Home » Canterbury Tales » The monk narrates of De Oloferno -29

The monk narrates of De Oloferno -29

اپریل کا مہینہ ہے اور لندن کے مضافات سے زائرین کا ایک قافلہ کینٹربری کے لئے سفر پر نکلتا ہے۔ میزبان اور راوی سمیت، لگ بھگ اُنتیس زائرین سفر کی کٹھنائی اور طوالت سے بچنے کے لئے ، باہم طے کرتے ہیں کہ ہر مسافر اپنی اپنی باری پر کہانی سنائے گا ۔ اور بہترین کہانی سنانے والے کے لئے ایک موزوں انعامی پیکیج بھی اناؤنس کیا جاتا ہے۔ چاوسر کا مونک روایتی کہانی کی جگہ مشہور شخصیات کے المیہ انجام سنانے کا آغاز کرتا ہے۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں، بابُل کے بادشاہ بخت نصر اور بیلشضر کے بعد، مونک نے، ساتواں ماجرا ، بخت نصر کے ہی ایک سپہ سالار ، ہولوفرنس یا اولو فرنس ، کا سنایا ۔

-ہولوفرنس:

-600ق م میں ، بابُل، اِشوریہ اور نینوا میں مطلقُ العنان اور خود سر بادشاہ بُخت نصر کی حکومت تھی۔ ہولو فرنس، بخت نصر کی فوج کا سپہ سالار تھا۔

بادشاہت اور مطلقُ العنانیت ایسی ظالم ، نشہ آور کیفیت ہے کہ انسان اپنی اوقات بھول جاتا ہے۔ جب بھی آدمی احتساب اور پکڑ کے ڈر سے آزاد ہو جائے، اُس کا گمراہ ہونا لامحالہ طور پر یقینی ہے۔

بابل کے بختُ نصر پہ بھی بادشاہت کی ہوس اور گھمنڈ کا بھوت ایسا سوار ہوا کہ اُس نے اپنی بِلا شرکتِ غیرے حاکمیت اور سلطنت کو وسیع کرنے کا عزم کرلیا۔

مغرب کی جانب کچھ قبائل بخت نصر کے خلاف تھے اور باغیانہ رحجان رکھتے تھے۔ خدائی مذاہب سے انکاری ، بخت نصر نے اپنے سپہ سالار ، ہولو فرنس کو مغرب کی جانب اُن قبائل پہ قہرِ انتقام ڈھانے بھیجا ، جنھوں نے بخت نصر کی نینوا میں حکومت کی تا ئید نہیں کی تھی۔ ہولوفرنس نے مغربی ساحل کے ساتھ ساتھ تمام قبائل کو شکست دی اور وہاں موجود معابد اور بت کدے تباہ کردئیے، تاکہ وہ سب لوگ، نبو گڈ نصر کے مجسمے کی پوجا کریں۔ مونک کے مطابق ، ہولوفرنس نے وہاں کے عوام سے کہا:

“Nebuchadnezzar is our god,” said he
“No other god on earth shall worshipped be
Against him only one town made a case
Bethulia, a strong community
Eliachim the high priest of the place

people_forced_to_worship_idol_by_king_nebuchadnezzar

people_forced_to_worship_idol_by_king_nebuchadnezzar

محلِ وقوع کے اعتبار سے وہ علاقہ ہے جہاں آج اُردن کا دارالحکومت عمّان واقع ہے ۔ اُس وقت وہاں سامی النسل عمونی قبیلہ آباد تھا۔ اِس اسرائیلی قبیلے کے سردار ایچوئر/ ایلیاچم نے ہولوفرنس کو خبردار کیا کہ وہ یہودیوں کے خلاف کاروائی سے باز رہے۔ ہولوفرنس مُصر رہا کہ نبو گُڈ نصر ہی پوجا کے لائق ہے اور یہ لوگ گمراہ کُن ہیں۔

Neo-Babylonian_Empire

سپہ سالار ہولوفرنس نے اسرائیلیوں کے شہر بیتھولیا کا محاصرہ کرکے وہاں پانی کی فراہمی روک دی ۔ وہاں کے لوگوں نے طے کیا کہ اگر پانچ دن تک کہیں سے بھی کُمک نہ پہنچی تو وہ ہتھیار ڈال دیں گے۔

