The monk narrates of De Petro Rege de Cipro – 38

کینٹربری کہانیاں یوں جاری ہیں کہ تمام مسافر ، مونک کے المیہ تذکرے سُن رہے ہیں اور اب مونک بارہویں صدی کے اطالوی برنابو وِزکونٹی کی ہلاکت کے بعد ، سولہواں کردار متعارف کرواتا ہے۔

-پیٹر اوّل آف سائپرس:

1328-1369

Pierre_1er_de_Lusignan

جوکہ قبرص کا بادشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے والد کی، خود اپنی زندگی میں ہی، تخت سے دستبرداری کے بعد1358سے1369میں اپنی وفات تک یروشلم کا برائے نام فرمانروا بھی رہا۔

O worthy Peter, Cypriot king who fought
At Alexandria masterfully
And captured it, who many a heathen brought
To woe! Your lieges in their jealousy
For naught but envy of your chivalry
Have slain you in your sleep before the morrow
So Fortune’s wheel can govern what shall be
And out of gladness bring mankind to sorrow

یہ چودہویں صدی کا زمانہ تھا ۔ چونکہ قبرص اُس وقت ایسی ریاستوں کے گھیرے میں آگیا تھا جو مسلم حکومتوں کے ماتحت تھیں ، چنانچہ قبرص کو مشرقِ وسطٰی میں کلیسا کے نمائندہ کا درجہ دے دیا گیا تھا۔ پیٹر کو اپنی حکومت اور ریاست کی اہمیت کا بخوبی اندازہ تھا ۔ اور اسی ناطے اُسے خود پہ عائد ذمہ داریوں کا شدت سے احساس تھا۔ وہ مسلم حکومت سے مقبوضہ یروشلم واپس لینے کے لئے پُرعزم تھا۔

cyprus-location

اطراف کی مسلم ریاستیں قبرص کے لئے ایک خطرہ تھیں۔ مشرقِ قریب کی سرزمین پر1291میں آخری صلیبی جنگ اپنے انجام کو پہنچی تھی۔ عیسائی گڑھ ختم کردیا گیا تھا۔ اُس وقت ایک نئی اسلامی حکومت اُبھر کر سامنے آئی تھی اور اب . . . عثمانیوں کی آنکھ بازنطینی عیسائی سلطنت کے باقی ماندہ حصّے پر لگی ہوئی تھی جہاں سے شورش کا اندیشہ تھا۔

عثمانی حتمی اور بنیادی طور پر ایک زمینی حقیقت تھے چنانچہ لاطینی عیسائی وحدتوں کو اپنا وجود اور دفاع قائم رکھنے کے لئے سمندر ہی میسر تھا۔ قبرص کے بادشاہ کروسیڈنگ روایات کے وارث تھے تاہم پیٹر کا والد اِس معاملے میں بہت سُست ثابت ہوا تھا۔ اپنے والد کے برعکس پیٹر نے دوبارہ کروسیڈنگ روایت کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔ 1360میں ترک شہر اناطولیہ کے کنارے ایک قلعے “کوریکوس ” پر قبضے کے لئے ترکوں کے ساتھ معرکہ آرا رہا۔ قلعہ زیرِ نگین آگیا ۔ اپنے اہم محلِ وقوع کے سبب یہ قلعہ بہت سے حملہ آوروں کے ہاتھوں سے گزرتا ہوا آخرکار ترکوں کی ملکیت اور مسکن بنا۔

800px-Fortressarmenians5

پھر پیٹر یورپ کی طرف روانہ ہوا۔ یورپ اور روم کے سفر کے دوران اُس نے دیگر حکمرانوں کے سامنے ارضِ مقدسہ اور یروشلم کی فتح کا قصد ظاہر کیا اور اِس سلسلے میں اُن سے مدد کی درخواست کی۔ اُس نے انگلستان، جرمنی، فرانس، وینس، جینوا، پیراگوئے اور پولینڈ کا سفر کیا۔

پولینڈ اور پھر لندن میں تقریبات کے دوران ، رومن ایمپرر، ہنگری کے بادشاہ لوئی اول، ڈنمارک کے ولادی میر چہارم، ماسوریا کے سیموٹ، آسٹریا، پومیرینیا، باواریا اور رومن ڈیوکز سے اُس کی ملاقات ہوئی۔ لیکن اِن تمام ملاقاتوں میں اُس نے کسی سربراہ کو یورپ سے متعلق یا عیسائیت سے متعلق کروسیڈ میں شرکت کی دعوت نہیں دی۔

