The Nun’s Priest’s Tale – 41

کُل سترہ ٹریجیڈی احوال کے بعد میزبان نے مونک کا شکریہ ادا کیا اور اُسے اپنی کہانی موقوف کرنے کو کہا ۔ اب نن کی ہمراہی میں سفر کرنے والے پریسٹ/Priest کی باری تھی کہ وہ اگلی کہانی سنائے۔ مونک کی المیہ کہانیوں کے پیشِ نظر ، میزبان نے پریسٹ کو تاکید کی کہ کہانی پُرلطف ہونی چاہیئے ۔

نن کے پریسٹ کی کہانی:

پریسٹ نے ایک معمر بیوہ کی کہانی سنائی ۔ ایک جنگل کے کنارے، قدرے نشیب میں اُس بڑھیا کا جھونپڑا تھا۔ وہ ایک چھوٹے سے کھیت میں محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنی بیٹیوں کا پیٹ پالتی تھی۔ گھر کے صحن میں بڑھیا کی مرغیوں کا ڈربہ تھا ۔ بڑھیا کا پولٹری فارم کُل سات مرغیوں اور ایک مرغے سے آباد تھا۔ مرغے کا نام ‘چانٹی کلیر’ Chanticleer تھا جو کہ بانگیں دینے میں ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اُس کا رنگ دیدہ زیب، شوخ اور چونچ سیاہ تھی۔ اِن مرغیوں میں ایک خوش بخت ‘پرٹی لوٹ’Pertelote مرغے کی محبوب اور منہ چڑھی تھی۔

ایک صبح جنابِ چانٹی کلیر بہت متفکر اور خاموش ، اپنے باغیچے میں ٹہل رہے تھے۔ ذہین پرٹی لوٹ نے اُداسی بھانپ کر سبب پوچھا ۔

مرغے نے کہا کہ ایک بُرا خواب دیکھ کر پریشان ہوں، جانے کیا معاملہ ہو، اُس نے خُدا سے دعا کی کہ خواب کی تعبیر نیک ہو۔ خواب سناتے ہوئے مرغے نے کہا : کیا دیکھتا ہوں کہ شکاری کتے جیسا کالے کانوں والا، ایک سُرخ اور پیلا جانور ہمارے صحن میں ہے جس نے میرا تعاقب کرتے ہوئے مجھے ہلاک کردیا ہے۔

پرٹی لوٹ نے اُسے حوصلہ دیا کہ ضروری نہیں کہ ہر خواب ہی سچا ہو۔ کبھی کبھی پیٹ کی گڑبڑ سے نیند ٹھیک نہیں آتی اور مضمحل طبیعت کے سبب بھی بےمعنی خواب نظر آتے ہیں ۔ وہ خاطر جمع رکھے اور پریشانی کو دل میں جگہ نہ دے ۔ بی مرغی نے مرغے میاں کے لئے کچھ جڑی بوٹیاں لانے کا ارادہ ظاہر کیا جن سے اُس کی طبیعت ٹھیک ہوجائے گی۔

چانٹی کلیر نے اپنی بات پر مُصر رہتے ہوئے کہا کہ خواب ضرور اہمیت رکھتے ہیں اور آنے والے واقعات کا اشارہ دیتے ہیں۔ وہ بھی اپنی جگہ پورا دانشور تھا اس لئے اُس نے اپنی بات کی تائید میں کئی مثالیں دیں جیسے کہ ایک شخص نے خواب میں اپنے دوست کو قتل ہوتے دیکھا ۔ جس کی لاش کو گوبر اُٹھانے والے چھکڑے پر چھپایا گیا تھا۔ وہ شخص اپنے خواب کے مطابق، اُسی جگہ گیا جہاں کی نشاندہی کی گئی تھی تو وہاں اُسے اپنے دوست کی لاش مِلی۔

اِسی طرح ، چانٹی کلیر نے اُن دو دوستوں کی مثال بھی دی جن کو ایک سمندری سفر کرنا تھا اور اُن میں سے ایک دوست نے خواب دیکھا کہ وہ ڈوب رہا ہے۔ اُس نے دوسرے کو خواب سنایا تو دوسرے نے اُس کا مذاق اُڑایا اور وہ سفر پر روانہ ہوگئے۔ سفر کے دوران کشتی کے پیندے میں سوراخ ہوا اور وہ ڈوب گئے۔ چانٹی کلیر نے کچھ اور بھی مثالیں دیں۔

