Home » Canterbury Tales » The Monk tells of Nabugodnosor – 27

The Monk tells of Nabugodnosor – 27

سیمسن ،دلیلہ اور ہرکولیس کے واقعات سنانے کے بعد مونک نے بابل کا رُخ کیا اورپانچویں ٹریجڈی کے طور پر ، بابل کے ایک بادشاہ کا عبرت ناک واقعہ سنایا ۔

-5- بابل کا بادشاہ نبو گوڈ نصر :

مونک نے بابل کے بادشاہ نبو گوڈ نصر کا حال سنایا جس کا ذکر بائبل میں نبوکد نضر کے نام سے ہے۔ یہ ماجرا ایسا ہے جو بےشمار روایتوں اور حوالوں میں مذکور ہے۔ اس بادشاہ کے احوال کے بارے میں بے شمار ماخذ اور تاریخی مصادر، مترادف اور متضاد باتیں بتاتے ہیں۔ تاہم، کچھ باتیں ہر جگہ کم و بیش تھوڑے فرق سے ایک جیسی پائی جاتی ہیں۔ مونک کہنے لگا:

NEBUCHADNEZZAR

The great and mighty throne, the precious treasure
The glorious scepter, royal majesty
Belonging to the king Nebuchadnezzar
The tongue can scarcely utter. Twice did he
Against Jerusalem win victory
And vessels of the temple bear away
In Babylon, seat of his sovereignty
In glory and delight he held his sway

The mighty throne and precious treasure, the glorious scepter and royal majesty of King Nebuchadnezzar can scarcely be described by tongue

nebuchadnezzar-ii-204x300

مونک نے بابُل کی مملکت کا ذکر کیا ۔ کچھ ذکر بابُل کا ہو جائے ۔

سلطنتِ بابل یا بابلونیا ، ان دو سلطنتوں کا نام ہے جو جنوبی میسو پوٹیمیا (موجودہ عراق) میں قائم ہوئیں۔

-1:قدیم بابلی لونیا (تقریباً 1750 تا 1200 ق م ) اس کا بانی حمورابی تھا۔

-2: نیا بابی لونیا: یا “کلدانی سلطنت” جو چھٹی صدی قبل مسیح مں بخت نصر کے باپ، نبو پولسار نے آشوری سلطنت کے کھنڈروں پر قائم کی اور جسے نبو گوڈ نصر / بخت نصر نے عروج بخشا۔ ان دونوں ہی سلطنتوں کا دارالحکومت بابل تھا۔ 539 ق م میں سائرس اعظم نے بابی لونیا کو سلطنت فارس (ایران) میں شامل کر لیا اور یہ سلطنت اختتام پذیر ہوئی۔

Neo-Babylonian_Empire

بابی لونا اپنے عہد کا مہذب ترین ملک تھا۔ یہاں کی زبان موجودہ سامی زبانوں (عبرانی ، عربی) کی ماں تھی۔ بابل کی زبان ہی تمام مشرقِ وسطٰی میں رابطے کا ذریعہ تھی۔یہاں کے اوّلین شہنشاہ حمورابی نے قوانین کا ایک کڑا اور درشت نظام قائم کر رکھا تھا- بخت نصر کے عہد میں بابل کی ساری دولت . . . بابل کی قلعہ بندی اور تعمیرات پر خرچ کی گئی ۔اس کا محل عجوبہ روزگار تھا۔ بابل علم و ادب اور تہذیب و تمدن کا بہت بڑا مرکز تھا۔

Py5OVyg

آج بغداد سے 60میل جنوب میں بابل کا شہر ایک عہدِ رفتہ کی مِٹتی شکل میں موجودہے۔ شاندار عظمت اور تہذیب کے امین اس شہر کے آثار اور باقیات معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے، جو بائبل کی مذہبی کہانیوں، قدیم اساطیری واقعات اور مصوّروں، فسانہ نگاروں کے تخیّل کے لئے ایک پُر کشش موضوع ہے۔

