یا “کلدانی سلطنت” جو چھٹی صدی قبل مسیح مں بخت نصر کے باپ، نبو پولسار نے آشوری سلطنت کے کھنڈروں پر قائم کی اور جسے نبو گوڈ نصر / بخت نصر نے عروج بخشا۔ ان دونوں ہی سلطنتوں کا دارالحکومت بابل تھا۔ 539 ق م میں سائرس اعظم نے بابی لونیا کو سلطنت فارس (ایران) میں شامل کر لیا اور یہ سلطنت اختتام پذیر ہوئی۔

Neo-Babylonian_Empire

بابی لونا اپنے عہد کا مہذب ترین ملک تھا۔ یہاں کی زبان موجودہ سامی زبانوں (عبرانی ، عربی) کی ماں تھی۔ بابل کی زبان ہی تمام مشرقِ وسطٰی میں رابطے کا ذریعہ تھی۔یہاں کے اوّلین شہنشاہ حمورابی نے قوانین کا ایک کڑا اور درشت نظام قائم کر رکھا تھا- بخت نصر کے عہد میں بابل کی ساری دولت . . . بابل کی قلعہ بندی اور تعمیرات پر خرچ کی گئی ۔اس کا محل عجوبہ روزگار تھا۔ بابل علم و ادب اور تہذیب و تمدن کا بہت بڑا مرکز تھا۔

Py5OVyg

آج بغداد سے 60میل جنوب میں بابل کا شہر ایک عہدِ رفتہ کی مِٹتی شکل میں موجودہے۔ شاندار عظمت اور تہذیب کے امین اس شہر کے آثار اور باقیات معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے، جو بائبل کی مذہبی کہانیوں، قدیم اساطیری واقعات اور مصوّروں، فسانہ نگاروں کے تخیّل کے لئے ایک پُر کشش موضوع ہے۔

babylon-img_0107

مونک اسی طاقتور بادشاہ کا حال سنارہا ہے ۔ نبو گوڈ نصر یا بُختُ نَصَّر کا زمانہء حکومت 562سے605قبل مسیح بتایا جاتا ہے ۔یہ سورج کو خدا مانتا تھا۔ بخت نصر نے سونے کا ایک بہت بڑا اپنا مجسمہ بنوا کر اپنی رعایا پر اُس کی پوجا لازم قرار دی تھی۔ حکم عدولی کرنے والوں کو آگ کی بڑی بڑی بھٹیوں میں ڈلوایا جاتا۔ پیغمبر دانیال نے اِس نئے مذہب کی اتباع اور سونے کا بُت پوجنے سے انکار کردیا تو بخت نصر کے حکم پر انہیں بھوکے شیروں کے پنجرے میں پھینک دیا گیا جہاں دانیال معجزاتی طور پر محفوظ رہے۔ چاوسر کا مونک یوں بتاتا ہے:

This proud king had a statue made of gold
Sixty by seven cubits; he decreed
This golden image by both young and old
Be feared and worshipped. Those who wouldn’t heed
To red flames of a furnace he would feed
He’d order burnt all those who disobeyed
Daniel would not assent to such a deed
Nor would his two young comrades so be swayed

people_forced_to_worship_idol_by_king_nebuchadnezzar

people_forced_to_worship_idol_by_king_nebuchadnezzar


I will not bow down to an image
Daniel-lions

-597ق م میں یروشلم کے بنی اسرائیلیوں نے اپنے سماوی مذہب کی بالادستی کے لئے آواز اُٹھائی اور بت پرستی سے انکار کردیا ۔ بخت نصر نے یروشلم میں یہوداہ (جودیا) پر چڑھائی کی ۔ -586ق م میں اس علاقے میں دوبارہ بغاوت اور شورش ہوئی تو یروشلم کو مسمار کرکے رکھ دیا ۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ ہیکلِ سلیمانی اور بیت المقدس کو تباہ کر دیا۔ تورات کے مقدس اوراق کو جوتوں کے نچے روندا۔ بیت المقدس میں گندگی اور نجاست ڈلوائی۔ اور چار ہزار یہودیوں کو گرفتار کرکے بابل لایا ۔ان میں پیغمبر دانیال بھی تھے۔ ان کی بھی مشکیں کسی گئیں اور زندان میں قید کردیا گیا ۔ کئی ذرائع کے مطابق جن یہودی مردوں، عورتوں اوربچوں کو قیدی بناکر بابل لا یا گیا تھا اُن کی تعداد لاکھوں میں تھی ۔ 586ق م میں بخت نصر کے ہاتھوں یروشلم کی تباہی تاریخ میں اہم مقام رکھتی ہے۔