Feast held in London in honour of the King of Cyprus Pierre I Also present were the Kings of England, Scotland, France and Denmark

Feast held in London in honour of the King of Cyprus Pierre I Also present were the Kings of England, Scotland, France and Denmark

پیٹر، 11اکتوبر1365کو قبرصی اور مغربی قوّت کے ساتھ اسکندریہ کی طرف روانہ ہوا۔ یہ سفر کسی نتیجے کے بغیر ، . . واپسی پر ختم ہوا . . . ماسوائے یہ کہ قاہرہ کے سلطان سے اُس کے تعلقات خراب ہوگئے۔اور عیسائی تاجروں کو مصر اور شام کے تجارتی مراکز میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پوپ اربن پنجم نے اِس صورتِ حال کے پیشِ نظر پیٹر کو فوری طور پر سلطانِ مصر سے صلح کرنے کا کہا۔

The sword was made in Italy in the mid-14th century. Its first duty was diplomatic, as a gift to the Mamluk Sultan of Egypt al-Nasir Hasan from Peter I, By Peter’s time, Cyprus was the last Crusader state in existence.

The sword was made in Italy in the mid-14th century. Its first duty was diplomatic, as a gift to the Mamluk Sultan of Egypt al-Nasir Hasan from Peter I, By Peter’s time, Cyprus was the last Crusader state in existence.

پھر پیٹر نے بیروت پر حملے کا ارادہ کیا . . . لیکن وینس کی جانب سے اُسے معاوضے کے بدلے دمشق پر حملے سے روکا گیا۔ جنوری1366میں طرابلس پر چڑھ دوڑنا، ناکام رہا اور ایک بار پھر پوپ اربن پنجم نے اُسے مصر کے ساتھ امن مذاکرات میں شامل کیا۔

مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ تجارت سے قبرص نے بہت فائدہ اُٹھایا ۔ پیٹر کے وقت میں قبرص کا مشرقی ساحلی شہر “فاماگوستا” بحیئرہء روم کا امیر ترین شہر تھا جہاں آج بھی ترک عمارات نظر آتی ہیں ۔

Lala-Mustafa-Pasa-Mosque-Famagusta-Cyprus

Lala-Mustafa-Pasa-Mosque-Famagusta-Cyprus

مصر کے سلطان نے پیٹر کے طرابلس پر حملے کو صریحاََ بدنیتی سمجھا اور اُس کے ساتھ تجارتی تعلقات نہیں چاہتا تھا۔ سلطانِ مصر نے ایشیائے کوچک کے امراء کو دفاعی امداد دی تاکہ پیٹر کے خلاف کاروائی کی جاسکے۔ ۔ ۔ پیٹر کی، شام کے ساحل، طرابلس اور شامی شہر “لاذقیہ” پر جھڑپیں جاری رہیں اور سلطان سے تعلقات بگڑتے چلے گئے۔ پیٹر کے فوجی دستے دفاعی اخراجات کے لئے آمدنی تنگ ہونے پر بحیرہء روم کے کنارے اسلامی چھاؤنیوں پر چھاپے مارتے اور حاصل ہونے والے مال سے گزارا کرتے۔

The-Taking-of-Alexandria-by-Guillaume-de-Machaut-1372-1377

اِسی دوران قبرص میں اندرونی معاملات انتشار کا شکار ہوگئے، پیٹر اپنے مشیروں اور مصاحبوں کی طرف سے عدم اعتماد کا شکار ہوگیا۔ اور . . . 17جنوری1369کو اُسی کے تین نائٹز اور جرنیلوں نے اُسے اپنے ہی محل کی خوابگاہ میں قتل کردیا ۔

Assassinat of king peter 1 of cyprus

Assassinat of king peter 1 of cyprus

بےانتہا جرات کے باوجود ایک عبرتناک موت پیٹر کا مقدر بنی۔ پیٹر کئی غلط فیصلوں کے باوجود اپنے صلیبی عزم اور ارادے کی وجہ سے بہادری اور شجاعت والا سُورما مانا جاتا ہے۔

