Home » Canterbury Tales » Monk gives an account of De Alexandro – 31

Monk gives an account of De Alexandro – 31

رمضان مبارک میں دلِ نادان پہ پانچ پوسٹوں کے بعد کہانیوں کا سلسلہ وہیں سے شروع ہے جہاں رُکا تھا . . . .

چودہویں صدی ہے، مسافروں کا ایک قافلہ کینٹربری کی جانب رواں دواں ہے۔ کہانی سنانے کی باری مونک کی ہے جو کہ مشہور شخصیات کے المیہ انجام پر مبنی احوال سنا رہا ہے ۔ مونک نے پانچویں صدی قبل مسیح میں حکومت کرنے والے بادشاہ کری سس کے بعد نواں حال، تیسری صدی قبل مسیح کے سکندرِ اعظم کا سنایا جو فاتحِ عالم بننے نکلا تھا ، آدھی دنیا فتح کی ، اور پھر خالی ہاتھ اِس دنیا سے چلا گیا۔ مونک کے الفاظ میں سکندر کا ماجرا پیش کرنے کے ساتھ ساتھ سکندر کی زندگی پر ایک طائرانہ نظر بھی ڈالی جائے ۔سکندر کے نقوشِ قدم سرزمینِ برِ صغیر پر بھی پڑے لہٰذا اسی بہانے یہ قصہ بھی سنتے چلیں۔

alexander-the-great

سکندرِ اعظم :

باپ کی موت کے وقت سکندر کی عمر بیس سال تھی۔ لیکن وہ اس لحاظ سے خوش قسمت تھا کہ کسی مشکل کے بغیر ہی اسے مقدونیہ کی حکمرانی مل گئی تھی۔ ورنہ اس زمانے کا قاعدہ تو یہی تھا کہ بادشاہ کا انتقال ہوتے ہی تخت کے حصول کے لیے لڑائیاں شروع ہو جاتیں اور اس لڑائی میں ہر وہ شخص حصہ لیتا جس کے پاس تخت تک پہنچنے کا ذرا سا بھی موقع ہوتا۔ سکندر ایک تو اپنے باپ کا اکلوتا بیٹا تھا، دوسرا اس وقت مقدونیہ کی حکمرانی کا کوئی اور خاص دعوے دار نہیں تھا۔ لیکن احتیاط کے طور پر سکندر نے ایسے تمام افراد کو قتل کرا دیا جو کسی بھی طرح اسے نقصان پہنچا سکتے تھے۔ یہاں تک کہ اپنی ماں کے اکسانے پر اس نے اپنی دودھ پیتی سوتیلی بہن کو بھی قتل کر دیا۔

modernmap

سکندر کی ایک اور خوش قسمتی یہ بھی تھی کہ اسے ارسطو جیسا استاد ملا تھا جو اپنے زمانے کا قابل اور ذہین ترین انسان سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے باپ “فلپس” نے اپنے بیٹے کی جسمانی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی اور اس کے لیے اسے شاہی محل سے دور ایک پر فضا مقام پر بھیج دیا تاکہ عیش و عشرت کی زندگی سے وہ سست نہ ہو جائے۔ یہاں سکندر نے جسمانی مشقیں بھی سیکھیں اور گھڑ سواری، نیزہ اور تلوار بازی میں مہارت بھی حاصل کی۔
ساتھ ہی ساتھ ارسطو اس کی ذہنی تربیت بھی کرتا رہا۔

Aristotle_tutoring_Alexander

مونک کہتا ہے :

ALEXANDER 356 BC-323 BC

The story of Alexander is so well known
That part if not the tale’s entirety
Has been heard once by everyone who’s grown
This whole wide world, to speak with brevity
He won by strength (or by celebrity
As for him towns in peace would gladly send)
The pride of man and beast wherever he
Would go he toppled, to this world’s far end

There’s no comparison that one can make
Above all other conquerors he’d tower
For all this world in dread of him would quake
Of knighthood, of nobility the flower
As Fortune made him heir to fame and power
Save wine and women, nothing might arrest
His zeal, in arms and labor, to devour
The courage of a lion filled his breast

The story of Alexander is so widespread that every creature who has discretion has heard somewhat or all of his fortune. In brief, he won by force this wide world; or else folk were glad, by reason of his high renown, to send to him for peace. He laid low the pride of man and beast wherever he came, even to the ends of the world

Never yet could comparison be made between him and another conqueror. This entire world quaked for fear of him; he was the flower of knighthood and generosity. Fortune made him the inheritor of her honors, and, except for wine and women, nothing could blunt his high purpose in arms and labors, he was so full of lion-like spirit

Alexander & Bucephalus by John Steell located in front of Edinburgh's City Chambers

Alexander & Bucephalus by John Steell located in front of Edinburgh’s City Chambers