خواب اور تعبیروں کے موضوع سے اُکتا کر ، چانٹی کلیر نے پرٹی لوٹ سے کہا: میری نازنیں، زندگی تو فنا ہونے والی چیز ہے، اِس کے لئے پریشانی اور قلق کیسا ؟ آؤ پیاری کچھ دِل لگی کی باتیں کریں جن سے طبیعت بہل جائے۔ جانے دو اِن غیب کی الہامی باتوں کو ، آج تمہارے رُخسار اور زلف کی کچھ بات ہو، تمہاری مدُھر کُٹ کٹاک سے میرے من کے تار گُنگنائیں، تمہارے چہرے کے حُسن میں کھو جاؤں ۔ کتنے نصیب کی بات ہے کہ تم میری شریکِ حیات ہو۔ تمہارے پیار بھرے ساتھ کی وجہ سے میں تمام عالم کے غم سے بےگانہ ہوجاتا ہوں۔ آؤ دِل کے بہلانے کو کچھ میٹھی دِلنشیں باتیں ہوں۔

پھر اُس نے پرٹی لوٹ کو ایک ضرب المثل سنائی کہ . . .وہ جو کہتے ہیں کہ . . اچھی عورت کے دم سے مرد کی زندگی نعمت بن جاتی ہے۔ اِسی طرح وہ دیر تک اپنی محبوب بیوی پرٹی لوٹ سے راز و نیاز کی باتیں کرتا رہا، اور اس کے دل سے خواب کی پریشانی جاتی رہی۔

مارچ کا مہینہ تقریباََ گزر چکا تھا جب ایک دن مُرغا چانٹی کلیر بڑے تپاک سے صحن میں چہل قدمی کررہا تھا ۔ اُس کی مرغیاں ، اُس کے دائیں بائیں ٹہلتی ہوئی ٹھونگیں لگا رہی تھیں۔ اِسی اثنا میں ایک سیاہ لُومڑ اُس طرف آنکلا ۔

026-chanticleer-and-dan-russell

چانٹی کلیر فرار ہونے کے لئے کے لئے پر تول ہی رہا تھا کہ لومڑ نے سلام دعا شروع کرتے ہوئے کہا کہ وہ تو چانٹی کلیر کے ماں باپ کا پرانا واقف ہے۔ لومڑ نے چانٹی کلیر کے باپ کی خوبصورت بانگ کی تعریف کرتے ہوئے ویسی ہی بانگ کی فرمائش کی۔ چانٹی کلیر نے بانگ دینے کے لئے ابھی گردن اکڑائی ہی تھی کہ لومڑ نے اُسے گردن سے دبوچا اور جنگل کی طرف بھاگ گیا ۔ مرغیوں نے اپنے سرتاج کے اغوا ہونے پر دُہائی ڈال دی۔

056-after-him-the-fox nun s oriest

بے چاری بڑھیا اور اُس کی دو بیٹیوں نے مرغیوں کی کٹ کٹاک اور آہ و فغوں سنی تو وہ بھی جنگل کی طرف بھاگیں۔ گاؤں کے کچھ مرد اور بچے بھی ساتھ بھاگ پڑے ۔ چانٹی کلیر نے بڑی دقّت سے آواز نکالتے ہوئے لُومڑ سے کہا کہ دیکھو شکاری بھیا، اب مزہ تو تب ہے کہ . . تم اِن پیچھا کرنے والوں کو گالیاں دو اور کہو کہ پیچھا کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ . . اب تم مجھے کھا جاؤ گے ۔

113-all-the-neighbors-joined
A Scene from The Nun's Priest's Tale

لومڑ کو آئیڈیا اچھا لگا اور جیسے ہی اُس نے منہ کھولا . . .چانٹی کلیر پھڑپھڑاتا ہوا اُڑ کر ایک درخت کی ٹہنی پر جا بیٹھا ۔ لومڑ نے ہزار کہا کہ . . بھیا ، نیچے آجاؤ، میں تمہیں سچ میں کھا ہی تو نہ جاؤں گا۔

Renart_illumination

مگر چانٹی کلیر موت کے منہ میں جا کر واپس آیا تھا اور دوبارہ ایسی سنگین غلطی نہیں کرسکتا تھا ۔ لومڑ نے ہار مان لی ، بہت پچھتایا اور اُن سب پہ ملامت کی . . . جو خاموش رہنے کے وقت بول پڑتے ہیں ۔ کبھی کبھی بات کرنے کا وقت نہیں ہوتا ، خاموش رہنے کی ساعت ہوتی ہے، جن وقتوں میں خاموش رہنا ، عافیت کا وسیلہ ہوتا ہے اور نادان لوگ ایسے میں بول کر اپنا نقصان کرلیتے ہیں۔

So you see, this is what happens when you allow yourself to fall prey to flattery. But all those of you who think that this tale is just a foolish fable about a fox, or a cockerel and a hen, be aware of the moral of the story, good men. Saint Paul wrote that all that is written is there for our instruction. Take the heart of the matter, and let the rest blow away like chaff in the wind