2012-03-06 07.40.37

Advertisements

The monk tells of De Barnabo de Lumbardi – 37

کینٹربری کہانیوں میں مونک اپنی کہانی سنارہا ہے اور چودہواں الم ناک انجام اُس نے “ہوگولینو آف پِیسا” کا سنایا جس نے آخری ایام گولانڈی مینار میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر گزارے اور مؤرخین کو اِس بات میں اختلاف ہے کہ آیا وہ مرتے دم آدم خوری کا مرتکب ہوا یا نہیں ۔ یہ سب مسافر کینٹربری کے بڑے کلیسا کی جانب مذہبی زیارت کی غرض سے روانہ ہوئے تھے اور راستے میں ایک دوسرے کو کہانیاں سنانے کا معاملہ طے پایا تھا۔ سب مسافروں نے اپنی اپنی باری پہ کہانی سنائی، یہ کہانیاں الگ الگ اصناف سے تعلق رکھتی ہیں اور جب مونک کی باری آئی تو اس نے ایک مکمل کہانی کی جگہ مشہور شخصیات کےعروج و زوال پہ مشتمل تذکرے سنائے جن کے انجام المیہ اور عبرت ناک تھے ۔ ان تذکروں کو پڑھنے کے دوران آج کا قاری تاریخِ بعید و قدیم کے کئی چہروں سے شناسا ہوتا ہے اور یہ ضرورسوچتا ہے کہ اِن سب واقعات میں کہیں کوئی اشارہ یا سبق پنہاں ہے ؟

مونک کی سولہویں روداد کے مطابق تیرہویں صدی میں سائپرس کا پیٹر اوّل استبداد اور اقتدار کے نشے کا شکار ہوکر بے بسی کی موت مرا۔ پیٹر اوّل کے دردناک قتل کے بعد اُس کا بیٹا پیٹر دوم تخت نشین ہوا ۔ پیٹر دوم نے روم کے علاقے میلان کے گورنر “بارنابو وِزکونٹی”کی بیٹی “ویلنٹینا” سے شادی کی۔

اگلی پندرہویں سوانح اِسی ” بارنابو وِزکونٹی” کی ہے ۔

وِزکونٹی خاندان نے چودہویں صدی سے پندرہویں صدی کے وسط تک، تقریباََ150سال میلان پر شاندار حکومت کی۔ آج کے میلان میں جابجا پُرشکوہ عمارات کی صورت میں اِس خاندانِ شاہی کے جاہ و جلال کی نشانیاں نظر آتی ہیں۔ بارنابو وِزکونٹی کی روداد کے سلسلے میں اِس خاندان کے پس منظر اور چند افراد کا کچھ تعارفی ذکر ضرور دلچسپی اور عبرت کا باعث ہوگا۔

Coat of arms of the House of Visconti, on the Arch-bishops' palace in Piazza Duomo, in Milan, Italy.

Coat of arms of the House of Visconti, on the Arch-bishops’ palace in Piazza Duomo, in Milan, Italy.

میلان کے وِزکونٹی خاندان نے ایک قوی الجثہ سانپ کے نشان کو اپنی علامت کے طور پر اپنایا ۔ اس سانپ کو اطالوی میں بِزکوائن کہا جاتا ہے ۔ اِس سانپ کا منہ کھلا ہے اور ایک “ساراکین” کو نِگل رہا ہے۔ ساراکین کا لفظ میڈیول زمانے میں اہلِ شرق، اہلِ اسلام یا عربوں کے لئے مستعمل تھا۔ غالب گمان ہے کہ . . . ساراکین یا ساراسین کا لفظ، عربی لفظ ‘شرقیّوں’ سے ماخوذ ہے۔ یہ علامت آج بھی میلان سے بخوبی منسوب ہے۔

420px-Coat_of_arms_of_the_House_of_Visconti_(1395).svg
600px-Alfa_Romeo.svg

-برنابو وِزکونٹی :

1323-1385

برنابو ایک اطالوی سپاہی تھا جو بعد میں میلان کا لارڈ اور گورنر بنا۔ میلان میں پیدا ہوا۔ 27 سال کی عمر میں ویرونا کے لارڈ کی بیٹی “بیٹرائس” سے شادی ہوئی جس سے دونوں شہروں میلان . . اور . . ویرونا میں سیاسی اور ثقافتی تعلقات بڑھے۔

