Home » Heart » بیمارئ دل اور تدبیر

بیمارئ دل اور تدبیر

بیمارئ دل اور تدبیر

الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اِس بیماری ءدل نے آخر کام تمام کیا

bandaged-heart

شاعر اُس کیفیت کا ذکر کر رہا ہے جب انسان دل کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچ جاتا ہے۔ یعنی دل کی بیماری، جاں لیوا ثابت ہوتی ہے اور کبھی کبھی دل کے علاج کی تدبیریں کارگر نہیں ہوتیں۔ ڈاکٹروں کے یہاں بھی دردِ دل یا کارڈک مرض کو خطرے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اور معاملے کی تہہ میں ساری بات ہے، اِس ناہنجار دل کی ہی، جس کے ہاتھوں قیس نے صحرا کی خاک چھانی اور لیلٰی کے محمل کی آرزو میں مجنوں کہلایا ۔ غالب کا دل، نادان ٹھہرا، داخ بے تاب رہے، میر نے کہا۔ ۔ ۔بےقراری مین عمر گءی، دل کو قرار اتا نہین ہنوز ۔ ۔ ۔ کبھی سینے میں ایسی شورش اُٹھائی کہ پسلیاں توڑ باہر ہی آنکلے گا .. . اور شاعر نے بھی دل کی یہ حقیقت یوں کھول کے رکھ دی کہ . . .

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جو چِیرا تو اِک قطرہ ءخون نکلا

یہ چھوٹا سا “ٹكڑا” اس كی شان عجيب ہے ۔ خالقِ کائنات نے بدن كا ہر عضومخصوص كام كے لئے پيدا كيا ہے ۔ ہر عضو الگ الگ اپنا مخصوص كام بخوبی انجام ديتا رہے٬ یہی تمام بدن کی صحت وتندرستی ہے۔ اور بيماری یہ ہے کہ ہر عضو اپنا كام ، جس كے لئے اسے بنايا گيا ہے ٬ صحيح طریقے سے ادا نہ كر سكے۔ مثلا ہاتھ پكڑنے اور گرفت کرنے پر قادر نہ ہو٬ تو یہ ہاتھ كی بيماری ہے ۔ آنكھ ديكھنے سے معذور ہو٬ تو یہ آنكھ بيمار قرار پاتی ہے ۔ زبان کی بیماری یہ ہے کہ وه بولنے سے عاجز رہے۔ فطری حركتوں کی طاقت نہ ركھنا ، کمزوریء بدن کی بیماری کہلاتی ہے ۔ معدہ خوراک کو ، ٹھیک سے ہضم کرکے ، جزوِ بدن نہ بنا سکے تو یہ معدے کا مرض ہوگا ۔
لہذٰا . . .دل بھی جسم کا ایک عضو ہے تو دل کی بیماری کا تعّین کیسے ہوگا ، مرضِ قلب كيا هے؟

دل کی بیماری یہ ہے کہ وه جس كام كے لئے پيدا كيا گيا هے٬ وه اس سے نہ ہونے لگے ۔ مثلا الله عز وجل كی معرفت حاصل كرنا٬ . . اس سے محبت كرنا٬ . . اس سے ملنے كا شوق ركھنا٬ . . اس كی جانب رجوع کرنا، . . اطاعت کے لئے اپنی تمام تر خواہشات كو قربان كردينا، . . رب کی محبت میں دنیا کو ہیچ سمجھنا، . . رب کی رضا کے لئے بندوں سے نرم روئی کا معاملہ کرنا، اگر کسی کا دل ، اِس درجے تک نہیں پہنچتا تو اس کا مطلب ہے کہ دل کا فنکشن ٹھیک نہیں اور ا س كا دل صحيح سالم وتندرست نہیں ہے اور اُس کو مرض لاحق ہے ، دل کا مرض . .. .