Nuremberg_chronicles/ Destruction of Jerusalem under the Babylonian rule

Nuremberg_chronicles/ Destruction of Jerusalem under the Babylonian rule

مفسّرین اور تاریخی ماہرین کے مطابق ، یہی وہ وقت ہے جب، بیت المقدس کے اسی دورِ بربادی مں حضرت عزیر علیہ السلام کا وہاں سے گذر ہوا، انہوں نے اس شہر کو ویران پایا تو تعجب ظاہر کیا کہ کیا یہ شہر پھر کبھی آباد ہوگا؟ اس پر اللہ نے انہیں موت دے دی اور جب وہ سو سال بعد اٹھائے گئے تو یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ بیت المقدس پھر آباد اور پر رونق شہر بن چکا تھا۔

اگر قدیم روایات کا مکمل اعتبار کیا جائے تو سات عجائبات میں شمار ہونے والے بابل کے معلّق باغات بخت نصر کے حکم پر تعمیر کروائے گئے تھے۔ یہ باغات حقیقتاً معلق نہ تھے بلکہ ایک ایسی جگہ لگائے گئے تھے جو درجہ بدرجہ بلند ہوتی ہوئی ساڑھے تین سو فٹ تک پہنچ گئی تھی۔ ان درجوں کی تعمیر میں اس اَمر کا خیا ل رکھا گیا تھا کہ نہ درختوں کی نشونما میں کمی آئے نہ ہی پانی کی زائد مقدار نچلے درجوں میں جا کر دیگر باغات کو خراب کرے ۔ بابل کے صفحہ ہستی سے مٹنے کے بعد باغات بھی ختم ہو گئے۔

Hanging-Gardens-of-Babylon

Hanging-Gardens-of-Babylon


hanging_gardens_of_babylon

عام خیال یہ ہے کہ یہ معلق باغات بابل کے بادشاہ، نبو خدنصر (یا بخت نصر) نے اپنی بیگم،امیتس کے خاطر تعمیر کرائے ۔دراصل امیتس کا تعلق مڈیاس (ایران) سے تھا اور وہ بابل میں اپنے وطن کا گُل و سبزہ یاد کرتی رہتی تھی۔

800px-pieter_bruegel_the_elder_-_the_tower_of_babel_vienna_-_google_art_project_-_edited

مونک اپنی کہانی میں کہتا ہے کہ وہی ذہین دانیال جو کہ بادشاہ کے خواب کی تعبیر بتانے والے شخص ہیں۔ مونک کے مطابق:

The fairest children of the royalty
Of Israel he had gelded, quickly done
And took each of them into slavery
Now Daniel of these Israelites was one
The wisest child of all, he had begun
To serve as dream interpreter of the king
(Among Chaldean sages there was none
Who from his dreams could prophecy a thing

The fairest children of the royal blood of Israel he made his eunuchs and slaves. Among others was Daniel, the wisest child of all; for he expounded the king’s dreams when there was no scholar in Chaldea who knew to what end his dreams pointed

مونک کی یہ بات بخت نصر سے منسوب ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے ۔ چونکہ یہاں بخت نصر کے حوالے سے بات ہورہی ہے تو اِس خواب والے واقعے کا ذکر کرنا موضوعاتی تقاضا ہوگا۔

قدیم عہد نامے کے مطابق بادشاہ بخت نصر نے ایک ڈراؤنا خواب دیکھا ۔ اس نے دیکھا کہ ایک دیوہیکل مجسمہ اس کے بستر کے پاس کھڑا ہے جس کا سر سونے کا۔ اوپری جسم چاندی کا۔ نچلا جسم پیتل کا اور ٹانگیں لوہے کی ہیں جبکہ اس مجسمے کے پیر مٹی اور لوہے کی آمزسے بنے ہوئے ہیں۔ بخت نصر کو اس خواب سے بہت خوف محسوس ہوا اور اس نے طے کا کہ وہ اس خواب کی تعبیر ضرور دریافت کرے گا۔ اس کا خیال تھا کہ اس خواب میں اس کیلئے ضرور کوئی نہ کوئی پیغام پوشیدہ ہے۔

