Home » Canterbury Tales » The monk regrets De Hugelino comite de Pize -36

The monk regrets De Hugelino comite de Pize -36

کینٹربری کہانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ موسمِ بہار کی آمد کے ساتھ ہی، لندن کے مضافات سے اُنتیس مسافروں کا ایک قافلہ ، کینٹربری کے بڑے کلیسا کی جانب عازمِ سفر ہے۔ چودہویں صدی میں سفر کچھ ایسے آسان نہ تھے، چنانچہ سفر کی صعوبتوں سے توجہ ہٹانے اور جی کو بہلانے کے لئے زائرین نے دورانِ سفر،آپس میں کہانیاں سنانے کا مقابلہ طے کیا۔ سولہ مسافروں کے بعد جب مونک کی باری آئی تو مونک نے ایک مکمل کہانی نہیں سنائی بلکہ بہت سی مشہور شخصیات کی شاندار زندگی اور بالآخر عبرت انجام پر مبنی حالات سنائے۔ ان شخصیات میں سے چند ایک دیومالائی کردار تھے اور کچھ قبل مسیح کے تاریخی مشاہیر، اور اب وہ بارہویں صدی کے ایک کردار کا ذکر کررہا ہے جو کہ بدترین انجام سے دوچار ہوا۔

مونک کی المیہ روداد آگے بڑھتی ہے اور مونک اب گیارہویں شخص کے حالِ زندگی اور بدترین موت کا ماجرا سناتا ہے۔

– اوگولینو/ہوگولینو آف پِیسا:

Conte-Ugolino-Pisa-Dante-Stampa-antica-1700

(1220 – 1289)

اطالوی ٹھاکر یا نواب، منصب دار ، سیاستدان اور نیوی کمانڈر تھا۔ متعدد بار غداری کا مرتکب ٹھہرا، الزامات عائد ہوئے ، مقدمات چلائے گئے ، جیل ہوئی ، اور سزائے موت پائی ۔ اطالوی شاعر دانتے نے ڈیوائن کامیڈی میں اِس کردار کے بارے میں خاصی تفصیل سے لکھا ہے اور اس کے عبرت ناک انجام کا نقشہ کھینچا ہے۔ جن مصوروں نے ڈیوائن کامیڈی کو کینوس پہ رنگوں کی مدد سے پیش کیاِ، انہوں نے ہوگولینو کو بھی اپنے تخیّل کے زور پر دِکھایا۔ مجسمہ سازوں نے اپنے تئیں ہوگولینو کے انجام سے انصاف کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے ۔

tumblr_mcs4apVVeI1rufr77o8_500
tumblr_lppulmmjBY1qggdq1

Of Ugolino, Count of Pisa’s woe
No tongue can tell the half for hot pity
Near Pisa stands a tower, and it was so
That to be there imprisoned doomed was he
While with him were his little children three
The eldest child was scarce five years of age
Alas, Fortune! It was great cruelty
To lock such birds into such a cage

MetaArchibishop of Pisa, accuses Ugolino of treachery and orders him, his sons, his grandsons thrown into prison, where they are abandoned, the key thrown into the river.
Count Ugolino della Gherardesca and his sons left to starve in the Muda
Ugolino

پیسا . . .آج بھی اپنے مشہور ٹیڑھے مینار کی وجہ سے تمام عالم کی دلچسپی کا محور ہے اور ہر سال سیاحوں کی ایک بڑی تعداد اس مینار کو دیکھنے آتی ہے۔ سائنسدانوں نے ہر ممکن سعی کرلی کہ اس مینار کے جھکاؤ کا سبب معلوم کرسکیں مگر یہ راز کبھی کسی پہ نہ کھُلا ۔ مشہور ریاضی دان اور ماہرِ فلکیات، گیلیلیو کا شہر بھی پِیسا ہی تھا۔ کم ہی لوگ جانتے یا سوچتے ہوں گے کہ اسی شہر میں بدبخت ہوگولینو بھی کبھی تخت و تاج پہ متمکن تھا جو ایک کرب ناک موت سے ہم آغوش ہوا۔

Pisa-Italia
Gallileo on the tower of Pisa

تیرہویں صدی کے اٹلی میں ، پِیسا کا علاقہ ، دو نمایاں گروہوں ، گولیفر اور گھیبلن کے مابین بٹا ہوا تھا ۔ اقتدار اور حکم کی رسّہ کشی ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک عرصے سے جاری تھی۔ اوگولینو کا تعلق ، گھیبلن والوں سے تھا۔