Alex_trio

حکمرانی کے ابتدائی دنوں میں ، سکندر نے ، یونان کے دارُالخلافہ ایتھنز سمیت دیگر پڑوسی ممالک کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اپنی مہم پر نکلنے سے پہلے وہ نہ صرف اپنی فوج کو مضبوط کرنا چاہتا تھا بلکہ اس کو یہ فکر بھی تھی کہ کہیں اس کی غیر موجودگی میں کوئی مقدونیہ پر حملہ نہ کر دے۔

دو سال اس کام میں بیت گئے۔ اس دوران کچھ علاقوں کو تو اس نے تلوار کے زور پر فتح کر لیا اور کچھ مقابلہ کیے بغیر ہی اس کے ساتھ مل گئے۔ صرف بائیس سال کی عمر میں وہ دنیا فتح کرنے کے لیے نکلا۔یہ اس کے باپ کا خواب تھا اور وہ اس کے لیے تیار ی بھی مکمل کر چکا تھا لیکن اس کے دشمنوں نے اسے قتل کرا دیا۔ اب یہ ذمہ داری سکندر پر عائد ہوتی تھی کہ وہ اپنے باپ کے مشن کو کس طرح پورا کرتا ہے۔

شمال اور مغرب کی طرف سے کسی حد تک مطمئن ہوجانے کے بعد سکندر نے مشرق کی جانب نظر ڈالی تو اسے ایران کی وسیع و عریض سلطنت دکھائی دی۔ بحیرہ روم سے ہندوستان تک پھیلی اس سلطنت کا رقبہ لاکھوں میل تھا۔ اس میں دریا بھی تھے، پہاڑ بھی۔ صحرا بھی تھے اور جھیلیں بھی۔ غرض یہاں وہ سب کچھ موجود تھا جو کسی بھی علاقے کو خوش حال بنانے کے لیے ضروری ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ایرانی سلطنت پوری نہیں تو آدھی دنیا کی حیثیت ضرور رکھتی تھی۔ یہاں تقریباً ہر رنگ اور ہر نسل کے لوگ آباد تھے۔ ایرانی سلطنت پر حملے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ایرانی شہنشاہ دارا نے سکندر کے مخالفین کی خفیہ طریقے سے مدد بھی شروع کر دی۔

1024px-MacedonEmpire
Persian campaigns

• Granicus (334 BC)
• Miletus (334 BC)
• Halicarnassus (334 BC)
• Issus (333 BC)
• Tyre (332 BC)
• Gaza (332 BC)
• Gaugamela (331 BC)
• Uxian Defile (331 BC)
• Persian Gate (330 BC)
• Cyropolis (329 BC)
• Jaxartes (329 BC)
• Gabai (328 BC)
• Sogdian Rock (327 BC)

مشرق کی طرف چلتے ہوئے دریائے “گرانی کوس” پر سکندر کا سامنا ایک قدرے چھوٹے ایرانی لشکر سے ہوا ۔سکندر کی فوج کا پتا چلتے ہی ایرانیوں نے جو سب سے پہلا کام کیا وہ دریا کے ڈھلوان کنارے پر قبضہ کر نا تھا تاکہ دشمن فوج کی پیش قدمی کو روکا جا سکے۔ لیکن اس بات پر سکندر ذرا نہ گھبرایا۔ اسے معلوم تھا کہ اس کی فوج کا ایک ایک سپاہی دل و جان سے اس کے ساتھ ہے۔ اس نے انہیں حکم دیا کہ وہ دشمن کے تیروں کی پروا کیے بغیر دریا پار کر لیں۔ بس ایک مرتبہ دوسرے کنارے پہنچ گئے، پھر ان کا دشمن پر قابو پانا مشکل نہیں ہو گا۔ سکندر کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ایشیائی لوگ جہاں گھڑ سواری میں ماہر ہیں وہاں پیدل لڑائی میں خاصے کمزور ہیں۔ مزید یہ کہ اس کے سپاہیوں کے پاس ایرانیوں کے مقابلے میں بہتر اسلحہ ہے۔۔۔۔۔ وہ سر سے پاؤں تک زرہ میں ڈھکے ہوئے تھے اور ان کے نیزے ہلکے اور لمبے تھے۔

The Battle of the Granicus River in May 334 BC

The Battle of the Granicus River in May 334 BC

سکندر کی فوج کا “جتھا” درمیان میں تھا جب کہ دائیں اور بائیں طرف سوار تھے۔ دائیں طرف کے سواروں کی قیادت وہ خود کر رہا تھا۔ پہلے پہل تو وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھا لیکن دریا کے قریب پہنچ کر اس نے اپنی رفتار تیز کر دی۔ یہاں تک کہ کچھ ہی دیر میں اس کی فوج دریا پار کر کے دشمن کے عین مقابل کھڑی تھی۔

