Home » Canterbury Tales » The monk mourns Pedro of Castile – 39

The monk mourns Pedro of Castile – 39

چاوسر کی کینٹربری کہانیاں جاری ہیں ، مونک کی باری ہے اور مونک تاریخی مشاہیر کے زوال کی حکایات سنارہا ہے۔ سولہ رودادیں سنائی جا چکی ہیں اور سترہویں اب پیشِ خدمت ہے۔ آخری دو شخصیات چودہویں صدی سے تعلق رکھتی ہیں اور تقریباََ سبھی مسافرین اِن ناموں سے مانوس ہیں۔

سولہواں ماجرا، مونک نے تیرھویں صدی میں ، تخت و تاج پر متمکن رہنے والے ، سائپرس کے بادشاہ پیٹر اوّل کا ، سُنایا جو دنیا میں ایک نامور حکمران تھا مگر موت آئی تو اپنے ہی تین افسروں یعنی نائٹز نے اُسے اُس کے اپنے ہی محل کی خوابگاہ میں قتل کردیا۔ گویا تاج وری نے وہ دن دکھایا کہ اپنی آرام گاہ ہی مقتل ٹھہری۔

سترہواں ماجرا مونک نے ایک سفاک بادشاہ کا سنایا جس کا تذکرہ تاریخ دانوں نے کافی تفصیل میں کیا ہے۔ اور کئی متضاد روایات بھی ملتی ہیں۔ اس ضمن میں جو معلومات ملیں وہ قدرے طویل ہیں ۔ شاید دلچسپ اور عبرت ناک بھی۔

– پیڈرو آف کیسٹائل:

De Petro Rege Ispannie

قشتالہ کا بادشاہ پیڈرو(1334-1369)

سپین کی ریاست قشتالہ اور لیون کا بادشاہ جو ظالم پیڈرو کے نام سے مشہور ہوا۔ گیارہویں الفانسو آف قشتالہ اور اُس کی قانونی ملکہ ماریا آف پرتگال کا بیٹا تھا جس نے شیطانی بےرحمی میں نام کمایا ۔ اگرچہ اُس کے مرنے کے بعد اُس کے حمایتی طبقے نے اُسے ‘عادل پیڈرو’ کے لقب سے مشہور کرنے کی کوشش کی لیکن پھر بھی وہ ظالم پیڈرو یا پیٹر ہی کے نام سے تاریخ کے صفحات میں جانا جاتا ہے۔

Pedro of Castile

Pedro of Castile

O noble Pedro, glory once of Spain
Whom Fortune held so high in majesty
Well ought men read thy piteous death with pain
Out of thy land thy brother made thee flee
Chaucer, The Canterbury Tales

King Peter of Spain

Oh worthy Pedro, the glory of Spain, whom fortune held in such high majesty! Well might men lament your piteous death. Your brother made you flee from your land, then you were betrayed during a siege and led into his tent where he killed you. All your lands and taxes were now his. A rogue tricked you, as a hunter sets a branch that is coated with lime

سپین کا علاقہ مسلمان سپہ سالار طارق بن زیاد نے 19جولائی711 میں عیسائی بادشاہ راڈرک یا روڈریگو کو شکست دے کر حاصل کیا تھا۔ اس جگہ کا نام جرمن قوم وانڈلز(Vandalus) کی نسبت سے واندلس اور پھر اندلُس کہلایا اور بہت سی سیاسی خونی جنگوں کا میدان بنا۔

ظالم پیڈرو نے 1350سے1369تک حکومت کی باگ ڈور سنبھالی۔ کم سنی میں تعلیم کے ساتھ ساتھ مصوّری، شاعری اور موسیقی سیکھی۔نیلی آنکھوں ، پیلے بالوں اور ہکلا کر بولنے والا پیڈرو، سولہ سال کی عمر میں تخت نشین ہوا اور باقی کی تمام عمر قتل و غارت اور خونریز معرکوں میں گزری جہاں اُس کا سامنا تخت کے دعویدار، اپنے ہی دس غیر قانونی سوتیلے بھائیوں سے تھا جن میں سے دو کا ذکر تاریخ میں زیادہ آتا ہے۔ یہ اولادیں اُس کے باپ الفانسو کی ایک منظورِ نظر ‘ایلینور’Eleanor سے تھیں۔

506-Castile_1210

اِن خونی معرکوں میں فرانس، انگلستان اور پُرتگال کے شاہی خاندانوں کے فوجی دستے بھی ، اُسی اعتبار سے شامل ہوتے جیسے جیسے اُن کے مفادات یا وفاداریاں ہوتیں ۔ کیونکہ قشتالہ کے تخت نشین خاندان سے انگلستان کے آرگون خاندان کی کانٹے دار رشتہ داری اور اقتدار میں شراکت تھی۔