Now goode God, if that it be thy wille,
As seith my lord, so make us alle goode men,
And brynge us to his heighe blisse. Amen۔
Now God, if it is your desire, make us all into good men and grant us heaven at last. Amen

میزبان نے اِس شگفتہ کہانی کا لُطف اُٹھاتے ہوئے، تمام مسافروں کو اِس کے مرکزی خیال کی طرف توجہ دینے کا مشورہ دیا اور یوں . . . نن کے پریسٹ کی کہانی ختم ہوئی اور زائرین کا سفر جاری رہا ۔

‘Sir Nun’s Priest,’ said our host. ‘God bless the seat of your pants and every one of your balls! This was a merry tale of Chanticleer. By my faith, if you were not of the clergy I bet you would be a proper breeding-fowl, having hens to keep you satisfied to the number of seven times seventeen and more – yes! – do you see the muscles on this noble priest, his great neck and manly chest? His eyes are like a sparrow-hawk’s! His complexion is like an artists’ pigments, and no need to embellish them with colours from Portugal! May fortune smile upon you, sir, for this tale

Then, with a merry laugh, he turned to another of the pilgrims

269-nus-priests-tale

Advertisements

The End of Monk’s Tale – 40

اپریل کا مہینہ ہے جس میں اُنتیس زائرین کینٹربری کے بڑے کلیسا کی جانب مذہبی زیارت کے لئے رواں دواں ہیں اور چودہویں صدی کے سفر کی صعوبت کے پیشِ نظر ، اِن مسافروں نے باہم کہانیاں سناکر وقت گزاری کا منصوبہ بنایا۔ سفر کی مشکلات سے نبرد آزما ہونے کے علاوہ، کہانی سنانے کا فن ، کم از کم اُتنا ہی پرانا ہے جس قدر پرانا خود انسان ہے۔ کہانی سناکر، کہانی سُن کر اور نسل در نسل کہانی منتقل کرکے ہی روایات کا ایک بڑا حصہ ارتقائی منازل طے کرتا ہوا آج کی موجودہ شکل تک پہنچا ہے۔ کلاسیکی سٹیج ڈرامے، فلم سازی، جدید دور کا ڈرامہ، تھری ڈی ، اینیمیٹیڈ اور تاریخی فلمیں، سب کہانی کاری کے پہلو سے ہی نمودار ہونے والی اصناف ہیں۔

اب ایسا ہوا کہ جب میزبان نے مونک سے کہانی کی فرمائش کی تو مونک نے اُس چلن سے ہٹ کر کہانی سنائی جو کہ پہلے سے مسافروں میں چل رہا تھا۔ مونک نے اپنے منصب کے اعتبار سے ، اپنی علمی لیاقت کی غمازی کرتے ہوئے، دیومالائی، تاریخِ قبل مسیح اور ماضی قریب کی چند شخصیات کا حال سنایا ۔

The monk says: I will lament, then, in the manner of tragedy, the suffering of those who once enjoyed a high status in this world and then fell from grace in such a dreadful way that there was no hope of them ever recovering from it. Certainly, when fortune flies from us, no one has the power to alter her course. So let no man feel secure in his prosperity. Draw caution from these old and true stories

.

اِن سب شخصیات کے چُناؤ میں یہ بات مماثل تھی کہ یہ سب کردار بدترین انجام سے دوچار ہوئے ۔ زندگی میں، کسی نہ کسی سبب انہوں نے عروج پایا لیکن اپنی خطا یا قسمت کے پھیر کی وجہ سے زوال کا سامنا کیا ، دردناک موت دیکھی، بےبسی اور ذلّت اِن کا مقدّر ہوئی۔

اِن کرداروں میں سے بیشتر کا ماخذ بائبل ہے اور چونکہ مونک خود ایک کلیسائی کردار ہے تو ظاہری بات ہے کہ اُس کی علمی مہارت کا شعبہ یہی تھا۔ مونک نے لوسیفر، آدم، ہرکولیئس، سیمپسن، بخت نصر، بیلشضر ، ہولوفرنو، کریسص، سکندرِ اعظم، ملکہ زینوبیا، انطیوخوس، جولئیس سیزر، نیرو، ہوگولینو، بارنابو وِزکونٹی، پیٹر آف قبرص اور پیٹر آف قشتالہ کی المناک رودادیں سنائی۔

The monk tells a series of tragic falls and claims to have a hundred of these stories but the Knight stops him after only seventeen, saying that they have had enough sadness and depression. In all these stories, noble figures are brought low and experience a fall from grace. The Knight finds his listing of historical tragedies monotonous and depressing

