Home » Canterbury Tales » The Canon’s Yeoman’s Tale – 43

The Canon’s Yeoman’s Tale – 43

-کینن کے یومین کی کہانی :

اُنتیس زائرین کا سفر کینٹربری کے بڑے کلیسا کی جانب جاری ہے اور وقت کا بہتر استعمال کرنے کے لئے کہانی سننے سنانے کا شغل ہورہا ہے۔ سفر اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوچکا ہے ۔ابھی کچھ دیر پہلے، سیکنڈ نن نے بہت دلجمعی سے اپنی کہانی سنائی جو کہ سینٹ سیسلیا کی سوانح حیات پر مشتمل تھی ۔ اِس میں راہبہ کی پاکیزہ زندگی اور آزمائشوں کا بیان تھا۔ اِس کہانی کے ختم ہونے کے بعد ابھی قافلے نے پانچ میل کا فاصلہ بھی عبور نہ کیا تھا کہ اُنہیں دو آدمی دِکھائی دئیے ۔

Two travelers overtook them

Two travelers overtook them

Whan ended was the lyf of seint Cecyle, er we had riden fully fyve myle

When the Second Nun had finished telling us about the life of Saint Cecilia, and before we had completed five miles on this final leg of our journey, at Boughton-under-Bleen we were overtaken by a man clothed in black with a white surplice visible underneath his outer clothes. His horse was dapple-grey and sweating profusely, as though it had just galloped for three miles; its chest and withers were covered in so much white foam that it looked piebald, like a magpie! Behind this man’s saddle, a pannier was strapped on either side but it seemed as though he was travelling light and I began to wonder what sort of a man he was, until I noticed that his cloak was sewn onto his hood and I began to realise that he must be some sort of canon. The perspiration dripped down his forehead like the condensation from a medical distillation process

اِن میں سے ایک آدمی ، سیاہ چوغے میں ملبوس تھا اور چوغے کے نیچے سے اُس کا اندرونی سفید گاؤن نظر آرہا تھا ۔ اِس کا چتکبرا سرمئی گھوڑا، پسینے میں بُری طرح شرابور تھا ، معلوم ہوتا تھا کہ وہ قریب تین میل سے گھوڑے کو بھگاتا چلا آرہا ہے۔ اِس آدمی کے گھوڑے کی زین سے ایک ٹوکرا یا کھانچا سا لٹک رہا تھا۔ اِس کے چوغے سے ایک ٹوپ یا ٹوپی بھی جُڑی ہوئی تھی چنانچہ گمان ہوا کہ یہ ایک کینن تھا یعنی پادریوں کی مجلس کا کارکن یا بڑے پادری کا متعین کردہ عہدے دار ۔ اُس کی پیشانی سے پسینے کے قطرے ایسے ٹپک رہے ہیں جیسے کہ کسی طبّی عملِ تقطیر کے دوران کثافت کا عمل ہورہا ہو۔

اُس کینن کے ساتھ ایک ملازم یا یومین بھی تھا۔ قریب آتے ہی اُس کینن نے سفر میں شریک ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ میزبان نے اُن دونوں کو خوش آمدید کہا اور دورانِ سفر جاری، کہانی مقابلے کا بتایا ۔ کینن اور اُس کا ملازم ، دونوں ہی بہت مہذب اور خوش اخلاق معلوم ہوتے تھے۔ میزبان نے اُن دونوں کو دعوت دی کہ اگر وہ کوئی کہانی سنانا چاہیں تو پیش کرسکتے ہیں۔

یہ دعوت سُن کر کینن کے ملازم کی باچھیں کھِل گئیں اور وہ آہستہ آہستہ کھُلنا شروع ہوا۔ پہلے تو اُس نے اپنے مالک کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملائے ، اُسے ذہین و فطین بتایا اور اِس حد تک مبالغے سے کام لیا کہ وہ تعریف کی جگہ تمسخر معلوم ہونے لگی۔ اپنے بارے میں یہ بھی بتایا کہ وہ شہر سے باہر ، مضافات میں ، پوشیدہ جگہوں پر رہتے ہیں۔

