Home » Canterbury Tales » The Parson’s Tale – 45

The Parson’s Tale – 45

پارسن کی کہانی اور پیش لفظ کے ساتھ ہی چاوسر کی کینٹربری کہانیاں اختتام پذیر ہوتی ہیں۔

پارسن سے مراد اُس حلقے کا پادری ہے جس کے ساتھ کوئی وقف جائیداد یا جاگیر ملحقہ ہو۔ اِسی پادری کے مکان کو پارسنیج Parsonage کہا جاتا ہے ۔

– پارسن کی کہانی :

By that the maunciple hadde his tale al ended, the sonne fro the south lyne was descended so lowe, that he nas nat, to my sighte, degrees nyne and twenty as in highte..

.

By the time the manciple had finished his tale, the sun had abandoned the southern half of the sky and was no more than twenty-nine degrees above the horizon, I would guess; it was probably about four o’clock in the afternoon, because my shadow was around eleven feet long – feet, that is, that would divide my height into six equal lengths

کہانیوں کے اختتام کے تذکرے پر یقیناََ ذہن میں کئی سوال اُٹھتے ہیں کہ . . . مسافروں میں سے کئی کردار ایسے ہیں جن کا تعارف تو کروایا گیا مگر انھوں نے کوئی کہانی نہیں سنائی۔ اسی طرح میزبان اور مسافروں کے مابین چار چار کہانیاں طے ہوئیں تھیں اور وہ بات بھی پوری نہیں ہوئی۔ بلکہ اِس مقام پہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پارسن کی کہانی اس خیال سے وضع کی گئی ہے کہ وہ اِس تمام کام کا آخری حصہ ثابت ہو۔ پارسن کی کہانی میں ایسے بہت سے اشارے ملتے ہیں جو کہ اپنے اندر اختتامیہ پہلو لئے ہوئے ہیں۔ خود پارسن کی کہانی میں دیگر زائرین کی مہمل اور بےمقصد کہانیوں پر دیدہ ریزی سے تنقید اور طنز موجود ہے۔

the_parson

دن ڈھلے، چار بجے سہ پہر یہ قافلہ ایک گاؤں جا پہنچا جہاں میزبان نے پارسن کو دعوتِ کلام دی۔ میزبان نے پارسن سے کہانی پیش کرنے کی درخواست کی لیکن . . . پارسن نے فرضی روایتی کہانی سنانے سے انکار کردیا۔ اور اِس انکار کی وضاحت یوں کردی کہ . . . سینٹ پال نے ، دنیاوی، مہمل اور لا حاصل کہانیاں سنا کر لطف اُٹھانے اور اُن میں وقت ضائع کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔

چنانچہ کہانی کی جگہ، پارسن نے ایک بہت، بہت ہی طویل ناصحانہ خطاب یا وعظ پیش کیا۔ کینٹربری کہانیوں میں سب سے طویل ، یہی خطاب ہے جو کہ ابدی حیات کی کامیابی کے متعلق ہے اور بہت سے پند و نصائح پر مشتمل ہے۔

The Parson’s tale is not a narrative at all, however, rather an extended sermon on the nature of sin and the three parts necessary for forgiveness, 1) Contrition of the heart, 2)Confession of the mouth, 3)Satisfaction in the heart.

Contrition is the pain and anguish a man feels in his heart for his sins, with a serious intent to confess them, do penance for them and never to do them again.
A man should repent every pleasure that he has ever had thinking about something that is against God’s law, for such thoughts constitute a deadly sin. Certainly, there is no deadly sin that was not first conceived in a man’s thoughts, which were delighted in, consented to and finally carried out.
Here is an example. A great wave may approach a ship with such violence that it overwhelms it and fills it with water. But the same swamping can be caused by little drops of seawater that leak in through a crack in the boat’s hull and settle in the bilges, if sailors are negligent and do not see what is happening and fail to pump the water out. Although there is a difference between these two causes of swamping, the net result is the same.

