Home » Canterbury Tales » The Monk mourned the Cenobia – 32

The Monk mourned the Cenobia – 32

چودہویں صدی کا مشہور شاعر جیفری چاوسر اپنی کینٹر بری ٹیلز سنا رہا ہے ، اُنتیس مسافروں کا قافلہ کینٹربری کے بڑے کلیسا کی جانب رواں دواں ہے ۔ مسافروں نے طے کیا کہ وہ سفر کی طوالت اور دقّت سے نمٹنے کے لئے ایک دوسرے کو اپنی اپنی باری پہ کہانیاں سنائیں گے ۔ مسافروں نے رنگارنگ کہانیاں سنانی شروع کی۔ جب مونک کی باری آئی تو اُس نے ایک مکمل کہانی کی جگہ، مشہور شخصیات کے زوال پر ایک جامع اور مختصر احوال نامہ سنایا جن میں ایک دو کے علاوہ باقی سب تاریخ کے اصل کردار ہیں۔

چھٹی صدی قبل مسیح میں بابُل کے بادشاہ نبو گُڈ نصر کے دیوانہ ہونے کا سنایا اور تیسری صدی قبل مسیح کے سکندرِ اعظم کے خالی ہاتھ دنیا سے چلے جانے پہ اظہارِ غم کرنے کے بعد مونک نے شام کا رُخ کیا اور ملک شام کی ایک ملکہ کا حال سنایا جو اپنے عہد میں طمطراق سے راج کرتی تھی ۔ زینوبیا نام کا اصل ماخذ زینب بھی ہوسکتا ہے۔

-زینوبیا:

Queen Zenobia from Rome's Enemies  The Desert Frontier

یہ تیسری صدی کی ایک ملکہ تھی جو رومن تخت کے زیرِ انتظام شام میں ایک بہت بڑی مملکت “پالمائرا” کی فرمانروا تھی ۔ پھر اپنی سلطنت وسیع کرنے کے لئے زینوبیا نے تختِ روم کے خلاف ایک بغاوت کی قیادت کی اور اقتدار کے لالچ میں رومن ایمپائر سے ٹکر لے بیٹھی اور شکست سے دوچار ہوئی۔ مونک سناتا ہے کہ . . . . .

ZENOBIA ,275BC-240BC

Zenobia, once of Palmyra queen
As Persians wrote of her nobility
So worthy was in armaments, so keen
For hardiness she had no rivalry
For lineage, for all gentility
From royal Persian blood she was descended
I won’t say none was lovelier than she
Yet her looks had no need to be amended

زینوبیا جس کا پورا نام جولیا آگسٹا زینوبیا تھا . . .اوڈیناتھس کی ملکہ تھی جو رومن تخت کی ماتحت ایک ریاست ‘پالمائرا’ کا بادشاہ تھا ۔ پالمائرا کی ریاست اُس جگہ تھی جہاں آج کا موجودہ شام واقع ہے۔ ملکہ زینوبیا بےمثل بہادر اور دلیر تھی۔ جنگلی جانوروں کا شکار کرتی، تلوار بازی اور نیزہ بازی کے فن میں طاق تھی۔ بہت سی زبانوں پہ عبور تھا۔سمجھ دار اور زیرک عورت تھی۔

8116790_f260

 The theater at Palmyra, built in the 1st or 2nd century CE, was one of the most magnificent in the Middle East.


The theater at Palmyra, built in the 1st or 2nd century CE, was one of the most magnificent in the Middle East.

She was so worthy of one’s admiration
So wise, so giving with due moderation
In war untiring, and so courteous too
None had in war a greater dedication
To work, though men may search this whole world through

Her wealth of goods was more than can be told
In vessels as well as in what she wore
(For she would dress in precious stones and gold)
And when not on the hunt, she’d not ignore

Her study of foreign tongues; she’d master more
When she had leisure time, for her intent
Was to be educated in all lore
So that her life in virtue might be spent

wg_ch_zenobia
122-monks-take

-267عیسوی میں جب بادشاہ اوڈیناتھس قتل ہوگیا تو زینوبیا نے کمسِن ولی عہد بیٹے کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے سر پہ تاج رکھ کر تخت سنبھال لیا ۔ کچھ عرصہ بعد ہی ایک چھوٹی سی ریاست کی فرمانروائی اُسے نہ بھائی تو اُس نے مصر پر حملہ کردیا۔ اِس کے علاوہ دیگر رومن ریاستوں پر قبضے کی غرض سے چڑھائی کردی۔ایک بڑا علاقہ زیرِ نگین کرکے اپنی خود مختاری کا اعلان کردیا اور اپنی تصویر والے سکّے جاری کئے۔

800px-Map_of_Ancient_Rome_271_AD.svg
EB972E26D22D099CADDE650AEF49C_h450_w598_m2_q90_cGNDSGwZS

 Denarius  Zenobia


Denarius Zenobia

-274عیسوی میں روم کے بادشاہ آریلیس نے اِس بغاوت کا انتقام لیا اور ملکہ کو قیدی بنا کر روم لے گیا۔ جہاں ملکہ کی پراسرار موت ہوئی جس کے بارے میں تاریخ کے صفحات خاموش ہیں کہ آیا وہ قتل ہوئی یا اُس نے خود کُشی کرلی۔ کئی خوش گمان مؤرخین کا یہ بھی کہنا ہے کہ آریلیئس نے زینوبیا کو جلاوطن کردیا تھا جس کے بعد ملکہ زینوبیا نے باقی ماندہ زندگی روم میں گزاری۔

