The monk regrets De Hugelino comite de Pize -36

کینٹربری کہانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ موسمِ بہار کی آمد کے ساتھ ہی، لندن کے مضافات سے اُنتیس مسافروں کا ایک قافلہ ، کینٹربری کے بڑے کلیسا کی جانب عازمِ سفر ہے۔ چودہویں صدی میں سفر کچھ ایسے آسان نہ تھے، چنانچہ سفر کی صعوبتوں سے توجہ ہٹانے اور جی کو بہلانے کے لئے زائرین نے دورانِ سفر،آپس میں کہانیاں سنانے کا مقابلہ طے کیا۔ سولہ مسافروں کے بعد جب مونک کی باری آئی تو مونک نے ایک مکمل کہانی نہیں سنائی بلکہ بہت سی مشہور شخصیات کی شاندار زندگی اور بالآخر عبرت انجام پر مبنی حالات سنائے۔ ان شخصیات میں سے چند ایک دیومالائی کردار تھے اور کچھ قبل مسیح کے تاریخی مشاہیر، اور اب وہ بارہویں صدی کے ایک کردار کا ذکر کررہا ہے جو کہ بدترین انجام سے دوچار ہوا۔

مونک کی المیہ روداد آگے بڑھتی ہے اور مونک اب گیارہویں شخص کے حالِ زندگی اور بدترین موت کا ماجرا سناتا ہے۔

– اوگولینو/ہوگولینو آف پِیسا:

Conte-Ugolino-Pisa-Dante-Stampa-antica-1700

(1220 – 1289)

اطالوی ٹھاکر یا نواب، منصب دار ، سیاستدان اور نیوی کمانڈر تھا۔ متعدد بار غداری کا مرتکب ٹھہرا، الزامات عائد ہوئے ، مقدمات چلائے گئے ، جیل ہوئی ، اور سزائے موت پائی ۔ اطالوی شاعر دانتے نے ڈیوائن کامیڈی میں اِس کردار کے بارے میں خاصی تفصیل سے لکھا ہے اور اس کے عبرت ناک انجام کا نقشہ کھینچا ہے۔ جن مصوروں نے ڈیوائن کامیڈی کو کینوس پہ رنگوں کی مدد سے پیش کیاِ، انہوں نے ہوگولینو کو بھی اپنے تخیّل کے زور پر دِکھایا۔ مجسمہ سازوں نے اپنے تئیں ہوگولینو کے انجام سے انصاف کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے ۔

tumblr_mcs4apVVeI1rufr77o8_500
tumblr_lppulmmjBY1qggdq1

Of Ugolino, Count of Pisa’s woe
No tongue can tell the half for hot pity
Near Pisa stands a tower, and it was so
That to be there imprisoned doomed was he
While with him were his little children three
The eldest child was scarce five years of age
Alas, Fortune! It was great cruelty
To lock such birds into such a cage

MetaArchibishop of Pisa, accuses Ugolino of treachery and orders him, his sons, his grandsons thrown into prison, where they are abandoned, the key thrown into the river.
Count Ugolino della Gherardesca and his sons left to starve in the Muda
Ugolino

پیسا . . .آج بھی اپنے مشہور ٹیڑھے مینار کی وجہ سے تمام عالم کی دلچسپی کا محور ہے اور ہر سال سیاحوں کی ایک بڑی تعداد اس مینار کو دیکھنے آتی ہے۔ سائنسدانوں نے ہر ممکن سعی کرلی کہ اس مینار کے جھکاؤ کا سبب معلوم کرسکیں مگر یہ راز کبھی کسی پہ نہ کھُلا ۔ مشہور ریاضی دان اور ماہرِ فلکیات، گیلیلیو کا شہر بھی پِیسا ہی تھا۔ کم ہی لوگ جانتے یا سوچتے ہوں گے کہ اسی شہر میں بدبخت ہوگولینو بھی کبھی تخت و تاج پہ متمکن تھا جو ایک کرب ناک موت سے ہم آغوش ہوا۔

Pisa-Italia
Gallileo on the tower of Pisa

تیرہویں صدی کے اٹلی میں ، پِیسا کا علاقہ ، دو نمایاں گروہوں ، گولیفر اور گھیبلن کے مابین بٹا ہوا تھا ۔ اقتدار اور حکم کی رسّہ کشی ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک عرصے سے جاری تھی۔ اوگولینو کا تعلق ، گھیبلن والوں سے تھا۔