کل سترہ ٹریجیڈی احوال سنانے کے بعد ، نائٹ نے مونک کو ٹوکنا مناسب سمجھا کیونکہ پے در پے زوال ، ہزیمت اور موت کے تذکرے سُن سُن کر تمام زائرین یاسیت کا شکار ہونے لگے تھے۔دل ڈوبنے لگے تھے اور اُن کے چہروں سے ہبوطِ نفس اور ہیبت عیاں تھی۔ میزبان نے بھی، مونک کی بات کی تائید کی اور اِن تاریخی المیوں کو روک دینے میں ہی عافیت جانی۔

Here the Knight “stynteth” (stops) the monk’s tale

نائٹ نے کہا کہ یوں تو تاریخی واقعات میں عبرتِ عالم ہوتی ہے اور زوال پذیر ہونے والے افراد کا حال جان کر انسان سبق اور تجربہ حاصل کرتا ہے مگر اب یہ سلسلہ روک دینا اچھا ہے کہ ماحول بہت بوجھل اور سوگوار ہوچلا ۔

The Canterbury Pilgrims

ہونے کو تو یہ اتفاقیہ بات بھی ہوسکتی ہے کہ نائٹ ہی وہ شخص ٹھہرا جس نے مونک کو الم و غم بھرے حالات سنانے سے روکا۔ لیکن ، کہانیوں کے آغاز میں ، نائٹ کا جو شخصی خاکہ پیش کیا گیا ہے اُس کے مطابق تاریخ، تخت اور مبارزت سے متعلق واقعات نائٹ کی دلچسپی کا محور ہوتے . . . اور یہاں نائٹ ہی اُکتاہٹ کا شکار ہوا۔

ماہرینِ ادب نے کڑی سے کڑی ملا کر ، اِس بات کی یہ توجیہہ پیش کی ہے کہ نائٹ کے تعارف میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ وہ بہت سے صلیبی معرکوں میں اپنے جوہر دکھا چکا ہے جن میں سکندریہ پر حملے کی جنگی مہم کا ذکر تھا ۔ چنانچہ اگر وہ سکندریہ پر لشکر کشی کرنے والے صلیبی دستے میں شامل تھا تو یہ وہی صلیبی جنگ ہوئی جس کی کمان قبرص/سائپرس کا پیٹر اوّل کررہا تھا۔

یہی بات ہے کہ نائٹ اپنے سابقہ آرمی چیف کا المیہ سُن کر دلبرداشتہ ہوگیا، اپنے سپہ سالار کے لئے ایسا محسوس کرنا بالکل فطری تھا ، اُس سے رہا نہ گیا اور وہ بول پڑا۔ یوں مونک کی المیہ داستانوں کا سلسلہ سترہ سے آگے نہ بڑھ سکا۔ سترہ شہرہ آفاق شخصیات کے مؤلم انجام کے بعد مونک خاموش ہوا اور میزبان نے قافلے میں شامل ایک پریسٹ سے درخواست کی کہ اگلی کہانی وہ سنائے۔

‘Ho!’ quod the knight, ‘good sir, namore of this, that ye han seyd is right y-nough, y-wis, and mochel more…

‘Hey!’ exclaimed the knight. ‘Good sir, no more of this! What you have said is quite enough – in fact, I would say, too much! A small amount of seriousness is enough for most people. For myself, I think it’s a great shame when someone who’s enjoyed wealth and comfort loses it all suddenly. It’s a huge pleasure to hear of its opposite, in fact. If a man who has been poor betters himself and climbs up the social ladder, has some good luck and ends up living in prosperity – a thing like this is a pleasure to hear, to my way of thinking, and makes for a much better tale.’
‘I totally agree!’ exclaimed our host. ‘By the bell of Saint Paul’s, you’re right! This monk chimes on and on about “fortune overshadowed by a cloud” or some other crap
‘Sir Monk, may God bless you, but no more of this. Your tale is annoying us. Such talk is not worth a butterfly. There is no pleasure to be gained from it. Therefore Sir Monk, Sir Peter rather, I plead with you, tell us about something else. If it wasn’t for the clinking of all the bells hanging from your bridle
‘No,’ replied the monk. ‘I can’t be bothered any more. Let someone else have their go, for I have finished.’
‘Come here then, Sir Priest, come over here Sir John,’ said the host to one of the Nuns’ Priests, rather roughly and insistently. ‘Tell us something that will make us laugh. Be upbeat, although I can see you’re riding an old nag; but so what if your horse is mangy and thin? If he serves your purpose, he’s good enough, so be in good spirits.’
‘Yes, sir,’ replied the Nun’s Priest. ‘Yes, host, I will be merry, may good luck come to me, or else I will annoy you all, I understand this.’
Then he began his tale and spoke out to everybody, this sweet priest, Sir John.

