Home » Vision » Chaucer’s Retraction – 46

Chaucer’s Retraction – 46

-چاوسر کا عتراف اور بیانِ تردیدی:

پارسن کی کہانی کے بعد چاسر کا معذرت خواہانہ انداز ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی پس و پیش میں مبتلا ہے۔ چاوسر کسی بھی ممکنہ توہین یا ہتکِ عزت پر معافی کا خواستگار ہے۔ اِس بات کے لئے وہ استدلال اور حجت پیش کررہا ہے کہ اگر کسی کی دِل آزاری ہوگئی ہو تو وہ درگزر کا ملتمس ہے۔

اِس ضمن میں چاوسر نے اپنے اس کام اور دیگر گزشتہ کاموں کا ذکر کیا ہے۔ ماہرینِ ادب اِس بات پر دو رائے رکھتے ہیں کہ چاوسر نے یا تو پارسن کی کہانی کو آگے بڑھاتے ہوئے یا پھر اُس میں اضافہ کرتے ہوئے استدلالی لہجہ اپنایا . . . .یا پھر اِس طریقے سے وہ اپنے دیگر ادبی پاروں کی تشہیر کررہا ہے ۔ گویا کہ مارکیٹنگ چودھویں صدی میں!

The Canterbury Pilgrims

اِس بات پہ بھی اختلافِ رائے پایا جاتا ہے کہ چاوسر کا یہ اعتراف کنٹربری کہانیوں کا حصہ ہے یا پھر اُس عہد کی روایت کے مطابق ، آخری لمحے کا اعتراف1 جسے ہر ادبی شہ پارے میں لازمی شامل کیا جاتا تھا۔

اُس زمانے میں طنزومزاح اور عامیانہ زبان کے استعمال کے بعد معذرت کرنے کا رواج عام تھا اور یہی چلن تھا چنانچہ چاوسر نے بھی تمام اصناف کے موضوعات سے چھیڑخانی کرنے کے بعد آخر میں معافی تلافی کی رسم قائم رکھی۔

چاوسر قارئین سے التماس کرتا ہے کہ اُس کی تصانیف میں جو بھلائی اور گُن دیکھیں تو یسوع مسیح کا کرم جانیں اور جو کوتاہی پائیں تو اُس کی اپنی عدم قدرت اور تنگیء دامن پہ معاف فرمائیں۔

وہ اپنی نظم میں موجود دنیاوی موضوعات ، غیر شائستہ الفاظ، لادینی باتوں اور تاریک خیال کہانیوں پر معذرت کا خواہشمند ہے اور تمنا کرتا ہے کہ اُسے اعلٰی اور بھلی باتوں کے لئے یاد رکھا جائے جن میں نیک سیرت لوگوں کا تذکرہ اور وعظ و پند و نصائح شامل ہیں۔ اور یوں . . . . چاوسر کی طویل اور ضخیم کینٹربری کہانیاں اپنے اختتام کو پہنچی ۔

Chaucer’s retraction is the final section of the Canterbury Tales. It is written as an apology; where Chaucer asks for forgiveness for the vulgar and unworthy parts of this and other past works, and seeks absolution for his sins. It is not clear whether these are sincere declarations of remorse on Chaucer’s part, a continuation of the theme of penitence from the Parson’s tale or simply a way to advertise the rest of his works.
Retractions, often called palinodes, were common in the works of this era, and the bawdy nature of some of the Chaucer’s work needed forgiveness.

20110928_inq_mg1adapt28-c

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s