Home » Canterbury Tales » The Manciple’s Tale – 44

The Manciple’s Tale – 44

کالج کے مطبخ کے لئے جنس خریدنے والے سربراہِ کار یا داروغہء مطبخ کو “مین سی پَل” کہا گیا ہے۔

-مین سی پل کی کہانی:

چاوسر کے قافلے میں ایک مینسیپل بھی شامل ہے جس نے ایک روایتی خیالی کہانی سنائی۔ فیبس اپالو، اور اُس کے پالتو کوّے کے بارے میں یہ کہانی، اِس فلسفیانہ بحث اور وجہء آغاز پر مشتمل ہے کہ “کوّے کا رنگ کالا کیوں ہوا”؟

272-the-manciples-tale

اِس کہانی سے پہلے، میزبان نے کوشش کی کہ وہ باورچی کو کہانی سنانے پر آمادہ کرسکے۔ اُدھر باورچی اِس قدر نشے میں تھا کہ وہ ربط کے ساتھ بات بھی نہیں کرپارہا تھا۔ میزبان نے باورچی کو طنز کا نشانہ بنایا جو کہ قافلے کے اخیر میں ہوش و خرد سے بےگانہ سفر کررہا ہے۔ اِسی اثنا میں باورچی اپنے گھوڑے سے گر پڑا اور تمام مسافر اُس کی حالت پہ افسوس کرنے لگے۔

Wite ye nat wher ther stant a litel toun • which that y-cleped is Bob-up-and-doun • under the Blee, in Caunterbury weye

– Do you know a little town called Bob-up’n-down that lies at the edge of Blean Forest near Canterbury? Well, here our host began to laugh and joke: ‘Look! Over there behind us!’ he called. ‘Dun has strayed into a bog! Will no one help him out, for love nor money? Wake him up, somebody, or a thief will come and tie him up and steal all he has! Look! He’s fast asleep! He’s falling off his horse! Is this that London cook by any misfortune

‘Since drink has taken such a hold of him,’ said our host to the manciple, ‘I imagine he will tell a filthy tale, by my salvation! For be it wine, or old or new ale that he’s drunk, he seems to be having difficulty speaking. Also, he has enough to keep himself occupied just guiding his horse and keeping it out of the ditch. And if he falls off again, we’ll have to lift up his heavy, drunken body once more. So tell your tale, manciple. I’m going to take no notice of him

باورچی کی حالت کے پیشِ نظر ، مینسپل نے اپنی کہانی کا آغاز کیا ۔ داورغہء مطبخ کی کہانی ایک سفید کوّے کے بارے میں ہے۔ کچھ ماہرینِ ادبیات کا یہ بھی گمان ہے کہ داروغہ والی کہانی ، رومی شاعر اووِڈ Ovid کی تصنیف میٹامورفوسِس Metamorphosis اور عریبین نائٹز Arabian nights سے ماخوذ ہے۔

تو کہانی کچھ یوں ہے کہ فیبس Phoebus کے پاس ایک سفید کوّا تھا جو کہ انسانی زبان میں بات کرنے اور دِلنشین گانا گانے کی قدرت رکھتا تھا۔ فیبس کی خوبصورت بیوی اُسے بہت عزیز تھی لیکن فیبس اپنی بیوی کو زیادہ میل جول سے بچانے کے لئے گھر میں بند رکھتا تھا۔

When the god Phoebus lived here on Earth, as is written in old books, he was the most accomplished and energetic young man in the whole world

Phoebus had a wife at home whom he loved more than his own life. He strived day and night to honour her and to please her in every way that he could. He worshipped and respected her, although he was also a little jealous, if the truth be told, and would gladly have been able to limit her freedom somewhat

اِس مقام پہ مینسپل نے اِس رائے سے اِختلاف کیا کہ کسی مخلوق کو اُس کی طبعی فطرت کے خلاف ڈھالا جاسکتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ انسان، پودے یا جانور، اپنی بنیادی عادات سے پوری طرح دستبردار نہیں ہوسکتے۔ داروغہ نے مثال دی کہ ایک پالتو بلی کو خواہ کتنی ہی اعلٰی خوراک دی جائے، پھر بھی وہ چوہوں پہ جھپٹنا نہیں چھوڑے گی۔ چنانچہ کسی مخلوق کی جبلی اور اندرونی تحریک کو دبایا نہیں جاسکتا۔