-1271 میں اوگولینو کی بہن کی شادی نسبتاََ زیادہ مستحکم ، وِزکونٹی خاندان میں ہوئی جو کہ مخالف گروہ گولیفر کے حلیف تھے ۔ اوگولینو نے اپنی وفاداریاں مخالف گروہ سے وابستہ کرلیں جس پر اُس کے حامیوں میں اُس کے خلاف شکوک و شبہات پیدا ہوگئے۔

-1274 میں اوگولینو کو اپنے بہنوئی جیوانی کے ہمراہ گرفتار کرلیا گیا اور اُن پر گولیفرز کے ساتھ مِل کر پِیسا کی حکومت کے خلاف سازشوں کا الزام عائد کیا گیا۔ اوگولینو کو جیل کی سزا ہوئی اور جیوانی کو شہر بدر کر دیا گیا۔ جیوانی کچھ ہی دنوں بعد چل بسا ۔ تو گویا جس کے سبب اوگولینو پر شک تھا، وہ سبب ختم ہوجانے پر ، اُسے آزاد کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد اوگولینو نے دشمن گولیفرز کے ساتھ مِل کر اپنے آبائی شہر پِیسا پر حملہ کیا اور دشمن کے تمام قیدی آزاد کروا لئے۔

fight  between the militias of the Guelf and Ghibelline factions in the Italian commune of Bologna

fight between the militias of the Guelf and Ghibelline factions in the Italian commune of Bologna

-1284 میں پِیسا اور جنواGenoa میں جنگ چھڑ گئی۔ اوگولینو ، پِیسا کا نیوی کمانڈر تھا ۔ پِیسا کے بحری جنگی بیڑے میں شامل جہازوں اور سپاہیوں کو خاطر خواہ نقصان پہنچا اور . . . .پھر ایک بدترین مانوس منظر . . . کہ اوگولینو اور اُس کی ڈویژن نے دشمن کے سامنے ہتھیار ڈال کر . . اپنی شکست تسلیم کر لی۔ بعد ازاں اُس کے اِس اقدام کو صریحاََ غداری، ملّی بھگت اور وطن دشمنی کا نام دیا گیا ۔ جس کی پاداش میں اُس پر سنگین فردِ جرم عائد کی گئی ۔

ِپیسا کے دشمن، جنوا کی طرف سے ، قبضے کے بعد غدارِ وطن اوگولینو کو ، پِیسا کا حاکم مقرر کیا گیا۔ اوگولینو نے جنوا اور پِیسا کے مابین قیامِ امن کی ہر کوشش کو ناکام بنایا ، امن کی ہر پیشکش میں رکاوٹ ڈالی کیونکہ امن کی صورت میں ، اُس کے اپنے بھائی بندے اُسے غدار قرار دیتے اور اُس کی حاکمیت خطرے میں پڑ جاتی۔ چنانچہ وہ دشمن کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے ، اپنی ہی مادرِ وطن پر ، دشمن کا نمائندہ بن کر حکومت کے مزے لیتا رہا۔

-1287 میں اوگولینو کا ، اپنے بھانجے سے جھگڑا ہوگیا اور اُس کا بھانجا مخالف گروہ گھیبلن سے جا ملا۔ اِس حرکت کے جواب میں اوگولینو نے گھیبلنز کے سرکردہ گھرانوں کو پِیسا شہر سے نکال باہر کیا اور اُن کے محلات تباہ کر دیئے ۔

-1288- جنوا سے امن مذاکرات نہ ہونے کی وجہ سے ، پِیسا کی معیشت پر بہت بُرا اثر پڑا۔ کاروبار تباہ ہوگئے۔ افراطِ زر بے انتہا بڑھ گئی۔ خوراک کی قلت ہوگئی اور جرائم بڑھ گئے۔ لوگوں میں بےچینی اور تشویش پھیل گئی۔ عوامی مظاہرے اور باغیانہ تحریکیں عام ہونے لگی۔

ایک عوامی مظاہرے کے دوران ، اوگولینو نے آرچ بشپ کے بھتیجے کو قتل کر دیا جس سے عوام مشتعل ہوگئے ۔ گھیبلن کی سربراہی میں ایک مسلح گروہ نے اوگولینو کا تعاقب کیا۔ اوگولینو ٹاؤن ہال میں مورچہ بند ہوگیا ۔ بپھرے عوام نے ٹاؤن ہال کو آگ لگا دی اور اوگولینو کو ہار ماننی پڑی۔ وہ گرفتار ہوگیا۔

مختلف الزامات اور غداری کے مقدمات کے بعد، اوگولینو کو اُس کے دو بیٹوں، اور دو پوتوں کے ساتھ ، گولانڈی مینار میں قید کردیا گیا۔ گولانڈی مینار آج بھی موجود ہے اور ایک عمارت کی تعمیر میں شامل کرلیا گیا ہے۔

