Home » Canterbury Tales » The End of Monk’s Tale – 40

The End of Monk’s Tale – 40

اپریل کا مہینہ ہے جس میں اُنتیس زائرین کینٹربری کے بڑے کلیسا کی جانب مذہبی زیارت کے لئے رواں دواں ہیں اور چودہویں صدی کے سفر کی صعوبت کے پیشِ نظر ، اِن مسافروں نے باہم کہانیاں سناکر وقت گزاری کا منصوبہ بنایا۔ سفر کی مشکلات سے نبرد آزما ہونے کے علاوہ، کہانی سنانے کا فن ، کم از کم اُتنا ہی پرانا ہے جس قدر پرانا خود انسان ہے۔ کہانی سناکر، کہانی سُن کر اور نسل در نسل کہانی منتقل کرکے ہی روایات کا ایک بڑا حصہ ارتقائی منازل طے کرتا ہوا آج کی موجودہ شکل تک پہنچا ہے۔ کلاسیکی سٹیج ڈرامے، فلم سازی، جدید دور کا ڈرامہ، تھری ڈی ، اینیمیٹیڈ اور تاریخی فلمیں، سب کہانی کاری کے پہلو سے ہی نمودار ہونے والی اصناف ہیں۔

اب ایسا ہوا کہ جب میزبان نے مونک سے کہانی کی فرمائش کی تو مونک نے اُس چلن سے ہٹ کر کہانی سنائی جو کہ پہلے سے مسافروں میں چل رہا تھا۔ مونک نے اپنے منصب کے اعتبار سے ، اپنی علمی لیاقت کی غمازی کرتے ہوئے، دیومالائی، تاریخِ قبل مسیح اور ماضی قریب کی چند شخصیات کا حال سنایا ۔

The monk says: I will lament, then, in the manner of tragedy, the suffering of those who once enjoyed a high status in this world and then fell from grace in such a dreadful way that there was no hope of them ever recovering from it. Certainly, when fortune flies from us, no one has the power to alter her course. So let no man feel secure in his prosperity. Draw caution from these old and true stories

.

اِن سب شخصیات کے چُناؤ میں یہ بات مماثل تھی کہ یہ سب کردار بدترین انجام سے دوچار ہوئے ۔ زندگی میں، کسی نہ کسی سبب انہوں نے عروج پایا لیکن اپنی خطا یا قسمت کے پھیر کی وجہ سے زوال کا سامنا کیا ، دردناک موت دیکھی، بےبسی اور ذلّت اِن کا مقدّر ہوئی۔

اِن کرداروں میں سے بیشتر کا ماخذ بائبل ہے اور چونکہ مونک خود ایک کلیسائی کردار ہے تو ظاہری بات ہے کہ اُس کی علمی مہارت کا شعبہ یہی تھا۔ مونک نے لوسیفر، آدم، ہرکولیئس، سیمپسن، بخت نصر، بیلشضر ، ہولوفرنو، کریسص، سکندرِ اعظم، ملکہ زینوبیا، انطیوخوس، جولئیس سیزر، نیرو، ہوگولینو، بارنابو وِزکونٹی، پیٹر آف قبرص اور پیٹر آف قشتالہ کی المناک رودادیں سنائی۔

The monk tells a series of tragic falls and claims to have a hundred of these stories but the Knight stops him after only seventeen, saying that they have had enough sadness and depression. In all these stories, noble figures are brought low and experience a fall from grace. The Knight finds his listing of historical tragedies monotonous and depressing

کل سترہ ٹریجیڈی احوال سنانے کے بعد ، نائٹ نے مونک کو ٹوکنا مناسب سمجھا کیونکہ پے در پے زوال ، ہزیمت اور موت کے تذکرے سُن سُن کر تمام زائرین یاسیت کا شکار ہونے لگے تھے۔دل ڈوبنے لگے تھے اور اُن کے چہروں سے ہبوطِ نفس اور ہیبت عیاں تھی۔ میزبان نے بھی، مونک کی بات کی تائید کی اور اِن تاریخی المیوں کو روک دینے میں ہی عافیت جانی۔

Here the Knight “stynteth” (stops) the monk’s tale

نائٹ نے کہا کہ یوں تو تاریخی واقعات میں عبرتِ عالم ہوتی ہے اور زوال پذیر ہونے والے افراد کا حال جان کر انسان سبق اور تجربہ حاصل کرتا ہے مگر اب یہ سلسلہ روک دینا اچھا ہے کہ ماحول بہت بوجھل اور سوگوار ہوچلا ۔