میزبان نے، اچانک اُسے اُس کی اُڑی ہوئی رنگت کے بارے میں پوچھا ، اِس سوال کے جواب میں تو ملازم سے بالکل ہی نہ رہا گیا اور اُس نے صاف صاف بتادیا کہ سارا دِن بھٹی میں پھونکنی چلا چلا کر اُس کی رنگت جھُلس گئی ہے ۔ یہ سوال پوچھ کر تو گویا میزبان نے اُس کی دُکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ وہ کیمیا گری کی سب قلعی کھولنے پر آگیا تھا۔ ۔ کینن نے اُسے تنبیہ کی لیکن وہ بے روک بولتا ہی چلا گیا۔

کینن نے ملازم کو بے لگام دیکھا تو ایک طرف کو دُبکا ہورہا اور منہ چھُپا کر نکل لینے میں ہی عافیت جانی۔ یہ دیکھ کر ملازم اور شیر ہوگیا۔ کینن کے یومین کی کہانی کے دو حصے ہیں ۔ پہلے حصے میں اِس نے کیمیا گری کے اسرار و رموز سے پردہ ہٹایا ۔ جبکہ دوسرا حصہ ایک باقاعدہ کہانی ہے۔ اِس ملازم نے اپنے مالک کے ساتھ گزرے ہوئے وہ سب تجربات بیان کئے جن میں مختلف کیمیاوی طریقوں سے قیمتی اور نادر دھاتیں بنانے کی مہمل سعی کی جاتی ہے۔ یومین کا کینن بھی سونا بنانے کی سر توڑ کوشش کرتا رہا تھا۔

I have lived with that canon for seven years, but I’ve never come anywhere near to understanding what he was doing. I’ve lost everything because of him, and God knows, so have many others as well. I was young and carefree once. I dressed myself in fine clothes, but now I wear my stockings on my head! My complexion, which was once rosy and healthy, is now pale and leaden. Whoever follows this path will surely come to regret it. My study has ruined my eyesight, Lo! Who would want to be an alchemist? The shifting sands of this science have taken so much from me that I am left with nothing. I’m so in debt because of all the gold I’ve borrowed that I’ll never be able to pay it all back, however long I live. Let my example be a warning to you all. Whoever sets out along this path can say goodbye to success. But enough of that, I shall speak of our work

.

ملازم نے سات سال لاحاصل ضائع ہوجانے پر پچھتاوے کا اظہار کیا۔ اُلٹا یہ نقصان ہوا کہ اُس کی گُل رنگ جلد خراب ہو کر پیلی ا ور بھدی ہوگئی، گلابی چہرہ کملا گیا اور اُس کی نظر بھی کمزور ہوگئی۔ اِس سب کے باوجود یہ پراسرار اور بے فائدہ سائنس اُسے سمجھ نہیں آئی۔

اور اب حال یہ آن پہنچا کہ . . . کیمیاگری کے نیچ اور گھٹیا کام کے سبب وہ کوڑی کوڑی کو محتاج ہوچکا ہے۔ نہ صرف یہ کہ اُس کی تمام جمع پُونجی لُٹ چکی ہے بلکہ وہ بُری طرح مقروض بھی ہوچکا ہے۔ کیونکہ اکثر سونا بنانے کی آس میں اُدھار لیا جاتا اور نتیجے میں کچھ بھی ہاتھ نہ آتا۔ اپنی لگائی ہوئی رقم بھی ڈوب جاتی اور اُدھار الگ چڑھ جاتا ۔

کینن کے ملازم نے کیمیاگری کے عمل کے بارے میں تکنیکی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے تفصیل سے بتایا ۔ پہلے تو یہاں وہاں سے اُدھار مانگ کر دھاتیں خریدی جاتیں۔ یہ تمام عملیات چار مستحکم عناصر اور سات دھاتوں کے بل بُوتے پر کئے جاتے۔ کیمیاگری کے دیوانے پارس کا پتھر The philosopher’s stoneبنانے کی کوشش کرتے مگر یہ پتھر کبھی بن نہ سکا۔ کئی کئی دن بھٹی دہکائی جاتی، تجربات ہوتے، کئی برتن توڑے، زمین میں دبائے اور چھت سے لٹکائے لیکن کچھ ہاتھ نہ آیا ۔