The Torre dei Gualandi

The Torre dei Gualandi


Conte_Ugolino_torre_della_fame_gualandi_pisa

The clock tower connects two Medieval towers, one of which is part of an infamous historic event. In the 1200s, prominent Pisan citizen Count Ugolino was involved in political intrigue which resulted in his arrest. He and his family were supposedly locked up in the Torre dei Gualandi and left to starve. Legend has it that the Count went mad and consumed his granddaughter. The episode is featured in Dante’s Inferno and is the reason the tower is more commonly known as Torre dei Fame, or Tower of Hunger

Arno_River_in_Pisa

Arno_River_in_Pisa

-1289میں آرچ بشپ کے حکم پر مینار کی چابیاں ، آرنو دریا میں پھینک دی گئیں ۔ جو اس بات کی دلالت تھی کہ اب اوگولینو کو تا دمِ مرگ اسی مینار میں تڑپنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس کے بعد اوگولینو کا حال کسی کو معلوم نہیں کہ مینار کے اندر کیا ہوا۔ البتہ تاریخی محققین ، مصوروں اور شاعروں نے اپنا اپنا دماغ لڑایا اور اپنے اپنے اندازے پیش کئے کہ آخری ایّام میں اوگولینو اور اُس کے بیٹوں اور پوتوں کے مابین کیا ہوا ہوگا۔ بھوک، پیاس اور قیدِ تنہائی کے ہاتھوں تڑپ تڑپ کر جان دیتے ہوئے ، مینار کے اندر آخری مناظر کیا ہوں گے؟ بیٹوں نے باپ کو کیا پیشکش کی ہوگی، میرے قلم میں وہ الفاظ لکھنے کی سکت نہیں، چنانچہ دانتے کے اشعار اور مندرجہ ذیل اقتباس پیش ہے۔

اطالوی شاعر دانتےؔ(1205-1321)نے اپنی نظم “انفرنو” بمعنی ‘جحیم’ میں، اوگولینو کو جہنم کے اُس حصے میں دکھایا ہے جہاں اپنے وطن ، نسل اور قبیلے کے غداروں کو دردناک سزا دی جارہی ہے۔

69ugolino

دانتےؔ ہی نے ایک تمثیلی نظم “ڈیوائن کامیڈی” میں اوگولینو اور اُس کے بیٹوں کا مکالمہ لکھا ہے جو اُن کے مابین مرنے سے پہلے ہوا۔

‘Father our pain’, they said,
‘Will lessen if you eat us you are the one
Who clothed us with this wretched flesh: we plead
For you to be the one who strips it away’.
(Canto XXXIII, ln. 56–59)

… And I,
Already going blind, groped over my brood
Calling to them, though I had watched them die,
For two long days. And then the hunger had more
Power than even sorrow over me
(Canto XXXIII, ln. 70-73)

Ugolino’s statement that hunger proved stronger than grief, has been interpreted in two ways, either that Ugolino devoured his offspring’s corpses after being driven mad with hunger, or that starvation killed him after he had failed to die of grief

Ugolino and his sons
Inferno_Canto_33,_Gustave_Dorè_2
Inferno_Canto_33,_Gustave_Dorè

Scientific analysis of the remains

In 2002, paleoanthropologist Francesco Mallegni conducted DNA testing on the recently excavated bodies of the Ugolino and his children. His analysis agrees with the remains being a father, his sons and his grandsons. Additional comparison to DNA from modern day members of the Gherardesca family leave Mallegni about 98 percent sure that he has identified the remains correctly. However, the Forensic analysis discredits the allegation of cannibalism. Analysis of the rib bones of the Ugolino skeleton reveals traces of magnesium, but no zinc, implying he had consumed no meat in the months before his death. Ugolino also had few remaining teeth and is believed to have been in his 70s when he was imprisoned, making it further unlikely that he could have outlived and eaten his descendants in captivity. Additionally, Mallegni notes that the putative Ugolino skull was damaged; perhaps he did not ultimately die of starvation, although malnourishment is evident

Blake_Hell_33_Ugolino

Ugolino and his sons in their cell, as painted by William Blake circa 1826. Ugolino della Gherardesca was an Italian nobleman who, together with his sons Gaddo and Uguccione and his grandsons Nino and Anselmuccio were detained in the Muda, in March 1289. The keys were thrown into the Arno river and the prisoners left to starve. According to Dante, the prisoners were slowly starved to death and before dying Ugolino’s children begged him to eat their bodies

