Home » Canterbury Tales » The monk narrates of De Petro Rege de Cipro – 38

The monk narrates of De Petro Rege de Cipro – 38

کینٹربری کہانیاں یوں جاری ہیں کہ تمام مسافر ، مونک کے المیہ تذکرے سُن رہے ہیں اور اب مونک بارہویں صدی کے اطالوی برنابو وِزکونٹی کی ہلاکت کے بعد ، سولہواں کردار متعارف کرواتا ہے۔

-پیٹر اوّل آف سائپرس:

1328-1369

Pierre_1er_de_Lusignan

جوکہ قبرص کا بادشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے والد کی، خود اپنی زندگی میں ہی، تخت سے دستبرداری کے بعد1358سے1369میں اپنی وفات تک یروشلم کا برائے نام فرمانروا بھی رہا۔

O worthy Peter, Cypriot king who fought
At Alexandria masterfully
And captured it, who many a heathen brought
To woe! Your lieges in their jealousy
For naught but envy of your chivalry
Have slain you in your sleep before the morrow
So Fortune’s wheel can govern what shall be
And out of gladness bring mankind to sorrow

یہ چودہویں صدی کا زمانہ تھا ۔ چونکہ قبرص اُس وقت ایسی ریاستوں کے گھیرے میں آگیا تھا جو مسلم حکومتوں کے ماتحت تھیں ، چنانچہ قبرص کو مشرقِ وسطٰی میں کلیسا کے نمائندہ کا درجہ دے دیا گیا تھا۔ پیٹر کو اپنی حکومت اور ریاست کی اہمیت کا بخوبی اندازہ تھا ۔ اور اسی ناطے اُسے خود پہ عائد ذمہ داریوں کا شدت سے احساس تھا۔ وہ مسلم حکومت سے مقبوضہ یروشلم واپس لینے کے لئے پُرعزم تھا۔

cyprus-location

اطراف کی مسلم ریاستیں قبرص کے لئے ایک خطرہ تھیں۔ مشرقِ قریب کی سرزمین پر1291میں آخری صلیبی جنگ اپنے انجام کو پہنچی تھی۔ عیسائی گڑھ ختم کردیا گیا تھا۔ اُس وقت ایک نئی اسلامی حکومت اُبھر کر سامنے آئی تھی اور اب . . . عثمانیوں کی آنکھ بازنطینی عیسائی سلطنت کے باقی ماندہ حصّے پر لگی ہوئی تھی جہاں سے شورش کا اندیشہ تھا۔

عثمانی حتمی اور بنیادی طور پر ایک زمینی حقیقت تھے چنانچہ لاطینی عیسائی وحدتوں کو اپنا وجود اور دفاع قائم رکھنے کے لئے سمندر ہی میسر تھا۔ قبرص کے بادشاہ کروسیڈنگ روایات کے وارث تھے تاہم پیٹر کا والد اِس معاملے میں بہت سُست ثابت ہوا تھا۔ اپنے والد کے برعکس پیٹر نے دوبارہ کروسیڈنگ روایت کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔ 1360میں ترک شہر اناطولیہ کے کنارے ایک قلعے “کوریکوس ” پر قبضے کے لئے ترکوں کے ساتھ معرکہ آرا رہا۔ قلعہ زیرِ نگین آگیا ۔ اپنے اہم محلِ وقوع کے سبب یہ قلعہ بہت سے حملہ آوروں کے ہاتھوں سے گزرتا ہوا آخرکار ترکوں کی ملکیت اور مسکن بنا۔

800px-Fortressarmenians5

پھر پیٹر یورپ کی طرف روانہ ہوا۔ یورپ اور روم کے سفر کے دوران اُس نے دیگر حکمرانوں کے سامنے ارضِ مقدسہ اور یروشلم کی فتح کا قصد ظاہر کیا اور اِس سلسلے میں اُن سے مدد کی درخواست کی۔ اُس نے انگلستان، جرمنی، فرانس، وینس، جینوا، پیراگوئے اور پولینڈ کا سفر کیا۔

پولینڈ اور پھر لندن میں تقریبات کے دوران ، رومن ایمپرر، ہنگری کے بادشاہ لوئی اول، ڈنمارک کے ولادی میر چہارم، ماسوریا کے سیموٹ، آسٹریا، پومیرینیا، باواریا اور رومن ڈیوکز سے اُس کی ملاقات ہوئی۔ لیکن اِن تمام ملاقاتوں میں اُس نے کسی سربراہ کو یورپ سے متعلق یا عیسائیت سے متعلق کروسیڈ میں شرکت کی دعوت نہیں دی۔