Bernabò_e_Beatrice_Visconti

O Barnabo Visconti, Milan’s great
God of delight, scourge of Lombardy, why
Should not all your misfortunes I relate
Once you had climbed to an estate so high
Your brother’s son, in double sense ally
Your nephew and your son-in-law as well
Put you inside his prison, there to die
Though why or how I do not know to tell

-1354میں اپنے چچا جیوانی کی وفات پر میلان کا لارڈ بنا۔ اقتدار کو وسعت دینے کے جنون میں، بہت سی جنگی مہمات کے بعد ، ویرونا سمیت کئی مشرقی علاقوں پر قابض ہوگیا ۔ برنابو کے ساتھ اِن علاقوں کی حکمرانی میں اُس کے دو بھائی، ماتیو اور گلیاتزو بھی شریک تھے۔ ماتیو پر چالاکی کا شُبہ گزرا تو باقی دونوں نے1355میں اُس کے کھانے میں زہر ڈلوا کر اُسے مروادیا۔ اُس کی جاگیر کو برنابو اور گلیاتزو نے شرقاََ غرباََ آپس میں تقسیم کرلیا۔

Galeazzo II Visconti

Galeazzo II Visconti

کچھ عرصے بعد ، برنابو کے بھائی گلیاتزو کی صحت خراب ہونے لگی ، اور اُس نے اپنی زندگی پاویا کے شہر تک محدود کرلی جہاں ایک عالی شان قلعہ اُس نے خود بڑے اہتمام سے تعمیر کروایا تھا۔ گلیاتزو نے ریاست کے مجرموں کو “پہیے پر پھانسی” دینے کی وجہ سے بہت بدنامی کمائی۔ پہیہ ، پُر اذیّت سزائے موت دینے کا ایک آلہ تھا جس میں ریاستی یا سرکاری مجرموں کو نوکدار کیلوں والے ایک بڑے چوبی پہیے سے باندھ کر لوہے یا لکڑی کے لَٹھ سے مارا جاتا جس سے اُن کی ہڈیاں ٹوٹ جاتیں۔ ایک دن ہولناک تعذیب اور تشدد ہوتا اور ایک دن چھوڑ دیا جاتا ۔ چالیس دن تک جاری رہنے والی اِس سزا کے لئے کلیسائی اصطلاح ‘قارسیما’ استعمال کی جاتی تھی جس کے معنی چالیس دن کا عمل یا چِلّہ ہے۔ یہ پہیہ اُنیسویں صدی تک جرمنی میں مستعمل تھا۔

Cartoucheroué
a96697_a458_st-catherine

برنابو ایک ظالمانہ ، بےرحم حکمران اور چرچ کا سفّاک دشمن تھا۔ اطراف کی ریاستوں سے مستقل جھڑپیں جاری رکھنے پر1364میں ایک امن معاہدے کے تحت برنابو پر5لاکھ اطالوی سکوں کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ اس کے بعد بھی اُس نے متعدد بار اپنے اطراف کے شہروں پر چڑھائی کی۔ جب اُس نے پوپ کے شہر بولوگنا پر قبضہ کیا تو پوپ اربن پنجم نے اِس کی اتھارٹی مسترد کردیا ۔ برنابو کئی بار پوپ کے خلاف محاذ آرا ہوا لیکن ہر بار پوپ اور کلیسا کے وفادار فوجیوں کے ہاتھوں منہ کی کھانا پڑی۔

Visconti,_Barnabò

اِن حرکتوں کی وجہ سے1373میں برنابو اور گلیاتزو پر دین سے خارج ہونے کا تکفیری حکم اور قطع تعلق کا فرمان جاری کردیا گیا۔ کلیسائی جائیداد ضبط کرلی گئی۔ لین دین اور معاشرتی تعلقات سے منع کردیا گیا۔ بارنابو کو لادین قرار دے کر اُس کے خلاف کروسیڈ کو جائز قرار دیا گیا۔

برنابو نے . . . . پوپ کا فرمان لانے والے دو قاصدوں یا مندوبین کو حراست میں رکھا اور انھیں مجبور کیا کہ وہ . . . چمڑے کا فرمان، اُس پر لگی مہر اور ریشمی ڈوری ، جس سے فرمان باندھا گیا تھا، کھائیں۔

quill and parchment

-1378 میں ایک طرف گلیاتزو کی موت واقع ہوئی اور دوسری طرف میلان میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی لیکن ایسے میں بھی برنابو کی شورشیں جاری رہیں اور اُس نے کلیسا کے خلاف مزاحمت جاری رکھی۔ اُس وقت تک برنابو کی خود سر مطلق العنانیت اور بے تحاشا ٹیکسوں نے میلان کے عوام کو مشتعل کردیا تھا۔ ظلم آخری حد پہ پہنچ چکا تھا اور اقتدار کی سرمستی سر چڑھ کر بول رہی تھی۔ ازل کے فیصلوں میں ایسی بدمستی کے بعد زوال کا وقت طے ہے۔

