Home » Canterbury Tales » The Canterbury Tales – Ending Note – 47

The Canterbury Tales – Ending Note – 47

چودہویں صدی کے جیفری چاوسر کی کینٹربری کہانیاں، ایک نایاب ادبی کام ہے جو قدیم انگریزی میں پائے جانے والے چند ادبی نوادرات میں سے ایک ہے۔ اِس کی انگریزی زبان ایسی ہے جو آج کا قاری ، از خود، تشریح کے بغیر نہیں پڑھ سکتا ۔لیکن اِن کہانیوں کو پڑھتے ہوئے چاوسر اپنے قارئین کو اپنے ہمراہ چودہویں صدی کی زندگی میں لے جاتا ہے اور پڑھنے والا اُس زمانے کے کرداروں کو اپنے اطراف حرکت کرتا، بولتا اور چلتا محسوس کرتا ہے۔

canterbury-tales-3

تاریخ کی کھڑکی میں سے جھانک کر گزرے وقتوں کو دیکھنا ہمیشہ سے بنی آدم کا پسندیدہ عمل رہا ہے۔ کبھی کبھی اِس عمل پہ سوال بھی اُٹھایا جاتا ہے کہ . . . ماضی کا مطالعہ آخر انسان کو کیا دے سکتا ہے؟ اِس سوال کا جواب مہیا کرنے کی کوشش میں یوں ہوا کہ تاریخ پڑھنے اور جاننے کی لگن کسی حد تک گھٹ گئی۔ اور دوسری طرف، یہ بھی ہوا کہ بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں تاریخِ قدیم کے شعبہ جات کھلنے لگے۔ تاریخ دان پرانے آثار کو کھوج کھوج کر ماضی کے اوراق میں دفن راز معلوم کرنے کے جویا ہونے لگے اور دنیا کو عہدِ رفتہ کے رہن سہن سے آگاہ کرنے لگے۔

Most of the times, we come across a question, that is, what can we gain from stories of old times? This is a genuine question that marked a shift in the studies of historical subjects. But the question remained there. In the mean while we find people working on historical studies, and finding out how people in the earlier eras made their lives. There must be an appropriate and satiating answer. Let’s place some possibilities in the answers box, people may find solutions to their problems or may learn from the life of old times. It may help and may be a solid reason, because we came to know many times that despite all the evolution, occurred throughout the human history, a human remained the same, it loves, hates, eats, sleeps in the same way. A human feels anger, pride, revenge, joy, hatred, jealousy etc etc. These Canterbury Tales provide us with a proof for all this. So better to study the past in a sufficient proportion for a better life today.

اِس سب کے دوران وہ طبقہ اپنے سوال پر ڈٹا رہا . . . کہ صاحب، گرد آلود کتابوں اور نوادرات سے کیا حاصل ہوگا ؟ نئے دور کے تقاضوں میں ماضی کی تحقیقات کا کیا مقام ہے؟

یہ بحث ایسی آسان نہیں کہ اِسے چند لفظوں میں حتمی طور پر سمیٹا جاسکے۔ البتہ طرفین سے متعلق دلائل جانے جاسکتے ہیں۔

بہت سالوں پہلے بسنے والے انسانوں کی زندگی کا حال جاننا ایک دلچسپ بات ہے . . . کہ آج سے کئی سال پہلے ، جب انسان نے سائنس کے اعتبار سے ارتقا کی منازل طے نہیں کی تھیں ، اُس وقت کا انسان شعور اور جذبات کے اعتبار سے آج کے انسان سے کتنا مختلف تھا۔ صدیوں پرانے انسان کے محسوسات کیسے تھے، اُس کی محبت، نفرت، احساسِ عزت، تفاخر کی حرص، لالچ، دغابازی، دھوکہ دہی، یہ سب ہوبہو ایسے ہی تھے جیسے کہ آج . . . .

وہ انسان بھی دوسروں کو زیر کرکے خود کو برتر ثابت کرنے کا خواہاں تھا ۔ خود کو برتر ثابت کرنے اور برتری محسوس کرنے کے لئے انسان ہر جتن آزمانے کی سعی کرتا تھا۔ اور اُس وقت کے انسان کو بھی چار لوگوں کے اکٹھ میں یہ بات عزیز تھی کہ اُسے عزت اور ادب سے پکارا جائے جیسا کہ چاوسر کا میزبان دورانِ سفر اپنے ہم رکاب ساتھیوں سے مخاطب ہوتا ہے۔

تو گویا . .ایک بات جو صاف ظاہر ہے کہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی انسان کا اندرونی سافٹ وئیر وہی ہے جو پہلے تھا۔

چنانچہ نکتہ چیں اور دور رس سوچ کے مالک افراد ، تاریخ کے اوراق کی خاک چھاننے کے بعد آج کے انسان کے لئے اُس کے حالیہ مسائل کا حل ڈھونڈ لاتے ہیں۔ گزشتہ اقوام اور افراد کے حالات سے واقفیت حاصل کرنا سنتِ الٰہی بھی ہے کیونکہ کتابِ الٰہی میں اکثر مقامات پر سابقہ اقوام کے حالات سنا کر عبرت اور نصیحت دی گئی ہے۔

چودہویں صدی کے انگریزی ادب کا یہ شہ پارہ اختتام پذیر ہوا جس کے دوران بہت سے دیدہ ریز، چونکا دینے والے اور لطیف واقعات سامنے آئے۔ شاعر کی مہارت اور علمی لیاقت کی داد دینی تو بنتی ہی ہے، اِس پر پِتّہ پانی کرنے والی طوالت پر، جہاں نظم کے طالبعلموں کی جرات لائقِ تحسین ہے وہیں اِس بلاگ کے قارئین کی استقامت اور حوصلہ آفرین کے قابل ہے۔

000-frontispiece1

2 thoughts on “The Canterbury Tales – Ending Note – 47

  1. السلام علیکم ۔۔۔۔ پیاری بہنا آپ کا یہ منفرد بلاگ اس حوالے سے قابل صد تحسین و قابل رشک ہے کہ آپ نے مجھ جیسے کئی تشنہء علم لوگوں کو تاریخ قدیم کے ان ابواب سے روشناس کروایا ہے جن کے بارے دنیائے جدید کے لوگلاعلم ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اللہ سبحان و تعالٰی دین و دنیا میں سربلندیاں اور سرفرازیاں عطا فرمائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جگ جگ جئیں

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s