452px-Ugolino

The monk tells of Nero – 35

چودہویں صدی کے مشہور انگریز شاعر جیفری چاوسر کی کئی جلدوں پر مشتمل نظم کینٹربری کہانیاں، آج بھی انگریزی پڑھنے والوں کے لئے ایک خاص کشش رکھتی ہے۔ تقریباََ دنیا کی سبھی یونیورسٹیوں کے انگریزی نصاب میں یہ نظم یا اس کے کچھ حصے شامل کئے جاتے ہیں۔ اس نظم کے تمام کردار اپنی اپنی جگہ منفرد ہیں ۔ اس نظم کے مطابق لگ بھگ انتیس مسافروں نے اکٹھے کینٹربری کے بڑے کیتھیڈرل کے لئے سفر کا ارادہ کیا ۔

چاوسر کے زائرین کا سفر کینٹربری کی جانب رواں دواں ہے اور اب باری ہے مونک کی . . . کہ وہ سفر کے آغاز میں طےکردہ اصول کے مطابق اپنی کہانی سُنائے لیکن مونک نے ایک باقاعدہ کہانی کی بجائے سترہ ایسی شخصیات کا احوال سنایا جو سطوت اور سلطنت کے عروج پہ تھیں اور پھر اپنے کسی عمل کی پاداش میں اُن پہ زوال آیا اور اُن کا دردناک انجام ہوا۔

رومی جولیئس سیزر کی عبرت ناک موت کے بعد تیرہواں نام “نیرو” کا ہے۔

-12-نیرو:

37-68عیسوی

NERO

NERO

نیرو ، سلطنتِ روم کا پانچواں اور آخری سیزر تھا۔ جی ہاں . . .بالکل بانسری والا نیرو۔ اِس کا پورا نام ” نیرو کلاڈئیس سیزر آگسٹس ” تھا اور نیرو کے ساتھ ہی جولیو کلاڈئیس ڈائے نیسٹی یا خاندان ِ شاہی کا عہد اختتام پذیر ہوا۔

-37 عیسوی میں پیدا ہوا ۔54سے68تک روم کے سیاہ و سفید کا مالک رہا ۔ مؤرخ فیصلہ نہیں کرپائے کہ اُس کے سیاہ کارنامے زیادہ ہیں یا سفید۔ نیرو ظلم، جنونی سفاکی اور بے حسی میں شہرت رکھتا تھا۔ نیرو کے عہد کا ایک مؤرخ زیادہ مستند مانا جاتا ہے جس کا نام “ٹیسی ٹس” Tacitus تھا ۔آج نیرو کے بارے میں حاصل کردہ بیشتر معلومات کا مصدر یہی مؤرخ ہے۔

نیرو اپنے چچا کے قتل کے بعد تخت نشین ہوا۔ نیرو کو اُس کے چچا کلاڈئیس نے گود لیا ہوا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ کلاڈئیس کو نیرو کی ماں “اگرِپنا” نے قتل کروایا تھا ۔ اگرِپنا نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد کلاڈئیس سے اسی مقصد کے تحت شادی کرلی تھی۔ نیرو کی ماں چاہتی تھی کہ کلاڈئیس کے اپنے طبعی بیٹے ” بریٹا نیکا س” کے جگہ نیرو بادشاہ بنے۔

نیرو شروع سے ہی منہ زور اور جنونی تھا ۔ اقتدار نے اِس فطرت کو ہوا دی اور اُس نے اپنی ماں اگرِپنا، دو بیویوں اوکتاویا اور پوپیا سبینا . . . اور اپنے محسن چچا کلاڈئیس کے بیٹے بریٹانیکا سBritannicus کو قتل کروایا۔ نیرو نے پہلی بیوی اوکتاویا کو قتل کروایا اور اُس کے بعد پوپیا سبینا کے شوہر کو مروا کر اُس سے شادی کی۔ نیرو کی ماں نے اِس اقدام کو اُس کی بادشاہت کے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے مخالفت کی تو نیرو نے ماں کو ایک کشتی میں ڈبو کر مارنے کا پلان بنایا ۔ کشتی ڈوبی تو اگرِپنا تیر کر جان بچانے میں کامیاب ہوگئی۔ چار ناکام قاتلانہ حملوں کے بعد نیرو نے اپنے جلادوں سے ماں پر حملہ کروایا ۔ کئی وقائع نگاروں کے مطابق نیرو خود بھی ماں کو قتل کرنے والوں میں شامل تھا۔ اگرِپنا نے مرنے سے پہلے بیٹے پر لعنت بھیجی ، بد دعا مانگی اور آخری الفاظ تھے کہ ‘میری کوکھ پر ضرب لگاؤ جہاں سے ایسے بدبخت بیٹے نے جنم لیا’۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ الفاظ نیرو سے ہی مخاطب ہو کر اگرِپنا نے کہے جس نے ایسا ہی کیا ۔