Picture-201

لہٰذا اس مقصد کے لئے اس نے دوردراز سے ہوشیا ر و دانا افراد طلب کئے۔ تاہم بادشاہ کسی بھی فرد کی تعبیر سے مطمئن نہ ہوا اور سب کو پھانسی پر لٹکا دیا۔ درباریوں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ حضرت دانیال سے بھی مدد لے کیونکہ علم و دانائی کی بنیاد پر ان کا بڑا چرچا ہے۔ چنانچہ حضرت دانیال کی بھی طلبی ہوئی اور ان سے بھی خواب کی تعبیر طلب کی گئی۔ آپ نے بخت نصر سے وعدہ کیا کہ وہ اس کی تعبیر انشاء اﷲ ضرور بتائیں گے البتہ اس کیلئے انہیں دو تین دنوں کی مہلت درکار ہے۔

llm339425

daniel_interpreting_nebuchadnezzars_dream

daniel_interpreting_nebuchadnezzars_dream

اس کے بعد حضرت دانیال نے خدا کے حضور فریاد کی کہ وہ اس معاملے میں ان کی مدد کرے۔ لہٰذا اﷲ تعالیٰ نے انہیں خواب کی تفصیلی تعبیر بتا دی۔ بخت نصر کے پاس پہنچ کر انہوں نے اس سے تعبیربیان کرنی شروع کی۔

“اس مجسمے میں پہلی بڑی سلطنت تو یہ بابل کی حکومت ہے جس کے آپ بادشاہ ہیں۔ مجسمے کے سونے کے سر سے آپ ہی کی حکومت مراد ہے۔ آسمانی بادشاہ نے آپ کو قوت و اقتدار اور شان و شوکت سب عطا کیا ہے اور جہاں جہاں تک انسان اور آسمان و زمین کے چرند و پرند پائے جائے ہیں، اﷲ نے ان سب کو آپ کے اختیا ر میں دیا ہے۔ اس لحاظ سے آپ اس مجسمے کا سونے کاسر ہیں ۔ اس کے بعد ایک اور حکومت آئے گی جو آپ کی حکومت سے نسبتاً کمزور ہوگی۔ چاندی کا سینہ اسی کی علامت کے طور پر آپ کے سامنے آیا ہے جبکہ ایک اور بادشاہت پیتل کی ہو گی جو زمین پر اپنا اقتدار نافذ کرے گی لیکن قوت و اقتدار میں یہ چاندی والی حکومت کے برابر نہیں ہوگی۔

چوتھی بادشاہت لوہے کی ہوگی اور جس طرح لوہا تمام چیزوں کو توڑ پھوڑ دیتا ہے، اسی طرح یہ بادشاہت بھی تمام طاقتور جتھوں اور حکومتوں کو ختم کر کے رکھ دے گی۔ اس کے بعد وہ پر، جو مٹی اور لوہے کے ملغوبے کے بنے ہوئے آپ نے دیکھے تھے، اسی طرح آپ کی بادشاہت بھی آخر کار دوحصوں میں تقسیم ہوجائے گی.

اس کے بعد حضرت دانیال علیہ السلام نے بخت نصر سے کہا کہ وہ جو آپ نے ایک بڑے پتھر کو آسمان سے آتے دیکھا تھا جس سے مجسمہ ریزہ ریزہ ہو گیا تھا، اس سے مراد ایک ایک آسمانی بادشاہت کا وجود میں آنا ہے جس سے آپ کی یہ لوہے اور مٹی والی سلطنت بالکل تباہ وبرباد ہو جائے گی جبکہ اس نئی سلطنت کو برباد کرنے والا کوئی بھی نہ ہوگا۔ یہ بادشاہت دوسری تمام موجود سلطنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے انہں ہڑپ کر جائے گی، جبکہ وہ خود ہیمشہ کے لئے باقی رہ جائے گی۔ یہ سن کر بختِ نصر پیشانی کے بل گر پڑا اور حضرت دانیا ل سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ آپ کا خدا ہی خدا تعالیٰ ہے۔

