Home » Canterbury Tales » The Monk depicts Cresus – 30

The Monk depicts Cresus – 30

خوبصورت اور بہادر جُوڈتھ کے ہاتھوں،اولفرنو کی دردناک موت کا ماجرا سنانے کے بعد ، جیفری چاوسر کے مونک نے ، پانچویں صدی قبل مسیح میں، لیڈیا کے بادشاہ، کری سَس کا آٹھواں عبرت ناک انجام پیش کیا۔ کری سس کی کہانی کو ، بوکاچیو نے بھی اپنی المیہ داستانوں کی کتاب میں شامل کیا ہے۔

-کری سَس:

کری سس،580ق م سے547ق م تک لِیڈیا کا حکمران تھا۔ لیڈیا ، قدیم زمانے میں ترکی کے اناطولیہ صوبے میں مَنیسا کے مقام پر واقع ایک ریاست تھی۔ کری سس کے زیرِ انتظام یہ ریاست قائم و دائم تھی۔

Lydia

Lydia


display-155

کری سس لیڈیا کا بے انتہا امیر بادشاہ تھا جس کی دولت، خزانہ اور خوشحالی ضرب المثل تھی۔کری سس ٹیکسوں اور محصول لگان وغیرہ کی وصولی کے معاملے میں کوئی رعایت نہیں برتتا تھا۔

Croesus by Claude Vignon_

Croesus by Claude Vignon_

لیڈیا کے لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پہلی ٹکسال انہی لوگوں نے قائم کی ۔ سکّہ سازی کا ہنر یہیں شروع ہوا اور کری سس کے نام والے سونے کے سکّے ڈھالے گئے۔ آج بھی یہ سکّے مختلف نمائش گھروں میں محفوظ ہیں ۔ کری سس کے عہد کے سکّوں میں سونے اور دوسری دھات کا تناسب دیگر زمانوں میں دریافت کردہ سکوں سے الگ ہے جو اُسی کے سکّوں سے مخصوص ہے۔

images

Gold coin of Croesus, Lydian, around 550 BC, from modern Turkey.

Gold coin of Croesus, Lydian, around 550 BC, from modern Turkey.


lydia02

کئی روایات اور تاریخی شواہد کے مطابق کری سس ہی قارون تھا ۔ بہرحال مونک کے مطابق ، کری سس اور سولن کی ملاقات ہوئی۔ سولن، پرانے یونان میں ایتھنز کا ایک شاعر، دانشور، سیاستدان اور قانون دان تھا ۔ سولن نے قدیم ایتھنز کی سیاسی اور معاشی اصلاح میں نمایاں کردار ادا کیا۔

قبل مسیح کے مؤرخ ، ہیروڈوٹس کے مطابق، سولن اناطولیہ کا سفر کرتے ہوئے سارڈِس پہنچا جہاں کری سس نے بڑے تپاک سے ، اپنے شاندار محل میں اُس کا استقبال کیا۔ کری سس اپنے یہاں ایسی بڑی شخصیت کو پا کر بہت خوش تھا ۔ سولن نے اُسے اُمورِ سلطنت پر کئی مشورے دئیے اور دانائی کی باتیں بتائیں۔ کری سس نے ان مشوروں پر کان نہ دھرا اور خطا کھائی۔ بعد ازاں، جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت، کری سس کو سولن کی نصیحت کی قدر معلوم ہوئی۔

Croesus showing Solon his riches

Croesus showing Solon his riches

سولن کے قیام کے دوران کری سس نے اُسے اپنا عالی شان محل، بیش قیمت نوادرات، خزانوں کے انبار، سکّے اور جواہرات اور خوبصورت باغات دکھائے۔اور پوچھا کہ کیا اِس قدر دولت کا مالک ہونے کے سبب میں دنیا کا سب سے خوش ترین انسان نہیں ہوں؟

سولن نے اُسے جواب دیا :

Count no man happy until he be dead.