Smite my womb

Agrippina crowns her son Nero

Agrippina crowns her son Nero

Though Nero was as vile and villainous
With rubies, sapphires, pearls of purest white
Were all his clothes embroidered; one could tell
In precious stones he took a great delight

He had Rome burnt for his delight, a whim
And senators he ordered slain one day
That he might hear the cries that came from them

He slew his brother, by his sister lay
And mangled his own mother–that’s to say
He slit his mother’s womb that he might see
Where he had been conceived. O well away
That he held her no worthier to be

Not one tear from his eye fell at the sight
He simply said, “A woman fair was she
The wonder is how Nero could or might
Be any judge of her late beauty.

Then ordered wine be brought, which instantly
He drank–he gave no other sign of woe
When power has been joined to cruelty
Alas, how deeply will the venom flow

-65میں نیرو کی دل پسند بیوی “پوپیا سبینا” مرگئی۔ 66کےآغاز میں اُس نے “میسیلینا” سے شادی کرلی اور اُس سے اگلے سال اُس نے ایک لڑکے “سپورس” سے بیاہ رچالیا۔ نیرو نے سپورس کا مخصوص آپریشن کروا کر اُس کو اپنے حرم میں شامل کیا ۔ شاہی اور عوامی تقریبات میں سپورس ملکہ کا مخصوص شاہی لباس پہنا کرتا اور اُسے ‘ایمپرس’ اور ‘لیڈی’ جیسے شاہی القابات سے پکارا جاتا ۔ مؤرخین کے ہاں اِس بارے میں متضاد آراء ملتی ہیں کہ نیرو کے حرم میں سپورس سے پہلے بھی ایک مرد شامل تھا۔ کچھ اُسے دیگر غیر فطری حرکتوں اور محرّمات کی ہتک کا عادی بتاتے ہیں۔ایک تاریخ دان کے مطابق نیرو نے اپنی محبوب بیوی پوپیا کو اُمید کی حالت میں دھکّا دے دیا تھا جو کہ جان لیوا ثابت ہوا، اِسی غم میں نیرو دیوانہ ہوگیا تھا ۔ ایک اور ذریعے کے مطابق سپورس اور پوپیا سبینا میں بہت زیادہ مشابہت تھی جو سپورس کو حرم میں شامل کرنے کی وجہ بنی اور نیرو . . . سپورس کو پوپیا کہہ کر پکارا کرتا ۔

نیرو کا اتالیق ، روم کا مشہور فلسفی “سینکا” نیرو کو اُس کے غلط کاموں پر ٹوکتا رہتا تھا ۔ اِسی بات پہ طیش کھا کر نیرو نے اُسے بھی مروادیا تھا۔

This Nero had a master in his youth
To teach to him the arts and courtesy
This master being the flower of moral truth
In his own time, if books speak truthfully

And while this master held authority
So wise he made him in both word and thought
That it would be much time ere tyranny
Or any vice against him would be brought

This master Seneca of whom I’ve spoken
To Nero had become a cause of dread,
Chastising him for every good rule broken
By word, not deed. As he discreetly said

“An emperor, sir, must always be well bred
Of virtue, hating tyranny.” Defied
He wound up in a bath where he was bled
From both his arms, and that’s the way he died

روم کی بدترین آگ کا دن19جولائی64 عیسوی بتایا جاتا ہے۔ روم شہر کی خوفناک آگ پانچ روز تک بھڑکتی رہی۔ 14میں سے 3اضلاع مکمل طور پر خاکستر ہوگئے۔ اِس آگ کے اسباب میں بھی دو تین مختلف آراء ملتی ہیں۔ کچھ مؤرخ اِسے حادثاتی ، کچھ مسیحیوں کی لگائی ہوئی اور کچھ اِسے خود نیرو کے حکم پر لگائی گئی، بتاتے ہیں۔