حضرت دانیا ل کی پیشین گوئی کے مطابق، بخت نصر کے بعد انہی علاقوں میں بالترتیب ، فارسیوں ،یونانیوں اور رومیوں کی سلطنت قائم ہوئی۔ پہلی سلطنت بخت نصر کی تھی، دوسری سائرس اعظم کی، تیسری سکندر اعظم کی اور چوتھی رومی سلطنت تھی جو بعد میں مشرقی اور مغربی دوحصوں مں تقسیم ہوگئی تھی۔ ایک کا سربراہ کانٹسٹائن تھا اور دوسرے کا ہرقلِ روم تھا۔

news0803-2
176-2
Dan_4_metals

یہ آخری دور بے حد ظلم و ستم کا تھا اور عیسائی و یہودی بے چینی کے ساتھ پانچویں آسمانی بادشاہت کا انتظار کر رہے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ یہ بادشاہت اسی دور کے نبی کے ہاتھوں وجود میں آئے گی۔ ایسے نبی کے ہاتھو ں جن کے کندھوں پر مہر نبوت ہوگی اور جن کی پیشین گوئی پہلے دور کے ہر نبی کرتے چلے آرہے تھے یہاں تک کہ نیک نفس ہرقل نے یہ اعلان نہ کر دیا کہ اس مختون شخص (یعنی نبی کریم ﷺ) کی بادشاہت آپہنچی ہے۔ ہرقل کو اپنی بات پر اتنا یقین تھا کہ اس نے کفار کے سردار حضرت ابوسفیان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ ’’ اس کی بادشاہت یہاں اس مقام تک پہنچ کر رہے گی جہاں اس وقت میں(شام وفلسطین میں) بیٹھا ہوں۔”

واضح رہے کہ یہ پیشین گوئیاں انجیلی صحیفوں میں موجود ہیں ۔انجیلی صحیفوں (جدید اور قدیم عہد نامے دونوں) میں بیان کردہ دونوں پیشین گوئیوں میں سے حضرت دانیال علیہ السلام کی پیشین گوئی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ مغرب کے اہل علم اکثر و بیشتر اپنی مذہبی اور سیاسی نوعیت کی کتابوں میں اس پیشین گوئی کا خصوصی اہمیت کے ساتھ ذکر کرتے ہیں ۔

مونک نے اس بادشاہ کا عبرت ناک انجام سنایا ۔ وہ کہتا ہے کہ: بابل کے اِس بادشاہ نبو گوڈ نصر نے اپنی طاقت کے نشے میں حد سے تجاوز کیا اور اُس پر خدا کا عذاب نازل ہوا اور وہ ہوش سے بے گانہ ہوگیا ۔

But he lost that dominion suddenly
And after like a beast he came to be
He ate hay like an ox and lay about
Right in the rain, wild beasts his company
Until a certain time had run its route
Like eagle feathers grew his hair; as well
His nails grew out, like bird claws to appear

Nebuchadnezzar بے William_Blake

Nebuchadnezzar بے William_Blake

بابلونی تہذیب کے بارے میں بات کرتے ہوئے ، یہ بات یقیناََ دلچسپی کا باعث ہوگی کہ 1997میں ریلیز ہونے والی ویڈیو گیم، ایج آف ایمپائیرز، قدیم تاریخی تہذیبوں اور اُن کے پس منظر پر مبنی ایک سٹریٹجی گیم ہے۔ اس گیم کو پتھر، آلات، برانز/پیتل اور آئرن ایج میں تقسیم کیا گیا ہے۔ گیم میں قدیم یونان، مصر، آشوریہ، عراق کی سُمیری تہذیب، فارس اور بابلونیا کا زمانہ دکھایا جاتا ہے۔ ہر تہذیب کی آبادکاری میں کھلاڑی کو ایک نقشہ دیا جاتا ہے، جس میں اُسے مختلف مہارتوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے ۔ گیم بنانے والوں نے اس گیم کے بیک گراؤنڈ میوزک کے لئے بہت محنت سے آوازوں کی لائبریری بنائی اور بیگ پائپ، ڈرم کی مدد سے کھلاڑیوں کو ازمنہء قدیمہ کا احساس دلانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق اس گیم نے بچوں اور بڑوں میں مقبولیت کے شاندار ریکارڈ قائم کئے۔

