Home » Heart » زندہ دلی اور طمانینت

زندہ دلی اور طمانینت

زندگی ، زندہ دلی کا نام ہے

مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں

یعنی زندگی ، وہی ہے جو زندہ دلی سے عبارت ہو، دل نہ رہے تو انسان کے لئے دنیا کی ہر نعمت کا مزہ ختم ہوجاتا ہے۔ وہ جو ناصر نے کہا تھا کہ اپنا دل اداس ہو تو لگتا ہے کہ شہر سائیں سائیں کررہا ہے۔ اور پھر بقولِ اقبال :

دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب

کیا لطف انجمن کا ، جب دل ہی بجھ گیا ہو . .

اسی لئے بہت ضروری ہے کہ دل پر خاص توجہ دی جائے کہ دل بجھ نہ جائے ، اس کی رضامندی کا خیال رکھا جائے، دل کی آراستگی اور مضبوطی کا سامان کیا جائے اور ایسے اقدامات کئے جائیں جن سے دل کو طاقت ملِے۔دل کی تقویت اور ٹھہراؤ انسان کو زندگی کی کشاکش میں مدد دیتی ہے۔ جب انسان کا دل مطمئن ہو تو اُس کو ہر مشکل چھوٹی لگتی ہے اور وہ بڑے سے بڑی رکاوٹ کو عبور کرجاتا ہے۔

clipart_heart_2[1]

زندہ دل آدمی اپنے اندر طمانینت، سعادت اور راحت محسوس کرتا ہے۔ زندہ دلی انسان کو بھلائی اور طاعتوں کی طرف راغب کرتی ہے۔ اور کئی طرح کی نفسیاتی آسانیاں پیدا کرتی ہے۔ کلفت اور مشقت محسوس کئے بغیر، اعمالِ خیر کا کا سر انجام دینا آسان بنا دیتی ہے ۔ مثبت سوچ جنم لیتی ہے۔

زندہ دلی یا دل کی زندگی ، اِس چیز میں ہے کہ دل اپنے خالق کا تابع ہو، نیکی کی طرف راغب ہو اور اپنے رب کے ذکر سے توانائی حاصل کرتا ہو. . .

اللہ عزوّجل فرماتا ہے، سورۃ الرعد میں :

الذین آمنوا و تطمئنُ قلوبھم بذکراللہ ، الاٰ بذکرِ اللہِ تطمئنُ القلوب ٭

ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے، اُن کے دل اللہ کے ذکر سے اطمئنان حاصل کرتے ہیں، یاد رکھو، اللہ کے ذکر سے ہی دِلوں کو اطمئنان ہوتا ہے۔

” مگر ہمارے ہاں لوگ عام طور پر یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ اللہ کا ذکر کرکے بھی دل بےچین اور مضطرب رہتا ہے۔ وہ صبح شام تسبیحات پڑھتے ہیں مگر پھر بھی زندگی حزن و ملال اور بےچینی و انتشار میں گزرتی ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ اس آیت میں اطمئنان سے مراد سکون کی وہ کیفیت نہیں ہے جو کسی نشے کو اختیار کرنے کے بعد انسان پر طاری ہوجاتی ہے۔اور جس کے بعد انسان دنیا و ما فیہا کے ہر غم سے بے نیاز ہوجاتا ہے ۔ بلکہ یہاں اطمئنان سے مراد وہ ذہنی کیفیت ہے جس میں انسان کا دل ایک نکتے پر یقین کی حالت میں سکون حاصل کرتا ہے۔وہ سکون جو یقین سے پیدا ہوتا ہے ۔ اس میں انسان کو یہ یقین ہوتا ہے کہ جس ہستی پر وہ ایمان لایا ہے ، جس کو اُس نے اپنا رب اور معبود مانا ہے، وہی درحقیقت خالق اور مالک ہے۔ اُس رب کے ہاتھ میں کُل کائنات کی بادشاہی ہے ، اور جس نے اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ میں دے دیا ، اللہ تعالیٰ اُسے کبھی رُسوا اور محروم نہیں کرے گا۔

تاہم یہ یقین اللہ کے جس ذکر سے پیدا ہوتا ہے وہ محض تسبیح پر انگلیاں پھیرنے کا عمل نہیں بلکہ اس کی یاد میں جینے کا نام ہے۔ یہ محض کچھ اذکار کو زبان سے ادا کرنے کا عمل نہیں، بلکہ اس کے ذکر سے منہ میں شیرینی گھُل جانے کا نام ہے۔ یہ صرف اُس کے نام کی مالا جپنے کا نام نہیں ، بلکہ ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کو اپنے ساتھ سمجھنے کی کیفیت کا نام ہے۔ یہ ‘اللہ ہو’ کا وِرد کرنے کا عمل نہیں، بلکہ رب کی محبت میں ڈر کر زندگی گزارنے کا نام ہے۔

قرآن نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ اطمئنانِ قلب کی وہ کیفیت جس میں انسان کو نہ کوئی خوف ہوتا ہے اور نہ کوئی اندیشہ، اللہ کے دوستوں کو عطا کی جاتی ہے۔ فرمایا :

سُن لو کہ اللہ کے دوستوں کے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ کوئی اندیشہ،

یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے۔

ِن کے لئے خوشخبری ہے، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی

اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی، یہی بڑی کامیابی ہے۔

سورۃ یونس – آیت62،63، 64

قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ اللہ کے یہ دوست کون ہوتے ہیں؟ یہ کوئی پہنچے ہوئے، ولی یا بزرگ قسم کے لوگ نہیں ہوتےبلکہ وہ سچے اہلِ ایمان ہیں جو اپنے ایمان کا ثبوت دیتے ہیں، تقویٰ سے۔ یعنی رب کی یاد ان کا یوں احاطہ کرلیتی ہے کہ زندگی کے ہر کمزور لمحے میں وہ یہ سوچ کر گناہ سے بچتے ہیں کہ اللہ میرے ساتھ ہے اور مجھے دیکھ رہا ہے۔ بس اللہ کا دوست اور ولی ہونے کی یہی نشانی ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کے نیک بندوں پر بھی تکالیف آتی ہیں تو وہ کس طرح خوف، ملال اور حزن سے محفوظ ہوئے ؟ ( انشاءاللہ آئندہ)

زندہ دلی اور طمانینت ۔ ، رمضان2014۲

2 thoughts on “زندہ دلی اور طمانینت

  1. Pingback: دلِ پریشاں | SarwatAJ- ثروت ع ج

  2. قلب وجود کا پادشاہ ہےجو خوراک کی صورت بیرونی دنیا سے خراج وسول کرتا ہے اور اپنی رعایا تک انہیں منتقل کرتا
    ہے
    قلب کو جگانے کے لئے عقل کو سلانا پڑتا ہے۔جو کیوں کیسے کے حصار سے نکل نہیں پاتی۔یہ اس کا پوشیدہ پہلو ہے۔مگر بہت اطمینان بخش ہوتا ہے۔

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s