پیڈرو کے نزدیک حزبِ اختلاف میں ہونا دھوکہ دہی اور ظلم کے مترادف تھا۔ شکّی مزاج بادشاہ سے مصالحت کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہوتا، اشرافیہ میں سے جب کسی کو گمان ہوتا کہ بادشاہ سے صلح ہوگئی ہے تبھی اُسے قتل کروادیا جاتا ۔ اِسی کے عہد میں . . . دس سال تک بادشاہ کے مصاحبوں میں شامل رہنے والے ایک مقرّب کا سر قلم کروایا گیا تو مرنے والے نے اپنے آخری خط میں بادشاہ کو مخاطب کر کے لکھا کہ: ” موت کی اِس آخری گھڑی میں تمھارے لئے میرا صاف سچا مشورہ یہ ہے کہ تباہی سے بچنے کے لئے اپنا خونی خنجر ایک طرف رکھ دو ورنہ بدترین انجام تمھارا نصیب ہوگا ۔”

Retrato de Pedro I of castile

Retrato de Pedro I of castile

جدید ماہرینِ نفسیات پیڈرو کو نفسیاتی واہموں اور عدم تحفظ کے وسوسے کا شکار ٹھہراتے ہیں جو ہم نسل کُش اور قاتلانہ رحجان کا مالک تھا۔ جب پیڈرو کا باپ الفانسو یازدہم ایک بیماری سے مرا تو اُس کی تدفین سے پہلے ہی پیڈرو کے غیر قانونی سوتیلے بھائی اور اُن کی ماں فرار ہو کر روپوش ہوچکے تھے۔ تخت نشین ہوتے ہی اُس نے اپنے باپ کی منظورِ نظر کو قتل کروایا اور بعد ازاں سوتیلے بھائیوں فریڈریک اور ہنریک کے درپے رہا۔

فرانس کے ساتھ سیاسی استحکام کے پیشِ نظر ، پیڈرو کی شادی اُٗس کی ماں کی خواہش پہ ایک فرانسیسی شہزادی بلانچی،Blanche سے ہوئی لیکن دو دن بعد ہی بادشاہ اپنی محبوبہ اور خفیہ بیوی ماریا آف پڈیلاMaria of Padilla کے ہاں چلا آیا جس پر فرانس کے شاہی افراد اور پوپ سے متعلق حلقے سخت برہم ہوئے اور بدمزگی پھیل گئی ، چار دن بعد پیڈرو نے بلانچی کو قید کروادیا جہاں وہ قتل کروادی گئی۔ مؤرخین کا کہنا ہے کہ پیڈرو کو بےوفائی کی فطرت اپنے والد کی طرف سے ملی تھی لیکن الفانسو یازدہم نے اپنی بیوی کو قید یا قتل نہیں کروایا تھا ۔ پیٹر نے یقینی طور پر بلانچی آف بوربون کو قید کروایا تھا چنانچہ غالب گمان ہے کہ قتل بھی اُسی نے کروایا ہوگا۔ پیڈرو کے پاس دعویٰ کرنے کو ماریا آف پڈیلا کی طوفانی محبت کا عذر بھی نہیں تھا کیونکہ اُس نے ماریا سے اپنے تعلق کا انکار کرکے ہی فرانس کی بلانچی سے شادی کی تھی، اس کے علاوہ ماریا سے بےوفائی کا مرتکب ہوکر ، کاسترو خاندان کی ایک عورت سےبھی اُس کا ایک غیرقانونی بیٹا تھا۔ تاہم ماریا آف پڈیلا اُس کے حرم کی وہ واحد عورت تھی جس سے اُس کا دل کبھی نہیں اُکتایا ۔

پیڈرو کے جنگی جنون نے اُسے زیادہ سے زیادہ رقبے کو اپنی مملکت میں شامل کرنے پر اُکسایا، اور 1356سے1375تک جاری رہنے والی طویل جنگ ہوئی جسے دو پیٹروں کی جنگ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جو کہ تاجِ قشتالہ اور تاجِ آرگون کے مابین ہوئی جس میں پیٹر آف قشتالہ اور پیٹر آف آرگون مدِّ مقابل تھے۔