سکندر چمک دار زرہ پہنے اور سر پر مقدونوی کلغی سجائے ایک شان سے آگے بڑھا اور سیدھا اس جگہ پر پہنچ گیا جہاں ایرانی سپہ سالار جمع تھے۔ وہ اس قدر بہادری سے لڑا کہ آن کی آن میں ایرانی سپہ سالاروں کی لاشیں گرنے لگیں۔ سکندر کے بازوؤں کی قوت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لڑتے لڑتے اس کے نیزے کے کئی ٹکڑے ہو گئے۔ تب اس نے اپنے سائیس (گھوڑے کی نگرانی کے لیے رکھا گیا ملازم) کا نیزہ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور لڑتے لڑتے اسے بھی توڑ ڈالا۔ تب اس کے ایک سپہ سالار “دیماراتوس” نے اپنا نیزہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور اس نیزے کے ایک ہی وار سے اس نے دارا کے داماد “سپتھراواتیس” کا کام تمام کردیا۔ دارا نے تو بھاگتے ہوئے یہ بھی پروا نہ کی کہ اس کے خیمے میں اس کی ماں اور بیوی بچے موجود ہیں۔

اس جنگ میں بھی ایرانیوں کا بھاری نقصان ہوا جبکہ مقدونویوں کا نقصان نہایت کم تھا۔ سکندر نے دشمن کی ایک بہت بڑی تعداد کو قیدی بنا لیا۔ لیکن دارا کے بیوی بچوں کے ساتھ اس نے نہایت عمدہ سلوک کیا۔مؤرخین لکھتے ہیں کہ سکندر نے دارا کی بیٹی روکسانا سے شادی کرلی تھی، جسے سکندر کی مقدونی بیوی نے بعد ازاں قتل کروادیا تھا۔

Alexander_The_Greate_and_Roxane_by_Rotari_1756

Alexander_The_Greate_and_Roxane_by_Rotari_1756

-مصر کی فتح اور شہرِ اسکندریہ :

اب سکندر کا اگلا ہدف مصر تھا لیکن اس کے راستے میں چند ایک ایسے علاقے تھے جو اس سے مقابلہ کرنے پر تیار تھے۔ ان میں پہلا “صور” شہر تھا۔ صور کے محاصرے کے دوران میں سکندر کو دارا کا پیغام ملا جس میں اس نے لکھا تھا کہ وہ اس کے بیوی بچوں کو چھوڑ دے۔ اس کے بدلے اسے آدھی ایرانی سلطنت دے دی جائے گی۔ یہ پیغام سن کر سکندر کا خاص آدمی “پارمے نیو” کہنے لگا کہ اگر میں سکندر ہوتا تو یہ پیش کش قبول کر لیتا۔ اس پر سکندر بہت خفا ہوا۔ وہ کہنے لگا: اگر سکندر، “پارمے نیو” ہوتا تو وہ بھی ایسا ہی کرتا۔اس نے دارا کی یہ پیش کش مسترد کر دی اور پیغام بھجوایا کہ اس کے علاوہ کوئی اور پیش کش ہے تو دارا خود آ کر بات کرے۔

صور کے بعد “غزہ” شہر کی باری آئی۔ اس کی فتح کے بعد سکندر مصر میں داخل ہوا اور توقع کے بر خلاف یہاں کے حکمران نے بغیر کسی فوجی کارروائی کے سکندر کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ یہاں کچھ عرصہ قیام کے بعد وہ دریائے نیل کے راستے سمندر کی طرف بڑھا اور ایک مناسب جگہ پر پڑاؤ ڈالا اور ایک نئے شہر کی بنیاد رکھی۔ اس قدیم شہر کا نام اسکندریہ ہے اور یہ آج بھی مصر کے اہم ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

گوگا میلا کا معرکہ:

ق م331 میں سکندر نے پھر مشرق کی طرف پیش قدمی کی۔ اس نے سب سے پہلے عراق کا مشہور دریا فرات عبور کیا اور قدیم شہر نینوا کے قریب “گوگا میلا” کے مقام پر اس کا سامنا شہنشاہ ایران کی عظیم الشان فوج سے ہوا۔