Age_of_Empires_Coverart
Age_of_Empires_II_-_The_Conquerors_Coverart
Aoe_fuchs

سی وی لائزیشن بھی ایسی ہی ایک ویڈیو گیم ہے جس میں چار ہزار قبل مسیح سے زمانے کا آغاز ہوتا ہے اور کھلاڑی کو مختلف تہذیبوں کی سربراہی کرتے ہوئے اگلے لیولز تک جانا ہوتا ہے۔ اِن میں جنگیں، سیاست، تحقیق، تدّبر، پلاننگ اور فیصلہ کن مراحل کا سامنا ہوتا ہے۔ نئے شہر آباد کرنے ہوتے ہیں اور شہروں کو دفاعی نقطہء نظر سے محفوظ بنانا ہوتا ہے۔ یہ گیم بھی بچوں میں کافی فیورٹ رہی۔

Civilizationboxart
Besides the 18 civilizations available in the standard retail version, additional civilizations are available as downloadable content (DLC). Babylonia under Nebuchadnezzar II was announced as a bonus civilization included in the Steam and Direct2Drive Digital Deluxe Editions,and later offered for all on October 25, 2010

Monk describes Herculeus -26

سیمسن اور دلیلہ کی دل فگار حکایت کے بعد مونک نے دیومالائی کردار ، ہرکولیس کا عروج و زوال بیان کیا۔

-4- ہرکولیس:

مونک ہرکولیس کا ماجرا سنا رہا ہے ۔ ہرکولیس یا ہیراکلیس، یونانی دیومالا کا ایک خدائی صفات رکھنے والا ہیرو تھا۔ زیوس دیوتا کا بیٹا تھا ۔ اِسی زیوس کو رومی دیومالا میں مشتری دیوتا کہا جاتا ہے۔ ہیراکلیس اپنی بےپناہ طاقت اور بہادری کے لئے مشہور تھا ۔ ناقابلِ شکست اور شجاعت کی تصویر تھا۔ بچپن سے ہی بہادر اور نڈر تھا۔ اُس کی سوتیلی ماں ہیرا، جو کہ اُس کی پھوپھی بھی تھی، اُس سے سخت نفرت کرتی تھی۔ کیونکہ ہرکولیس ہر طرح تخت کے لئے موزوں وارث تھا اور اس طرح اُس کے اپنے بطن سے ہونے والی اولاد کی راہ میں رُکاوٹ تھا۔

بچپن میں ایک بار دیوی ہیرہ نے ہیراکلیس کو مروانے کی نیّت سے اُس کے پاس سانپ بھجوایا۔ ننھا ہیراکلیس نڈر تھا چنانچہ اُس نے اپنے ہاتھ سے سانپ کا گلا گھونٹ کر اُس کو ہلاک کردیا۔

The child Herakles strangling the snakes sent by Hera

The child Herakles strangling the snakes sent by Hera

Hercules is known for his many adventures, which are known as the “Twelve Labours,” but the list has variations. One traditional order of the labors is as follows:

-1- Slay the Nemean Lion.
-2- Slay the nine-headed Lernaean Hydra.
-3-Capture the Golden Hind of Artemis.
-4-Capture the Erymanthian Boar.
-5-Clean the Augean stables in a single day.
-6-Slay the Stymphalian Birds.
-7- Capture the Cretan Bull.
-8- Steal the Mares of Diomedes.
-9- Obtain the girdle of Hippolyta, Queen of the Amazons.
-10-Obtain the cattle of the monster Geryon.
-11-Steal the apples of the Hesperides.
-12-Capture and bring back Cerberus.
Hercules had a greater number of “deeds on the side” (parerga) that have been popular subjects for art.