Capture

قشتالہ کا پیڈرو یا پیٹر ، ویلنشیا کی ریاست کو زیرِ نگین کرنا چاہتا تھا جس میں مرسیہ، الِش، الیکانتی اور اوریویلا کے شہر شامل تھے۔ سپین میں نہر شقورہ یا سفید نہر کے کنارے مُرسیہ کا شہر825میں قرطبہ کے امیر عبدالرحمٰن الداخل نے آباد کیا اور نہر شقورہ سے نکالی گئی نہروں پر مبنی ایک شاندار نظامِ آبپاشی قائم کیا جس سے شہر کی زراعت نے بےحد ترقی کی۔ گرتی اُبھرتی مسلم حکومتوں میں مُرسیہ کی ترقی جاری رہی یہاں تک کہ1266 میں جیمز اوّل آف آرگون نے مُرسیہ کو عیسائی قلمرو میں شامل کر لیا ۔

Murcia

Murcia


Entrance of James 1 in Murcia 1266

Entrance of James 1 in Murcia 1266

پیڈرو کا سوتیلا بھائی ہنریکEnrique, Henrique, Fedrique,، پیڈرو کو ‘یہودیوں کا بادشاہ’ مشہور کروانے میں کامیاب ہوگیا تھا اور قشتالہ کی یہودی مخالف آبادی میں ایسا کرنا اُس کے سیاسی مفاد میں ثابت ہوا تھا۔ اسی نے منظم قتلِ عام اور جبری تنصیری تحریکوں کی سرپرستی کی۔ جس کے بدلے میں پیڈرو نے ان تحریکوں کے سرکردہ یہودی مخالف افراد کو قتل کروایا۔ یہ ایسا زمانہ تھا جب صلیبی جنگوں کی فضا پورے یورپ پہ چھائی ہوئی تھی اور اسی سبب لوگوں میں عیسائی شعور اُجاگر کرنے کے لئے کلیسائی سرگرمیاں عروج پہ تھیں۔ سیاسی اور معاشرتی معاملات میں مذہبی تعصب نمایاں تھا۔ مسلمانوں کو بربر اور مُور کہا جاتا تھا۔

Palace-of-pedro-1

Palace-of-pedro-1

مؤرخ لکھتا ہے کہ . . . پیڈرو نے اشبیلیہ(Seville) کے محل میں اپنے سوتیلے بھائی فیڈریک کو کھانے پر مدعو کیا ۔ فیڈریک اپنے محافظوں کے ساتھ وہاں پہنچا تو اُسے خطرہ محسوس ہوا، وہ اُلٹے قدموں واپس جانے ہی لگا تھا کہ پیڈرو کے آدمی نے اُس کے سر میں گُرز دے مارا ، پیڈرو اُٹھا ور فیڈریک کے محافظوں کو خود قتل کیا ، کھانے کی میز پہ واپس پہنچا تو بھائی کو زندہ تڑپتے پایا ، ایک گارڈ کو اپنا خنجر دیا کہ فیڈریک کا کام تمام کردے۔ مؤرخ کے مطابق ، اِس کے بعد . . .پیڈرو نے وہیں کھانا کھایا جہاں سامنے اُس کے بھائی کی لاش پڑی ہوئی تھی۔

بہت سے معرکوں کے بعد ، ایک دفعہ میدانِ جنگ میں ہنری/ہنریک (Enrique ) کسی طرح پیڈرو کے خیمے میں داخل ہوگیا ۔ دونوں بھائی آمنے سامنے آئے جو کئی سالوں سے ایک دوسرے کے خلاف محاذآرائی کی تیاری کرتے رہے تھے۔ خیمے کے اندر کیا ہوا . . . اِس بارے میں کئی روایات ملتی ہیں۔ ایک روایت ہے کہ ہنریک کے ساتھی نے پکارا، یہ رہا تمھارا دشمن، چونکہ ہنریک نے عرصہء دراز سے پیڈرو کو نہیں دیکھا تھا اس لئے پہلی نظر میں پہچان نہ سکا ۔ پیڈرو نے جواباََ چلّا کر کہا : ہاں میں ہی ہوں، میں ہی ہوں۔

ایک دوسرے وقائع نگار کے مطابق، ہنریک یہ کہتا ہوا خیمے میں داخل ہوا کہ: کہاں ہے وہ یہودی طوائف کا بیٹا جو خود کو قشتالہ کا بادشاہ کہتا ہے۔پیڈرو نے جواب دیا کہ : تم ہو ایک کم ذات عورت کی اولاد جبکہ میں تو بادشاہ الفانسو کا بیٹا ہوں۔ دونوں نے ہتھیار تان لئے اور کچھ دیر بعد دونوں زمین پر گتھم گتھا تھے جبکہ قشتالہ کے تخت کی قسمت کا فیصلہ ہونے کو تھا۔ ہنریک کا خنجر پیڈرو کے سینے میں گہرائی تک اُتر چکا تھا اور اُس کی لاش اپنے ہی بھائی کے قدموں میں پڑی تھی۔