اِس خطاب کا موضوع توبہ، ندامت اور شرمساری ہے۔ وہ ندامت، جو گناہ کے بعد انسان کو گھیر لیتی ہے۔ گناہ کی نوعیت کی وضاحت کی گئی ہے جن میں چھوٹے اور بڑے گناہوں پہ بات کی گئی ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی اُن تین اجزاء پر بحث ہے جو معافی یا بخشش کے لئے ضروری ہیں۔

یہ اجزاء یوں ہیں:
1-پشیمانی، تاسف، ندامت
2-اعتراف، ایجاب اور اقبالِ خطا
3-سکون اور اطمئنانِ قلب

پارسن گناہ اور معصیت کے ضمن میں سات گناہوں کا ذکر کرتا ہے جو کہ سات مہلک گناہوں کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ اور انگریزی ادب میں کئی جگہ اِن کا ذکر ملتا ہے۔ کرسٹوفر مارلو کے ڈاکٹر فاسٹس میں انہی سات مہلک گناہوں کا تذکرہ ہے۔یہ گناہ غرور، حسد، کینہ، غصہ، کاہلی، کام چوری، لالچ، طمع، پیٹو ہونا، بسیار خوری، ہوس اور شہوت. . .ہیں۔
سات گناہوں کے ساتھ ہی تلافی، کفّارہ اور نجات کے لئے ضروری تفصیلات بتائی گئی ہیں۔

The tale gives examples of the seven deadly sins and explains them, and also details what is necessary for redemption. These deadly sins are as follows:
1. Pride
2. Envy
3. Wrath/ Anger
4. Sloth/Laziness
5. Avarice/ Covetousness
6. Gluttony
7. Lust/Lechery

Although it is impossible to estimate the number of evil branches and twigs that grow directly from the stem of Pride, yet I will demonstrate some of them. They are: disobedience, boasting, hypocrisy, conceit, arrogance, impudence, contempt, insolence, pomposity, impatience, rebelliousness, resistance to authority, presumption, lack of respect, stubbornness, vanity and a host of other things that I could mention.

اِس خطاب کا موضوع خاصی وضاحت کا متقاضی ہے چنانچہ پارسن ایک بہت ہی طویل اور کئی حصوں پر مشتمل ناصحانہ خطاب پیش کرتا ہے۔ سات مہلک گناہوں کے بیان کے ساتھ ساتھ پارسن نے اِن گناہوں سے بچنے کے طریقوں کا ذکر کیا اور اِن گناہوں کا مداوا اور علاج کا طریقہ بھی بتایا ۔

اِن طریقوں میں احتراز اور پرہیز گاری شامل ہیں۔ دیگر طریقے حسبِ ذیل ہیں: نفس کو اپنے قابو میں کرنا، بےصبری اور بھوک کی شدت سے بچاؤ، بسیارخوری کو ترک کردینا اور نفس کشی کی مشق کرنا، امنے آپ کو کٹھنائی سے گزارنا، جسم کی آسودگی کے تابع نہ ہونا، لذت اور ہوس سے منہ موڑنا، بیت العفو کا رُخ کرنا جہاں عفوِ گناہ کی رسم ادا کی جاتی ہے، مذہبی اجتماعات کا التزام کرنا تاکہ نصیحت کا عمل تواتر سے جاری رہے اور یاد دہانی ہوتی رہے۔

پارسن کی کہانی میں کئی اعتبار سے اختتامی رنگ نظر آتا ہے ۔ معلام یہی ہوتا ہے کہ جیفری چاوسر نے پارسن کی کہانی کے ذریعے کنٹربری کہانیوں کو ختم کرنے کا ارادہ باندھا ہے اور رنگ برنگی، کھٹی میٹھی کہانیوں کے بعد ، اُس عہد کی روایات کے مطابق ادبی پارے کا اختتام دعائے خیر اور پند و نصیحت پر ہونے جارہا ہے۔

vol-3-112-parsons-tale

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s