402px-Josse_Lieferinxe_-_Saint_Sebastian_Interceding_for_the_Plague_Stricken_-_Walters_371995

آخرکار1385میں بارنابو کے بھتیجے، گیان گلیاتزو وِزکونٹی نے اُسے معزول کردیا اور اپنے لارڈ ہونے کا اعلان کردیا ۔ گیان نے اپنے چچا برنابو کو اطالوی صوبے لومبارڈی، کے ضلع میلان کے علاقے ٹریزو میں واقع، طاقتور وزکونٹی خاندان کی ملکیت ایک بہت بڑے اور مضبوط قلعے میں قید کروادیا۔ قسمت کی ستم ظریفی دیکھیئے . . . کہ بارنابو اپنے دورِ حکومت میں خود ٹریزو کے اس قلعے کا مختارِ کُل رہا تھا اور اِس قلعے کی تعمیر اور آرائش پر خصوصی توجہ دی تھی۔

2013-09-07-15-39-23

اِس قلعے میں برنابو آخری سانس تک قید رہا ۔ کہا جاتا ہے کہ اُسی سال کے آخر میں اُسے بھتیجے کے حکم پر زہر دے کر مار دیا گیا تھا۔ جبر و استبداد اور طاقت کے گھمنڈ کے بعد قلعے کی خاموش اور کرخت دیواروں کے درمیان بےبسی کی موت نے برنابو کو اپنی آغوش میں لے لیا ۔

برنابو وزکونٹی کی سترہ اولادیں ہوئیں جن میں سے سات بیٹیاں تھیں۔ ایک بیٹی “ویلنٹینا” کی شادی پیٹر دوم آف سائپرس سے ہوئی ۔ جبکہ ایک بیٹی “کترینا وزکونٹی” نے اپنے چچا کے بیٹے “گیان گلیاتزو وزکونٹی” سے شادی کی اور ڈچس آف میلان کہلائی۔ اُس کے دو بیٹوں گیان اور فلپّو میں سے تخت و تاج فلپّو کے نصیب میں آیا اور وزکونٹی خاندانِ عالیہ کی روایت قائم رہی۔ البتہ فلپّو، وِزکونٹی خاندان کے آخری مرد کی حیثیت سے1447میں اِس دنیا سے رخصت ہوا۔ اُس کی واحد طبعی اولاد، اُس کی بیٹی “بیانکا ماریا ” تھی جو ایک کنیز کے بطن سے تھی۔ یوں میلان کا تخت ، جس کی خاطر زمین کئی بار وزکونٹی خون سے رنگی گئی، وِزکونٹی خاندان سے سفورزا خاندان کو منتقل ہوگیا۔ میلان کا اقتدار، فلپّو کی بیٹی کے ذریعے اُس کے داماد فرانسسکو سفورزا اوّل کے نصیب میں آیا جو ایک اطالوی سُورما کی سات غیر قانونی اولادوں میں سے ایک تھا۔

Bianca_Maria_Visconti_and_Francesco_I_Sforza

Bianca_Maria_Visconti_and_Francesco_I_Sforza

بارنابو وِزکونٹی کی اپنی تیرہ غیر قانونی اولادیں تھیں جن کو1384کی ایک تقریب میں قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔

برنابو کے بعد اُس کا بھتیجا گیان گلیاتزو وِزکونٹی میلان کی حکومت کو بامِ عروج پر لے گیا۔ وہ میلان کا پہلا ڈیوک اور “سی نی یور” کہلایا ۔ بہت سی تعمیرات اور اصلاحی کام کروائے۔