لڑائی کا آغاز دارا ہی کی طرف سے ہوا اور اس نے سب سے پہلے اپنے رتھ روانہ کیے۔ اسے پورا یقین تھا کہ یہ دشمن کی فوج میں کھلبلی مچا دیں گے۔ لیکن جب اس نے دیکھا کہ مقدونوی سپاہی بڑی مہارت سے اپنا دفاع کر رہے ہیں تو اس نے پیادوں کو وار کرنے کا حکم دے دیا۔ یہی اس کی سب سے بڑی غلطی تھی اور اسی کی توقع سکندر کر رہا تھا۔ پیادوں کو اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب لڑائی آخر مراحل میں ہو اور دشمن پر آخری وار کرنا ہو۔ پھر کیا تھا، پیادوں کے حرکت میں آتے ہی ایرانی فوج کی ترتیب بالکل ہی ختم ہوگئی اور ان کی صفوں میں خلا آ گیا۔ یہ دیکھتے ہی سکندر نے اپنے نیزہ برداروں اور مقدونوی جتھوں کو حملے کا حکم دیا۔ اس حملے کی خاص بات یہ تھی کہ اس کی قیادت خود سکندر کر رہا تھا۔ سکندر نے جب دیکھا کہ اس کے سپاہیوں نے میدان مار لیا ہے تو وہ دارا کے تعاقب میں نکلا تاکہ بار بار کے معرکوں کے بجائے ایک ہی دفعہ اس کا کام تمام کر دے۔ لیکن وہ اس کے ہاتھ نہ آیا۔

Battle_gaugamela

Battle_gaugamela

دارا کی ہلاکت:

کہا جاتا ہے کہ بعد میں بعض ایرانی جرنیلوں نے خود ہی مل کر دارا کو قتل کر دیا تھا۔ یہ واقعہ موجودہ ایران کے دارالحکومت تہران کے پاس پیش آیا۔ سکندر جب اس جگہ پہنچا تو اسے دارا کی لاش ہی ملی۔ تب اس نے اسے واپس ایرانی دار الحکومت ” مصطـخر” روانہ کر دیا اور حکم دیا کہ اسے تمام شاہی اعزازات کے ساتھ دفنایا جائے۔ مونک سکندر اور دارا کا موازنہ کرتے ہوئے کہتا ہے:

Would it add to his glory if I told
Of Darius and a hundred thousand more–
The kings, the princes, dukes and earls bold
Whom he fought and brought under heel in war?
As far as man had ever gone before
The world was his. What more need I recall?
Were I to write or tell you evermore
Of his knighthood, I couldn’t tell it all

What praise would it be to him if I told of Darius and a hundred thousand more, kings, princes, earls, bold dukes whom he conquered and brought to woe? I say the world was his so far as one can walk or ride; what more can I say? For even if I wrote or talked evermore about his knighthood, it would not suffice

ان پے در پے کامیابیوں کے بعد حالات میں بہت سی تبدیلیاں آچکی تھیں۔ سکندر کی فوج اب وہ نہیں رہی تھی جو مقدونیہ سے روانگی کے وقت تھی۔ اس کی قوت میں بے پناہ اضافہ ہو چکا تھا۔ اس نے ایرانی سلطنت کے ایک بہت بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں کے لوگوں نے بھی اس کی اطاعت قبول کر لی تھی۔ وہ یونانی سپاہی جو اجرت پر ایرانی فوج کے لیے لڑ رہے تھے، اب سکندر کے ساتھ شامل ہو گئے تھے اور سکندر نے ان کے لیے وہی معاوضہ مقرر کیا تھا جو انہیں شہنشاہ ایران کی طرف سے ملتا تھا۔

ان سب باتوں کے علاوہ خود سکندر کی طبیعت میں بھی بہت تبدیلیاں آگئی تھیں۔ اس کے احساس خود داری میں اس حد تک اضافہ ہو گیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو یونانی “دیوتا زیوس” کی اولاد سمجھنے لگا اور اپنے خلاف کوئی بات نہیں سن سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس کے قریبی دوست “لکی توس” نے اس کو دیوتا ماننے سے انکار کر دیا تو غصے کے عالم میں سکندر نے اپنا نیزہ اس کے پیٹ میں گھونپ کر اسے مار ڈالا۔

ایران کی فتح کے بعد بہت سے لوگوں نے سکندر کو مشورہ دیا کہ اس نے بہت سی فتوحات حاصل کر لیں، اب وہ واپسی کی راہ لے لیکن اس پر تو دنیا کی فتح کا بھوت سوار تھا۔ اس نے کہا کہ وہ اس وقت تک واپس نہیں جائے گا جب تک ہندوستان کو فتح نہیں کرلیتا۔

ہندوستان میں آمد :

یہ 327 ق م کی بات ہے۔ جب اس نے ہندوستان کی طرف پیش قدمی شروع کی۔ اس وقت اس کی فوج میں ایک لاکھ بیس ہزار پیادے اور پندرہ ہزار سوار شامل تھے۔ کابل پہنچ کر اس نے اپنے لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک حصے کو براہ راست دریائے سندھ کی طرف روانہ کیا گیا اور دوسرا حصہ خود سکندر کی قیادت میں شمال کی طرف سے آگے بڑھا۔ یہاں اس نے ایک ایسا قلعہ فتح کیا جس کے بارے میں مشہور تھا کہ روم کا بادشاہ ہرقل بھی اسے فتح نہیں کر پایا تھا۔