babylon-img_0107

مونک اسی طاقتور بادشاہ کا حال سنارہا ہے ۔ نبو گوڈ نصر یا بُختُ نَصَّر کا زمانہء حکومت 562سے605قبل مسیح بتایا جاتا ہے ۔یہ سورج کو خدا مانتا تھا۔ بخت نصر نے سونے کا ایک بہت بڑا اپنا مجسمہ بنوا کر اپنی رعایا پر اُس کی پوجا لازم قرار دی تھی۔ حکم عدولی کرنے والوں کو آگ کی بڑی بڑی بھٹیوں میں ڈلوایا جاتا۔ پیغمبر دانیال نے اِس نئے مذہب کی اتباع اور سونے کا بُت پوجنے سے انکار کردیا تو بخت نصر کے حکم پر انہیں بھوکے شیروں کے پنجرے میں پھینک دیا گیا جہاں دانیال معجزاتی طور پر محفوظ رہے۔ چاوسر کا مونک یوں بتاتا ہے:

This proud king had a statue made of gold
Sixty by seven cubits; he decreed
This golden image by both young and old
Be feared and worshipped. Those who wouldn’t heed
To red flames of a furnace he would feed
He’d order burnt all those who disobeyed
Daniel would not assent to such a deed
Nor would his two young comrades so be swayed

people_forced_to_worship_idol_by_king_nebuchadnezzar

people_forced_to_worship_idol_by_king_nebuchadnezzar


I will not bow down to an image
Daniel-lions

-597ق م میں یروشلم کے بنی اسرائیلیوں نے اپنے سماوی مذہب کی بالادستی کے لئے آواز اُٹھائی اور بت پرستی سے انکار کردیا ۔ بخت نصر نے یروشلم میں یہوداہ (جودیا) پر چڑھائی کی ۔ -586ق م میں اس علاقے میں دوبارہ بغاوت اور شورش ہوئی تو یروشلم کو مسمار کرکے رکھ دیا ۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ ہیکلِ سلیمانی اور بیت المقدس کو تباہ کر دیا۔ تورات کے مقدس اوراق کو جوتوں کے نچے روندا۔ بیت المقدس میں گندگی اور نجاست ڈلوائی۔ اور چار ہزار یہودیوں کو گرفتار کرکے بابل لایا ۔ان میں پیغمبر دانیال بھی تھے۔ ان کی بھی مشکیں کسی گئیں اور زندان میں قید کردیا گیا ۔ کئی ذرائع کے مطابق جن یہودی مردوں، عورتوں اوربچوں کو قیدی بناکر بابل لا یا گیا تھا اُن کی تعداد لاکھوں میں تھی ۔ 586ق م میں بخت نصر کے ہاتھوں یروشلم کی تباہی تاریخ میں اہم مقام رکھتی ہے۔

Nuremberg_chronicles/ Destruction of Jerusalem under the Babylonian rule

Nuremberg_chronicles/ Destruction of Jerusalem under the Babylonian rule

مفسّرین اور تاریخی ماہرین کے مطابق ، یہی وہ وقت ہے جب، بیت المقدس کے اسی دورِ بربادی مں حضرت عزیر علیہ السلام کا وہاں سے گذر ہوا، انہوں نے اس شہر کو ویران پایا تو تعجب ظاہر کیا کہ کیا یہ شہر پھر کبھی آباد ہوگا؟ اس پر اللہ نے انہیں موت دے دی اور جب وہ سو سال بعد اٹھائے گئے تو یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ بیت المقدس پھر آباد اور پر رونق شہر بن چکا تھا۔

اگر قدیم روایات کا مکمل اعتبار کیا جائے تو سات عجائبات میں شمار ہونے والے بابل کے معلّق باغات بخت نصر کے حکم پر تعمیر کروائے گئے تھے۔ یہ باغات حقیقتاً معلق نہ تھے بلکہ ایک ایسی جگہ لگائے گئے تھے جو درجہ بدرجہ بلند ہوتی ہوئی ساڑھے تین سو فٹ تک پہنچ گئی تھی۔ ان درجوں کی تعمیر میں اس اَمر کا خیا ل رکھا گیا تھا کہ نہ درختوں کی نشونما میں کمی آئے نہ ہی پانی کی زائد مقدار نچلے درجوں میں جا کر دیگر باغات کو خراب کرے ۔ بابل کے صفحہ ہستی سے مٹنے کے بعد باغات بھی ختم ہو گئے۔