The monk mourns Pedro of Castile – 39

چاوسر کی کینٹربری کہانیاں جاری ہیں ، مونک کی باری ہے اور مونک تاریخی مشاہیر کے زوال کی حکایات سنارہا ہے۔ سولہ رودادیں سنائی جا چکی ہیں اور سترہویں اب پیشِ خدمت ہے۔ آخری دو شخصیات چودہویں صدی سے تعلق رکھتی ہیں اور تقریباََ سبھی مسافرین اِن ناموں سے مانوس ہیں۔

سولہواں ماجرا، مونک نے تیرھویں صدی میں ، تخت و تاج پر متمکن رہنے والے ، سائپرس کے بادشاہ پیٹر اوّل کا ، سُنایا جو دنیا میں ایک نامور حکمران تھا مگر موت آئی تو اپنے ہی تین افسروں یعنی نائٹز نے اُسے اُس کے اپنے ہی محل کی خوابگاہ میں قتل کردیا۔ گویا تاج وری نے وہ دن دکھایا کہ اپنی آرام گاہ ہی مقتل ٹھہری۔

سترہواں ماجرا مونک نے ایک سفاک بادشاہ کا سنایا جس کا تذکرہ تاریخ دانوں نے کافی تفصیل میں کیا ہے۔ اور کئی متضاد روایات بھی ملتی ہیں۔ اس ضمن میں جو معلومات ملیں وہ قدرے طویل ہیں ۔ شاید دلچسپ اور عبرت ناک بھی۔

– پیڈرو آف کیسٹائل:

De Petro Rege Ispannie

قشتالہ کا بادشاہ پیڈرو(1334-1369)

سپین کی ریاست قشتالہ اور لیون کا بادشاہ جو ظالم پیڈرو کے نام سے مشہور ہوا۔ گیارہویں الفانسو آف قشتالہ اور اُس کی قانونی ملکہ ماریا آف پرتگال کا بیٹا تھا جس نے شیطانی بےرحمی میں نام کمایا ۔ اگرچہ اُس کے مرنے کے بعد اُس کے حمایتی طبقے نے اُسے ‘عادل پیڈرو’ کے لقب سے مشہور کرنے کی کوشش کی لیکن پھر بھی وہ ظالم پیڈرو یا پیٹر ہی کے نام سے تاریخ کے صفحات میں جانا جاتا ہے۔

Pedro of Castile

Pedro of Castile

O noble Pedro, glory once of Spain
Whom Fortune held so high in majesty
Well ought men read thy piteous death with pain
Out of thy land thy brother made thee flee
Chaucer, The Canterbury Tales

King Peter of Spain

Oh worthy Pedro, the glory of Spain, whom fortune held in such high majesty! Well might men lament your piteous death. Your brother made you flee from your land, then you were betrayed during a siege and led into his tent where he killed you. All your lands and taxes were now his. A rogue tricked you, as a hunter sets a branch that is coated with lime

سپین کا علاقہ مسلمان سپہ سالار طارق بن زیاد نے 19جولائی711 میں عیسائی بادشاہ راڈرک یا روڈریگو کو شکست دے کر حاصل کیا تھا۔ اس جگہ کا نام جرمن قوم وانڈلز(Vandalus) کی نسبت سے واندلس اور پھر اندلُس کہلایا اور بہت سی سیاسی خونی جنگوں کا میدان بنا۔

ظالم پیڈرو نے 1350سے1369تک حکومت کی باگ ڈور سنبھالی۔ کم سنی میں تعلیم کے ساتھ ساتھ مصوّری، شاعری اور موسیقی سیکھی۔نیلی آنکھوں ، پیلے بالوں اور ہکلا کر بولنے والا پیڈرو، سولہ سال کی عمر میں تخت نشین ہوا اور باقی کی تمام عمر قتل و غارت اور خونریز معرکوں میں گزری جہاں اُس کا سامنا تخت کے دعویدار، اپنے ہی دس غیر قانونی سوتیلے بھائیوں سے تھا جن میں سے دو کا ذکر تاریخ میں زیادہ آتا ہے۔ یہ اولادیں اُس کے باپ الفانسو کی ایک منظورِ نظر ‘ایلینور’Eleanor سے تھیں۔

506-Castile_1210

اِن خونی معرکوں میں فرانس، انگلستان اور پُرتگال کے شاہی خاندانوں کے فوجی دستے بھی ، اُسی اعتبار سے شامل ہوتے جیسے جیسے اُن کے مفادات یا وفاداریاں ہوتیں ۔ کیونکہ قشتالہ کے تخت نشین خاندان سے انگلستان کے آرگون خاندان کی کانٹے دار رشتہ داری اور اقتدار میں شراکت تھی۔