The Canterbury Pilgrims

ہونے کو تو یہ اتفاقیہ بات بھی ہوسکتی ہے کہ نائٹ ہی وہ شخص ٹھہرا جس نے مونک کو الم و غم بھرے حالات سنانے سے روکا۔ لیکن ، کہانیوں کے آغاز میں ، نائٹ کا جو شخصی خاکہ پیش کیا گیا ہے اُس کے مطابق تاریخ، تخت اور مبارزت سے متعلق واقعات نائٹ کی دلچسپی کا محور ہوتے . . . اور یہاں نائٹ ہی اُکتاہٹ کا شکار ہوا۔

ماہرینِ ادب نے کڑی سے کڑی ملا کر ، اِس بات کی یہ توجیہہ پیش کی ہے کہ نائٹ کے تعارف میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ وہ بہت سے صلیبی معرکوں میں اپنے جوہر دکھا چکا ہے جن میں سکندریہ پر حملے کی جنگی مہم کا ذکر تھا ۔ چنانچہ اگر وہ سکندریہ پر لشکر کشی کرنے والے صلیبی دستے میں شامل تھا تو یہ وہی صلیبی جنگ ہوئی جس کی کمان قبرص/سائپرس کا پیٹر اوّل کررہا تھا۔

یہی بات ہے کہ نائٹ اپنے سابقہ آرمی چیف کا المیہ سُن کر دلبرداشتہ ہوگیا، اپنے سپہ سالار کے لئے ایسا محسوس کرنا بالکل فطری تھا ، اُس سے رہا نہ گیا اور وہ بول پڑا۔ یوں مونک کی المیہ داستانوں کا سلسلہ سترہ سے آگے نہ بڑھ سکا۔ سترہ شہرہ آفاق شخصیات کے مؤلم انجام کے بعد مونک خاموش ہوا اور میزبان نے قافلے میں شامل ایک پریسٹ سے درخواست کی کہ اگلی کہانی وہ سنائے۔

‘Ho!’ quod the knight, ‘good sir, namore of this, that ye han seyd is right y-nough, y-wis, and mochel more…

‘Hey!’ exclaimed the knight. ‘Good sir, no more of this! What you have said is quite enough – in fact, I would say, too much! A small amount of seriousness is enough for most people. For myself, I think it’s a great shame when someone who’s enjoyed wealth and comfort loses it all suddenly. It’s a huge pleasure to hear of its opposite, in fact. If a man who has been poor betters himself and climbs up the social ladder, has some good luck and ends up living in prosperity – a thing like this is a pleasure to hear, to my way of thinking, and makes for a much better tale.’
‘I totally agree!’ exclaimed our host. ‘By the bell of Saint Paul’s, you’re right! This monk chimes on and on about “fortune overshadowed by a cloud” or some other crap
‘Sir Monk, may God bless you, but no more of this. Your tale is annoying us. Such talk is not worth a butterfly. There is no pleasure to be gained from it. Therefore Sir Monk, Sir Peter rather, I plead with you, tell us about something else. If it wasn’t for the clinking of all the bells hanging from your bridle
‘No,’ replied the monk. ‘I can’t be bothered any more. Let someone else have their go, for I have finished.’
‘Come here then, Sir Priest, come over here Sir John,’ said the host to one of the Nuns’ Priests, rather roughly and insistently. ‘Tell us something that will make us laugh. Be upbeat, although I can see you’re riding an old nag; but so what if your horse is mangy and thin? If he serves your purpose, he’s good enough, so be in good spirits.’
‘Yes, sir,’ replied the Nun’s Priest. ‘Yes, host, I will be merry, may good luck come to me, or else I will annoy you all, I understand this.’
Then he began his tale and spoke out to everybody, this sweet priest, Sir John.

3 thoughts on “The End of Monk’s Tale – 40

  1. السلام علیکم ۔۔۔۔۔ ثروت بجیا ! آپ کی طرف سے انتہائی خوبصورت میں تحریر کردہ ان کہانیوں سے مجھے تاریخ کے کئی ان عبرت ناک واقعات و سانحات سے آگاہی ملی جو پہلے نظر سے نہ گذرے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے آپ کی ان کہانیوں میں سے کئی ایک واقعات اپنے بلاگز میں شامل کئے ہیں اور کئی جگہ پر آپ کے اس شاندار تاریخی بلاگ کا لنک دیکر ذکر بھی کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ مجھے یہ کہنے میں فخر محسوس ہو رہا ہے کہ تاریخ کے حوالے سے میری پیاری بہنا میری ” استانی جی” ٹھہریں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بہنا کیلئے ہزاروں دلی دعائیں اور نیک تمنائیں ۔۔۔۔ سدا خوش آباد و خوش مراد

    Like

  2. Very nice…..boht acha likha ap nay…ap ky hur tahrer pahly sat zada munfrid hoty hay….tasaweer ka addition ap ky tahrer ko char chand luga data hay….

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s