Feast held in London in honour of the King of Cyprus Pierre I Also present were the Kings of England, Scotland, France and Denmark

Feast held in London in honour of the King of Cyprus Pierre I Also present were the Kings of England, Scotland, France and Denmark

پیٹر، 11اکتوبر1365کو قبرصی اور مغربی قوّت کے ساتھ اسکندریہ کی طرف روانہ ہوا۔ یہ سفر کسی نتیجے کے بغیر ، . . واپسی پر ختم ہوا . . . ماسوائے یہ کہ قاہرہ کے سلطان سے اُس کے تعلقات خراب ہوگئے۔اور عیسائی تاجروں کو مصر اور شام کے تجارتی مراکز میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پوپ اربن پنجم نے اِس صورتِ حال کے پیشِ نظر پیٹر کو فوری طور پر سلطانِ مصر سے صلح کرنے کا کہا۔

The sword was made in Italy in the mid-14th century. Its first duty was diplomatic, as a gift to the Mamluk Sultan of Egypt al-Nasir Hasan from Peter I, By Peter’s time, Cyprus was the last Crusader state in existence.

The sword was made in Italy in the mid-14th century. Its first duty was diplomatic, as a gift to the Mamluk Sultan of Egypt al-Nasir Hasan from Peter I, By Peter’s time, Cyprus was the last Crusader state in existence.

پھر پیٹر نے بیروت پر حملے کا ارادہ کیا . . . لیکن وینس کی جانب سے اُسے معاوضے کے بدلے دمشق پر حملے سے روکا گیا۔ جنوری1366میں طرابلس پر چڑھ دوڑنا، ناکام رہا اور ایک بار پھر پوپ اربن پنجم نے اُسے مصر کے ساتھ امن مذاکرات میں شامل کیا۔

مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ تجارت سے قبرص نے بہت فائدہ اُٹھایا ۔ پیٹر کے وقت میں قبرص کا مشرقی ساحلی شہر “فاماگوستا” بحیئرہء روم کا امیر ترین شہر تھا جہاں آج بھی ترک عمارات نظر آتی ہیں ۔

Lala-Mustafa-Pasa-Mosque-Famagusta-Cyprus

Lala-Mustafa-Pasa-Mosque-Famagusta-Cyprus

مصر کے سلطان نے پیٹر کے طرابلس پر حملے کو صریحاََ بدنیتی سمجھا اور اُس کے ساتھ تجارتی تعلقات نہیں چاہتا تھا۔ سلطانِ مصر نے ایشیائے کوچک کے امراء کو دفاعی امداد دی تاکہ پیٹر کے خلاف کاروائی کی جاسکے۔ ۔ ۔ پیٹر کی، شام کے ساحل، طرابلس اور شامی شہر “لاذقیہ” پر جھڑپیں جاری رہیں اور سلطان سے تعلقات بگڑتے چلے گئے۔ پیٹر کے فوجی دستے دفاعی اخراجات کے لئے آمدنی تنگ ہونے پر بحیرہء روم کے کنارے اسلامی چھاؤنیوں پر چھاپے مارتے اور حاصل ہونے والے مال سے گزارا کرتے۔

The-Taking-of-Alexandria-by-Guillaume-de-Machaut-1372-1377

اِسی دوران قبرص میں اندرونی معاملات انتشار کا شکار ہوگئے، پیٹر اپنے مشیروں اور مصاحبوں کی طرف سے عدم اعتماد کا شکار ہوگیا۔ اور . . . 17جنوری1369کو اُسی کے تین نائٹز اور جرنیلوں نے اُسے اپنے ہی محل کی خوابگاہ میں قتل کردیا ۔

Assassinat of king peter 1 of cyprus

Assassinat of king peter 1 of cyprus

بےانتہا جرات کے باوجود ایک عبرتناک موت پیٹر کا مقدر بنی۔ پیٹر کئی غلط فیصلوں کے باوجود اپنے صلیبی عزم اور ارادے کی وجہ سے بہادری اور شجاعت والا سُورما مانا جاتا ہے۔

2012-03-06 07.40.37

One thought on “The monk narrates of De Petro Rege de Cipro – 38

  1. Pingback: The End of Monk’s Tale – 40 | SarwatAJ- ثروت ع ج

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s