Home » Heart » دلِ پریشاں

دلِ پریشاں

دل پریشاں ہوا جاتا ہے

اور ساماں ہوا جاتا ہے

داغؔ خاموش ، نہ لگ جائے نظر

شعر دیوان ہوا جاتا ہے

داغ ؔ دہلوی کی پریشانی کا سبب اگرچہ کچھ اور تھا پر وہ بھی، اکثر لوگوں کی طرح، دیگر وجوہ کی بِنا پر ،تمام عمر دل کے ہاتھوں ہی پریشان رہے۔ دلِ ناداں سے تعارف اور زندہ دلی اور طمانینت کے حوالے سے یہ جاننے کے بعد ، کہ ذکرِ الٰہی سے دل کو سکون ملتا ہے اور یہ سکون ایک الگ نوعیت کا ہے جس میں دل ایک نکتے پر ، یقین کی حالت میں ٹھہر جاتا ہے ، اب بات آتی ہے اُس سوال کی کہ . . . اللہ کے نیک بندوں پہ بھی تکالیف آتی ہیں تو وہ کیسے خوف، ملال اور حزن سے محفوظ ہوئے ؟ بلکہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ کٹھن گھڑیاں زیادہ تر اللہ کے پیاروں پر ہی آتی ہیں۔ اولوا العزم رسولوں پہ سب سے زیادہ آزمائشیں آئیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ خوف و حزن ، دل کی ایک کیفیت کا نام ہے ۔ جو لوگ اللہ کی یاد میں جیتے ہیں ، اُن کے اردگرد وقتی طور پر پریشان کن حالات پیدا ہوسکتے ہیں، مگر اُن کے دل پر اطمئنان کی وہ کیفیت طاری رہتی ہے جس سے انسان ہمیشہ پُرسکون رہتا ہے۔

جیسا کہ ہجرتِ مدینہ کے موقعے پر، غارِ ثور میں رسولُ اللہ ﷺ نے اپنے رفیقِ غار ، ابوبکرِ صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا :” اُن دو کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا رفیق خود اللہ ہے؟ (بخاری3453)

دل کا یہ اطمئنان یقین سے پیدا ہوتاہے ۔ اور انسانی دل کے ٹھہراؤ کے لئے یقین سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ بے یقینی بہت ذہنی تکلیف کا سبب بنتی ہے۔ اسی ذہنی یکسوئی کو آج کی دنیا میڈیٹیشن ، فوکسنگ، یوگا، مراقبہ وغیرہ کے مختلف ناموں سے جانتی ہے اور اس یکسوئی تک پہنچنے کے لئے نِت نئے ذہنی حربے اور مشقیں عمل میں لائی جاتی ہیں۔ کئی جدید تجربہ گاہیں اس پہ کام کر رہی ہیں کہ ذہن اور اعصاب کو پرسکون رکھنے کے لئے دل کی کیا کیفیت ہونی چاہیئے۔

مرا دل مری رزم گاہِ حیات

گمانوں کے لشکر ، یقیں کا ثبات

یہی کچھ ہے ساقی، متاعِ فقیر

اسی سے فقیری میں ہوں میں امیر

اقبال

ایک بندہء مومن پر جب زندگی کی مشکلات آتی ہیں تو اُس کا ایمان اُسے بتاتا ہے کہ اللہ چاہے تو بآسانی اُسے اِن مشکلات سے نکال سکتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے رب ہی کو پکارتا ہے اور اُسی سے مدد چاہتا ہے، جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اُس کی مشکل دور کردیتے ہیں۔ تاہم اُسے یہ بھی یقین ہوتا ہے کہ کہ یہ مشکلات اگر دور نہیں ہورہیں تب بھی، اللہ کے ہاں اُس کے درجات بلند کرنے کا سبب بن رہی ہیں اور آخرت میں اُسے نجات دلائیں گی ۔ چنانچہ مشکلات اور تکالیف بھی اُسے یہ اطمئنان فراہم کرتی ہیں کہ اس کی تکلیف کا ہر ایک لمحہ جنت میں اس کی راحتوں میں اضافے کا سبب بنے گا ۔ جو شخص اطمئنان کی اس کیفیت میں جیتا ہو اُس کے لئے ہر حالت اور ہر کیفیت ہی سکون ہے۔

سلفِ صالحین میں سے کسی نے اِس طمانینت کی صفت بیان کرتے ہوئے کہا: بے چارے دنیا والے، دنیا سے آکر چلے بھی گئے اور دُنیا کی سب سے طیّب، سب سے لذیذ چیز کو چکھا تک نہیں۔ اِن سے پوچھا گیا کہ دُنیا کے اندر سب سے طیّب چیز کیا ہے؟

جواب دیا : دل میں اللہ کی محبت اور اُنسیت رکھنا اور اُس سے ملاقات کے لئے مشتاق رہنا۔

heart-hugs

سورۃ المطففین کی آیت 22 کی تفسیر میں، امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

إ

ِانَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ

اللہ تعالیٰ کے قول ” نعیم” کو صرف آخرت کے لئے گمان نہ کریں، بلکہ اِس میں ساری نعمتیں، یہاں تک کہ دُنیاوی نعمتیں بھی شامل ہیں۔ جیسا کہ “ابرار’ یعنی اللہ کے نیک اور متقی بندے اپنے دلوں کے اندر قلبی سکون اور لذت و سعادت محسوس کرتے ہیں۔ اسی لئے فرمایا ” لَفِي نَعِيمٍ” کہ یقیناََ نعمتیں اور اس میں دنیا اور آخرت ، دونوں کی نعمتیں شامل ہیں۔ الجواب الكافي لمن سأل عن الدواء الشافي ص85
گویا کہ دل کے معاملے میں بہت گہرائی ہے اور دل کی واردات، دل کا تعلق، یقین اور ایمان کا بڑھنا یا گھٹنا، طمائنینت پانا، . . . یہ سب معاملات بہت باریک بینی سے نبھانے کے ہیں۔ زندگی کی بھاگ دوڑ میں اکثر دلِ پریشاں تنہا رہ جاتا ہے اور یوں مزید پریشان ہوتا ہے۔انسان کی تمام ہستی کے سلجھاؤ کی گُتھی دراصل دل کے سکون میں ہے۔ مال ، معاش، اولاد، احباب اور کچھ بھی انسان کے سکون کا ضامن نہیں . . . جب تک کہ . . . دل راضی باش نہ ہو، قلق سے آزاد اور ایک رب کی ہستی سے جُڑا ہوا نہ ہو۔ سوز و گداز کے ذائقے سے آشنا نہ ہو اور پھر اس سوز سے لطف حاصل نہ کرتا ہو۔

کوئی دل سوز ہو تو کیجیئے بیاں

سرسری دل کی واردات نہیں

حالی

دلِ پریشاں3- رمضان 2014

images

3 thoughts on “دلِ پریشاں

  1. بہت خوب !!!!!! کیا زبردست دل کا پوسٹ مارٹم کیا آپ نے۔ محبت ، ایمان اور تقوی دل کے علاوہ کہیں ٹھہرایا نہیں جا سکتا۔ جس دل میں اللہ کی محبت نہ ہو وہ اطمینان قلب کی نعمت کا شکر کیسے ادا کرے گا۔

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s