-1271 میں اوگولینو کی بہن کی شادی نسبتاََ زیادہ مستحکم ، وِزکونٹی خاندان میں ہوئی جو کہ مخالف گروہ گولیفر کے حلیف تھے ۔ اوگولینو نے اپنی وفاداریاں مخالف گروہ سے وابستہ کرلیں جس پر اُس کے حامیوں میں اُس کے خلاف شکوک و شبہات پیدا ہوگئے۔

-1274 میں اوگولینو کو اپنے بہنوئی جیوانی کے ہمراہ گرفتار کرلیا گیا اور اُن پر گولیفرز کے ساتھ مِل کر پِیسا کی حکومت کے خلاف سازشوں کا الزام عائد کیا گیا۔ اوگولینو کو جیل کی سزا ہوئی اور جیوانی کو شہر بدر کر دیا گیا۔ جیوانی کچھ ہی دنوں بعد چل بسا ۔ تو گویا جس کے سبب اوگولینو پر شک تھا، وہ سبب ختم ہوجانے پر ، اُسے آزاد کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد اوگولینو نے دشمن گولیفرز کے ساتھ مِل کر اپنے آبائی شہر پِیسا پر حملہ کیا اور دشمن کے تمام قیدی آزاد کروا لئے۔

fight  between the militias of the Guelf and Ghibelline factions in the Italian commune of Bologna

fight between the militias of the Guelf and Ghibelline factions in the Italian commune of Bologna

-1284 میں پِیسا اور جنواGenoa میں جنگ چھڑ گئی۔ اوگولینو ، پِیسا کا نیوی کمانڈر تھا ۔ پِیسا کے بحری جنگی بیڑے میں شامل جہازوں اور سپاہیوں کو خاطر خواہ نقصان پہنچا اور . . . .پھر ایک بدترین مانوس منظر . . . کہ اوگولینو اور اُس کی ڈویژن نے دشمن کے سامنے ہتھیار ڈال کر . . اپنی شکست تسلیم کر لی۔ بعد ازاں اُس کے اِس اقدام کو صریحاََ غداری، ملّی بھگت اور وطن دشمنی کا نام دیا گیا ۔ جس کی پاداش میں اُس پر سنگین فردِ جرم عائد کی گئی ۔

ِپیسا کے دشمن، جنوا کی طرف سے ، قبضے کے بعد غدارِ وطن اوگولینو کو ، پِیسا کا حاکم مقرر کیا گیا۔ اوگولینو نے جنوا اور پِیسا کے مابین قیامِ امن کی ہر کوشش کو ناکام بنایا ، امن کی ہر پیشکش میں رکاوٹ ڈالی کیونکہ امن کی صورت میں ، اُس کے اپنے بھائی بندے اُسے غدار قرار دیتے اور اُس کی حاکمیت خطرے میں پڑ جاتی۔ چنانچہ وہ دشمن کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے ، اپنی ہی مادرِ وطن پر ، دشمن کا نمائندہ بن کر حکومت کے مزے لیتا رہا۔

-1287 میں اوگولینو کا ، اپنے بھانجے سے جھگڑا ہوگیا اور اُس کا بھانجا مخالف گروہ گھیبلن سے جا ملا۔ اِس حرکت کے جواب میں اوگولینو نے گھیبلنز کے سرکردہ گھرانوں کو پِیسا شہر سے نکال باہر کیا اور اُن کے محلات تباہ کر دیئے ۔

-1288- جنوا سے امن مذاکرات نہ ہونے کی وجہ سے ، پِیسا کی معیشت پر بہت بُرا اثر پڑا۔ کاروبار تباہ ہوگئے۔ افراطِ زر بے انتہا بڑھ گئی۔ خوراک کی قلت ہوگئی اور جرائم بڑھ گئے۔ لوگوں میں بےچینی اور تشویش پھیل گئی۔ عوامی مظاہرے اور باغیانہ تحریکیں عام ہونے لگی۔

ایک عوامی مظاہرے کے دوران ، اوگولینو نے آرچ بشپ کے بھتیجے کو قتل کر دیا جس سے عوام مشتعل ہوگئے ۔ گھیبلن کی سربراہی میں ایک مسلح گروہ نے اوگولینو کا تعاقب کیا۔ اوگولینو ٹاؤن ہال میں مورچہ بند ہوگیا ۔ بپھرے عوام نے ٹاؤن ہال کو آگ لگا دی اور اوگولینو کو ہار ماننی پڑی۔ وہ گرفتار ہوگیا۔

مختلف الزامات اور غداری کے مقدمات کے بعد، اوگولینو کو اُس کے دو بیٹوں، اور دو پوتوں کے ساتھ ، گولانڈی مینار میں قید کردیا گیا۔ گولانڈی مینار آج بھی موجود ہے اور ایک عمارت کی تعمیر میں شامل کرلیا گیا ہے۔