Hanging-Gardens-of-Babylon

Hanging-Gardens-of-Babylon


hanging_gardens_of_babylon

عام خیال یہ ہے کہ یہ معلق باغات بابل کے بادشاہ، نبو خدنصر (یا بخت نصر) نے اپنی بیگم،امیتس کے خاطر تعمیر کرائے ۔دراصل امیتس کا تعلق مڈیاس (ایران) سے تھا اور وہ بابل میں اپنے وطن کا گُل و سبزہ یاد کرتی رہتی تھی۔

800px-pieter_bruegel_the_elder_-_the_tower_of_babel_vienna_-_google_art_project_-_edited

مونک اپنی کہانی میں کہتا ہے کہ وہی ذہین دانیال جو کہ بادشاہ کے خواب کی تعبیر بتانے والے شخص ہیں۔ مونک کے مطابق:

The fairest children of the royalty
Of Israel he had gelded, quickly done
And took each of them into slavery
Now Daniel of these Israelites was one
The wisest child of all, he had begun
To serve as dream interpreter of the king
(Among Chaldean sages there was none
Who from his dreams could prophecy a thing

The fairest children of the royal blood of Israel he made his eunuchs and slaves. Among others was Daniel, the wisest child of all; for he expounded the king’s dreams when there was no scholar in Chaldea who knew to what end his dreams pointed

مونک کی یہ بات بخت نصر سے منسوب ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے ۔ چونکہ یہاں بخت نصر کے حوالے سے بات ہورہی ہے تو اِس خواب والے واقعے کا ذکر کرنا موضوعاتی تقاضا ہوگا۔

قدیم عہد نامے کے مطابق بادشاہ بخت نصر نے ایک ڈراؤنا خواب دیکھا ۔ اس نے دیکھا کہ ایک دیوہیکل مجسمہ اس کے بستر کے پاس کھڑا ہے جس کا سر سونے کا۔ اوپری جسم چاندی کا۔ نچلا جسم پیتل کا اور ٹانگیں لوہے کی ہیں جبکہ اس مجسمے کے پیر مٹی اور لوہے کی آمزسے بنے ہوئے ہیں۔ بخت نصر کو اس خواب سے بہت خوف محسوس ہوا اور اس نے طے کا کہ وہ اس خواب کی تعبیر ضرور دریافت کرے گا۔ اس کا خیال تھا کہ اس خواب میں اس کیلئے ضرور کوئی نہ کوئی پیغام پوشیدہ ہے۔

Picture-201

لہٰذا اس مقصد کے لئے اس نے دوردراز سے ہوشیا ر و دانا افراد طلب کئے۔ تاہم بادشاہ کسی بھی فرد کی تعبیر سے مطمئن نہ ہوا اور سب کو پھانسی پر لٹکا دیا۔ درباریوں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ حضرت دانیال سے بھی مدد لے کیونکہ علم و دانائی کی بنیاد پر ان کا بڑا چرچا ہے۔ چنانچہ حضرت دانیال کی بھی طلبی ہوئی اور ان سے بھی خواب کی تعبیر طلب کی گئی۔ آپ نے بخت نصر سے وعدہ کیا کہ وہ اس کی تعبیر انشاء اﷲ ضرور بتائیں گے البتہ اس کیلئے انہیں دو تین دنوں کی مہلت درکار ہے۔

llm339425

daniel_interpreting_nebuchadnezzars_dream

daniel_interpreting_nebuchadnezzars_dream

اس کے بعد حضرت دانیال نے خدا کے حضور فریاد کی کہ وہ اس معاملے میں ان کی مدد کرے۔ لہٰذا اﷲ تعالیٰ نے انہیں خواب کی تفصیلی تعبیر بتا دی۔ بخت نصر کے پاس پہنچ کر انہوں نے اس سے تعبیربیان کرنی شروع کی۔