799px-Jan_Styka_-_Nero_at_Baiae

زیادہ تر یہی بات کہی جاتی ہے کہ نیرو نے روم کو خود آگ لگوائی تھی تاکہ وہاں وہ مہنگے ترین جواہرات سے مزین اپنا عالی شان محل تعمیر کرسکے۔300ایکڑ رقبے پر بنے اِس شاندار عمارت کا نام (Domus Aurea)تھا جو لاطینی الفاظ پر مشتمل ہے اور اِس کا مطلب ہے “سنہری مکان” “دی گولڈن ہاؤس” ۔ اِس محل کے اصل مقام کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں مگر اِس محل کے نشان اپنے مکین کی طرح ، صفحہءہستی سے مِٹ چکے ہیں۔

entrance Roma, la Domus Aurea, ingresso
e2133 Domus aurea print1

آج “ڈومس آوریا” کی اصطلاح، امارت ، بیش قیمت اور پُر تعیّش کے معانی میں، مارکیٹنگ اور کمرشل مقاصد کے لئے استعمال ہوتی ہے جس میں لگژری ہوٹلوں سے لے کر مہنگی ترین خمر کے اشتہارات شامل ہیں۔

domus-1

عام طور پر یہی مشہور ہے کہ جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا۔ یہ بھی کہا گیا کہ وہ ہومر کی نظم بھی گا رہا تھا جس میں شہر ٹرائے کی تعریف بیان کی گئی ہے۔ تاریخی اعتبار سے اُس وقت روم میں بانسری کا وجود نہیں تھا چنانچہ عین ممکن ہے کہ وہ “بربط ” بجا رہا ہو۔ انگریزی محاورے میں “فِڈل” کا لفظ استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب سارنگی، ایک تارہ یا وائلن جیسا ساز ہے۔ روم کے جلنے کے دوران نیرو کے بربط بجانے میں کتنی سچائی ہوگی، اِس بات سے قطع نظر، نیرو کے ساز بجانے کا منظر بہت سے مصوّروں کے لئے دلچسپی کا باعث رہا اور انھوں نے کینوس پر اپنے اپنے تخیل کے مطابق اِسے پیش کیا۔

412px-Mousai_Helikon_Staatliche_Antikensammlungen_Schoen80_n1
article-2194564-14B7B2B2000005DC-591_624x392

Nero fiddles by Leviathansmiles

Nero fiddles by Leviathansmiles


nero-jpg-749636-757794

To ‘fiddle while Rome burns‘ refers to the belief that the infamous Emperor Nero played the lyre (there were no fiddles yet) while Rome was burning. Idiomatically it means someone is doing nothing about a serious problem

مؤرخ ٹیسی ٹس ایک مختلف روایت بتاتا ہے۔ اُس کے مطابق جب روم شعلوں کی لپیٹ میں تھا تو نیرو ، روم سے 40میل دور اینٹیم شہر میں تھا ۔ اینٹیمAntium سے واپسی پر اُس نے ذاتی خزانے سے متاثرین کی بحالی کے لئے اقدامات کئے۔ بےگھر ہونے والوں کے لئے اپنا محل کھول دیا ۔ روم کو نئے سِرے سے بسایا ۔ عمارتیں اور کشادہ مڑکیں تعمیر کروائیں۔ نیرو کے مخالف تاریخ دان نیرو کو جنون کی حد تک حُبِ نفس اور ذاتی تعریف کا دلدادہ بتاتے ہیں اور اُس کے فلاحی کاموں کی یہی توجیہہ پیش کرتے ہیں۔

-64عیسوی میں نیرو نے روم کی آگ کے الزام میں ، وسیع پیمانے پر عیسائیوں کو قتل کروایا ۔ عیسائی مخالف قتلِ عام کے لئے تعذیب اور قتل کے ہولناک طریقے استعمال کئے۔ ٹیسی ٹس لکھتا ہے کہ عیسائیوں کو صلیبوں پر کِیلا جاتا ، جنگلی جانوروں کی کھالوں میں سِلوایا جاتا ، بھوکے کتوں اور شیروں کے سامنے ڈالا جاتا اور نیرو خود چیر پھاڑ کے مناظر سے لطف اندوز ہوتا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ . . . ملزمان پہ آتش گیر مادہ اُنڈیل کر نیرو کے باغ میں رات کو روشنی کے لئے بطور مشعل جلایا جاتا ۔

sewn in skin by nero

sewn in skin by nero


martyrs
Christian Martyrs in the Coliseum by Konstantin_Flavitsky

Christian Martyrs in the Coliseum by Konstantin_Flavitsky

سزا ؤں پہ عمل درآمد قدیم رومن اکھاڑے “کولوزیئم” میں ہوتا جہاں عوام الناس اِن مناظر کو دیکھنے جمع ہوتے۔ اگرچہ کولوزیئم کی تعمیر کا مقصدگھڑ دوڑ، نیزہ بازی، کُشتی اور مختلف کھیلوں کا انعقاد تھا ، لیکن اِسی اکھاڑے میں ریاست کے دشمنوں کو عبرت ناک سزائیں دی جاتیں۔