Heracles' first task was to kill an invulnerable lion who had been terrorizing the city of Nemea. Conventional weapons were useless, so Heracles just choked

Heracles’ first task was to kill an invulnerable lion who had been terrorizing the city of Nemea. Conventional weapons were useless, so Heracles just choked

بادشاہ ‘یوری تھس’ کے احکامات بجا لاتے ہوئے ، ہرکولیس نے بہت سے کارنامے انجام دیئے۔ لا تعداد بلاؤں اور درندوں کو ہلاک کیا۔ اپنی عوام کو کئی آدم خوروں سے نجات دلائی۔ نیمیا کی وادی کا خوفناک شیر ہلاک کیا۔ لرنا ، کا نو سروں والا اژدہا مارا۔آرمیٹس کے پانچ سنہرے ہرن تلاش کئے۔ ایک جاں لیوا معرکے کے بعد ایری ما تھوس پہاڑی کا خونخوار خنزیر ہلاک کیا۔

Capturing the Erymanthian Boar

Capturing the Erymanthian Boar


Cerberus guarding the entrance to the Royal Institute of Technology in Stockholm

Cerberus guarding the entrance to the Royal Institute of Technology in Stockholm

آدم خور سٹم فالِن پرندہ ہلاک کیا ۔ بحیئرہءروم میں یونان کے سب سے بڑے جزیرے کریٹ کا تین دھڑوں والا بیل قابو کیا۔ڈیومیڈس دیوتا کے چار خونخوار سپاہی ہلاک کئے۔ ایمیزون کی ملکہ ہپولیٹا کا کمربند لینے بھیجا گیا جہاں ایک خونریز معرکے میں فتح حاصل کی۔ ایری تھیا کے دیو ، گیرین کے قبضے سے مویشی آزاد کروائے۔ لیبیا کے شہر بن غازی کے مقام پر ایک مشہور باغ تھا جس کو، ہیس پیرا ڈیس کا باغ کہا جا تا تھا ، وہاں سے امر کردینے والے سنہرے سیب لینے بھیجا گیا جہاں بہت سی مہمات سر کرنے کے بعد وہ کامیاب لَوٹا۔ بہت سے مشکل مراحل طے کرکے کتّے کے تین سر والی ایک بلا ، سربروس کو بڑی بہادری سے ہلاک کیا۔

800px-Hercules_capturing_Cerberus
790px-Herakles_Kerberos_Eurystheus_Louvre_E701
800px-Horse-head_amphora_Staatliche_Antikensammlungen_1362_side_A

ہرکولیس کے موضوع پر بےتحاشا کارٹون اور فلمیں بن چکی ہیں۔ پہلے ویڈیو گیمز اور اب کمپیوٹر گیمز میں ہرکو لیس کے معرکوں پر مبنی گیمز بچوں میں بہت مقبول ہیں ۔ عام طور پہ ان گیمز میں ہرکولیس کو کچھ ایسے ہی معرکے سر کرنے ہوتے ہیں جن کے مطابق پوائنٹس ملتے ہیں۔ اِن فلموں اور گیمز کی بدولت یونانی دیومالائی ہیرو ہرکولیس اور اُس کے معرکوں کے کردار بچوں کے لئے ہرگز اجنبی نہیں ہیں۔ اِن کمپیوٹر گیمز میں بیک گراؤنڈ موسیقی میں اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ بچوں کو دیومالائی ماحول محسوس ہو اور وہ بھرپور لطف اٹھا سکیں۔

Hercules_soundtrack_cover

Hercules_(1997_film)_poster

Hercules_(1997_film)_poster


legend-labours_heracles

ہرکولیس نامی تھری ڈی فلم میں 12 سو قبل مسیح قدیم یونان میں موجود ایسے ظالم آمر بادشاہ کی حکومت کا زمانہ دِکھایا گیا ہے جس کا تختہ اْلٹنے ایک بہادر جنگجو “ہرکیولس” میدان میں اْتر آتا ہے۔

Hercules-The Legend Begins poster
Hercules_GooglePlus_Cover_v1
425px-Hercules_Comic_Cover

ہرکولیس کے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، مونک نے اُس کی بےبسی کی موت کا ذکر کیا۔ ہرکولیس کے ہمراہ ایک انسانی سر اور گھوڑے کے دھڑ والی ایک مخلوق ہوا کرتی تھی جس کا نام نسوس تھا۔ ایک بار ہرکولیس اپنی “اکلوتی” بیوی ، دیانیرا کے ساتھ دریا عبور کررہا تھا۔ دیانیرا جب نسوس پر سوار ہوکر دریا کے پار پہنچی تو نسوس کا دل اُس پر آگیا ۔ ہرکولیس ابھی دریا کے دوسری جانب تھا کہ نسوس نے دیانیرا کو زبردستی اپنے ساتھ بھگا لے جانے کی کوشش کی ۔ ہرکولیس نے دریا پار سے ہی یہ معاملہ دیکھا اور ایک زہریلا تیر نسوس پر چلا دیا۔

