Home » Heart » دلِ ناداں

دلِ ناداں

دلِ ناداں

wpid-ytkmjmxte.jpeg

دلِ ناداں، تجھے ہوا کیا ہے ؟

آخر اِس درد کی دوا کیا ہے ؟

غالب نے اپنے دل کو بڑے چاؤ سے نادان کہہ کر پکارا ہے۔ اِس نادان کہنے میں یہ اشارہ چھُپا ہے کہ دردِ دل کی دوا ہونا ایسا آسان نہیں اور دل کے علاج کی خواہش کرنا ، غالب کے دل کی معصومیت اور نادانی ہے۔ صرف غالب ہی کیا، سبھی انسانوں کی زندگی کے بہت سے جھمیلے دل کی معصومیت اور نادانی کے مرہونِ منت ہوتے ہیں۔

ایک اور جگہ غالب دل کے ہاتھوں تڑپ کر یوں کہتے ہیں :

عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب

دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک

گویا کہ دل ہی ہے کہ بےتاب رہتا ہے۔ دلِ ناتواں کو دنیا میں کئی کاروبار درپیش ہیں . . . دل کا آنا، دل آزمانا، دل اُٹھ جانا، . . . دل پھسل جانا، دل اُچھلنا ، دل بجھنا، . . . دل کا بندھنا، دل بہلنا، دل پتھر ہوجانا، دل پھٹنا ، دل پرچانا، دل ٹھہرنا ، دل جھُکنا، دل بستگی، دل پسندی، دل سوزی، دل فریبی، . . . دل لگی، دل کی لگی، دل رُبائی، دل کھِلنا، دل گرمانا، دل جلانا، دل پھڑکنا، دل دھڑکنا، دل میں سمانا، . . . .اور بھی بہت کچھ . . .

تو بات غالب کی بھی ٹھیک ہوئی . . . کہ ایک دلِ ناداں اور ہزار آزار . .

wpid-happy_heart.png

دل کی اس گونا گُوں مصروفیت کا ایک سبب ہے . . اور وہ یہ کہ انسان کے وجود میں دل کو مرکزی مقام حاصل ہے ۔ اس مرکزیت کی وجہ یہی نہیں کہ دل کو ٹوٹنے ، جُڑنے اور مچلنے سے کام ہے بلکہ دل کے نازک کندھوں پر اور بھی بہت سی ذمہ داریاں ہیں۔ دل کی بنیادی ذمہ داری ، جو ڈاکٹر لوگوں کو ، آلات لگا کر معلوم ہوئی ، وہ یہ کہ اِس عضویاتی دل کو تمام عمر دھڑک دھڑک کر ، تمام جسم کو خون کی سپلائی کا کام کرنا ہے۔ دل دھڑکنے کا ایک سبب، ناصر کاظمی نے بھی پیش کیا :

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

وہ تیری یاد تھی، اب یاد آیا

سو، نادانیوں کے باوجود اور دھڑکنے کے علاوہ، انسان کی عقل و شعور کا محور یہی دل ہے جہاں سے انسان کے تمام اعمال و افعال اور نظریات کنٹرول ہوتے ہیں۔ دل کی اہمیت سے کسی طور انکار ممکن نہیں۔

امام ابن القیّم ؒ فرماتے ہیں کہ انسان کے جسم میں سب سے اشرف اور اعلیٰ اس کا دل ہے جس سے وہ اللہ کی معرفت حاصل کرتا ہے ، اُس کی جانب اقدام کی کوششیں کرتا ہے، اُس کی محبت کے قابل بنتا ہے۔ یہی دل ایمان و عرفان کا محل ہے۔پیغمبروں کی بعثت اِسی کی طرف ہوئی۔ خدائی پیغام کا مخاطب بھی یہی دل ہے۔ اللہ کی ذات ہی انسان کو دل کا تحفہ دینے والی ہے اور تحفے کی شان ، اِس تحفے کو عطا کرنے والے کی شان جیسی ہے۔

انسانی جسم میں دل بادشاہ کے مقام پر ہے ، تمام اعضاء اور جوارح اِس کے تابع ہیں، دل انھیں استعمال کرتا ہے جیسے بادشاہ اپنے غلاموں کا اور راعی اپنی رعیت کا استعمال کرتا ہے۔

دل کی مرکزیت پہ پیغمبر آخر الزمان ﷺ کے بہت سے اقوال ثابت ہیں۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں:آگاہ رہو، جسم کے اندر ایک ایسا عضو ہے۔ جب وہ صحیح رہا تو پورا جسم صحیح رہا اور جب وہ بگڑگیا تو پورا جسم بگڑ گیا، آگاہ رہو، وہ قلب ہے۔

چنانچہ دل کی اہمیت اور اصلاح خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔ اور اس کا کام محض دھڑکنے اور مچلنے تک ہی محدود نہیں ہے۔

دل؛ تعارف-1 حصہ

One thought on “دلِ ناداں

  1. Pingback: دلِ پریشاں | SarwatAJ- ثروت ع ج

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s