“اس مجسمے میں پہلی بڑی سلطنت تو یہ بابل کی حکومت ہے جس کے آپ بادشاہ ہیں۔ مجسمے کے سونے کے سر سے آپ ہی کی حکومت مراد ہے۔ آسمانی بادشاہ نے آپ کو قوت و اقتدار اور شان و شوکت سب عطا کیا ہے اور جہاں جہاں تک انسان اور آسمان و زمین کے چرند و پرند پائے جائے ہیں، اﷲ نے ان سب کو آپ کے اختیا ر میں دیا ہے۔ اس لحاظ سے آپ اس مجسمے کا سونے کاسر ہیں ۔ اس کے بعد ایک اور حکومت آئے گی جو آپ کی حکومت سے نسبتاً کمزور ہوگی۔ چاندی کا سینہ اسی کی علامت کے طور پر آپ کے سامنے آیا ہے جبکہ ایک اور بادشاہت پیتل کی ہو گی جو زمین پر اپنا اقتدار نافذ کرے گی لیکن قوت و اقتدار میں یہ چاندی والی حکومت کے برابر نہیں ہوگی۔

چوتھی بادشاہت لوہے کی ہوگی اور جس طرح لوہا تمام چیزوں کو توڑ پھوڑ دیتا ہے، اسی طرح یہ بادشاہت بھی تمام طاقتور جتھوں اور حکومتوں کو ختم کر کے رکھ دے گی۔ اس کے بعد وہ پر، جو مٹی اور لوہے کے ملغوبے کے بنے ہوئے آپ نے دیکھے تھے، اسی طرح آپ کی بادشاہت بھی آخر کار دوحصوں میں تقسیم ہوجائے گی.

اس کے بعد حضرت دانیال علیہ السلام نے بخت نصر سے کہا کہ وہ جو آپ نے ایک بڑے پتھر کو آسمان سے آتے دیکھا تھا جس سے مجسمہ ریزہ ریزہ ہو گیا تھا، اس سے مراد ایک ایک آسمانی بادشاہت کا وجود میں آنا ہے جس سے آپ کی یہ لوہے اور مٹی والی سلطنت بالکل تباہ وبرباد ہو جائے گی جبکہ اس نئی سلطنت کو برباد کرنے والا کوئی بھی نہ ہوگا۔ یہ بادشاہت دوسری تمام موجود سلطنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے انہں ہڑپ کر جائے گی، جبکہ وہ خود ہیمشہ کے لئے باقی رہ جائے گی۔ یہ سن کر بختِ نصر پیشانی کے بل گر پڑا اور حضرت دانیا ل سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ آپ کا خدا ہی خدا تعالیٰ ہے۔

حضرت دانیا ل کی پیشین گوئی کے مطابق، بخت نصر کے بعد انہی علاقوں میں بالترتیب ، فارسیوں ،یونانیوں اور رومیوں کی سلطنت قائم ہوئی۔ پہلی سلطنت بخت نصر کی تھی، دوسری سائرس اعظم کی، تیسری سکندر اعظم کی اور چوتھی رومی سلطنت تھی جو بعد میں مشرقی اور مغربی دوحصوں مں تقسیم ہوگئی تھی۔ ایک کا سربراہ کانٹسٹائن تھا اور دوسرے کا ہرقلِ روم تھا۔

news0803-2
176-2
Dan_4_metals

یہ آخری دور بے حد ظلم و ستم کا تھا اور عیسائی و یہودی بے چینی کے ساتھ پانچویں آسمانی بادشاہت کا انتظار کر رہے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ یہ بادشاہت اسی دور کے نبی کے ہاتھوں وجود میں آئے گی۔ ایسے نبی کے ہاتھو ں جن کے کندھوں پر مہر نبوت ہوگی اور جن کی پیشین گوئی پہلے دور کے ہر نبی کرتے چلے آرہے تھے یہاں تک کہ نیک نفس ہرقل نے یہ اعلان نہ کر دیا کہ اس مختون شخص (یعنی نبی کریم ﷺ) کی بادشاہت آپہنچی ہے۔ ہرقل کو اپنی بات پر اتنا یقین تھا کہ اس نے کفار کے سردار حضرت ابوسفیان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ ’’ اس کی بادشاہت یہاں اس مقام تک پہنچ کر رہے گی جہاں اس وقت میں(شام وفلسطین میں) بیٹھا ہوں۔”