کوہ مور کے قریب نیسا کے مقام پر دونوں فوجیں آپس میں مل گئیں اور انہوں نے اٹک کے مقام پر دریائے سندھ کو عبور کیا۔

راجہ پورس سے ملاقات:

آگے چل کر دریائے جہلم کے قریب اس کا سامنا ہندوستانی راجہ پورس سے ہوا۔

سکندر کو معلوم تھا کہ وہ پورس کا مقابلہ اس طرح سے نہیں کر سکتا جس طرح اس نے دارا کا مقابلہ کیا تھا۔ یعنی وہ سامنے سے حملہ نہیں کر سکتا تھا۔ راجہ پورس کی بہادری کے قصے اس نے سن رکھے تھے۔ تب اس نے ایک جنگی چال چلی۔ اس نے ایک جرنیل کی قیادت میں اپنی فوج کا کچھ حصہ پورس کے سامنے کر دیا اور باقی فوج لے کر ایک اور مقام کی طرف چل پڑا۔ اس سے پورس یہی خیال کرتا کہ مقدونوی فوج کے وہی مٹھی بھر سپاہی ہیں جو اس کے سامنے ہیں لیکن اس کی بے خبری کا فائدہ اٹھا کر سکندر ایک طرف سے حملہ کر دیتا۔

لڑائی شروع ہو گئی۔ پورس کو سکندر کی موجودگی کا اس وقت تک علم نہ ہوا جب تک وہ دریا پار نہیں کر چکا تھا۔ تب اس نے فوراً اپنے بیٹے کی کمان میں ایک دستہ سکندر کی طرف روانہ کیا۔ لیکن سکندر تو بڑے بڑے سپہ سالاروں اور جرنیلوں سے دو دو ہاتھ کر چکا تھا، یہ نوجوان اس کا کیا بگاڑ سکتا تھا۔ اس لڑائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ پورس کا بیٹا مارا گیا اور اب سکندر کے سامنے میدان بالکل صاف ہو گیا۔ اس نے اسی وقت پورس کی فوج پر ہلہ بول دیا۔

 Le_Brun,_Alexander_and_Porus


Le_Brun,_Alexander_and_Porus

ایرانیوں کے برعکس پورس بہت بہادری سے لڑا۔ اس کے لشکر میں 180 ہاتھی بھی شامل تھے۔ انہی سے مقدونوی فوج کو زیادہ خطرہ تھا۔ کیوں کہ ہاتھیوں کو دیکھ کر گھوڑے ہیبت زدہ ہو جاتے ہیں اور اپنے مالک کا بھی کہا نہیں مانتے۔ اس مصیبت کا علاج سکندرنے یوں کیا کہ جوں ہی ہاتھی حملہ آور ہوئے اس نے اپنے سواروں کو دو قطاروں میں بانٹ دیا۔۔۔۔۔ایک ہاتھیوں کے بائیں اور دوسری دائیں طرف۔ یہ سوار ہاتھیوں کو دھکیلتے ہوئے ایک تنگ سی گھاٹی میں لے آ ئے۔ یہاں آ کر ہاتھی بدک گئے اور خود اپنی فوج کے لیے مصیبت بن گئے۔

اس معرکے میں پورس کے بیس ہزار آدمی اور سو ہاتھی مارے گئے لیکن اس سب کے باوجود پورس نے ہمت نہ ہاری اور مسلسل لڑتا رہا۔ اس نے اس وقت تک ہار نہ مانی جب تک اس کا جسم زخموں سے چور ہو کر بالکل نڈھال نہیں ہو گیا۔

سکندر اعظم اور پورس کا سامنا

سکندر اعظم اور پورس کا سامنا

پورس کو گرفتار کرکے اسی روز سکندر کے سامنے پیش کیا گیا۔ سکندر کی یہ عادت تھی کہ دشمن کا جو بھی آدمی گرفتار ہو کر آتا اسے اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا موقع ضرور دیتا تھا۔ اس نے پورس سے پوچھا:

بتاؤ، تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟

پورس نے جواب دیا: “وہی جو ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کے ساتھ کرتا ہے۔

سکندر میدان جنگ میں پورس کی بہادری سے تو پہلے ہی متاثر تھا، اب اس کی گفتگو نے بھی اسے کم متاثر نہیں کیا۔ اور بہادروں کو موت کے گھاٹ اتار دینا اسے بالکل پسند نہیں تھا۔ اس نے پورس کو معاف کر دیا اور اس کا تمام علاقہ بھی واپس کر دیا۔ اس کے جواب میں راجہ بھی اس کا دوست بن گیا۔