colosseum aerial view

colosseum aerial view


colosseum

colosseum


Siemiradzki_Christian_Dirce
XY2-1285447 - © - Classic Vision

مؤرخ کہتا ہے کہ کولوزئیم کے فرش پر ریت بچھائی جاتی تاکہ مجرموں کا رِستا ہوا خون جذب ہوسکے۔ اِسی کولوزئیم میں عیسائیت کے بےشمار پیروکاروں کو موت کے گھاٹ اُتارا گیا۔ اب بہت سی کمپیوٹر گیمز میں کولوزئیم کا تصور متعارف کروایا گیا ہے۔

1024px-Jean-Leon_Gerome_Pollice_Verso

کولوزیم کے احاطے میں بیٹھے لوگ

کولوزیم کے احاطے میں بیٹھے لوگ


CircusMaximus2
dg3-coliseum

-66عیسوی میں یونانی اور یہودی آبادیوں کی طرف سے بھاری ٹیکسوں کے خلاف احتجاج ہونے لگا ۔ یروشلم میں رہنے والے ، رومن باشندوں پر حملے کر کے اُنھیں وہاں سے نکل جانے پر مجبور کیا جانے لگا۔ نیرو نے اپنے سپہ سالار ‘ویس پے سئین’ کو فوج کی کمان دے کر ‘جوڈیا’ بھیجا جہاں اُس نے جوڈیا کی تمام سرزمین پر قبضہ کرلیا اور یروشلم کو محاصرے میں لے لیا۔

-67میں ، نیرو کے حکم پر ، عیسائیت پر کاربند ہونے کے جرم میں سینٹ پیٹر یا پطرس اور سینٹ پال کو قتل کیا گیا۔ کولوزئیم کے قریب واقع ” سرکس میکسی مس” میں سینٹ پیٹر کو اُلٹا مصلوب کیا گیا۔ یہ اقدام پطرس کی درخواست کے جواب میں کیا گیا کیونکہ پطرس نے درخواست کی تھی کہ صلیب پہ مرنے کا اعزاز یسوع مسیح سے وابستہ ہے اس لئے اُسے کسی اور طرح مارا جائے۔ چنانچہ سینٹ پیٹر کو اُلٹا لٹکایا گیا جس کے سبب آج بھی اُلٹی صلیب کو ‘لاطینی صلیب یا سینٹ پیٹر کی صلیب’ کہا جاتا ہے۔ سینٹ پیٹر کو مسیحِ مقدس کے12حواریوں میں سے مقرّب ترین کہا جاتا ہے۔ کیتھولک عیسائی عقیدے کے مطابق، یسوع مسیح نے سینٹ پیٹر کو اپنے بعد کلیسا کی زمامِ کار سونپی تھی جس کے بعد پیٹر کیتھولک کلیسا کے اولین پوپ اور روم کے پہلے پادری بنے۔

780px-Circus_Maximus_(Atlas_van_Loon)
463px-Caravaggio-Crucifixion_of_Peter

کہا جاتا ہے کہ جب پیٹر کی موت ہوگئی تو اُسے قبرستان لے جا کر دفنایا گیا اور اُس کے معتقدین چوری چھُپے اُس کی قبر کو پوجتے رہے۔ سینٹ پیٹر کی قبر پر اُسی جگہ روم میں “سینٹ پیٹر کیتھیڈرل” تعمیر کیا گیا جو کہ عیسائیت کا دل اور پاپائے روم کی رہائش گاہ ہے اور “ویٹیکن سِٹی” کا مرکز ہے ۔ قدیم کلیسا کی تعمیر 320ء میں ہوئی تھی، لیکن کافی عرصہ گذرجانے کی بنا پر عمارت خستہ ہونے لگی ۔ لہذا موجودہ باسلیکا کی تعمیر 1506ء میں شروع کی گئی جو 1626ء میں مکمل ہوئی۔ اس عمارت میں دور نشاۃ ثانیہ کے فن تعمیر کے نمونے جابجا نظر آتے ہیں جن کی تخلیق میں مائیکل اینجلو کا قابلِ ذکر حصہ رہا ہے۔ 1940سے1964تک ہونے والی تحقیقات نے بھی اِس جگہ پر سینٹ پیٹر کے دفن ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔اس نئی تعمیر کے بعد اکثر پاپائے کلیسا ، پطرس کی جانشینی کی علامت کے طور پر باسلیکا کے نیچے واقع ہال میں مدفون ہوئے۔اب یہ عمارت پطرس باسلیکا ، کہلاتی ہے۔لاطینی میں اسے basilica sancti petriکہا جاتا ہے۔ کیتھیڈرل اور باسیلکا میں بنیادی فرق طرزِ تعمیر کا ہے ، دیگر باتوں کے علاوہ باسلیکا میں کلیسا کی مخصوص عبادت گاہ کے علاوہ مذہبی تقریبات کے لئے نیم دائرے کی شکل میں ایک مرکزی جگہ بھی شامل ہوتی ہے ۔