Judge no man’s happiness before the moments of his death

یعنی موت کا لمحہ آنے سے پہلے حالات پلٹنے کا امکان باقی رہتا ہے۔ زندگی کا کوئی بھی لمحہ ایساہوسکتا ہے جب کایا پلٹ ہوجائے، شان و شوکت جاتی رہے، انسان جن باتوں پر ناز کرتا ہو وہ چھِن جائیں ، زوال آجائے اور خوشی زائل ہوجائے۔ لہٰذا غرور سے اجتناب کرکے ہمیشہ تواضع اور عاجزی سے رہنا چاہیئے۔

Croesus and Solon

Croesus and Solon

کری سس اور سولن کے مابین یہ مکالمہ کئی حوالوں میں ملتا ہے اور مصوروں نے اس منظر کو متعدد طرح پیش کیا ہے۔

croesus
School_Croesus-And-Solon

کری سس کو سولن کی یہ بات آخری لمحات میں یاد آئی جب وہ سائرس کے ہاتھوں تختہء دار پہ پہنچا۔ مونک کے الفاظ ملاحظہ ہوں:

CROESUS

This wealthy Croesus, once the Lydian king
Whom even Persia’s Cyrus held in dread
Was caught in pride until men said to bring
Him to the fire, and that’s where he was led
But such a rain the clouds above then shed
The fire was quenched and he was to escape
This was a lesson, though, he left unread
Till Fortune on the gallows made him gape

When he escaped, the urge he couldn’t stem
To go and start a whole new war again.
And well he might, as Fortune sent to him
Such good luck that he’d made off through the rain
Before he by his foes could there be slain

This rich Croesus, formerly the king of Lydia, albeit he was sorely feared by Cyrus, yet was he caught in the midst of his pride and led to the fire to be burned. But such a rain poured from the sky that it slew the fire and let him escape. Yet he had not the grace to beware until Fortune made him hang, mouth open, upon the gallows

When he was escaped, he could not refrain from beginning a new war again. He deemed well, since Fortune sent him such good luck as to escape by help of the rain, that he could never be killed by his foes

کری سس نے اپنی طاقت کے گھمنڈ میں فارس کے بادشاہ سائرس پر چڑھائی کی اور شکست کھائی۔ سائرس نے اُسے زندہ جلانے کا حکم دیا ۔ چنانچہ چِتا جلانے کی طرح ، لکڑیوں کا انبار لگایا گیا ،آگ بھڑکائی گئی اور کری سس کو زندہ جلانے کی تیاری مکمل ہوگئی۔

creosus on pyre ..depicted on a vase

creosus on pyre ..depicted on a vase

کری سس کو اس موقعے پر سولن کی بات یاد آئی اور اُس نے بے اختیار تین بار سولن کو پکارا ۔ اتنے میں موسلا دھار بارش شروع ہوئی اور آگ بجھ گئی۔ کری سس جان بچانے میں کامیاب ہوگیا۔ اِس واقعے کے بعد وہ مزید خودسر اور محتاط ہوگیا۔ اور اُس نے تائب ہونے کی بجائے دوبارہ فارس سے جنگ کا ارادہ کیا۔خواب کے بارے میں مونک کہتا ہے:

There also was a dream he dreamt one night
That made him feel so eager, proud, and vain
On vengeance he set all his heart and might

He was upon a tree, in dream he thought
Where Jupiter bathed him down every side
And Phoebus a fair towel to him brought
To dry himself. This added to his pride
And of his daughter standing there beside
Him–she in whom, he knew, was to be found
Great insight–he asked what it signified
And she at once his dream set to expound

“The tree,” she said, “the gallows signifies
And Jupiter betokens snow and rain
And Phoebus, with his towel so clean, implies
Beams of the sun, as best I can explain
By hanging, Father, surely you’ll be slain
Washed by the rain, by sun you shall be dried
Such was the warning given, short and plain
By Phania, his daughter at his side

and he dreamed a dream one night; of which he was so glad and proud that he set his whole heart upon vengeance