سکندر کو ہندوستان کے اندر تک جانے اور اس کے عجائبات دیکھنے کا بے حد شوق تھا۔ اس کا یہی شوق اور تجسس تھا جس نے اسے یہاں آنے پر مجبور کیا تھا۔ ورنہ ایرانی سلطنت پر قبضہ کیا کم تھا کہ وہ اور کی لالچ کرتا۔ تاہم جب اس نے جہلم سے آگے چلنے کا ارادہ کیا تو اس موقع پر اس کی فوج نے اس کا ساتھ نہ دیا۔ سچ بات تو یہ ہے کہ پچھلے کئی برسوں کی مسلسل مشقت نے انہیں سخت تھکا دیا تھا اور اب ان میں مزید مہمات سر کرنے کی بالکل ہمت نہیں رہی تھی۔ تب سکندر نے انتہائی سمجھ بوجھ کا ثبوت دیتے ہوئے وہی کیا جو اس کے سپاہی چاہتے تھے۔ ہندوستان کو فتح کرنے کی اپنی تمام تر خواہش کے باوجود وہ ان کی بات مان گیا اور یہیں سے اس نے واپسی کا فیصلہ کیا۔

لیکن اس عظیم سپہ سالار کی قسمت میں کچھ اور ہی لکھا تھا۔ وہ چاہتا تو یہی تھا کہ اپنے سر پر آدھی دنیا کی فتح کا تاج سجائے اپنے آبائی شہر مقدونیہ میں داخل ہو لیکن ابھی وہ “بابل” ہی میں تھا کہ ایسا بیمار ہوا کہ دوبارہ صحت یاب نہ ہو سکا اور وہیں اس نے موت کو گلے لگا لیا۔

Alexander_and_Philip_his_Physician

Alexander_and_Philip_his_Physician


انیسویں صدی میں بنائی گئی سکندر کے جنازے کی ایک تصویر

انیسویں صدی میں بنائی گئی سکندر کے جنازے کی ایک تصویر

یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ سکندر کو اُس کے اپنے بااعتماد ساتھیوں نے زہر دیا تھا۔

سکندر نے 33 سال عمر پائی ۔ لگ بھگ آدھی دنیا تو اس نے اس جوانی ہی میں فتح کر لی۔ کہتے ہیں اگر وہ تھوڑی دیر اور زندہ رہ لیتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ پوری دنیا کا فاتح نہ بن جاتا۔ مونک کہتا ہے کہ . . . آہ قیمتی سکندر ، کس طرح تیری موت کا افسوس ممکن ہو۔ لیکن تقدیر کے فیصلے ایسے ہی ہوتے ہیں۔ مونک نے اِن الفاظ میں سکندر کی موت کا نوحہ کہا:

Twelve years, says Maccabees, he reigned, this son
Of Phillip of the Macedonian race
As king of Greece, its first and greatest one
O worthy Alexander, of noble grace
Alas, such sad events as in your case
By your own men poisoned, the six you threw
Has Fortune turned instead into an ace
And yet she hasn’t shed one tear for you

Who’ll give me tears sufficient to complain
Of nobleness’s death, of the demise
Of one who held the world as his domain
Yet thought it still not large enough in size
His heart always so full of enterprise?
Alas! who now shall help me as I name
False Fortune and that poison I despise
As two things that for all this woe I blame

Alexander1256--Istanbul Archaeology Museum

Statue of Alexander 1256–Istanbul Archaeology Museum

He reigned twelve years, says Maccabees, and was son of Philip of Macedon, who was the first king in the land of Greece. O worthy noble Alexander, alas that ever such a thing should happen! You were poisoned by your own people. Fortune played dice with you and turned your six into an ace, and yet never wept a tear! Who shall give me tears to lament the death of high blood and of nobility, of him who wielded the world and yet thought it not enough, so full was his spirit of high adventure? Alas, who shall help me to indict false Fortune and despise that poison, both of which I blame for all his woe

کچھ عرصہ قبل ہی مقدونیہ میں سکندر کا دھاتی مجسمہ نصب کیا گیا ہے ۔ اس بات پر مقدونی عوام نے بہت خوشی کا اظہار کیا۔

Alexander-the-Great-Statue-Macedonia

Alexander-the-Great-Statue-Macedonia


Alexander-the-Great----

فلم اور گیمز بنانے والوں نے بھی سکندر کے موضوع میں دلچسپی دکھائی اور اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔

Alexander will challenge gamers to follow in the footsteps of ancient civilization's greatest general - Alexander the Great - a Macedonian who conquered most of the world known to the Ancient Greeks
AlexanderPoster