جس طرح سےآنكھ میں بینائی کا نہ ہونا، یا نظر کم ہونا، آنکھ کی علت اور بيماری ہے اسی طرح دل كا الله عزوّجل كی معرفت٬ اس كی محبت اور اس كی رضا حاصل کرنے کی لگن سے خالی ہونا، دل کی علّت یا دل کا مرض ہے۔

بعض بلکہ اکثر ، صاحبِ قلب اپنی بیماریء دل کا احساس ہی نہیں کرپاتے۔ بسا اوقات محسوس ہو بھی جائے٬ تو دواؤں كی كڑواہٹ كا جھيلنا ان پر شاق گزرتا ہے ۔ وہ اس مرض کو معمولی سمجھتے ہیں جو کہ آہستہ آہستہ اُن کے وجود کو کھوکھلا کرتا رہتا ہے ۔ جب حقیقت بات تو یہ ہے کہ . . . .ہر مسلمان کو اپنے دل كی صحت وسلامتی كا خيال ركھنا ضروری ہے کیونکہ بندے کی اصلاح وفلاح اور اس كے اعمال كا دار ومدار “دل” پر منحصر ہے ۔ الله تعالے فرماتاہے :

يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ * إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ

ترجمه: جس دن کہ مال اور اولاد كچھ كام نہ آئے گی ٬ ليكن (فائده والا )جو الله تعالے كے سامنے بے عيب دل لے كر جائے۔

قلبی امراض كی متعدد شكليں ہيں۔ كچھ لوگوں كے دلوں ميں شبہات كی بيماری ہوتی ہے۔ جب بھی كوئی شك وشبہ والی بات سن لی ٬ بے چين ہو گئے۔ اور كبھی كبھی اس قدر متاثر ہو جاتے ہيں کہ شكوك وشبہات كی كچھ باتيں ان كے دل ميں جگہ بنا لیتی ہیں اور اجاگر ہونے لگتی ہیں۔ايسے لوگ شبہا ت كی باتيں غور سے سننے والے ہوتے ہيں۔ ان سے متأثر ہوتے ہيں اور انھيں قبول بھی كر ليتے ہيں۔ یہی وه لوگ ہيں جو مريض ِ قلب ہيں جنھيں شبہات كی بيماری لاحق ہوگئی ہے۔

بعض لوگ شہوات كے مريض ہوتے ہيں۔ ان كے دلوں ميں شہوت كا مرض غالب ہوتا ہے خاص طور پہ صنفِ مخالف کے لئے ۔ قلبی امراض كی اس نوع كا ذكر الله عز وجل نے اپنے اس قول ميں بيان فرمايا ہے:

يَا نِسَاء النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاء إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلاً مَّعْرُوفاً

ترجمہ: اے نبی كی بيويو! تم عام عورتوں كی طرح نہیں ہو٬ اگر تم پرہيزگاری اختيار كرو٬ تو نرم لجے سے بات نہ كرو٬ کہ جس كے دل ميں روگ ہو٬ وه كوئی برا خيال كرے اور ہاں قاعدے كے مطابق كلام كرو۔

اس آيت پر غور كريں٬ دل کے مرض کا واضح ذکر ہے، كس طرح الله تعالے نے واضح فرمايا کہ محض بات چيت كے انداز ميں اگر عورت نرم پڑ جائے٬ تواس ميں اپنی ہوس كا طمع، وه كرتا ہے جس كا دل بيمار ہے یعنی شہوت كا مريض ہے۔كيوں کہ وه اس كے لئے پہلے سے تيار بيٹھا ہوتا ہے۔ جيسے ہی كوئی عورت ديكھی٬ فوراََ اس كی طرف راغب ہوا۔ اس كےاسباب ومحركات كتنے ہی حقير ٬ بلکہ محض نرم گفتاری ہی كيوں نہ ہو۔ عورت كی طرف سے ہلكے سے ہلكے وسائل كو بھی اس كا دل قبول كر ليتا ہے۔ اس طرح كے لوگ ہر معاشره ميں پائے جاتے ہيں۔ یہی وه لوگ ہيں٬ جو عورتوں كو تانك جھانك كرتے يا ان كا پيچھا كرتے ہوئے نظر آتے ہيں۔ اوریہ سب كچھ محض شدت شہوت كی بناء پر نہیں ہوتا ، نہ ہی یہ اُن کی مردانگی کی دلیل ہے٬ بلکہ یہ دل كی بيماری كے سبب ہوتا ہے۔ ايسا انسان مريض قلب ہے اور علاج كا محتاج ہے۔