He was upon a tree, he dreamed, and Jupiter washed him, back and sides, and Phoebus brought a fair towel to dry him. With this he was all puffed up, and bade his daughter, who stood beside him and he knew abounded in high learning, to tell what it signified. She began in this very manner to expound his dream. “The tree,” she said, “betokens the gallows, and Jupiter betokens the rain and snow, and Phoebus with his clean towel, they are the beams of the sun. You shall be hanged, father, in truth; the rain shall wash you and the sun dry you. Thus flat and plainly she warned him, his daughter, called Phania

اِسی دوران کری سس نے ایک خواب دیکھا جو اُس کے اپنے اندازے کے مطابق خوش بختی کی دلالت کرتا تھا۔ کری سس نے دیکھا کہ وہ ایک درخت کی شاخ پر بیٹھا ہے۔ دیوتا مشتری اُس کی کمر پر پانی ڈال رہا ہے اور دیوتا فیبس اپالو اُس کے گیلے جسم کو تولیے سے خشک کررہا ہے۔ کری سس نے اِس خواب کو اچھا سمجھا اور مزید مغرور ہوگیا۔

اُس نے اپنا خواب اپنی بیٹی فانیا کو سنایا جو بہت سے علوم کی ماہر تھی اور ذہین لڑکی تھی۔ کری سس نے بیٹی سے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی کہ تائید ہوسکے۔ بیٹی نے کہا کہ درخت تختہء دار کی علامت ہے، دیوتا مشتری بارش اور برفباری کو ظاہر کرتا ہے اور اپالو سورج کا یونانی دیوتا ہے۔ خواب بتاتا ہے کہ بابا ، آپ کو پھانسی دی جائے گی۔ آپ پر بارش اور برفباری پڑتی رہے گی اور سورج کی تمازت آپ کے جسم کو خشک کرے گی۔

وقت نے ثابت کیا کہ خواب کی یہ تعبیر درست تھی۔

And hanged indeed was Croesus, that proud king
His royal throne to him was no avail
No tragedies may signify a thing
There’s naught in song to cry out and bewail
Except that Fortune always will assail
With sudden stroke the kingdom of the proud
For when men trust her, that’s when she will fail
And cover her bright visage with a cloud

.

So Croesus, the proud king, was hanged; his royal throne did not help him

Tragedy is no other thing than to cry and bewail in song Fortune’s attacks and unexpected strokes upon proud thrones. For when men trust her, then she fails them and covers her bright face with a cloud

کری سس کو پھانسی پر لٹکایا گیا اور بے بہا خزانوں کا مالک ہونے کے باوجود وہ ایسی کسمپرسی والی موت سے نہ بچ سکا۔ اور ٹریجیڈی ہوتی ہی یہی ہے کہ انسان صرف افسوس ہی کرسکتا ہے کیونکہ قسمت کا پھیر جب آتا ہے تو بتا کر نہیں آتا، انسان جس بلند بختی اور قسمت پر غرور اور اندھا اعتماد کرتا ہے، وہی بِنا بتائے ساتھ چھوڑ جاتی ہے ۔ چنانچہ عاقبت سے ڈرتے رہنا چاہیئے۔ اقتدار، دولت اور گھمنڈ میں اپنا آپ بھلا نہیں دینا چاہیئے۔

اب انگریزی میں کری سس کا نام ، اکثر بیش بہا دولت یا قیمتی اور مہنگی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ مختلف مشہورِ زمانہ کمپنیاں اپنی مصنوعات کی پبلسٹی اور دنیا کے مشہور ہوٹلز اپنی خدمات کے لئے اس نام کا اضافہ کرتی نظر آتی ہیں۔

croesus-4pr-copy
11357893

اس کے علاوہ یہ نام ڈزنی گیمز کھیلنے والے بچوں کے لئے بھی نیا نہیں ہوگا کیونکہ کئی گیمز میں خزانے تلاش کرنے کا چیلنج دیا جاتا ہے اور کئی جگہ یہ خزانہ کری سس کا خزانہ کہلاتا ہے ۔

l_d94012b2
l_d94012b1

Treasury Of Croesus_cover

Treasury Of Croesus_cover

One thought on “The Monk depicts Cresus – 30

  1. Pingback: The End of Monk’s Tale – 40 | SarwatAJ- ثروت ع ج

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s