Ending with an excerpt, found once on the net. The Three Final Wishes of Alexander the Great۔ Alexander was a great Greek king. As a military commander, he was undefeated and the most successful throughout history. On his way home from conquering many countries, he came down with an illness. At that moment, his captured territories, powerful army, sharp swords, and wealth all had no meaning to him. He realized that death would soon arrive and he would be unable to return to his homeland. He told his officers: “I will soon leave this world. I have three final wishes. You need to carry out what I tell you.” His generals, in tears, agreed

“My first wish is to have my physician bring my coffin home alone. After a gasping for air, Alexander continued: “My second wish is scatter the gold, silver, and gems from my treasure-house along the path to the tomb when you ship my coffin to the grave.” After wrapping in a woolen blanket and resting for a while, he said: “My final wish it to put my hands outside the coffin.” People surrounding him all were very curious, but no one dare to ask the reason. Alexander’s most favored general kissed his hand and asked: “My Majesty, We will follow your instruction. But can you tell us why you want us to do it this way?” After taking a deep breath, Alexander said: “I want everyone to understand the three lessons I have learned. To let my physician carry my coffin alone is to let people realize that a physician cannot really cure people’s illness. Especially when they face death, the physicians are powerless. I hope people will learn to treasure their lives. My second wish is to tell people not to be like me in pursuing wealth. I spent my whole life pursuing wealth, but I was wasting my time most of the time. My third wish to let people understand that I came to this world in empty hands and I will leave this world also in empty hands.” he closed his eyes after finished talking and stopped breathing