The Torre dei Gualandi

The Torre dei Gualandi


Conte_Ugolino_torre_della_fame_gualandi_pisa

The clock tower connects two Medieval towers, one of which is part of an infamous historic event. In the 1200s, prominent Pisan citizen Count Ugolino was involved in political intrigue which resulted in his arrest. He and his family were supposedly locked up in the Torre dei Gualandi and left to starve. Legend has it that the Count went mad and consumed his granddaughter. The episode is featured in Dante’s Inferno and is the reason the tower is more commonly known as Torre dei Fame, or Tower of Hunger

Arno_River_in_Pisa

Arno_River_in_Pisa

-1289میں آرچ بشپ کے حکم پر مینار کی چابیاں ، آرنو دریا میں پھینک دی گئیں ۔ جو اس بات کی دلالت تھی کہ اب اوگولینو کو تا دمِ مرگ اسی مینار میں تڑپنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس کے بعد اوگولینو کا حال کسی کو معلوم نہیں کہ مینار کے اندر کیا ہوا۔ البتہ تاریخی محققین ، مصوروں اور شاعروں نے اپنا اپنا دماغ لڑایا اور اپنے اپنے اندازے پیش کئے کہ آخری ایّام میں اوگولینو اور اُس کے بیٹوں اور پوتوں کے مابین کیا ہوا ہوگا۔ بھوک، پیاس اور قیدِ تنہائی کے ہاتھوں تڑپ تڑپ کر جان دیتے ہوئے ، مینار کے اندر آخری مناظر کیا ہوں گے؟ بیٹوں نے باپ کو کیا پیشکش کی ہوگی، میرے قلم میں وہ الفاظ لکھنے کی سکت نہیں، چنانچہ دانتے کے اشعار اور مندرجہ ذیل اقتباس پیش ہے۔

اطالوی شاعر دانتےؔ(1205-1321)نے اپنی نظم “انفرنو” بمعنی ‘جحیم’ میں، اوگولینو کو جہنم کے اُس حصے میں دکھایا ہے جہاں اپنے وطن ، نسل اور قبیلے کے غداروں کو دردناک سزا دی جارہی ہے۔

69ugolino

دانتےؔ ہی نے ایک تمثیلی نظم “ڈیوائن کامیڈی” میں اوگولینو اور اُس کے بیٹوں کا مکالمہ لکھا ہے جو اُن کے مابین مرنے سے پہلے ہوا۔

‘Father our pain’, they said,
‘Will lessen if you eat us you are the one
Who clothed us with this wretched flesh: we plead
For you to be the one who strips it away’.
(Canto XXXIII, ln. 56–59)

… And I,
Already going blind, groped over my brood
Calling to them, though I had watched them die,
For two long days. And then the hunger had more
Power than even sorrow over me
(Canto XXXIII, ln. 70-73)

Ugolino’s statement that hunger proved stronger than grief, has been interpreted in two ways, either that Ugolino devoured his offspring’s corpses after being driven mad with hunger, or that starvation killed him after he had failed to die of grief

Ugolino and his sons
Inferno_Canto_33,_Gustave_Dorè_2
Inferno_Canto_33,_Gustave_Dorè

Scientific analysis of the remains

In 2002, paleoanthropologist Francesco Mallegni conducted DNA testing on the recently excavated bodies of the Ugolino and his children. His analysis agrees with the remains being a father, his sons and his grandsons. Additional comparison to DNA from modern day members of the Gherardesca family leave Mallegni about 98 percent sure that he has identified the remains correctly. However, the Forensic analysis discredits the allegation of cannibalism. Analysis of the rib bones of the Ugolino skeleton reveals traces of magnesium, but no zinc, implying he had consumed no meat in the months before his death. Ugolino also had few remaining teeth and is believed to have been in his 70s when he was imprisoned, making it further unlikely that he could have outlived and eaten his descendants in captivity. Additionally, Mallegni notes that the putative Ugolino skull was damaged; perhaps he did not ultimately die of starvation, although malnourishment is evident

Blake_Hell_33_Ugolino

Ugolino and his sons in their cell, as painted by William Blake circa 1826. Ugolino della Gherardesca was an Italian nobleman who, together with his sons Gaddo and Uguccione and his grandsons Nino and Anselmuccio were detained in the Muda, in March 1289. The keys were thrown into the Arno river and the prisoners left to starve. According to Dante, the prisoners were slowly starved to death and before dying Ugolino’s children begged him to eat their bodies

452px-Ugolino

5 thoughts on “The monk regrets De Hugelino comite de Pize -36

  1. Pingback: The End of Monk’s Tale – 40 | SarwatAJ- ثروت ع ج

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s