پیڈرو کے نزدیک حزبِ اختلاف میں ہونا دھوکہ دہی اور ظلم کے مترادف تھا۔ شکّی مزاج بادشاہ سے مصالحت کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہوتا، اشرافیہ میں سے جب کسی کو گمان ہوتا کہ بادشاہ سے صلح ہوگئی ہے تبھی اُسے قتل کروادیا جاتا ۔ اِسی کے عہد میں . . . دس سال تک بادشاہ کے مصاحبوں میں شامل رہنے والے ایک مقرّب کا سر قلم کروایا گیا تو مرنے والے نے اپنے آخری خط میں بادشاہ کو مخاطب کر کے لکھا کہ: ” موت کی اِس آخری گھڑی میں تمھارے لئے میرا صاف سچا مشورہ یہ ہے کہ تباہی سے بچنے کے لئے اپنا خونی خنجر ایک طرف رکھ دو ورنہ بدترین انجام تمھارا نصیب ہوگا ۔”

Retrato de Pedro I of castile

Retrato de Pedro I of castile

جدید ماہرینِ نفسیات پیڈرو کو نفسیاتی واہموں اور عدم تحفظ کے وسوسے کا شکار ٹھہراتے ہیں جو ہم نسل کُش اور قاتلانہ رحجان کا مالک تھا۔ جب پیڈرو کا باپ الفانسو یازدہم ایک بیماری سے مرا تو اُس کی تدفین سے پہلے ہی پیڈرو کے غیر قانونی سوتیلے بھائی اور اُن کی ماں فرار ہو کر روپوش ہوچکے تھے۔ تخت نشین ہوتے ہی اُس نے اپنے باپ کی منظورِ نظر کو قتل کروایا اور بعد ازاں سوتیلے بھائیوں فریڈریک اور ہنریک کے درپے رہا۔

فرانس کے ساتھ سیاسی استحکام کے پیشِ نظر ، پیڈرو کی شادی اُٗس کی ماں کی خواہش پہ ایک فرانسیسی شہزادی بلانچی،Blanche سے ہوئی لیکن دو دن بعد ہی بادشاہ اپنی محبوبہ اور خفیہ بیوی ماریا آف پڈیلاMaria of Padilla کے ہاں چلا آیا جس پر فرانس کے شاہی افراد اور پوپ سے متعلق حلقے سخت برہم ہوئے اور بدمزگی پھیل گئی ، چار دن بعد پیڈرو نے بلانچی کو قید کروادیا جہاں وہ قتل کروادی گئی۔ مؤرخین کا کہنا ہے کہ پیڈرو کو بےوفائی کی فطرت اپنے والد کی طرف سے ملی تھی لیکن الفانسو یازدہم نے اپنی بیوی کو قید یا قتل نہیں کروایا تھا ۔ پیٹر نے یقینی طور پر بلانچی آف بوربون کو قید کروایا تھا چنانچہ غالب گمان ہے کہ قتل بھی اُسی نے کروایا ہوگا۔ پیڈرو کے پاس دعویٰ کرنے کو ماریا آف پڈیلا کی طوفانی محبت کا عذر بھی نہیں تھا کیونکہ اُس نے ماریا سے اپنے تعلق کا انکار کرکے ہی فرانس کی بلانچی سے شادی کی تھی، اس کے علاوہ ماریا سے بےوفائی کا مرتکب ہوکر ، کاسترو خاندان کی ایک عورت سےبھی اُس کا ایک غیرقانونی بیٹا تھا۔ تاہم ماریا آف پڈیلا اُس کے حرم کی وہ واحد عورت تھی جس سے اُس کا دل کبھی نہیں اُکتایا ۔

پیڈرو کے جنگی جنون نے اُسے زیادہ سے زیادہ رقبے کو اپنی مملکت میں شامل کرنے پر اُکسایا، اور 1356سے1375تک جاری رہنے والی طویل جنگ ہوئی جسے دو پیٹروں کی جنگ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جو کہ تاجِ قشتالہ اور تاجِ آرگون کے مابین ہوئی جس میں پیٹر آف قشتالہ اور پیٹر آف آرگون مدِّ مقابل تھے۔