Pedro_Castile_beheading

Pedro_Castile_beheading


War of Peter the Cruel in Castile

بالآخر1369میں پیڈرو اپنے سوتیلے بھائی ہنریک کے ہاتھوں قتل ہوا جس نے اپنے آدمیوں کو مردہ پیڈرو کا سر قلم کرنے کا حکم دیا ۔ انتقام کے طور پر تین دن اُس کا سر بُریدہ جسم بے گور و کفن خیمے کے باہر لٹکا رہنے دیا جہاں وہ توہین اور تمسخر کا نشانہ بنتا رہا۔ ہنریک نے اگلے دس سال قشتالہ پر حکومت کی اور آرگون کے پیٹر سوم سے صلح کی، باہم بچوں کی شادیاں کیں جس کے نتیجے میں ان دونوں خاندانوں نے پندرہویں صدی کے سپین میں مضبوط عیسائی حکومت قائم کی۔

-1469میں تاجِ آرگون کے بادشاہ فرڈینینڈ نے . . . تاجِ قشتالہ کی شہزادی ازابیلا سے شادی کی اور دونوں شاہی خاندان شریکِ سلطنت بنے۔ یہ شادی خالصتاََ سیاسی مفادات کے لئے کی یا کروائی گئی تھی- امریکا والا کھوجی کولمبس ملکہ ازابیلا کی زیرِ پرستی1492میں نئی دنیا کی کھوج میں نکلا تھا۔مشہور مؤرخ اور لکھاری نسیم حجازی نے اپنا ناول “کلیسا اور آگ” فرڈینینڈ اور ایزابیلا کے اِس عہد کے پس منظر میں لکھا ہے۔ فرڈینینڈ اور ازابیلا، دونوں کیتھولک شہنشاہ کہلائے جنہیں اُن کی شاندار خدمات کے پیشِ نظر کلیسا نے یہ خطاب دیا۔

Fernando and Isabel

Fernando and Isabel


220px-Sabel_la_Ca izabella 1

-1492میں غرناطہ پر قبضہ کیا ۔ اسپین میں آخری مسلم امارت غرناطہ کے حکمران ابو عبداللہ نے اِن دونوں عیسائی حکمرانوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اور اس طرح اسپین میں صدیوں پر محیط مسلم اقتدار کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوگیا۔ معاہدے کے تحت مسلمانوں کو مکمل مذہبی آزادی کی یقین دہانی کرائی گئی لیکن عیسائی حکمران زیادہ عرصے اپنے وعدے پر قائم نہ رہے اور یہودیوں اور مسلمانوں کو اسپین سے بے دخل کردیا گیا۔

 ابو عبداللہ آئزابیلا اور فرڈیننڈ کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے

ابو عبداللہ آئزابیلا اور فرڈیننڈ کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے

کلیسا سے باقاعدہ حکم نامہ جاری کروانے کے بعد اِن دونوں کیتھولِک شہنشاہان(Reyes Catolics) نے سپین میں استرداد کی مہم شروع کی جو780 سال جاری رہی ۔مسلمانوں اور یہودیوں کو جبرا عیسائی بنایا گیا جنہوں نے اس سے انکار کیا انہیں جلاوطن کردیا گیا۔ جن پہ خفیہ اپنے مذہب پہ قائم رہنے کا الزام عائد کیا جاتا ، اُن کو گرفتار کرکے قید میں ڈال دیا جاتا، ٹارچر اور پوچھ گچھ ہوتی، بعض اوقات جلا دیا جاتا یا پھانسی لٹکا دیا جاتا ۔

Here is how his modern biographer, Clara Estow, sums up Pedro the Cruel:
He was raised at the age of sixteen to the most exalted post in the kingdom and, for the next twenty years, he did not enjoy more than a few moments of pleasure or peace. That many of his troubles were of his own design only makes his story more tragic than pathetic.

PETER, KING OF SPAIN
O Peter, noble, worthy pride of Spain
Whom Fortune held so high in majesty
Well should men of your piteous death complain
Out of your land your brother made you flee
And after, at a siege, by treachery
You were betrayed; he led you to his tent
And by his own hand slew you, so that he
Might then usurp your powers of government

Columbus before the Queen

Columbus before the Queen


Christopher Columbus enlisting the sympathetic interest of Isabella of Castile on behalf of his scheme for discovering the New World

Christopher Columbus enlisting the sympathetic interest of Isabella of Castile on behalf of his scheme for discovering the New World


Queen Isabella is said to have pawned her jewels to fund Columbus’s voyage to the Americas

Queen Isabella is said to have pawned her jewels to fund Columbus’s voyage to the Americas

One thought on “The monk mourns Pedro of Castile – 39

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s