اِسی اثنا میں یہودی عبرانی نسل کی ایک عورت جوڈتھ کا کردار سامنے آتا ہے جس نے کسی نہ کسی طرح ہولوفرنس تک رسائی حاصل کی اور اپنے لوگوں کی جاسوسی کرنے کا یقین دِلا کر ہولوفرنس کا اعتماد حاصل کیا۔ ایک رات جوڈتھ اپنی خادمہ کے ساتھ ہولوفرنس کے خیمے میں داخل ہوئی، اور شراب کے نشے میں مدہوش ہولوفرنس کا سر تن سے جُدا کردیا ۔

Caravaggio's painting Judith Beheading Holofernes

Caravaggio’s painting Judith Beheading Holofernes

ہولوفرنس کا کٹا ہوا سر لے کر اپنے قبیلے کے لوگوں کے پاس آئی اور اپنے شہر بیتھولیا کو ظالِم اور لادین ہولوفرنس کے عتاب سے بچا لیا۔

A painting by Andrea  Mantegna

A painting by Andrea Mantegna

مصّوری میں ایک موضوع کے طور پر جوڈتھ اور ہولوفرنس کو بے شمار مصّوروں نے اپنے اپنے تخیّل کے مطابق دِکھانے کی کوشش کی۔ عبرانی انجیل کے مخصوص نسخوں میں جوڈتھ کا یہ عمل اُس کے کردار کی استقامت اور پرہیزگاری کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جو اپنی قوم کو مشکل سے بچانے کے لئے ، اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کر ایک سفّاک سپہ سالار کو جُل دینے میں کامیاب ہوئی۔

475px-Judith_with_the_head_of_Holofernes

لیکن اس موضوع کو پیش کرنے والے ، ہر عہد کے مصوّروں نے اپنے شہ پاروں اور پینٹنگز میں جوڈتھ کے کردار کو حسبِ منشا . . اور . . .حسبِ پسند رنگین اور نمکین پیش کیا ہے۔ اِس موضوع پہ اس قدر وافر اور شوخ امیجیز ملتے ہیں کہ انتخاب کرنے میں دقّت کا سامنا ہونے لگتا ہے۔

Judith by August Riedel

Judith by August Riedel


Artemisia Gentileschi's painting Judith Beheading Holofernes

Artemisia Gentileschi’s painting Judith Beheading Holofernes


Judith by  Giorgione

Judith by Giorgione


Judith is commonly depicted as being assisted by an older maidservant

Judith is commonly depicted as being assisted by an older maidservant


Judith Cutting Off the Head of Holofernes by Trophime Bigot ( 1640)

Judith Cutting Off the Head of Holofernes by Trophime Bigot ( 1640)

چاوسر کا مونک کہتا ہے کہ اِس سپہ سالار ہولوفرنس کا انجام بھی اُس کی استبداد والی زندگی کے برعکس افسوسناک ہوا ۔

According to the Book of Judith, the Jewish widow Judith saved the Israelites from the Assyrians by decapitating their general Holofernes, whose army had besieged her city. She did this after having made him drunk at a banquet. Judith is commonly depicted as being assisted by an older maidservant in placing the head in a sack. The contrast between Holofernes’s crude features and the heroine’s beauty underlines the moral message of the eventual triumph of virtue over evil

Judith with the head of Holofernes  by Cristofano Allori

Judith with the head of Holofernes by Cristofano Allori

8 thoughts on “The monk narrates of De Oloferno -29

  1. Pingback: The End of Monk’s Tale – 40 | SarwatAJ- ثروت ع ج

  2. ثروت بیٹا جی ۔۔۔۔ جب بھی آپ کے بلاگ پر آتا ہوں، باخدا ایک نئی دنیا میں کھو جاتا ہوں ، میں شکر گذار ہوں آپ کی تحریروں کا کہ ان میں سے مجھے اپنی تحریروں کیلئے بہت آئیڈیاز بھی ملتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ سدا خوش آباد

    Like

    • بہت عنایت ، کہ آپ جیسے پختہ کار لکھنے والوں نے میری کاوش کو قابلِ تعریف سمجھا ۔ اس پر مستزاد کہ آپ کو اپنی تحریروں کے لئے آئیڈیاز ملتے ہیں . . پھر تو کینٹربری ٹیلز کے سلسلے کی، انشا اللہ رمضان مبارک کے بعد، آنے والی کچھ تحریریں یقیناََ آپ کے لئے دلچسپی کا سبب ہوں گی۔

      Like

  3. i wonder how much time you spend on finding these pictures… They clear the whole scene in one’s mind … Its amazing !!

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s