كچھ لوگوں كے دلوں ميں مال جمع كرنے كی بيماری ہوتی ہے۔ ايسے لوگ ، ہر حال میں، مال اكٹھا كرنے كے حريص ہوتے ہيں۔ خواه اسے حاصل كرنے كا كوئی بھی طریقہ ہو۔ وه مال جمع كر كے ا س كا ذخيره بناتے ہيں۔ اور اسے خرچ كرنے كے بجائے سختی اور کنجوسی سے اس كی حفاظت كرتے ہيں۔ مال کی محبت نے ان كے دلو ں كو مسخر كر ركھا ہوتا ہے۔ اُن کے لئے مال تما م رشتوں، عبادات اور ذات سے زیادہ فوقیت رکھتا ہے۔ ايسے لوگ بھی مريض قلب ہوتے ہيں۔

كچھ لوگوں كا دل لہو ولعب كا مريض ہوتا ہے۔ ۔ وه ہمیشہ كھيل كود٬ موج مستی، ہنسی مذاق اور غفلت ميں پڑے رہتے ہیں۔ یہ بھی قلبی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔

اس طرح پتہ چلتا ہے کہ قلبی امراض كی مختلف اقسام ہيں۔ اس لئے مسلمان كو چاہیئے کہ اپنے دل کی خبر رکھے۔ دل کے معاملات پہ نظر رکھے۔ ہمیشہ اپنے دل كی اصلاح كے لئے كمر بستہ رہے۔ اور اگر دل کو کوئی بیماری لاحق ہو، کوئی عارضہ لگ جائے، تو فورا ا سكا علاج كرے۔ قلبی اعمال ميں سے ايك عمل الله عز وجل كی محبت رکھنا ہے۔ اور یہ قلبی اعمال ميں سب سے عظيم ہے۔ اور اس كا محل قلب یعنی دل ہی ہے۔ جس كی اہميت ايسی ہے٬ جيسے پرندے كے لئے اس كا سر۔ نيز خوف وخشيت اور اميد ورجاء اس كے دو بازو اور پر ہيں۔ اگر محبت معدوم ہو گئی٬ تو ايسے ہے جيسے كسی پرندے كا سر كاٹ ديا گيا ہو۔ ايسے ميں وه اپنے رب عز وجل كی طرف كيسے اقدام كر سكتا ہے؟

لوگوں كے درميان اس محبت كی صفت اور مفہوم ميں بہت زياده فرق پايا جاتا ہے۔اورالله كی محبت كی صداقت كے لئے نبی ﷺ كي اتباع واضح علامت هے۔ جيسا كہ الله تعالے نے سورۃ آلِ عمران کی آیت 21 میں فرمايا:

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّهُ

ترجمہ: كہہ ديجئے! اگر تم الله تعالى سے محبت ركھتے ہو تو ميری تابعداری كرو٬ خود الله تعالى تم سے محبت كرےگا۔
الله عز وجل سے محبت كا دعوى تو سبھی كرتے ہيں۔ مگر اس كو پركھنے كا آلہ٬ اور اس ميں صداقت كے لئے برہان نبي ﷺ كي اتباع ہے۔ یہی الله عز وجل سے محبت كی كھلی دليل ہے۔ اور اس محبت كو تقويت پہنچانے والا سب سے بڑا ذريعہ جيسا كہ ابو العباس ابن تيميہ رحمہ اللہ نے فرمايا

اولا : كثرت سے الله سبحانہ وتعالى كا ذكر كرنا٬ كيوں كہ يہ الله كی محبت كو تقويت پہنچانے والا سب سے بڑا ذريعہ ہے۔ بنده جب كثرت سے الله كا ذكر كرتا ہے٬ تو اس كے دل ميں الله كی محبت گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس كا دل نرم ہو جاتا ہے۔ اور الله كی جانب بڑھنے اور سرِ تسلیم خم کرنے ميں بڑا كردار نبھاتا ہے۔