2036287014_60b3df6621_b

-68 عیسوی میں نیرو کے مظالم کے سبب ، دو نمایاں بغاوتوں نے سر اُٹھایا ۔ فوج بھی اِن بغاوتوں کی سرپرستی کر رہی تھی چنانچہ فوج نے نیرو کا تختہ اُلٹ کر حکومت سنبھال لی۔ نیرو فرار ہوگیا۔ فوج اور حکومت کے سرکردہ افراد نے نیرو کو موت کی سزا سنائی۔ نیرو نے شہر سے باہر اپنے ایک وفادار سپاہی کے مکان میں پناہ لی اور اپنی قبر کھُدوائی۔ خودکشی کا ارادہ کیا۔ مرنے سے پہلے اپنی ماں پر لعنت اور ملامت بھیجی جس نے اُسے جنم دے کر یہ دن دِکھایا ۔بہت دیر متردد رہا لیکن جیسے ہی اُسے گرفتار کرنے کے لئے آنے والے سپاہیوں کے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز سنائی دی، اُس نے اپنے ہاتھوں اور پیروں کی نَسیں کاٹ لیں اور خود کو ہلاک کرلیا۔

دوسری جانب نیرو کی موت کا سن کر اُس کے سپہ سالار “ویس پے سئین” نے یروشلم کا محاصرہ چھوڑ کر اقتدار کی فکر کی۔ نیرو کی موت کے ساتھ اُس کے خاندان سیزر کا نام ختم ہوگیا تھا کیونکہ31 سالہ نیرو کی واحد اولاد اُس کی ایک بیٹی تھی جو ‘پوپیا سبینا’ کے بطن سے تھی اور تین ماہ کی عمر میں وفات پا گئی تھی۔ روم کی حکومت کے باقی دعویداروں کو شکست دیتے ہوئے “ویس پے سئین ” کا اپنا بیٹا “ٹائی ٹس” روم کے تخت پر بیٹھا۔

-70عیسوی میں “ٹائی ٹس” نے اپنے باپ کی جنگ جاری رکھتے ہوئے یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور وہاں کا “سیکنڈ ٹیمپل” یا ھیکلِ ثانی تباہ کردیا ۔ رومن سپاہی یروشلم کے مندر سے نوادرات اور مینورہ اُٹھا لائے جو کہ روم کے “کولوزئیم” کی تعمیرِ نو کے لئے چندے میں دے دئیے۔

800px-Arch_of_Titus_Menorah

-نیرو کی موت کے بعد اُس کے تخت پر بیٹھنے والےجانشین ٹائی ٹس نے یروشلم اور جودیا کی فتح کی یادگار کے طور پر روم میں ایک بلند قوس یا محراب (آرچ آف ٹائی ٹس) بنوائی۔ جس پر لاطینی میں ایک عبارت درج ہے۔

800px-Titus_hh2

Arch of Titus - inscription

Arch of Titus – inscription

The inscription reads:
SENATVS
POPVLVSQVE•ROMANVS DIVO•TITO•DIVI•VESPASIANI•F(ILIO) VESPASIANO•AVGVSTO
(Senatus Populusque Romanus divo Tito divi Vespasiani filio Vespasiano Augusto)
which means “The Roman Senate and People (dedicate this) to the divine Titus Vespasianus Augustus, son of the divine Vespasian

مونک نے 100لائنوں میں رومن سلطنت کے جنونی، جابر اور ظالم کا انجام سنایا ۔ نیرو جس کا دامن اپنوں کے خون سے بھی رنگا ہوا تھا اور بےشمار جانیں اُس کے ہاتھوں تکلیف دہ موت سے دوچار ہوئیں، جب مرا تو دنیا میں اُس کی سفاکی اور ستم کی لرزہ خیز داستانوں کے سِوا کچھ نہ رہا۔ سچ ہے کہ اقتدار اور تاجوری دائمی نہیں ہوتی ۔

Marble bust of Nero (palace of Versailles)

Marble bust of Nero (palace of Versailles)