Capture

قشتالہ کا پیڈرو یا پیٹر ، ویلنشیا کی ریاست کو زیرِ نگین کرنا چاہتا تھا جس میں مرسیہ، الِش، الیکانتی اور اوریویلا کے شہر شامل تھے۔ سپین میں نہر شقورہ یا سفید نہر کے کنارے مُرسیہ کا شہر825میں قرطبہ کے امیر عبدالرحمٰن الداخل نے آباد کیا اور نہر شقورہ سے نکالی گئی نہروں پر مبنی ایک شاندار نظامِ آبپاشی قائم کیا جس سے شہر کی زراعت نے بےحد ترقی کی۔ گرتی اُبھرتی مسلم حکومتوں میں مُرسیہ کی ترقی جاری رہی یہاں تک کہ1266 میں جیمز اوّل آف آرگون نے مُرسیہ کو عیسائی قلمرو میں شامل کر لیا ۔

Murcia

Murcia


Entrance of James 1 in Murcia 1266

Entrance of James 1 in Murcia 1266

پیڈرو کا سوتیلا بھائی ہنریکEnrique, Henrique, Fedrique,، پیڈرو کو ‘یہودیوں کا بادشاہ’ مشہور کروانے میں کامیاب ہوگیا تھا اور قشتالہ کی یہودی مخالف آبادی میں ایسا کرنا اُس کے سیاسی مفاد میں ثابت ہوا تھا۔ اسی نے منظم قتلِ عام اور جبری تنصیری تحریکوں کی سرپرستی کی۔ جس کے بدلے میں پیڈرو نے ان تحریکوں کے سرکردہ یہودی مخالف افراد کو قتل کروایا۔ یہ ایسا زمانہ تھا جب صلیبی جنگوں کی فضا پورے یورپ پہ چھائی ہوئی تھی اور اسی سبب لوگوں میں عیسائی شعور اُجاگر کرنے کے لئے کلیسائی سرگرمیاں عروج پہ تھیں۔ سیاسی اور معاشرتی معاملات میں مذہبی تعصب نمایاں تھا۔ مسلمانوں کو بربر اور مُور کہا جاتا تھا۔

Palace-of-pedro-1

Palace-of-pedro-1

مؤرخ لکھتا ہے کہ . . . پیڈرو نے اشبیلیہ(Seville) کے محل میں اپنے سوتیلے بھائی فیڈریک کو کھانے پر مدعو کیا ۔ فیڈریک اپنے محافظوں کے ساتھ وہاں پہنچا تو اُسے خطرہ محسوس ہوا، وہ اُلٹے قدموں واپس جانے ہی لگا تھا کہ پیڈرو کے آدمی نے اُس کے سر میں گُرز دے مارا ، پیڈرو اُٹھا ور فیڈریک کے محافظوں کو خود قتل کیا ، کھانے کی میز پہ واپس پہنچا تو بھائی کو زندہ تڑپتے پایا ، ایک گارڈ کو اپنا خنجر دیا کہ فیڈریک کا کام تمام کردے۔ مؤرخ کے مطابق ، اِس کے بعد . . .پیڈرو نے وہیں کھانا کھایا جہاں سامنے اُس کے بھائی کی لاش پڑی ہوئی تھی۔

بہت سے معرکوں کے بعد ، ایک دفعہ میدانِ جنگ میں ہنری/ہنریک (Enrique ) کسی طرح پیڈرو کے خیمے میں داخل ہوگیا ۔ دونوں بھائی آمنے سامنے آئے جو کئی سالوں سے ایک دوسرے کے خلاف محاذآرائی کی تیاری کرتے رہے تھے۔ خیمے کے اندر کیا ہوا . . . اِس بارے میں کئی روایات ملتی ہیں۔ ایک روایت ہے کہ ہنریک کے ساتھی نے پکارا، یہ رہا تمھارا دشمن، چونکہ ہنریک نے عرصہء دراز سے پیڈرو کو نہیں دیکھا تھا اس لئے پہلی نظر میں پہچان نہ سکا ۔ پیڈرو نے جواباََ چلّا کر کہا : ہاں میں ہی ہوں، میں ہی ہوں۔

ایک دوسرے وقائع نگار کے مطابق، ہنریک یہ کہتا ہوا خیمے میں داخل ہوا کہ: کہاں ہے وہ یہودی طوائف کا بیٹا جو خود کو قشتالہ کا بادشاہ کہتا ہے۔پیڈرو نے جواب دیا کہ : تم ہو ایک کم ذات عورت کی اولاد جبکہ میں تو بادشاہ الفانسو کا بیٹا ہوں۔ دونوں نے ہتھیار تان لئے اور کچھ دیر بعد دونوں زمین پر گتھم گتھا تھے جبکہ قشتالہ کے تخت کی قسمت کا فیصلہ ہونے کو تھا۔ ہنریک کا خنجر پیڈرو کے سینے میں گہرائی تک اُتر چکا تھا اور اُس کی لاش اپنے ہی بھائی کے قدموں میں پڑی تھی۔