ايک آدمي حسن بصری رحمہ الله كے پاس آيا اور كہنے لگا: اے ابو سعيد! ميں اپنے دل ميں قساوت اور سختی محسوس كر رہا ہوں۔ تو حسن بصری نے كہا: كثرت سے الله كے ذكر كے ذريعہ اپنے دل كی سختی كو پگھلاؤ۔ كيوں كہ الله كے ذكر سے زياده كسی بھی چيز سے دل كی سختی كو نہيں پگھلایا جا سكتا ۔سورۃ آلِ عمران کی آیت 191 میں الله تعالى كا فرمان ہے:

الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللّهَ قِيَاماً وَقُعُوداً وَعَلَىَ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

ترجمه: جو الله كا ذكر كھڑے اور بيٹھے اور اپنی كروٹوں پر ليٹے ہوئے كرتے ہيں٬ اور آسمانوں و زمين كي پيدائش ميں غور وفكر كرتے ہيں٬ اور كہتے ہيں: اے ہمارے پروردگار ! تو نے يہ بے فائده نہيں بنايا٬ تو پاک ہے٬ پس ہميں آگ كے عذاب سے بچالے۔

ثانياََ: الله عز وجل كي بڑی بڑی نعمتوں اور اس كے احسانات پر غور وفكر كرنا۔ كيوں كہ نفوس كی جبلت ميں اس كے محسن سے محبت ڈالی گئی ہے۔ لوگ اپنے محسن سے جبلی طور پر محبت كرتے ہيں۔ اور الله عز وجل نے اپنے بندوں كوبہت بڑی بڑی لا تعداد وبے شمار نعمتيں عطا كی ہيں۔ اس نےسننے اور ديكھنے كي نعمت اور عقل وصحت وغيره جيسی ان گنت بڑی بڑی نعمتيں عطا كی ہيں٬ جنھيں شمار نہيں كيا جا سكتا۔ جب ان كے بارے ميں غور وفكر كيا جائےگاتواس سے الله كی محبت پيدا ہوگی۔

صحت مند اور سلیم دل انسان کے لئے زندگی میں بہت قیمتی چیز ہے ۔ اللہ کے ہاں انسان کے دل کی بہت منزلت ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا : “اللہ تعالیٰ تمھاری شکلوں یا تمھارے جسموں کی طرف نہیں دیکھتا لیکن تمھارے “دلوں” اور تمھارے اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔”

نبی اکرم ﷺ اپنی دعاؤں میں ارشاد فرماتے: “اے دلوں کے پلٹنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔ اے دلوں کو موڑنے والے، میرے دل کو اپنی اطاعت پر موڑ دے ۔

علامہ اقبال اسی بات کو یوں کہہ رہے ہیں کہ

دل ِبینا بھی کر خدا سے طلب

آنکھ کا نور دل کا نور نہیں

مرکزی خیال : اعمال القلوب از ڈاکٹر سعد تركي الخثلان۔ بیماریءدل۔۴۔ رمضان2014

One thought on “بیمارئ دل اور تدبیر

  1. دل کی بیماری یہ ہے کہ وه جس كام كے لئے پيدا كيا گيا هے٬ وه اس سے نہ ہونے لگے ۔ مثلا الله عز وجل كی معرفت حاصل كرنا٬ . . اس سے محبت كرنا٬ . . اس سے ملنے كا شوق ركھنا٬ . . اس كی جانب رجوع کرنا، . . اطاعت کے لئے اپنی تمام تر خواہشات كو قربان كردينا، . . رب کی محبت میں دنیا کو ہیچ سمجھنا، . . رب کی رضا کے لئے بندوں سے نرم روئی کا معاملہ کرنا، اگر کسی کا دل ، اِس درجے تک نہیں پہنچتا تو اس کا مطلب ہے کہ دل کا فنکشن ٹھیک نہیں اور ا س كا دل صحيح سالم وتندرست نہیں ہے اور اُس کو مرض لاحق ہے ، دل کا مرض . .. .
    دل کی کیفیت کو جاننا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔عمدہ تحریر ہے۔

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s