جب بھی کوئی تجربہ بُری طرح ناکام ہوتا اور ہانڈی ٹوٹ جاتی تو کینن اُسے باقی ماندہ دھات کے ساتھ باہر پھینکوادیتا ۔ ہر ناکام تجربے کے بعد کینن کسی نامعلوم اور احمقانہ وجہ کو موردِ الزام ٹھہراکر دوبارہ تجربہ کرنے کی ٹھان لیتا . . . پر ایسا کرنے کے دوران کبھی بھی قیمتی دھات وجود میں نہ آسکی۔ اُس نے اِس پیشے کی مذمت کی اور سب حاضرین کو اِس سے بچنے کی ہدایت کی۔

آخرکار کینن کا یومین کہنے لگا کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی اور دانا نظر آنے والا ہر شخص دانشمند نہیں ہوتا۔ اکثر ہوتا یہی ہے کہ جو سب سے قابلِ اعتماد نظر آتا ہو وہی دھوکہ دے جاتا ہے۔

260-the-canons-yeomans-tale

اِس کے بعد کینن کے ملازم نے باقاعدہ کہانی کا آغاز کیا کہ . . . لندن میں ایک بےایمان دھوکے باز کینن رہتا تھا جس کی مکّاری کو شمار میں لانا ممکن ہی نہیں تھا۔ ہاں. . اِس تعارف کے ساتھ ہی اُس نے فوراََ صفائی پیش کردی کہ یہ بات بالکل اتفاق ہے کہ کہانی ایک کینن کے بارے میں ہی ہے۔ اُس نے تمام کینن ز سے معافی چاہی اور کہا کہ میری اِس کہانی کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ سب کینن دغاباز ہوتے ہیں، بلکہ کبھی کبھی پورے ٹوکرے میں کوئی دانہ خراب نکل ہی آتا ہے ، ایسے ہی ، یہ کہانی والا کینن بےحد چالاک تھا۔

اچھا تو، اُسی شہر میں ایک پریسٹ بھی رہتا تھا جو جنازوں پر مناجات اور دعائیں پڑھتا اور گاتا تھا۔ ایک دن، یہ کہانی والا کینن، اِس پریسٹ کے پاس آیا اور کچھ سونا اُدھار مانگا ۔ کینن نے بڑی لجاجت سے اُدھار کا مطالبہ کیا اور اِس بات کا یقین دلایا کہ وہ وعدے کے مطابق مقررہ وقت پر اُدھار لیا گیا سونا واپس لوٹا دے گا۔

تیسرے دن ، کینن حسبِ وعدہ اُدھار واپس کرنے آن پہنچا۔ پریسٹ بہت خوش ہوا اور کہنے لگا کہ اُسے اُمید تو نہیں تھی کہ دوبارہ کبھی اپنا مال دیکھے گا۔ اِسی کے ساتھ ، پریسٹ نے ایفائے عہد اور صداقت کی تعریف کی۔ کینن نے جواباََ، فراخ دلی کا ثبوت دیتے ہوئے، پریسٹ پر اپنی کیمیاگری کے کچھ اسرار کھولنے شروع کئے۔

299-canons-yeomans-tale

اُس نے عملی تجربہ پیش کرنے کے لئے پریسٹ کے ملازم سے کچھ پارہ اور کوئلہ منگوایا ۔ اپنے کوٹ کی اندرونی جیب سے ایک کٹھالی نکالی ۔ کٹھالی، مٹی یا چینی کا وہ برتن ہوتا ہے جو کیمیائی تجربات میں کسی چیز کو آگ پر پکانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ کئی کرتبوں کے بعد اِس کینن نے پریسٹ پر ثابت کردیا کہ پارہ کامیابی سے چاندی میں تبدیل ہوچکا ہے۔

‘Sir,’ replied the priest, ‘it shall be done.’ He instructed his servant to fetch what had been asked for; his servant got ready to go at once, went off, shortly returned with the quicksilver and gave three ounces to the canon. The canon laid it down and asked for charcoal to be fetched, so that he could do what he intended to do. The coals were brought and the canon produced a crucible from inside his coat and showed it to the priest

‘Take this instrument that you can see, in your hands,’ he said, ‘put an ounce of quicksilver into it and take your first step, in the name of Christ, towards becoming a philosopher. There are few men indeed whom I honour with a demonstration of my science. You will see that this quicksilver will disappear, right before your eyes, and change into silver as pure as any coin that is in your purse or mine, or anywhere else – silver of such quality that it could be minted