واضح رہے کہ یہ پیشین گوئیاں انجیلی صحیفوں میں موجود ہیں ۔انجیلی صحیفوں (جدید اور قدیم عہد نامے دونوں) میں بیان کردہ دونوں پیشین گوئیوں میں سے حضرت دانیال علیہ السلام کی پیشین گوئی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ مغرب کے اہل علم اکثر و بیشتر اپنی مذہبی اور سیاسی نوعیت کی کتابوں میں اس پیشین گوئی کا خصوصی اہمیت کے ساتھ ذکر کرتے ہیں ۔

مونک نے اس بادشاہ کا عبرت ناک انجام سنایا ۔ وہ کہتا ہے کہ: بابل کے اِس بادشاہ نبو گوڈ نصر نے اپنی طاقت کے نشے میں حد سے تجاوز کیا اور اُس پر خدا کا عذاب نازل ہوا اور وہ ہوش سے بے گانہ ہوگیا ۔

But he lost that dominion suddenly
And after like a beast he came to be
He ate hay like an ox and lay about
Right in the rain, wild beasts his company
Until a certain time had run its route
Like eagle feathers grew his hair; as well
His nails grew out, like bird claws to appear

Nebuchadnezzar بے William_Blake

Nebuchadnezzar بے William_Blake

بابلونی تہذیب کے بارے میں بات کرتے ہوئے ، یہ بات یقیناََ دلچسپی کا باعث ہوگی کہ 1997میں ریلیز ہونے والی ویڈیو گیم، ایج آف ایمپائیرز، قدیم تاریخی تہذیبوں اور اُن کے پس منظر پر مبنی ایک سٹریٹجی گیم ہے۔ اس گیم کو پتھر، آلات، برانز/پیتل اور آئرن ایج میں تقسیم کیا گیا ہے۔ گیم میں قدیم یونان، مصر، آشوریہ، عراق کی سُمیری تہذیب، فارس اور بابلونیا کا زمانہ دکھایا جاتا ہے۔ ہر تہذیب کی آبادکاری میں کھلاڑی کو ایک نقشہ دیا جاتا ہے، جس میں اُسے مختلف مہارتوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے ۔ گیم بنانے والوں نے اس گیم کے بیک گراؤنڈ میوزک کے لئے بہت محنت سے آوازوں کی لائبریری بنائی اور بیگ پائپ، ڈرم کی مدد سے کھلاڑیوں کو ازمنہء قدیمہ کا احساس دلانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق اس گیم نے بچوں اور بڑوں میں مقبولیت کے شاندار ریکارڈ قائم کئے۔

Age_of_Empires_Coverart
Age_of_Empires_II_-_The_Conquerors_Coverart
Aoe_fuchs

سی وی لائزیشن بھی ایسی ہی ایک ویڈیو گیم ہے جس میں چار ہزار قبل مسیح سے زمانے کا آغاز ہوتا ہے اور کھلاڑی کو مختلف تہذیبوں کی سربراہی کرتے ہوئے اگلے لیولز تک جانا ہوتا ہے۔ اِن میں جنگیں، سیاست، تحقیق، تدّبر، پلاننگ اور فیصلہ کن مراحل کا سامنا ہوتا ہے۔ نئے شہر آباد کرنے ہوتے ہیں اور شہروں کو دفاعی نقطہء نظر سے محفوظ بنانا ہوتا ہے۔ یہ گیم بھی بچوں میں کافی فیورٹ رہی۔

Civilizationboxart
Besides the 18 civilizations available in the standard retail version, additional civilizations are available as downloadable content (DLC). Babylonia under Nebuchadnezzar II was announced as a bonus civilization included in the Steam and Direct2Drive Digital Deluxe Editions,and later offered for all on October 25, 2010

One thought on “The Monk tells of Nabugodnosor – 27

  1. Pingback: The End of Monk’s Tale – 40 | SarwatAJ- ثروت ع ج

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s