statue

3 thoughts on “Monk gives an account of De Alexandro – 31

  1. Pingback: The End of Monk’s Tale – 40 | SarwatAJ- ثروت ع ج

  2. دنیا کی قدیم زبانیں اور اُردو زبان سے اُن کا رابطہ (تعلق)
    تحقیق و تحریر : پروفیسر ڈاکٹر مجیب ظفر انوار حمیدی
    گذشتہ دنوں اپنے ڈی لِٹ ، ڈبل پی ایچ ڈی مقالے کا زبانی امتحان دے رہا تھا ، مصر ، انگلینڈ ، ہندستان اور امریکا کے اُردو ماہرین بھی شریک محفل تھے ۔ مجھے خیال آیا کہ (انتہائی معذرت کے ساتھ ) کہ یہ بڑے بڑے (نام ور )ماہرین اُردو بھی اُردو زبان کی تاریخ سے کما حقہ واقف نھیں ، انہیں یہ تک نھیں معلوم کہ اُردو کا تعلق کس کس مُردہ زبان سے ہوتا ہوا بڑھا ۔ پھر کمپیوٹر سنبھال کر بیٹھا تو ایک مضمون ہوگیا جس کا ایک اقتباس آپ شائقین کے ذوقِ مطالعہ کی نظر ہے ۔
    زبانوں کا یہ سفر میرے خیال میں حضرت نوح ؑ کے بیٹوں کے زمانوں سے شروع ہوا ہوگا ، حضرت نوح کے ایک بیٹے کا نام ’’سام ‘‘ تھا ،جن کے نام پر اُن کی زبان ’’سامی ‘‘ کہلائی ۔ سام کے بیٹے یعنی حضرت نوحؑ کے پوتے ’’آرام ‘‘ ، ’’ایلام یا عیلام ‘‘ اور ’’آشور یا عاشور ‘‘ تھے ۔ظاہر ہے ان سب کے ناموں سے بھی زبانیں بنیں ۔ ’’آرام‘‘ کی نسل عرب سے کریما (روس) کے علاقوں تک پھیلی تھی اسی لئے ان کی زبان ’’ آرامی ‘‘ کہلائی ۔ یہ چار سے پانچ ہزار سال قبل مسیح کی بات ہے ( دیکھئے ہمارا مقالہ : اُردو زبان میں بچوں کا ادب ، نئے تناظرات ) ۔ البتہ ’’ آشور یا عاشور ‘‘ کی اولاد ’’سوریا (شام ) ‘‘ میں آباد تھی ، اسی بنا پر اُن لوگوں کی زبان ’’ سریانی‘‘ کہلائی ۔ ’’سریانی ‘‘ زبان ہی میں الہامی کتاب ’’تورات ‘‘ کا نزول ہوا ۔ جبکہ ’’ عابر ‘‘ کے نام پر زبان ’’ عبرانی ‘‘ کہلائی ، جس میں غالباً قرآن پاک پڑھا بھی گیا ( یہ بات حتمی نھیں کہی جا سکتی ) ۔ اسی طرح قدیم مصر میں ’’ سمری یا صمری ‘‘ اور ’’ لمکاری ‘‘ زبانیں بھی بولی گئیں ، وہ زمانہ قریباً دو ہزار سال قبل مسیح کا تھا اور اسی دور میں زبانوں کے علم نے ایک دوسرے کو متاثر بھی کرنا شروع کیا ہوگا اور تاریخی تغیرات کے باوجود ان زبانوں نے ایک دوسرے کو متاثر بھی لازماً کیا ہوگا اور ایک دوسرے پر اثر انداز بھی ضرور ہوئی ہوں گی ۔
    گذشتہ برسوں میں اسرائیل نے اپنی مُردہ زبان ’’ عبرانی ‘‘ کو زندہ کیا اور تعلیم و تدریس کی زبان بنایا ، کچھ تحریریں بھی ’’عبرانی ‘‘ زبان میں شایع کی گئیں ، جن میں سے کچھ انٹر نیٹ پر دستیاب ہیں۔
    ہم یہ پڑھ کر حیران رہ گئے کہ ’’عبرانی ‘‘ زبان کے کچھ مروجہ الفاظ من و عن ’’ روسی یا اُزبک ‘‘ اور پھر اُردو زبان میں موجود ہیں ، مثلاً :
    سموسہ ۔ دوشیزہ ۔ گیٹ ۔ دستک ۔ دوستی ۔ کسک ۔ راسی ( رسّی ) ۔ خیمہ ( قیمہ ) ۔ وغیرہ وغیرہ ،
    یہاں یہ انتہائی دل چسپ اور تاریخی حقیقت ہے کہ نوحؑ کے بیٹوں سام ، حام اور یافث کی نسلوں ہی سے آرین اور دیگر یورپی اقوام کا تعلق ہے ۔ ’’حام ‘‘ کی نسل ’’سیاہ فام افریقیوں ‘‘ پر مشتمل قرار پائی ، یعنی ’’حبشی ‘‘ اور ’’قدیم ہندو ( دراوڑی قوم ) ، جبکہ ’’ یافث ‘‘ نامی بیٹے سے ’’چنگیز خان ‘‘ یا ’’تاتاری ‘‘ یا ’’منگول ‘‘ قوم وجود میں آئی (واضح رہے کہ یہی منگول غیر منقسم ہندُستان میں ’’ مغل یا مرزا بیگ کہلائے اور دہلی یا شمالی ہند کے علاقوں میں اُردو زبان کا استعمال کیا ، چاہے اُس وقت کی اُردو سنسکرت ، پراکرت ، بھاشا یا اردوئے معلیٰ کہلائی گئی ہوگی )
    تاریخ ِ عالم گواہ ہے کہ دنیا میں تین بڑی قومیں زندہ رہیں ۔
    *سفید فام
    *سیاہ فام
    *زرد فام
    ہمیں یہ کہنے میں کوئی تردد نھیں کہ سفید فام ( سامی ) ، سیاہ فام ( حامی ) اور زرد فام ( یافثی ) نسلیں تھیں ۔ (دیکھئے انسائکلو پیڈیا چائنا ، زبانوں کا عروض ، صفحہ ۹۸۷ تا ۹۹۰ )
    یقیناً اُردو نے بھی ان ہی زبانوں کے ملاپ و تغیرات سے جنم لیا ہوگا – کیونکہ اب مُردہ تہذیبوں اور اُن بڑی بڑی مُردہ زبانوں کا سُراغ لگانا نا ممکنات میں سے ہے اس لئے محققین قاصر ہیں ۔
    اس سلسلے میں ڈاکٹر سلیم اختر صاحب نے اپنی تصنیف ’’اُردو زبان کیا ہے ؟‘‘ میں قدیم عراق کی تہذیب کا حوالہ پیش فرمایا ہے ، ڈاکٹرصاحب رقم طراز ہیں :
    ’’ اُردو کی ترویج کے ضمن میں قدیم تہذیبوں کے
    حوالے سے قدیم عراق کی تہذیب کی مثال دی
    جاسکتی ہے جہاں ’’ خطِ مسیخی ‘‘ میں لکھی
    ہوئی ’جلجامش ‘ زبان دنیا کی قدیم ترین زبانوں
    میں ممتاز مقام کی حامل ہے ۔ یہ صرف ایک ہی
    مثال ہے ۔ اگر قدیم تہذیبوں اور زبانوں کی شاعری
    اور نثر کے نمونے آج دستیاب ہوسکتے تو تو ان
    کے مطالعے سے اُن کی تہذیب و تمدن کے
    ساتھ ساتھ اُن کی زبان اور اُن کے ذخیرۂ الفاظ
    کے بارے میں بھی کار آمد معلو ما ت حاصل
    ہوسکتی تھیں ۔ ‘‘
    (تحقیق و تحریر : پروفیسر ڈاکٹر مجیب ظفر انوار حمیدی ، پروفیسر اُردو ، گورنمنٹ ڈگری کالج ، کریم آباد ، کراچی )

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s