Pedro_Castile_beheading

Pedro_Castile_beheading


War of Peter the Cruel in Castile

بالآخر1369میں پیڈرو اپنے سوتیلے بھائی ہنریک کے ہاتھوں قتل ہوا جس نے اپنے آدمیوں کو مردہ پیڈرو کا سر قلم کرنے کا حکم دیا ۔ انتقام کے طور پر تین دن اُس کا سر بُریدہ جسم بے گور و کفن خیمے کے باہر لٹکا رہنے دیا جہاں وہ توہین اور تمسخر کا نشانہ بنتا رہا۔ ہنریک نے اگلے دس سال قشتالہ پر حکومت کی اور آرگون کے پیٹر سوم سے صلح کی، باہم بچوں کی شادیاں کیں جس کے نتیجے میں ان دونوں خاندانوں نے پندرہویں صدی کے سپین میں مضبوط عیسائی حکومت قائم کی۔

-1469میں تاجِ آرگون کے بادشاہ فرڈینینڈ نے . . . تاجِ قشتالہ کی شہزادی ازابیلا سے شادی کی اور دونوں شاہی خاندان شریکِ سلطنت بنے۔ یہ شادی خالصتاََ سیاسی مفادات کے لئے کی یا کروائی گئی تھی- امریکا والا کھوجی کولمبس ملکہ ازابیلا کی زیرِ پرستی1492میں نئی دنیا کی کھوج میں نکلا تھا۔مشہور مؤرخ اور لکھاری نسیم حجازی نے اپنا ناول “کلیسا اور آگ” فرڈینینڈ اور ایزابیلا کے اِس عہد کے پس منظر میں لکھا ہے۔ فرڈینینڈ اور ازابیلا، دونوں کیتھولک شہنشاہ کہلائے جنہیں اُن کی شاندار خدمات کے پیشِ نظر کلیسا نے یہ خطاب دیا۔

Fernando and Isabel

Fernando and Isabel


220px-Sabel_la_Ca izabella 1

-1492میں غرناطہ پر قبضہ کیا ۔ اسپین میں آخری مسلم امارت غرناطہ کے حکمران ابو عبداللہ نے اِن دونوں عیسائی حکمرانوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اور اس طرح اسپین میں صدیوں پر محیط مسلم اقتدار کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوگیا۔ معاہدے کے تحت مسلمانوں کو مکمل مذہبی آزادی کی یقین دہانی کرائی گئی لیکن عیسائی حکمران زیادہ عرصے اپنے وعدے پر قائم نہ رہے اور یہودیوں اور مسلمانوں کو اسپین سے بے دخل کردیا گیا۔

 ابو عبداللہ آئزابیلا اور فرڈیننڈ کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے

ابو عبداللہ آئزابیلا اور فرڈیننڈ کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے

کلیسا سے باقاعدہ حکم نامہ جاری کروانے کے بعد اِن دونوں کیتھولِک شہنشاہان(Reyes Catolics) نے سپین میں استرداد کی مہم شروع کی جو780 سال جاری رہی ۔مسلمانوں اور یہودیوں کو جبرا عیسائی بنایا گیا جنہوں نے اس سے انکار کیا انہیں جلاوطن کردیا گیا۔ جن پہ خفیہ اپنے مذہب پہ قائم رہنے کا الزام عائد کیا جاتا ، اُن کو گرفتار کرکے قید میں ڈال دیا جاتا، ٹارچر اور پوچھ گچھ ہوتی، بعض اوقات جلا دیا جاتا یا پھانسی لٹکا دیا جاتا ۔

Here is how his modern biographer, Clara Estow, sums up Pedro the Cruel:
He was raised at the age of sixteen to the most exalted post in the kingdom and, for the next twenty years, he did not enjoy more than a few moments of pleasure or peace. That many of his troubles were of his own design only makes his story more tragic than pathetic.

PETER, KING OF SPAIN
O Peter, noble, worthy pride of Spain
Whom Fortune held so high in majesty
Well should men of your piteous death complain
Out of your land your brother made you flee
And after, at a siege, by treachery
You were betrayed; he led you to his tent
And by his own hand slew you, so that he
Might then usurp your powers of government

Columbus before the Queen

Columbus before the Queen


Christopher Columbus enlisting the sympathetic interest of Isabella of Castile on behalf of his scheme for discovering the New World

Christopher Columbus enlisting the sympathetic interest of Isabella of Castile on behalf of his scheme for discovering the New World


Queen Isabella is said to have pawned her jewels to fund Columbus’s voyage to the Americas

Queen Isabella is said to have pawned her jewels to fund Columbus’s voyage to the Americas