ملکہ زینوبیا کی پالمائرا پر آخری نظر  Zenobia by Herbert Schmalz

ملکہ زینوبیا کی پالمائرا پر آخری نظر
Zenobia by Herbert Schmalz

Aurelianus, when administration
Of Rome fell to his hands, without delay
Made plans against her for retaliation;
With all his legions he marched on his way
Against Zenobia. Let’s briefly say
He made her flee and finally captured her;
He fettered her, with her two sons, that day
And won the land, and went home conqueror

thumb.php

مونک کہہ رہا ہے کہ کس قدر شان و شوکت والی عورت تھی ، زمانے میں عروج پایا ، سمجھدار اور باہمت تھی لیکن اقتدار کے نشے نے زینوبیا کو شکست سے ہمکنار کیا۔ اُس کی شان و شوکت جاتی رہی اور وہ زنجیروں میں قید ہو کر نشانِ عبرت بنی۔

palm002

کلاسیکی اور عرب ذرائع کے مطابق زینوبیا سانولے رنگ کی لیکن بے انتہا خوبصورت اور ذہین تھی۔ سیاہ آنکھیں، چمکتے دانت اور زیرک . . . کئی جگہ اِس کا موازنہ قلوپطرہ سے بھی کیا جاتا ہے۔ شام کے کرنسی نوٹوں اور ڈاک ٹکٹوں پہ بھی ملکہ زینوبیا کی تصویر پائی جاتی ہے۔

Zenobia on the 500 Syrian Pounds note

Zenobia on the 500 Syrian Pounds note

stock-photo-syrian-arab-republic-circa-a-stamp-printed-in-syria-features-portrait-of-zenobia-cleopatra-76128058

Zenobia, of all Palmyra queen
As write old Persians of her nobleness
So mighty was in warfare, and so keen
That no man her surpassed in hardiness

ملکہ زینوبیا پر کئی فلمیں بن چکی ہیں جن میں ملکہ کی بے مثل فراست اور جرات کو دِکھایا گیا ہے۔ فلم سازوں نے حسبِ توفیق چٹخارے اور ذائقے کا تناسب برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔

Ekberg_Zenobia-3
Ekberg_Zenobia-10

 Zenobia-the-musical


Zenobia-the-musical

اٹلی ، روم اور فرانس میں اوپرا بہت مقبول رہا۔ اوپرا /اوپیرا . . .ایسا تھیٹر ہے جس میں موسیقی کا عنصر غالب ہوتا ہے۔ سلیم انارکلی کی طرح ، ملکہ زینوبیا کا موضوع بھی سٹیج ڈراموں اور اوپیرا بنانے والے کے لئے پُرکشش ثابت ہوا اور مختلف ادوار میں زینوبیا پر کئی اوپیرا پیش کئے گئے۔

079571_2008_10_09_10_23_35
W1siZiIsImltYWdlcy96ZW5vYmlhX2ktV0dPLTA4MzAyMDEzLmpwZyJdLFsicCIsImNvbnZlcnQiLCItcmVzaXplIDMxMHggLXN0cmlwICtyZXBhZ2UiXV0
Zenobia----

تاریخی موضوعات پہ فِکشن لکھنے والوں نے بھی ملکہ زینوبیا پہ خوب لکھا ۔ انگریزی اور عربی دونوں زبانوں میں بہت سی تصانیف زنوبیا کے نام ہوئیں۔

742cb3e2fa61ac3dbe80faecfdacbd96
19247639
24855495
1843862190.02.LZZZZZZZ
020811150236ffg0tas3ertojmyust
17156
1820122701443
Beirut1969_html_13e20df1
Cronin_Zenobia
FreeMasonCover_html_32a8480
item_XL_6517365_3984915
-----_57
Overlord Cover MEDIUM
SmithRomanP
Winsbury_cover
zenobia
zenobiacover
Zenobia_Zabdi
Zenobia-Arab-Queen

مصوروں اور مجسمہ سازوں نے ملکہ زینوبیا کو اپنے فن کے ذریعے پیش کیا

ملکہ زینوبیا ۔ ۔ زنجیروں میں پابند

ملکہ زینوبیا ۔ ۔ زنجیروں میں پابند

3698_6fab_482
d18e6a3b968cfc54987ea936c37d16b1
enemy of rome zenobia

 Giovanni_Battista


Giovanni_Battista

Valkyrie Maiden MMX

جیسے کہ تاریخ سے متعلقہ خواتین ، جانکی دیوی، گلاب دیوی اور انارکلی، نورجہاں کے ناموں سے منسوب کئی بازار، عمارات اور ہسپتال ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں اسی طرح . . . ملکہ زنوبیا کے نام سے مٹھائی کی دکانیں نظر آتی ہیں۔ سکول بھی ہیں اور کئی ایک فیشن ڈیزائنرز نے بھی زنوبیا کے نام کا استعمال کیا۔

1497140_10202037375230768_1767521381_n
13392448635
70
logo_47b9b8499965a5.38801665

شام/ سیریا میں لاذقیہ کے ساحل پر ملکہ زینوبیا کا مجسمہ نصب ہے۔

 Statue of Queen Zenobia in Latakia, Syria


Statue of Queen Zenobia in Latakia, Syria

5 thoughts on “The Monk mourned the Cenobia – 32

  1. Pingback: The End of Monk’s Tale – 40 | SarwatAJ- ثروت ع ج

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s