170-canons-yeomans-tale

اُس کینن نے پریسٹ سے کہا اب اگلا تجربہ تانبے پر ہوگا۔ تانبا مہیا کردیا گیا۔ کینن نے پریسٹ سے کہا کہ وہ کٹھالی کے نیچے بھٹی میں کوئلہ ڈال دے ۔ اِسی اثنا میں کینن نے اپنی آستین سے چاندی کا ایک ٹکڑا کٹھالی میں ڈال دیا اور تانبے کو غائب کردیا ۔ اب پریسٹ کو کہا کہ بھیا ذرا کٹھالی میں غور فرماؤ . . کچھ دِکھائی دیتا ہے۔ پریسٹ کو بِلا دِقت چاندی کا ٹکڑا نظر آگیا ۔ قصّہ مختصر یہ کہ پہلے پارہ، پھر چُونا اور پھر تانبا، اِن سب سے کینن نے ، پریسٹ کو فریبِ نظر دے کر چاندی بنا کر دکھائی۔ مختلف تجربات سے حاصل شدہ چاندی کے ٹکڑوں کی تصدیق کے لئے وہ بازار میں ایک سونے چاندی والے کے ہاں گئے جس نے خوب ٹھونک بجا کر تسلّی کی اور پھر اصلی چاندی ہونے کی تائید کی ۔ پریسٹ پورا پورا معترف ہوکر ایسی کیمیاگری سیکھنے کے لئے تیار ہوگیا۔

275-canon-yeomans-tale

This canon put the ounce of copper into the crucible, placed it on the fire, threw in the powder and asked the priest to stoop down low above the coals and blow, as he had done before. But it was all a joke – just as the canon intended, he was making a complete monkey out of the priest. When the crucible was hot enough, the canon cast the contents into the mould and from there into the pan of water, putting his hand in to swish it about. And in his sleeve (as I explained before) he had this strip of silver which he let fall into the bowl and sink to the bottom, this cursed wretch. The priest suspected nothing at all. Then, swishing the water about some more, the canon retrieved the copper with great dexterity, hid it at once, then clasped the priest around the shoulders and said: ‘Lean over, man, come on, help me to find the ingot.’
The priest found the strip of silver without any difficulty and took it out. The canon said: ‘Let’s go at once to a goldsmith, to have these three silver ingots tested for purity; for, by my hood, we can’t be sure whether the silver is pure or not until we’ve done so. Let’s get them quickly assayed.’

So off they went to a goldsmith, the metal was investigated with fire and hammer and there was no doubt; it was all pure silver. Who was more pleased than this ecstatic priest! No bird was ever more pleased to see the dawn, no nightingale in May more delighted to sing, no lady more pleased to speak about love and no knight more eager to perform deeds of arms than this priest was to learn alchemy.

پریسٹ نے کینن سے یہ فارمولا مانگا جو کہ کینن صاحب نے اُسے پورے پروٹوکول کے ساتھ بڑی بھاری رقم کے عوض بیچا ۔ علاوہ ازیں پریسٹ کو پابند کیا کہ تمام معاملہ صیغہءراز میں رکھے ۔ پریسٹ کے ہاں سے رقم قابو کرتے ہی کینن نے اگلے ہی دن شہر چھوڑ دیا ۔ پریسٹ کو بہت بعد میں معلوم ہوا کہ اُسے بہت مہارت سے بےوقوف بنا کر چکمہ دیا گیا تھا۔

کہانی ختم ہوئی اور کہانی سنانے والے کینن نے ویلانو کے آرنالڈس، ہرمس ٹرس میکٹس اور افلاطون کا ذکر کیا ، یہ سب وہ لوگ ہیں جنھوں نے پارس کے پتھر کے بارے میں تحقیقات کیں اور مقالے، مضامین لکھے ہیں۔

اور کہانی کے اختتام پہ وہ کہتا ہے کہ میرے احباب، چونکہ اِس پتھر کے بنانے کی ترکیب کو اوجھل رکھنا ہی رب کی مرضی ہے چنانچہ انسان کو اِس حقیقت پر سرِ تسلیم خم کردینا چاہیئے ۔ بصورتِ دیگر اِس پتھریا دھات کو بنانے میں محض وقت اور سرمائے کی بربادی ہی ہاتھ آتی ہے۔

My tale is done. God send every honest man relief from his sorrows. Amen.

One thought on “The Canon’s Yeoman’s Tale – 43

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s