Gian Galeazzo Visconti

Gian Galeazzo Visconti

میلان کا مشہور گرجا گھر / دوعومو دی میلانو/ Duomo di Milano
اٹلی کے شہر میلان میں واقع ہے اور میلان کے آرک بشپ کی نشست ہے۔ گیان گلیاتزو نے اس گرجا گھر کی تعمیر میں خصوصی دلچسپی لی، مشہور معمار متعین کئے ۔ لگ بھگ ڈیڑھ سو میٹر بلند گرجا گھر کیتھولک عیسائی طرز عبادت کی روایات، غیر معمولی ورثہ اور شاندار گوتھک طرز تعمیر کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ چودھویں صدی عیسوی سے انیسویں صدی عیسوی تک تعمیر ہونے والے اس گرجا گھر کا شمار دنیا کے بڑے ترین گرجا گھروں میں ہوتا ہے۔

Duomo Di Milano

Duomo Di Milano


OLYMPUS DIGITAL CAMERA

پاویا کا “وزکونٹی قلعہ” بھی ایک نشانِ عبرت ہے جسے برنابو کے بھائی گلیاتزو نے تعمیر کروایا اور وہیں قیام پذیر رہا۔ بعد ازاں گیان گلیاتزو نے اِس سے ملحقہ ایک چارٹر ہاؤس بنوایا ۔ چارٹر ہاؤس سے مراد مختلف عمارات پہ مشتمل ایسا کمپلیکس ہے جس میں گرجا گھر، خانقاہیں، راہبوں کے حجرے، مزار اور مقبرے، میوزیم، لائبریری، رہائشی محلات اور دربار شامل ہوں۔ چارٹر ہاؤس کی عمارات پہلے پہل کلیسائی اثر کے تحت سادہ بنائی جاتی تھیں مگر بعد ازاں رینے سانس نے جدّت کی راہیں کھولیں اور کلیسا ئی گرفت کمزور پڑنے لگی ۔

پاویا کا وزکونٹی قلعہ

پاویا کا وزکونٹی قلعہ


800px-Lombardia_Pavia2_tango7174
pavese-certosa-chiostro_piccolo_or-foto_U.Barcella
800px-PathToTheCertosaDiPavia
pavese-certosa-chiostro_grande-foto_U.Barcella
Pavese-Certosa_di_Pavia_(PV)-int

رینے سانس کے زیرِ اثر اِن عمارات اور اِس چارٹر ہاؤس کے لئے نامور مصوّر اور معمار متعین کئے جاتے جو غمِ روزگار سے بےگانہ ہوکر لازوال شہ پارے تخلیق کرتے۔ رینے سانس یا نشاۃ الثانیہ کا بہت سا تخلیقی کام اسی طرح وجود میں آیا ۔ پاویا کے چارٹر ہاؤس میں ، جہاں وزکونٹی خاندان کے مقبروں پر مشتمل شہرِ خاموشاں اِس دنیا کی بے ثباتی کی داستان ہے ، وہیں سو سے زائد مصوّروں کے بےمثل شہ پارے آویزاں ہیں جو رینے سانس آرٹ میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ یہیں لیونارڈو ڈونچی کی پُراسرار مسکراہٹ والی “مونا لیزا ” بھی آرٹ کے قدردانوں میں گھِری نظر آتی ہے۔

800px-MonaLisaShield

آج کے میلان میں جابجا وِزکونٹی خاندان کے پُرشکوہ محلات اور مضبوط، بلند و بالا قلعے دیکھنے والوں کی دلچسپی کا باعث ہیں۔ اِن میں ٹریزو کا قلعہ سرِ فہرست ہے۔ دو جانب سے دریا میں گھِرا ، یہ وہی قلعہ ہے جہاں برنابو نے قید میں آخری لمحات گزارے اور پھر زہر خورانی سے ہلاک ہوا۔ ایک شاندار زندگی کے بعد زوال آیا اور پھر بے بسی کی موت اُس کا مقدر ہوئی۔ بس اقتدار کو جانے والا راستہ ایسا ہی مشکل ہوتا ہے جہاں چلنے والے بڑے بڑے پھسل جاتے ہیں اور بدنام ہوکر اگلے جہان سِدھارتے ہیں۔ میلان کے سفورزا قلعے میں برنابو کا ایک مجسمہ بھی عبرتِ عالم بنا کھڑا ہے۔

Castello de trezzo

Castello de trezzo


Trezzocentraletaccani-Centrale Taccani Trezzo d'Adda
Castello_Sforzesco

Castello_Sforzesco


Monument to Bernabò Visconti (1323-1385). The monument comes from the now demolished church of San Giovanni in Conca (whose ruins s