A Painting showing Hercules-Deianeira-and-the-centaur-Nessus

A Painting showing Hercules-Deianeira-and-the-centaur-Nessus


A Statue of Deianeira and Nessus

A Statue of Deianeira and Nessus


دیانیرا اور نسوس

دیانیرا اور نسوس

مرتے مرتے نسوس نے دیانیرا کو کہا . . . ہرکولیس کی محبت بےمثل ہے اور اگر دیانیرا چاہتی ہے کہ ہرکولیس ہمیشہ اُس سے وفادار رہے تو اُسے نسوس کے دل سے نکلتا ہوا خون لے کر ہرکولیس کی قمیض پر لگانا ہوگا ۔ جب ہرکولیس وہ قمیض پہنے گا تو ہمیشہ کے لئے اُس کا ہو جائے گا ۔

ہمیشہ کی طرح ، مرد کی چاہت اور التفات کی خواہش میں دیوانی، عورت نے نسوس کا خون محفوظ کرلیا۔ اور جب ہرکولیس کو ایک دوسری عورت آیولا کی جانب راغب دیکھا تو نسوس کی بات پر عمل کیا ۔ ہرکولیس کے ملازم لیاچس نے نسوس کے خون سے آلودہ قمیض ہرکولیس کو لادی۔ نسوس جانتا تھا کہ اُس کے خون میں ایسی تاثیر ہے کہ وہ انسانی جسم کو جلا سکتا ہے۔ چنانچہ وہ قمیض پہن کر ہرکولیس کے تن بدن میں آگ بھڑکنے لگی۔

 Lichas bringing the garment of Nessus to Hercules


Lichas bringing the garment of Nessus to Hercules


death-heracles

ہرکولیس اس چال کو سمجھ گیا اور کسی کی چالاکی کا شکار ہو کر سسک کر مرنے کی بجائے اُس نے آگ میں کود کر موت کو گلے لگا لیا ۔ دیانیرا نے ہرکولیس کے غم میں خود کشی کرلی۔

Deianera

مونک نے ہرکولیئس کے انجام کو 50سطور میں بیان کیا کہ جب ایک طاقتور دیوتا ہرکولیئس کا زوال آیا تو اپنے دشمن کی بھیجی ہوئی زہر آلود قمیض پہن کر شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ قسمت نے یاوری نہ کی اور اپنے ہی ہاتھوں قمیض پہن کر موت سے ہمکنار ہوا۔

Throughout all earth’s wide realms his honour ran,
What of his strength and his high chivalry,
And every kingdom went he out to see.
He was so strong no man could hinder him

Statue of Hercules at the Hofburg Palace in Vienna

Statue of Hercules at the Hofburg Palace in Vienna

Medieval Fair

A Lovely Medieval Experience

Two weeks ago I attended my first medieval fair.

I wore my green Cotehardie paried with the separate beige sleeves, faux braids and headcloth.

IMG_8266

The weater was terrible, the rain had been goning on for days, turning the gras and gravel at the fair to a muddy brown mess. Everywere you looked people wore capes or umbrellas.IMG_8204Some stylish gentlemen.

As it was my firs time, I tried to take it all in and got very exited walking around amongst the stals, taking picures.

There was food…IMG_8193

…Horses and knights…IMG_8195

…Great music… IMG_8199

…More music…IMG_8209

…Familys living in the camp…IMG_8191

…Friends resting on a bench…IMG_8211

…a girl gambeling using a mouse to earn some coins…IMG_8208

And of course lots of stalls with costuming wares. Like:

Juwelry…IMG_8207

…clothing and headwear….IMG_8201

..leather items like bags, and wrist bands…IMG_8202

…more leather and fur items…IMG_8206

…Childrens items (helmets, swords and shirts)…IMG_8200

I also found this strange…

View original post 262 more words