فیبس کی بیوی ، کم نسل لوگوں سے ملنے کی خواہش رکھتی تھی جو کہ فیبس کو پسند نہیں تھا ۔ سفید کوّے کو شک گزرا کہ فیبس کی بیوی کسی کم تر رتبے کے شخص میں دلچسپی رکھتی ہے۔ چغل خوری کے شوق میں، یہ بات ، اِسی طرح فوراََ ، کوّے نے فیبس کو جا بتائی کہ اُس کی بیوی اُس سے بےوفائی کی مرتکب ہورہی ہے جس کی وجہ ایک کم نسل شخص ہے۔

فوری اشتعال اور غصے میں فیبس نے ہتھیار اُٹھایا اور بیوی کو قتل کردیا ۔ بعد ازاں ، بہت سے شوہروں کی طرح، اپنی حرکت پر نادم ہوا اور کوّے کو لعن طعن کرنے لگا جس نے بِلا تحقیق اُس کی بیوی پر الزام لگایا تھا ۔ فیبس نے کوّے کو ملامت کی ، رنگ کالا ہونے کی بدعا دی اور بہت بُرا بھلا کہا۔ فیبس نے کسی ایسی ساعت میں کوّے کو اچھی آواز چھِن جانے کی بددعا دی کہ کہ وہ ہمیشہ کے لئے بےسُرا اور سیاہ ہوگیا۔

manciples tale 2

اور اِس طرح ، داروغہء مطبخ کے مطابق ، آج ہم کوّے کو کالے رنگ کا ، پاتے ہیں اور کوؤں کی ناگوار کائیں کائیں سنتے ہیں۔ یہ کوے صاحب کی اپنی کرتوتوں کا کیا دھرا ہے کہ وہ گورا صاحب سے کالا صاحب ہوگئے اور اُن کے گلے کا سوز و ساز بھی جاتا رہا۔

نہ ہی کوا بھاگا بھاگا جاکر شوہرِ نامدار کے حضور چغلیاں کرتا اور نہ ہی حسنِ تابناک اور حسنِ آواز سے ہاتھ دھوتا ۔ ٹھیک ہی ہے کہ میاں بیوی میں نِفاق ڈالنا شیطانی کام ہے جس کا انجام آج بھی کالے کوے کے صورت میں نشانِ عبرت ہے۔ اور اُس پر مستزاد یہ کہ انتہائی بھدی آواز کی کائیں کائیں ، ہمارے ہاں جیب پر ناگہانی بوجھ پڑنے کا اشارہ بھی سمجھی جاتی ہے۔

داروغہ کی کہانی کی کڑیاں سینکڑوں اقساط پر مشتمل سوپ ڈراموں سے ملائی جائیں تو ایک نادر تحقیق سامنے آتی ہے کہ اوّل اوّل زوجین میں پھوٹ ڈالنے کا کام اِس سفید کوّے سے شروع ہوا اور اب ارتقا کی منازل طے کرتے ہوئے کلف زدہ لباس میں ملفوف کرداروں تک جا پہنچا ہے۔

مینسپل نے اختتام میں یہ کہا کہ زبان پر قابو رکھنا بہت اچھی چیز ہے اور انسان کو فائدہ دیتی ہے۔ چنانچہ تصدیق کئے بغیر کوئی بات نہیں کہہ دینی چاہیئے۔ بدخواہی، کینہ وری اور بد باطنی کی نیت سے کی گئی بات کبھی اپنے ہی گلے پڑجاتی ہے۔ جیسا کہ اِس کہانی میں کوے کو اپنی بات کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ تو صاحبو، میرے بچو، بات کہنے سے پہلے پرکھ کرلو اور پھر بولو اور ہاں …کوے کا انجام ضرور ذہن میں رکھنا۔

A thing that is said, is said. Out it goes into the world, whether the speaker likes it or not. It is too late to repent. He is at the mercy of a person who may have heard words that are now bitterly regretted. My son, be wary and never be the instigator of any tittle-tattle, whether it be false or true. Wherever you are, amongst high or low, kepe wel thy tonge, and thenk up-on the crowe.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s